کوپرنیکس: جب زمین مرکز سے ہٹ گئی
صبح سورج مشرق سے نکلتا ہے، دن بھر آسمان پر سفر کرتا ہے اور شام کو مغرب میں ڈوب جاتا ہے۔ رات کو ستارے بھی اسی طرح گھومتے نظر آتے ہیں۔ آنکھ یہی بتاتی ہے کہ زمین ساکن ہے اور…

صبح سورج مشرق سے نکلتا ہے، دن بھر آسمان پر سفر کرتا ہے اور شام کو مغرب میں ڈوب جاتا ہے۔ رات کو ستارے بھی اسی طرح گھومتے نظر آتے ہیں۔ آنکھ یہی بتاتی ہے کہ زمین ساکن ہے اور آسمان اس کے گرد چکر لگا رہا ہے۔ صدیوں تک دنیا کے بیشتر ماہرینِ فلکیات اسی بنیاد پر حساب کرتے رہے۔ پھر سولھویں صدی میں پولینڈ کے ایک ماہرِ فلکیات نے کہا کہ اگر زمین کو گھومتا ہوا اور سورج کے گرد چکر لگاتا ہوا مان لیا جائے تو آسمان کی کئی الجھنیں خود بخود سلجھ جاتی ہیں۔ ان کا نام نکولس کوپرنیکس (Nicolaus Copernicus) تھا۔
تورن سے فرومبورک تک
سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی کے مک ٹیوٹر آرکائیو کے مطابق کوپرنیکس 19 فروری 1473ء کو پولینڈ کے شہر تورن (Toruń) میں پیدا ہوئے اور 24 مئی 1543ء کو بالٹک کے ساحلی قصبے فرومبورک (Frombork) میں فوت ہوئے۔ انہوں نے پہلے کراکو (Kraków) میں اور پھر اٹلی کے شہروں بولونیا، پاڈووا اور فیرارا میں تعلیم حاصل کی۔ اٹلی سے لوٹنے کے بعد انہوں نے اپنا فلکیاتی کام پولینڈ ہی میں رہ کر کیا۔
پرانا نقشہ اور اس کی الجھنیں
اس زمانے میں فلکیات کا رائج نظام دوسری صدی عیسوی میں اسکندریہ کے ماہرِ فلکیات بطلیموس (Ptolemy) کا تھا۔ مک ٹیوٹر کے مطابق اس میں زمین مرکز میں ساکن تھی اور یہ نظریہ تقریباً چودہ سو سال تک رائج رہا۔ اس نظام کی ایک بڑی الجھن سیاروں کی "الٹی چال" تھی: مریخ جیسا سیارہ کچھ عرصہ آسمان پر آگے بڑھتا ہے، پھر کچھ ہفتے پیچھے کی طرف چلتا نظر آتا ہے اور پھر دوبارہ آگے بڑھنے لگتا ہے۔ بطلیموس نے سیاروں کی جگہ کا حساب لگانے کے لیے دائروں کے اوپر چھوٹے دائرے، یعنی "تدویر" (epicycles)، اور کچھ اور جیومیٹری کی ترکیبیں استعمال کیں، جس سے نظام خاصا پیچیدہ ہو گیا۔
ایک مختصر رسالہ
مک ٹیوٹر کے مطابق کوپرنیکس نے تقریباً 1514ء میں اپنے خیالات ایک مختصر قلمی رسالے میں لکھ کر چند لوگوں میں بانٹے، جسے بعد میں "کومینٹاریولس" (Commentariolus)، یعنی "مختصر شرح"، کہا گیا۔ اس میں سات بنیادی نکات تھے۔ ان میں سے تین سب سے اہم یہ تھے:
- ستاروں کا روزانہ مشرق سے مغرب کی طرف گھومنا دراصل زمین کے اپنے محور پر گھومنے کا نتیجہ ہے۔
- سورج کا سال بھر کا سفر دراصل زمین کے سورج کے گرد چکر لگانے کی وجہ سے نظر آتا ہے۔
- سیاروں کی الٹی چال اس لیے دکھائی دیتی ہے کہ ہم خود ایک چلتی ہوئی زمین سے انہیں دیکھ رہے ہیں۔
آخری نکتہ سب سے خوبصورت تھا۔ جیسے تیز چلتی گاڑی سے کسی سست گاڑی کو دیکھیں تو وہ پیچھے جاتی محسوس ہوتی ہے، اسی طرح زمین جب کسی بیرونی سیارے کے پاس سے گزرتی ہے تو وہ سیارہ کچھ دیر پیچھے چلتا نظر آتا ہے۔ جس الجھن کے لیے پیچیدہ دائرے بنائے جاتے تھے، اس کی سادہ وجہ سامنے آ گئی۔
1543ء کی کتاب
کوپرنیکس برسوں اپنی بڑی کتاب پر کام کرتے رہے مگر اسے چھپوانے میں جلدی نہیں کی۔ مک ٹیوٹر کے مطابق 1539ء میں ایک نوجوان جرمن ریاضی دان ریتیکس (Rheticus) ان کے پاس آئے، ان کے نظام کا ایک ابتدائی خلاصہ "ناراتیو پریما" (Narratio prima) تیار کرنے میں مدد کی اور کتاب کی اشاعت میں ہاتھ بٹایا۔ آخرکار "دے ریوولوشنیبس" (De revolutionibus)، یعنی "آسمانی کُرّوں کی گردش کے بارے میں"، 1543ء میں جرمنی کے شہر نیورمبرگ سے چھپی، اسی سال جب کوپرنیکس کا انتقال ہوا۔
مک ٹیوٹر یہ بھی واضح کرتا ہے کہ کوپرنیکس کا نظام آج کے نظامِ شمسی جیسا نہیں تھا۔ ان کے ہاں سورج ٹھیک مرکز میں نہیں بلکہ مرکز کے قریب ساکن تھا، اور چونکہ وہ ہر حرکت کو دائروی مانتے تھے، اس لیے انہیں بھی کچھ چھوٹے دائرے، یعنی تدویر، استعمال کرنے پڑے۔
پہلے اور بعد کے لوگ
کوپرنیکس پہلے شخص نہیں تھے جنہوں نے سورج کو مرکز میں رکھنے کا سوچا۔ مک ٹیوٹر کے مطابق یونانی ماہرِ فلکیات اریسٹارکس (Aristarchus)، جو تقریباً 310 سے 230 قبل مسیح کے درمیان گزرے، نے بھی یہ خیال پیش کیا تھا، جس کا ذکر ارشمیدس کی ایک کتاب میں ملتا ہے، مگر یونانیوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ کوپرنیکس کے ماڈلوں میں دو دائروں کی ایک ترکیب بھی ملتی ہے جو تقریباً ڈھائی سو سال پہلے مراغہ (ایران) کی رصدگاہ میں نصیر الدین طوسی نے استعمال کی تھی؛ مک ٹیوٹر کے مطابق بہت سے مؤرخین سمجھتے ہیں کہ یہ طوسی سے آئی، جبکہ بعض اس سے اتفاق نہیں کرتے۔
کوپرنیکس کے بعد یہ کام آگے بڑھا۔ مک ٹیوٹر کے مطابق جرمن ماہرِ فلکیات یوہانس کیپلر (Johannes Kepler) نے کوپرنیکس کے نظام کو درست مانا اور ڈنمارک کے ٹائیکو براہے (Tycho Brahe) کے برسوں کے مشاہدات سے 1609ء میں ثابت کیا کہ مریخ دائرے میں نہیں بلکہ بیضوی مدار میں گھومتا ہے۔ گیلیلیو کی دوربین نے جو نئے مشاہدات کیے، ان کا ذکر اس سلسلے کی قسط 49 میں ہے۔
آج کا سبق
آج کوئٹہ کی کسی صاف رات میں مریخ کو چند ہفتے غور سے دیکھیں تو اس کی الٹی چال خود نظر آ سکتی ہے، اور اس کی وجہ وہی ہے جو کوپرنیکس نے پانچ سو سال پہلے بتائی تھی: ہم ایک چلتی ہوئی زمین پر بیٹھے ہیں۔ کوپرنیکس کا اصل کارنامہ کوئی نیا آلہ نہیں بلکہ ایک نیا زاویۂ نظر تھا: جب کوئی الجھن بہت پیچیدہ ہو جائے تو شاید سوال کو کسی اور جگہ کھڑے ہو کر دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
ماخذ
- J. J. O'Connor and E. F. Robertson, "Nicolaus Copernicus", MacTutor History of Mathematics Archive, University of St Andrews. https://mathshistory.st-andrews.ac.uk/Biographies/Copernicus/ — born Torun 19 February 1473, died Frombork 24 May 1543; studied at Krakow, Bologna, Padua and Ferrara; Commentariolus circulated in manuscript about 1514 with seven axioms (Earth's rotation, Earth's annual orbit, retrograde motion from Earth's motion); Rheticus from 1539 and the Narratio prima; De revolutionibus published at Nuremberg 1543; motionless sun close to, not at, the centre; all motion circular, hence epicycles.
- J. J. O'Connor and E. F. Robertson, "Aristarchus of Samos", MacTutor. https://mathshistory.st-andrews.ac.uk/Biographies/Aristarchus/ — c. 310 to c. 230 BC; sun-centred hypothesis known from Archimedes' Sand-Reckoner; not accepted by the Greeks; often cited as a precursor of Copernicus.
- J. J. O'Connor and E. F. Robertson, "Nasir al-Din al-Tusi", MacTutor. https://mathshistory.st-andrews.ac.uk/Biographies/Al-Tusi_Nasir/ — Maragha observatory begun 1259; the Tusi couple, used to replace parts of Ptolemy's system; recurs in Copernicus some 250 years later; many historians think Copernicus took it from al-Tusi, but not all agree.
- J. J. O'Connor and E. F. Robertson, "Johannes Kepler", MacTutor. https://mathshistory.st-andrews.ac.uk/Biographies/Kepler/ — accepted the Copernican system; used Tycho Brahe's observations; Astronomia nova (1609): orbit of Mars an ellipse with the Sun at a focus, equal areas in equal times.
- J. J. O'Connor and E. F. Robertson, "Claudius Ptolemy", MacTutor. https://mathshistory.st-andrews.ac.uk/Biographies/Ptolemy/ — c. AD 85 to c. 165, observations at Alexandria; fixed Earth at the centre; epicycles combined with eccentrics and the equant; geocentric theory prevailed for 1400 years.


