کھیتی باڑی: جب انسان نے بیج بونا سیکھا
آج ہماری تھالی میں روٹی، چاول اور دال روزمرہ کی چیزیں ہیں۔ مگر انسانی تاریخ کے بیشتر حصے میں ایسا نہیں تھا۔ لاکھوں برس تک انسان شکار کرتا اور جنگل سے پھل، بیج اور جڑیں چنتا رہا۔ پھر چند ہزار…

آج ہماری تھالی میں روٹی، چاول اور دال روزمرہ کی چیزیں ہیں۔ مگر انسانی تاریخ کے بیشتر حصے میں ایسا نہیں تھا۔ لاکھوں برس تک انسان شکار کرتا اور جنگل سے پھل، بیج اور جڑیں چنتا رہا۔ پھر چند ہزار برسوں میں دنیا کے مختلف حصوں میں لوگوں نے بیج بونا، فصل کاٹنا اور اناج ذخیرہ کرنا سیکھ لیا۔ اسی تبدیلی نے گاؤں، شہر اور تہذیبیں ممکن بنائیں۔
انقلاب یا لمبا سفر؟
آسٹریلوی ماہرِ آثارِ قدیمہ گورڈن چائلڈ (Gordon Childe) نے اس تبدیلی کو "نئے پتھر کے دور کا انقلاب" کہا تھا۔ آج ماہرین سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی اچانک انقلاب نہیں تھا بلکہ ہزاروں برس پر پھیلا ہوا آہستہ عمل تھا۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق بہت سے گروہ سال کا کچھ حصہ شکار میں اور کچھ حصہ چھوٹی موٹی کاشت میں گزارتے تھے۔
اس سفر کا ایک دلچسپ پڑاؤ اسرائیل میں بحیرۂ طبریہ کے کنارے اوہالو دوم (Ohalo II) ہے۔ یہاں تقریباً 23 ہزار برس پرانی ایک بستی سے جنگلی گندم اور جو پیسنے کے آثار ملے۔ ان کے ساتھ ایسی جڑی بوٹیوں کے بیج بھی تھے جو آج کھیتوں میں خودرو اگتی ہیں۔ 2015 میں اس کا مطالعہ کرنے والی ٹیم کے خیال میں یہ چھوٹے پیمانے پر کاشت کی سب سے پرانی معلوم کوشش ہو سکتی ہے، یعنی باقاعدہ زراعت سے تقریباً گیارہ ہزار برس پہلے۔
زرخیز ہلال: پہلی فصلیں
باقاعدہ کھیتی باڑی کا اب تک کا قدیم ترین معلوم ثبوت زرخیز ہلال (Fertile Crescent) سے ملتا ہے، یعنی وہ قوس جو شام اور فلسطین کے علاقے سے جنوبی ترکیہ ہوتی ہوئی ایران کے زاگروس پہاڑوں تک جاتی ہے۔ 2025 کے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق یہاں گندم، جو، بکری اور بھیڑ کو سدھانے کا آغاز تقریباً 9500 قبل مسیح میں ہوا۔
امریکی ماہر میلنڈا زیڈر (Melinda Zeder) کے جائزے کے مطابق جنگلی پودوں کی دیکھ بھال تقریباً 12 ہزار برس پہلے شروع ہو چکی تھی۔ مگر ایسی گندم اور جو، جن کے دانے پک کر خود نہیں جھڑتے اور کسان انہیں کاٹ کر جمع کر سکتا ہے، تقریباً ساڑھے دس ہزار برس پہلے واضح طور پر نظر آتی ہیں۔ فصلوں اور مویشیوں پر مکمل انحصار والی معیشت تقریباً ساڑھے نو سے نو ہزار برس پہلے قائم ہوئی۔
نیشنل جیوگرافک کے مطابق وادیٔ اردن سے ملنے والے بیج کے بغیر انجیر بتاتے ہیں کہ تقریباً 11,300 برس پہلے انجیر کے درخت لگائے جا رہے تھے۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق اریحا (Jericho) کے باشندے 8000 قبل مسیح تک گندم، جو اور دالیں اگا رہے تھے۔
دنیا کے دوسرے مراکز
کھیتی باڑی صرف ایک جگہ ایجاد ہو کر باقی دنیا میں نہیں پھیلی۔ کئی خطوں میں لوگوں نے الگ الگ اسے اپنایا۔ نیشنل جیوگرافک کے مطابق چین میں اسی دور میں چاول اور باجرے کی کاشت شروع ہوئی، اور مشرقی چین میں 2007 میں دریافت ہونے والے دھان کے کھیت دنیا کے قدیم ترین معلوم کھیت ہیں۔ میکسیکو میں کدو کی کاشت تقریباً 10 ہزار برس پہلے شروع ہوئی۔ مکئی کے جنگلی آبائی پودے کی کاشت کم از کم 9 ہزار برس پہلے ہوئی، اگرچہ مکئی کا براہِ راست تاریخ والا سب سے پرانا بھٹا تقریباً ساڑھے پانچ ہزار برس پرانا ہے۔ جنوبی امریکہ کے کوہِ انڈیز میں آلو کی کاشت تقریباً سات سے دس ہزار برس پہلے شروع ہوئی۔
زرخیز ہلال سے زراعت آہستہ آہستہ پھیلی۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق یہ جنوب مشرقی یورپ میں تقریباً 7000، وسطی یورپ میں 5500 اور شمالی یورپ میں تقریباً 4000 قبل مسیح میں پہنچی۔
مہر گڑھ: جنوبی ایشیا کے پہلے کسان
بلوچستان کے کچھی میدان میں واقع مہر گڑھ (Mehrgarh) شمال مغربی جنوبی ایشیا میں کھیتی باڑی کا قدیم ترین معلوم ثبوت رکھتا ہے۔ 2014 کے ایک مطالعے کے مطابق یہاں کی ابتدائی فصلوں میں نوے فیصد سے زیادہ جو تھا اور تھوڑی سی گندم۔ اس مطالعے کے مطابق جو کو شاید یہیں سدھایا گیا، جبکہ گندم کی اقسام مشرقِ وسطیٰ سے آئی تھیں۔ بعد کے دور میں یہاں اناج ذخیرہ کرنے کی بہت سی عمارتیں بنیں۔
مہر گڑھ کی ابتدا کب ہوئی، اس پر ماہرین میں اختلاف ہے۔ کھدائی کے سربراہ ژاں فرانسوا ژاریژ (Jean-François Jarrige) کے مطابق یہ تقریباً 8000 قبل مسیح میں آباد ہوا۔ 2025 میں دانتوں کی نئی ریڈیو کاربن تاریخوں پر مبنی ایک مطالعے نے پہلے دور کا آغاز تقریباً 5200 سے 4900 قبل مسیح بتایا۔ اس دوسرے مطالعے کے مصنفین کا خیال ہے کہ کسان پہلے سے سدھائے ہوئے پودے اور جانور لے کر یہاں آئے۔
کھیتی نے کیا بدلا
زراعت نے زیادہ لوگوں کے لیے زیادہ خوراک ممکن بنائی۔ نیشنل جیوگرافک کے مطابق دس ہزار برس پہلے دنیا کی آبادی تقریباً پچاس لاکھ تھی، جو آج آٹھ ارب ہے۔ ذخیرہ ہونے والا اناج، مستقل گھر، ہل اور آب پاشی جیسی چیزیں آئیں، اور گاؤں رفتہ رفتہ قصبوں اور شہروں میں بدل گئے۔
ہر تبدیلی صرف فائدہ مند نہیں تھی۔ 2015 کے ایک مطالعے کے مطابق ابتدائی کاشتکاری اپنانے کے بعد دانتوں میں کیڑا لگنے کے واقعات بڑھ گئے۔ شام کی قدیم بستی ابو ہریرہ (Abu Hureyra) کے ڈھانچوں میں پسے ہوئے اناج کی وجہ سے دانتوں کی گھسائی صاف نظر آتی ہے۔
آج کا پاکستان
دس ہزار برس بعد بھی کھیتی باڑی ہماری زندگی کا مرکز ہے۔ عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں زراعت، جنگلات اور ماہی گیری کا پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار میں حصہ تقریباً 23 فیصد تھا، اور ملک کے تقریباً 36 فیصد کام کرنے والے اسی شعبے سے وابستہ تھے۔ گندم کی روٹی ہو یا جو کا ستو، ہمارے دسترخوان کا ایک سرا مہر گڑھ کے ان کسانوں تک جاتا ہے۔
ماخذ
- M. A. Zeder, "Domestication and early agriculture in the Mediterranean Basin: Origins, diffusion, and impact", PNAS 105 (33), 11597–11604 (2008). https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC2575338/ — plant management from c. 12,000 BP; non-shattering domestic cereals well established c. 10,500 BP; mixed crop-and-livestock economies c. 9,500–9,000 BP; an extended process.
- B. Mutin, A. Zazzo, L. Bondioli, A. Coppa et al., "New radiocarbon dates of human tooth enamel reveal a late appearance of farming life in the Indus Valley", Scientific Reports 15, 11345 (2025). https://www.nature.com/articles/s41598-025-92621-5 — domestication of wheat, barley, goats and sheep from c. 9500 BCE in the Fertile Crescent (Levant, southern Anatolia, Zagros); Childe's "revolution" now seen as gradual; Mehrgarh (Kachi Plain) the earliest evidence of farming in north-west South Asia; Period I start c. 5200–4900 BCE vs. Jarrige's c. 8000 BCE; arrival of already-domesticated plants and animals; grain-storage structures in Period II.
- A. Snir, D. Nadel, I. Groman-Yaroslavski et al., "The Origin of Cultivation and Proto-Weeds, Long Before Neolithic Farming", PLoS ONE 10(7): e0131422 (2015). https://journals.plos.org/plosone/article?id=10.1371/journal.pone.0131422 — Ohalo II, Sea of Galilee, 23,000 years old; grinding of wild wheat and barley; proto-weeds; earliest small-scale trial cultivation, about 11 millennia before agriculture.
- National Geographic Society, "The Development of Agriculture" (Education resource). https://education.nationalgeographic.org/resource/development-agriculture/ — agriculture about 12,000 years ago; figs planted about 11,300 years ago (Jordan Valley); rice and millet in China, oldest paddy fields found in eastern China in 2007; squash in Mexico about 10,000 years ago, teosinte-derived maize at least 9,000 years ago, first directly dated cob about 5,500 years ago; potato in the Andes about 5,000 years ago; population from about 5 million 10,000 years ago to 8 billion.
- C. Violatti, "Neolithic Period", World History Encyclopedia (2018). https://www.worldhistory.org/Neolithic/ — agriculture in the Near East c. 9000 BCE, south-east Europe c. 7000, central Europe c. 5500, northern Europe c. 4000 BCE; independent origins; gradual adoption; Abu Hureyra tooth wear from ground cereal.
- A. Ramos, "Early Jericho", World History Encyclopedia (2016). https://www.worldhistory.org/article/951/early-jericho/ — Jericho inhabitants growing wheat, barley and legumes by c. 8000 BCE.
- K. Gangal, G. R. Sarson, A. Shukurov, "The Near-Eastern Roots of the Neolithic in South Asia", PLoS ONE 9(5): e95714 (2014). https://journals.plos.org/plosone/article?id=10.1371/journal.pone.0095714 — Mehrgarh crops more than 90% barley with a little wheat; evidence for local barley domestication; wheat of Near Eastern origin.
- G. Oxilia et al., "Earliest evidence of dental caries manipulation in the Late Upper Palaeolithic", Scientific Reports 5, 12150 (2015). https://www.nature.com/articles/srep12150 — the adoption of early farming caused an increase in carious lesions.
- World Bank, World Development Indicators: "Agriculture, forestry, and fishing, value added (% of GDP) – Pakistan" (23.0% in 2025) and "Employment in agriculture (% of total employment) (modeled ILO estimate) – Pakistan" (36.2% in 2025). https://data.worldbank.org/indicator/NV.AGR.TOTL.ZS?locations=PK and https://data.worldbank.org/indicator/SL.AGR.EMPL.ZS?locations=PK
- D. M. Spooner, K. McLean, G. Ramsay, R. Waugh and G. J. Bryan, "A single domestication for potato based on multilocus amplified fragment length polymorphism genotyping", PNAS 102 (41), 14694–14699 (2005). https://www.pnas.org/doi/10.1073/pnas.0507400102 — potato domesticated once, in the Andes of southern Peru, about 7,000–10,000 years ago (fact-check 20 Oct 2026).


