کانسی: دو دھاتوں کا ملاپ جس نے ایک پورے دور کو نام دیا
اولمپک کھیلوں میں تیسرے نمبر پر آنے والے کو کانسی کا تمغا ملتا ہے۔ مگر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ دھات قدرت میں اس شکل میں نہیں ملتی۔ یہ انسان کی بنائی ہوئی ایک ملاوٹ ہے، اور اس…

اولمپک کھیلوں میں تیسرے نمبر پر آنے والے کو کانسی کا تمغا ملتا ہے۔ مگر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ دھات قدرت میں اس شکل میں نہیں ملتی۔ یہ انسان کی بنائی ہوئی ایک ملاوٹ ہے، اور اس کی دریافت اتنی اہم تھی کہ تاریخ دانوں نے انسانی تاریخ کے ایک پورے دور کو اسی کے نام سے پکارا: کانسی کا دور۔
کانسی کیا ہے؟
کانسی بنیادی طور پر تانبے اور ٹین کا آمیزہ ہے۔ برطانیہ کی رائل سوسائٹی آف کیمسٹری کے مطابق جب تانبے میں تقریباً 5 فیصد ٹین ملایا گیا تو ایسی دھات بنی جو کم درجۂ حرارت پر پگھلتی تھی، اس لیے اس پر کام کرنا آسان تھا، اور ساتھ ہی خالص تانبے سے کہیں زیادہ سخت تھی۔ اوزاروں اور ہتھیاروں کے لیے یہ بہترین مواد ثابت ہوئی۔
ایرانی سطح مرتفع پر قدیم دھات کاری کا جائزہ لینے والے محققین امید عودباشی (Omid Oudbashi) اور ان کے ساتھیوں کے مطابق تقریباً 10 فیصد ٹین ملانے سے دھات اس سے بھی زیادہ سخت اور مضبوط ہو جاتی ہے۔ یہی وہ خوبی تھی جس نے کانسی کو تانبے پر برتری دی۔
پہلے سنکھیا، پھر ٹین
کانسی تک پہنچنے کا راستہ سیدھا نہیں تھا۔ عودباشی اور ان کے ساتھیوں کے مطابق ابتدائی کاریگروں نے پہلے ایسی کچ دھاتیں استعمال کیں جن میں قدرتی طور پر سنکھیا ملا ہوتا تھا۔ اس سے "سنکھیا والا تانبا" بنتا تھا۔ ان کے مطابق یہ آمیزہ تانبے سے ٹین والی کانسی تک کے سفر کا ایک اہم مرحلہ تھا۔ ان کے مطابق یہ آمیزہ چوتھے ہزارۂ قبل مسیح کے دوسرے نصف میں مشرقِ وسطیٰ میں عام ہو گیا، اور غالباً سنکھیا ملی کچ دھات کے اتفاقیہ استعمال سے شروع ہوا تھا۔ پیرس کے لوور عجائب گھر میں ایران کے شہر شوش سے ملنے والی ایسی ہی ایک دو دھاری کلہاڑی رکھی ہے جو چوتھے ہزارے کے وسط کی ہے۔
ٹین والی اصل کانسی، اسی جائزے کے مطابق، چوتھے ہزارے کے آخر اور تیسرے ہزارے کے آغاز میں میسوپوٹیمیا اور مغربی ایران میں سامنے آئی، جبکہ اس کا بڑے پیمانے پر استعمال تیسرے ہزارے کے وسط میں شروع ہوا۔ محققین جنوب مغربی ایشیا میں کانسی کے دور کو عام طور پر 3300 سے 1500 قبل مسیح تک شمار کرتے ہیں۔ رائل سوسائٹی آف کیمسٹری کے مطابق مصر، میسوپوٹیمیا اور وادیٔ سندھ کے لوگ تقریباً 3000 قبل مسیح میں کانسی استعمال کرنے لگے تھے۔
سربیا کا حیران کن ورق
2013 میں جریدے "اینٹیکوئٹی" میں میلیانا رادیوویوچ (Miljana Radivojević) اور ان کے ساتھیوں نے ایک غیر متوقع دریافت شائع کی۔ سربیا کے مقام پلوچنک (Pločnik) پر ایک گھر کے فرش سے، تانبے کی ایک ورکشاپ کے قریب، ٹین والی کانسی کا ایک باریک ورق ملا جو تقریباً 4650 قبل مسیح کا ہے۔ محققین کے مطابق یہ ٹین والی کانسی کی اب تک کی قدیم ترین معلوم مثال ہے جس کی تاریخ یقینی طور پر طے ہے، اور اس نے کانسی سازی کی تاریخ تقریباً 1500 برس پیچھے کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ کانسی جان بوجھ کر دو دھاتیں ملا کر نہیں بلکہ ایسی کچ دھات پگھلا کر بنی جس میں تانبا اور ٹین دونوں قدرتی طور پر موجود تھے۔ محققین کے بقول یہ دریافت اس عام تصور کو چیلنج کرتی ہے کہ کانسی پہلے مشرقِ وسطیٰ ہی میں بنی۔
ٹین کی تلاش
کانسی بنانے کے لیے ٹین حاصل کرنا آسان نہ تھا۔ رائل سوسائٹی آف کیمسٹری کے ایک پروگرام کے مطابق ٹین اتنا اہم تھا کہ اس کی تجارت کے راز چھپا کر رکھے جاتے تھے۔ رادیوویوچ اور ان کے ساتھیوں کے مطابق کانسی کے دور میں استعمال ہونے والی ٹین کی کئی کانیں آج کے ایران، افغانستان، ازبکستان اور تاجکستان میں شناخت کی گئی ہیں۔ اسی پروگرام میں بتایا گیا ہے کہ یونانی "ٹین کے جزیروں" کا ذکر کرتے تھے جو کبھی ملے ہی نہیں، اور غالباً ان کا ٹین شمالی اسپین اور برطانیہ کے علاقے کارنوال سے آتا تھا۔ یونانیوں کو بس اتنا معلوم تھا کہ ٹین سمندر کے راستے شمال مغرب سے آتا ہے۔
وادیٔ سندھ کی کانسی
ہمارے اپنے خطے میں وادیٔ سندھ کے کاریگر کانسی کے ماہر تھے۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق ہڑپہ کے لوگ تانبے اور کانسی سے چاقو، مچھلی پکڑنے کے کانٹے، تیروں کی نوکیں، آریاں، چھینیاں، درانتیاں، پنیں اور چوڑیاں بناتے تھے، اور اسی سے برتن اور مجسمے بھی ڈھالتے تھے۔
ان کا سب سے مشہور فن پارہ کانسی کا ایک چھوٹا سا مجسمہ ہے جسے "رقاصہ" کہا جاتا ہے۔ یہ تقریباً 10 سینٹی میٹر اونچا ہے اور 1926 میں موہنجو داڑو سے ملا تھا۔
آج کی کانسی
کانسی آج بھی ہماری زندگی کا حصہ ہے۔ رائل سوسائٹی آف کیمسٹری کے مطابق ٹین کا زیادہ تر استعمال اب آمیزوں میں ہوتا ہے، جن میں کانسی، فاسفر کانسی اور ٹانکا شامل ہیں، اور گھنٹیوں کی دھات میں ٹین اس لیے ڈالا جاتا ہے کہ یہ سب دھاتوں میں سب سے زیادہ گونج دار ہے۔
پانچ ہزار برس پہلے کسی کاریگر نے دو دھاتوں کو ملا کر جو تجربہ کیا، اس نے انسان کو پتھر اور تانبے سے کہیں زیادہ مضبوط اوزار دیے، اور ٹین کی تلاش نے دور دراز خطوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا۔
ماخذ
- Royal Society of Chemistry, "Tin", Periodic Table (online, including the Chemistry in its element podcast transcript). https://periodic-table.rsc.org/element/50/tin — Copper with about 5% tin gives bronze, melting at a lower temperature and much harder; Egypt, Mesopotamia and the Indus valley used bronze from around 3000 BC; tin trade secrets closely guarded; Greek "Tin Islands", tin came by sea from the north-west, probably from northern Spain and Cornwall; modern uses in bronze, phosphor bronze, solder and bell metal (tin most tonally resonant).
- Omid Oudbashi, S. Mohammadamin Emami, Parviz Davami, "Bronze in Archaeology: A Review of the Archaeometallurgy of Bronze in Ancient Iran", in Copper Alloys – Early Applications and Current Performance – Enhancing Processes, InTech, 2012. https://doi.org/10.5772/32687 — Arsenical copper widespread in the Near East in the second half of the 4th millennium BCE, probably from accidental use of arsenic-rich ores, an important stage in the transition from copper to tin bronze; arsenical copper double axe from Susa (mid-4th millennium BCE) in the Louvre; tin bronze in Mesopotamia and western Iran late 4th/early 3rd millennium, extensive use mid-3rd millennium; about 10% tin gives a harder metal; Bronze Age 3300–1500 BCE in southwest Asia.
- Miljana Radivojević, Thilo Rehren, Julka Kuzmanović-Cvetković, Marija Jovanović, J. Peter Northover, "Tainted ores and the rise of tin bronzes in Eurasia, c. 6500 years ago", Antiquity 87: 1030–1045, 2013 (open access). https://doi.org/10.1017/s0003598x0004984x — Tin bronze foil from a house floor near a copper workshop at Pločnik, Serbia, c. 4650 BC; earliest securely dated tin bronze; extends bronze making by c. 1,500 years; made by smelting copper–tin ores; earliest Near Eastern tin bronzes usually dated to the early 3rd millennium BC; Bronze Age cassiterite sources in Iran, Afghanistan, Uzbekistan and Tajikistan.
- Joshua J. Mark, "Indus Valley Civilization", World History Encyclopedia, 2020. https://www.worldhistory.org/Indus_Valley_Civilization/ — Harappan tools and objects of copper and bronze; casting of vessels and statuettes; bronze "Dancing Girl", 10 cm, found at Mohenjo-daro in 1926.
- "Dancing girl of Mohenjo-daro", Wikimedia Commons file page (CC0). https://commons.wikimedia.org/wiki/File:Dancing_girl_of_Mohenjo-daro.jpg — Photo and museum caption (bronze, 10.8 cm).


