رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 13° صاف 24° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:16مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
دہشت گردی کے خلاف ایک بار پھر قومی اتحاد ضروری ہے: سینیٹ میں رانا ثنا اللہ کا خطابخیبرپختونخوا میں گورنر راج کا مقصد معدنیات نہیں، امن کا قیام ہے: عقیل ملک، اختیار ولیسینیٹ نے پاسپورٹ ایکٹ ترمیمی بل 2026 متفقہ طور پر منظور کر لیاپی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی مولانا نسیم شاہ بنوں سے گرفتار، ویڈیو سامنے آگئیعالمی ادارہ خوراک کا غزہ میں غذائی امداد ایک تہائی کم کرنے کا اعلان، 11 لاکھ افراد کو امداد ملے گینیتن یاہو: 7 اکتوبر کو 1200 اسرائیلیوں کی ہلاکت 40 ہزار امریکیوں کے قتل کے برابر تھیراجپال یادیو نے اہلیہ رادھا کو خاندان کا ہیرا قرار دے دیا، سالگرہ پر جذباتی پیغامروس پر پابندیوں میں نرمی کے بعد تیل سستا، برینٹ 107 ڈالر کے قریبسہیل آفریدی مذاکرات کے ڈرافٹ کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے: وفاقی وزیر طارق فضل چوہدریعقیل ملک: امریکا کے ساتھ معدنیات کا کوئی لائسنس نہیں ہوا، مولانا لائسنس سامنے لائیںپی ٹی آئی کے گرفتار تین ارکان قومی اسمبلی پروڈکشن آرڈرز پر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئےروس کے یوکرین پر رات گئے ڈرون حملے، لاجسٹکس مراکز، بندرگاہوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
باب 12 حصہ دوم: اسلام کی آمد اور قرونِ وسطیٰ

غزنوی اور غوری دور

پچھلے باب میں ہم نے عرب جغرافیہ دانوں کی آنکھ سے قیقان، قصدار اور توران کو دیکھا۔ اسی دسویں صدی عیسوی کے آخر میں ان علاقوں پر ایک نئی طاقت کا سایہ پڑتا ہے: غزنہ کے ترک سردار سبکتگین اور…

غزنوی اور غوری دور
علامتی تصویر

پچھلے باب میں ہم نے عرب جغرافیہ دانوں کی آنکھ سے قیقان، قصدار اور توران کو دیکھا۔ اسی دسویں صدی عیسوی کے آخر میں ان علاقوں پر ایک نئی طاقت کا سایہ پڑتا ہے: غزنہ کے ترک سردار سبکتگین اور ان کے بیٹے محمود غزنوی کی سلطنت۔ اس باب میں ہم دیکھیں گے کہ غزنوی اور پھر غوری حکمرانوں نے بلوچستان کے دو بڑے مراکز، قصدار اور کیچ مکران، سے کیا تعلق رکھا۔

سبکتگین اور قصدار

قصدار (آج کا خضدار) اس زمانے میں توران کے علاقے کا ایک اہم شہر تھا۔ کلفرڈ باسورث (Clifford Edmund Bosworth) انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا کے مقالے "توران" میں لکھتے ہیں کہ بعد کے ماخذ میں پورے علاقے کے لیے قصدار ہی کا نام رہ گیا، اور یہی نام آج کے خضدار میں زندہ ہے۔ ان کے مطابق سبکتگین نے 366ھ / 976ء تا 977ء میں قصدار کے حاکم کو باج گزار بنایا۔ محمد ناظم کی کتاب "لائف اینڈ ٹائمز آف سلطان محمود آف غزنہ" میں بھی یہی لکھا ہے کہ سبکتگین نے اپنے عہد کے آغاز ہی میں بست اور قصدار کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا تھا۔

اس واقعے کا سب سے پرانا بیان عتبی کی "تاریخِ یمینی" میں ملتا ہے، جو سلطان محمود کے ایک ہم عصر کی لکھی ہوئی عربی تاریخ ہے۔ عتبی کے بقول امیر سبکتگین نے اچانک حملہ کر کے قصدار کے حاکم کو قید کر لیا، مگر پھر اس کے ساتھ نرمی برتی، اسے اس کے علاقے پر بحال رکھا اور اس پر ہر سال ایک مقررہ باج لازم کر دیا، اس حکم کے ساتھ کہ سکوں پر امیر کا نام ہو۔

محمود غزنوی کی قصدار مہم

مگر یہ صلح زیادہ دیر نہ چلی۔ عتبی ہی لکھتا ہے کہ قصدار کے حاکم نے بعد میں سرکشی دکھائی اور واجب رقم روک لی، جس پر سلطان محمود کو دوبارہ اس پر چڑھائی کرنا پڑی۔ باسورث کے مطابق یہ مہم 402ھ / 1011ء میں ہوئی؛ قصدار پہلے ہی سبکتگین کا باج گزار تھا، مگر اب اس کے سرکش حاکم پر غزنوی اختیار زیادہ سختی سے منوایا گیا اور اسے بھاری تاوان ادا کرنا پڑا۔ باسورث اپنے مقالے "ابتدائی غزنوی" (کیمبرج ہسٹری آف ایران) میں لکھتے ہیں کہ اس حاکم کا نام کسی ماخذ میں نہیں ملتا اور اس نے غزنہ کے دشمن قراخانیوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ محمد ناظم کے مطابق سلطان نے اسے باج گزار سردار کی حیثیت سے اپنے ملک پر قائم رہنے دیا۔ محمد ناظم نے اپنی کتاب میں "سلطان محمود اور قصدار کا حاکم" کے نام سے الگ باب لکھا ہے۔

سامانی دور کے آخر یا غزنوی دور کے آغاز کی مشہور فارسی شاعرہ رابعہ بنت کعب قزداری کی نسبت بھی اسی قصدار کی طرف ہے؛ چیک محقق یان رپکا کے بقول ان کے بارے میں حقائق کم اور کہانیاں زیادہ معلوم ہیں۔

سیستان: پڑوسی سے صوبہ

بلوچستان کا مغربی پڑوسی سیستان اس وقت صفاری خاندان کے آخری بڑے امیر خلف بن احمد کے ہاتھ میں تھا، جس نے ایرانیکا کے مطابق 352ھ / 963ء سے 393ھ / 1003ء تک حکومت کی۔ 393ھ / 1003ء میں سلطان محمود سیستان میں داخل ہوا، خلف کو شکست دی اور قید کر کے اپنے علاقے میں لے گیا، جہاں اس کا انتقال ہوا۔ باسورث لکھتے ہیں کہ یوں سیستان غزنوی سلطنت کا صوبہ بن گیا اور صفاری خاندان ختم ہو گیا۔

مکران اور معدانی خاندان

مکران کی کہانی قصدار سے کچھ مختلف ہے۔ باسورث ایرانیکا کے مقالے "مکران" میں لکھتے ہیں کہ نویں صدی کے آخر اور دسویں صدی کے آغاز تک مکران کے حالات کے بارے میں عملاً کچھ معلوم نہیں؛ اسی زمانے میں یہاں کا حاکم عیسیٰ بن معدان سیستان کے صفاریوں کا باج گزار بنا۔ معدان کا خاندان کیچ سے حکومت کرتا تھا، اور یاقوت نے اصطخری کے حوالے سے لکھا ہے کہ دسویں صدی کے وسط میں بھی عیسیٰ وہیں برسرِ اقتدار تھا۔ کیچ اس وقت مکران کے چند شہری مراکز میں سے ایک اور اس کے "ملک" کا مرکز تھا۔

غزنوی دور کے ماخذ، خاص طور پر بیہقی کی "تاریخِ بیہقی"، مکران پر زیادہ روشنی ڈالتے ہیں۔ باسورث کے مطابق 416ھ / 1025ء تا 1026ء میں معدانی خاندان کے اندر جانشینی کا جھگڑا اٹھا اور سلطان محمود نے اس میں مداخلت کی۔ پھر محمود کے بیٹے مسعود نے 421ھ / 1030ء میں (کیمبرج ہسٹری میں 422ھ / 1031ء) اپنے چچا یوسف بن سبکتگین کی قیادت میں ایک اور لشکر بھیجا؛ کیچ لوٹا گیا اور مسعود کا حمایت یافتہ ابوالعسکر وہاں کا حاکم بنا دیا گیا۔ کیمبرج ہسٹری کے مطابق یہی لشکر مکران جانے سے پہلے قصدار گیا، جس کا حاکم دو برس کا باج روکے بیٹھا تھا، تاکہ اس کی باج گزاری قائم رہے۔ باسورث کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کے بعد ہمیں مکران کے واقعات کی بہت کم خبر ملتی ہے؛ جو کچھ ملتا ہے وہ زیادہ تر باج وصول کرنے کے لیے غزنہ سے بھیجی گئی تادیبی مہموں کا ذکر ہے، اور مکران بظاہر اس وقت تک غزنوی بالادستی میں رہا جب تک غوریوں نے بارہویں صدی کے آخر میں اس خاندان کا خاتمہ نہ کر دیا۔

غزنویوں کا زوال، غوریوں کا عروج

بارہویں صدی عیسوی میں غزنوی سلطنت سمٹ کر پنجاب تک رہ گئی تھی اور اس کا دارالحکومت لاہور تھا، اور وسطی افغانستان کے پہاڑی علاقے غور کے شنسبانی حکمران اس کی جگہ لے رہے تھے۔ باسورث ایرانیکا کے مقالے "غوری" میں لکھتے ہیں کہ معز الدین محمد، جنہیں ہم سلطان محمد غوری کے نام سے جانتے ہیں، 569ھ / 1173ء تا 1174ء سے غزنہ میں سلطان کے لقب کے ساتھ مقیم ہوئے اور وہیں سے درۂ گومل کے راستے ہندوستان پر حملے شروع کیے۔ 570ھ / 1175ء میں انہوں نے ملتان اور اُچ پر قبضہ کیا، اور 578ھ / 1182ء میں زیریں سندھ کے سومرا حکمرانوں نے بھی ان کی بالادستی مان لی۔ ادھر ان کے بڑے بھائی غیاث الدین نے مغرب میں سیستان یعنی نیمروز کے ملکوں اور کرمان کے سلجوقوں تک اپنی بالادستی پھیلا دی۔ 582ھ / 1186ء میں لاہور کا محاصرہ ہوا، آخری غزنوی حکمران خسرو ملک نے ہتھیار ڈالے اور معزول کر دیا گیا۔ یوں باسورث کے الفاظ میں غوری افغانستان اور شمال مغربی ہندوستان میں غزنویوں کے وارث بن گئے۔

یوں قصدار اور مکران کے دونوں طرف، شمال میں غزنہ اور مشرق میں ملتان، اُچ اور سندھ، اب ایک ہی غوری سلطنت کے ہاتھ میں تھے۔ مگر غوری دور میں کیچ مکران یا قصدار کے اندرونی حالات کے بارے میں ماخذ خاموش ہیں۔ غوریوں کی سب سے تفصیلی تاریخ منہاج سراج جوزجانی کی "طبقاتِ ناصری" ہے جو 1260ء کے لگ بھگ مکمل ہوئی، مگر مکران کے کسی غوری حاکم کا نام ہمیں دستیاب تحقیق میں نہیں ملا۔

خوارزم شاہ اور منگول: ایک عہد کا خاتمہ

غوریوں کی سلطنت زیادہ عرصہ نہ چلی۔ باسورث کے بقول ایک ہی نسل کے اندر یہ سلطنت خوارزم شاہوں کے ہاتھ میں چلی گئی، اور پھر خوارزم شاہوں پر منگول ٹوٹ پڑے۔ آخری خوارزم شاہ جلال الدین منکبرنی دریائے سندھ پار کر کے ہندوستان چلا گیا اور کوئی تین برس وہاں لڑتا رہا۔ ایرانیکا کے مطابق 1224ء میں وہ ہندوستان سے مغربی ایران جاتے ہوئے کرمان سے گزرا اور وہاں کے نئے حاکم براق حاجب کو، جس نے 1222ء سے 1235ء تک کرمان پر حکومت کی، اپنا نائب تسلیم کر لیا۔ ایرانیکا ہی کے مطابق دریائے سندھ پار کرتے وقت وہ اپنے کوئی چار ہزار سپاہی بچا کر لے گیا تھا۔ جووینی کی "تاریخِ جہاں گشا"، جس کا انگریزی ترجمہ جان اینڈریو بوائل (John Andrew Boyle) نے 1958ء میں کیا، بتاتی ہے کہ جب خبر آئی کہ منگول لشکر اس کے پیچھے آ رہا ہے تو وہ سندھ کی بندرگاہ دیبل سے مکران کے راستے روانہ ہوا، اور ناموافق آب و ہوا کی وجہ سے اس کے بہت سے آدمی راستے میں مر گئے۔

یوں تیرہویں صدی کے آغاز تک وہ سلسلہ ٹوٹ گیا جو سبکتگین کے زمانے سے قصدار اور مکران کو غزنہ سے جوڑے ہوئے تھا۔ ڈھائی سو برس تک یہ علاقے کسی سلطنت کا مرکز نہیں بلکہ اس کے باج گزار کنارے رہے: حاکم مقامی تھے اور لشکر باہر سے آتے تھے۔ مگر اس کے بعد کی صدیوں میں، باسورث کے الفاظ میں، ایران کی طرف سے جنوب مشرق کو بڑھتے ہوئے بلوچ قبائل مکران میں آباد ہو رہے تھے۔ یہ وہ تبدیلی ہے جس نے اس خطے کا نام اور اس کی شناخت بدل دی۔

اگلے اتوار: بلوچ قبائل کی آمد: کرمان سے مکران تک، جہاں ہم دیکھیں گے کہ بلوچوں کے نام اور ان کی ہجرت کے بارے میں قدیم ماخذ اور جدید محققین کیا کہتے ہیں۔

ماخذ

  1. C. E. Bosworth, "ṬURĀN", Encyclopaedia Iranica, online edition, published 11 February 2011 (Quṣdār replacing the name Ṭurān and surviving as Khozdar; Sebüktegin's tribute from Quṣdār, printed there as "366/966-67", a misprint for 976–77; Maḥmud's and Masʿud's expeditions of 402/1011 and 421/1030). https://www.iranicaonline.org/articles/turan/
  2. C. E. Bosworth, "MAKRĀN", Encyclopaedia Iranica, online edition, published 11 February 2011 (Kij as seat of the ruler; ʿIsā b. Maʿdān; Quṣdār under Sebüktegin "as early as 366/976-7"; the expeditions of 416/1025-26 and 421/1030, Abu'l-ʿAskar; Ghaznavid suzerainty until the Ghurids; Baluch settlement in the following centuries). https://www.iranicaonline.org/articles/makran/
  3. C. E. Bosworth, "MAḤMUD B. SEBÜKTEGIN", Encyclopaedia Iranica, online edition, published 21 December 2012 (Quṣdār indemnity of 402/1010–11, citing ʿOtbi tr. pp. 321–22; Makrān succession dispute 416–17/1025–26, citing Bayhaqi pp. 313–18; Ḵalaf of Sistān defeated 393/1002–3). https://www.iranicaonline.org/articles/mahmud-b-sebuktegin/
  4. C. E. Bosworth, "GHURIDS", Encyclopaedia Iranica, vol. X, fasc. 6, 2001, pp. 586–590 (Moʿezz-al-Din at Ghazna 569/1173–74, Gomal Pass, Multan and Uch 570/1175, Sumerās 578/1182, Ḡiāṯ-al-Din over Sistan and Kerman). https://www.iranicaonline.org/articles/ghurids/
  5. C. E. Bosworth, "GHAZNAVIDS", Encyclopaedia Iranica, vol. X, fasc. 6, 2001, pp. 578–583 (last rulers reduced to the Punjab, capital at Lahore; surrender of Ḵosrow Malek 582/1186; Ghurid succession "within a generation" lost to the Ḵᵛārazmšāhs). https://www.iranicaonline.org/articles/ghaznavids/
  6. C. E. Bosworth, "SAFFARIDS", Encyclopaedia Iranica, online edition, 2000 (Maḥmud's annexation of Sistan 393/1003, end of the Saffarid house), and "ḴALAF B. AḤMAD", Encyclopaedia Iranica, vol. XV, fasc. 4, 2010, pp. 362–363 (reign 352/963–393/1003; death in captivity 399/1009). https://www.iranicaonline.org/articles/saffarids/ · https://www.iranicaonline.org/articles/kalaf-b-ahmad-b-mohammad-abu-ahmad/
  7. C. E. Bosworth, "JALĀL-AL-DIN ḴᵛĀRAZMŠĀH(I) MENGÜBIRNI", Encyclopaedia Iranica, vol. XIV, fasc. 4, 2008, pp. 404–405 (some 4,000 troops across the Indus, three years in India, passage through Kerman 1224, Baraq Ḥājeb r. 1222–35). https://www.iranicaonline.org/articles/jalal-al-din-kvarazmsahi-mengbirni/
  8. C. E. Bosworth, "The Early Ghaznavids", in R. N. Frye (ed.), The Cambridge History of Iran, vol. 4, Cambridge University Press, 1975, ch. 5: p. 166 (Qusdar added soon after Sebüktegin's accession in 366/977), p. 175 (402/1011 expedition; the ruler "nowhere named" and in contact with the Qarakhanids; Maʿdan's death 416/1025-6 and the dispute of ʿIsā and Abu'l-Muʿaskar), p. 189 (Yūsuf b. Sebük-Tegin against the governor of Qusdār, "two years behind with his tribute", then Makrān, 422/1031). https://archive.org/details/bosworth-1975-early-ghaznavids/page/n4 · /page/n11 · /page/n27
  9. Muhammad Nazim, The Life and Times of Sultan Mahmud of Ghazna, Cambridge University Press, 1931: p. 29 (Subuktigin "added Bust and Qusdar to his kingdom" in the first year or two after his accession), p. 74 ("Sultan Mahmud and the Ruler of Qusdar": tribute withheld, siege in 402, ruler kept "as a feudatory chieftain"), pp. 79–80 ("Sultan Mahmud and the Rulers of Mukran"). https://archive.org/details/dli.pahar.2481/page/n42 · /page/n89 · /page/n94
  10. Al-ʿUtbi, The Kitab-i-Yamini: Historical Memoirs of the Amir Sabaktagin and the Sultan Mahmud of Ghazna, translated by James Reynolds, Oriental Translation Fund, London, 1858: pp. 32–33 (Sabaktagin's capture of Kasdar; "through his gentle and humane disposition" the prince confirmed with "a fixed tribute, to be paid year by year"), pp. 375–77 ("Account of the Capture of Kasdar": the prince's rebellion "by intercepting money", submission and payment). https://archive.org/details/kitabiyaminihist00alut/page/n69 · /page/n412
  11. Jan Rypka, "History of Persian Literature up to the Beginning of the 20th Century", in J. Rypka et al., History of Iranian Literature, D. Reidel, Dordrecht, 1968, p. 144 ("More sagas than facts are known about Rábi'a … bint Ka'b-i Quzdari Balkhi", end of Samanid or beginning of Ghaznavid era). https://archive.org/details/rypka-1968-persian-lit/page/n84
  12. Minhāj-i Sirāj Jūzjānī, Ṭabaḳāt-i-Nāṣirī: A General History of the Muhammadan Dynasties of Asia, translated by H. G. Raverty, Bibliotheca Indica, Asiatic Society of Bengal, Calcutta, 1881, 2 vols. (the main Ghurid chronicle, closed in 658 H./1260: title page and translator's preface, vol. I; cited for its status only). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.23988/page/n5 · https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.23989
  13. ʿAlāʾ-al-Din ʿAṭā-Malik Juvaini, The History of the World-Conqueror, translated by John Andrew Boyle, Manchester University Press, 1958, vol. II, p. 417 (Jalāl-al-Din leaves Deval "by way of Makran, numbers of his men perishing on account of the unhealthy climate", then reaches Baraq Hajib in Kerman). https://archive.org/details/dli.pahar.3132/page/n61
  14. C. E. Bosworth, "Rulers of Makrān and Quṣdār in the Early Islamic Period", Studia Iranica 23/2 (1994), pp. 199–209, DOI 10.2143/si.23.2.2014304.

بلوچستان: تاریخ کا سفر: تمام تحریریں ←