ہمایوں کا بلوچستان سے گزر
پچھلے باب میں ہم نے دیکھا کہ سولہویں صدی عیسوی میں قندھار مغلوں اور صفویوں کے درمیان کھینچا تانی کا میدان بن گیا تھا، اور شال (آج کا کوئٹہ) اور مستونگ کے علاقے اسی کھینچا تانی کے کنارے پر واقع…

پچھلے باب میں ہم نے دیکھا کہ سولہویں صدی عیسوی میں قندھار مغلوں اور صفویوں کے درمیان کھینچا تانی کا میدان بن گیا تھا، اور شال (آج کا کوئٹہ) اور مستونگ کے علاقے اسی کھینچا تانی کے کنارے پر واقع تھے۔ اسی صدی کے وسط میں ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے اس خطے کو مغل تاریخ کے ایک نازک موڑ سے جوڑ دیا۔ 1543ء میں ہندوستان کا معزول بادشاہ ہمایوں، اپنی سلطنت کھو کر، تھوڑے سے ساتھیوں کے ساتھ سندھ سے نکلا اور سبی، مستونگ اور شال کے راستے قندھار کی سرحد تک پہنچا، جہاں سے وہ ایران کی طرف بھاگا اور اپنا ایک سال کا بیٹا پیچھے چھوڑ گیا۔
تین راوی
اس واقعے کے تین بنیادی ماخذ ہیں۔ پہلا ہمایوں کی بہن گلبدن بیگم کی "ہمایوں نامہ" ہے جو انہوں نے شاہی حکم پر، غالباً اپنے بھتیجے اکبر کے کہنے پر، لکھی؛ انیٹ بیورج (Annette Beveridge) نے 1902ء میں اس کا انگریزی ترجمہ شائع کیا۔ دوسرا ہمایوں کے آفتابچی، یعنی وضو کا پانی اور برتن سنبھالنے والے خادم، جوہر کی "تذکرۃ الواقعات" ہے جس کا ترجمہ چارلس سٹیورٹ (Charles Stewart) نے 1832ء میں کیا؛ اس کتاب کا ایک باب "سندھ سے قندھار کی طرف، 950ھ / 1543ء" کے عنوان سے اسی سفر پر ہے۔ تیسرا ابوالفضل کا "اکبر نامہ" ہے جس کی پہلی جلد، ہنری بیورج (Henry Beveridge) کے ترجمے میں، اکبر کی پیدائش اور ہمایوں کی جلاوطنی کا حال بیان کرتی ہے۔ انیسویں صدی میں ولیم ارسکن (William Erskine) نے، جس کی تاریخ 1854ء میں اس کی وفات کے بعد چھپی، انہی ماخذوں سے ہمایوں کی مفصل تاریخ مرتب کی۔
سندھ میں دو برس
1539ء اور 1540ء میں شیر شاہ سوری سے شکست کھا کر ہمایوں مغربی ہندوستان کی طرف نکل گیا۔ میلیسن (Malleson) کے بقول جنوری 1541ء تک وہ سندھ میں ایک بھگوڑے کی حیثیت سے موجود تھا، جہاں ارغون خاندان کا شاہ حسین حکمران تھا۔ شاہ حسین نے ٹال مٹول سے کام لیا اور مدد نہ کی، اور ہمایوں کے محاصرے بے نتیجہ رہے۔ ایلفنسٹن (Elphinstone) لکھتا ہے کہ آخر شاہ حسین، جو کسی بھی شرط پر اس مہمان سے جان چھڑانا چاہتا تھا، اس بات پر راضی ہوا کہ اگر ہمایوں فوراً قندھار کی طرف روانہ ہو جائے تو وہ اس کے سفر میں مدد دے گا۔
اسی دوران، 1541ء میں، ہمایوں نے حمیدہ بانو بیگم سے شادی کی، جنہیں بعض ماخذ ہندال مرزا کے استاد شیخ علی اکبر جامی کی بیٹی بتاتے ہیں۔ گلبدن بیگم لکھتی ہیں کہ حمیدہ بانو پہلے اس رشتے پر راضی نہ تھیں۔ یہی حمیدہ بانو اگلے دو برس کے سارے سفر میں ہمایوں کے ساتھ رہیں۔
عمر کوٹ: اکبر کی پیدائش
سندھ میں بھٹکتے ہوئے ہمایوں ریگستان کے کنارے عمر کوٹ پہنچا۔ اکبر نامہ کے مطابق یہیں 5 رجب 949ھ کو، یعنی 15 اکتوبر 1542ء کو، حمیدہ بانو کے بطن سے اکبر پیدا ہوا۔ جوہر ایک یادگار منظر بیان کرتا ہے: ہمایوں اس وقت عمر کوٹ سے دور لشکر کے ساتھ تھا۔ بیٹے کی پیدائش کی خبر ملی تو اس کے پاس بانٹنے کو کچھ نہ تھا۔ اس نے مشک کا ایک نافہ توڑ کر ساتھیوں میں بانٹا اور کہا کہ اس کے پاس یہی تحفہ ہے، اور دعا کی کہ جیسے اس مشک کی خوشبو پھیلتی ہے ویسے ہی اس بچے کا نام دنیا میں پھیلے۔
سندھ سے سبی، مستونگ اور شال تک
میلیسن کے بقول جولائی 1543ء میں ہمایوں سندھ چھوڑنے پر مجبور ہوا اور بیوی، بیٹے اور تھوڑے سے ساتھیوں کے ساتھ قندھار پہنچنے کے ارادے سے روانہ ہوا؛ اکبر نامہ روانگی کی تاریخ 11 جولائی 1543ء دیتا ہے۔ لیکن قندھار اس وقت اس کے بھائی کامران مرزا کے قبضے میں تھا؛ گزیٹیئر آف بلوچستان کی جلد "سراوان" (1907ء) لکھتی ہے کہ 1530ء سے 1545ء تک قندھار کا صوبہ کامران مرزا کے پاس رہا۔ گلبدن بیگم کے بیان کے مطابق ہمایوں کے مشیروں تردی محمد خان اور بیرم خان کی رائے یہ تھی کہ شمال کی طرف، قندھار کی سرحد پر واقع شال مستونگ کے سوا کہیں اور جانے کا فیصلہ ممکن نہیں۔
راستے کے بارے میں جوہر لکھتا ہے کہ سہون کے بعد قافلہ فتح پور گنداوہ پہنچا، پھر کھارے پانی کے پڑاؤ اور ایک کھلے میدان سے گزر کر مستونگ پہنچا؛ گلبدن بیگم سیوی (سبی) کے قریب سے گزرنے کا ذکر کرتی ہیں۔ گزیٹیئر "سراوان" میں درج ہے کہ 1543ء کے موسمِ گرما میں ہمایوں ہندوستان سے پسپائی کے دوران سبی کے راستے شال مستونگ پہنچا، لیکن گلبدن بیگم اور جوہر دونوں اس سفر میں برف اور سخت سردی کا ذکر کرتے ہیں، اور انیٹ بیورج کے حاشیے کے مطابق یہ واقعہ 950ھ کے آخر (1543ء) کا ہے۔ گزیٹیئر کی جلد "کوئٹہ پشین" (1907ء) بھی اپنے تاریخی باب میں ہمایوں کے 1543ء میں کوئٹہ آنے کا ذکر کرتی ہے۔ اس سفر میں ہمایوں کا ایک بلوچ سردار سے بھی سامنا ہوا، جس کا ذکر آگے آتا ہے۔
شال کی رات: بیٹا پیچھے رہ گیا
شال میں ہمایوں کو خبر ملی کہ اس کا بھائی عسکری مرزا، جو کامران مرزا کی طرف سے قندھار کا حاکم تھا، ایک بڑی فوج لے کر قریب پہنچ چکا ہے۔ میلیسن لکھتا ہے کہ ہمایوں کے لیے فوری فرار کے سوا کوئی راستہ نہ تھا۔ وہ حمیدہ بانو اور تھوڑے سے لوگوں کے ساتھ لشکر گاہ سے نکل گیا، اور ایک سال کا اکبر، جسے اس تیز رفتار فرار میں ساتھ لے جانا ممکن نہ سمجھا گیا، اپنے خادموں کے ساتھ خیمے میں رہ گیا۔ عسکری مرزا نے لشکر گاہ پہنچ کر بچے کو اپنی تحویل میں لیا اور اسے قندھار پہنچا دیا۔ ہمایوں کا چھوٹا سا قافلہ برف میں رات گزار کر پہاڑوں میں بلوچوں کی ایک بستی تک پہنچا۔ گلبدن بیگم اور جوہر دونوں لکھتے ہیں کہ وہاں کے بلوچ سردار کو کامران مرزا کی طرف سے ہمایوں کو پکڑ لینے کا حکم ملا تھا، مگر اس نے ایسا نہ کیا؛ جوہر اس سردار کا نام "ملک خطی" (Mulk Khutty) لکھتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ ہمایوں کو پندرہ کوس تک، اپنے علاقے کی حد تک، حفاظت سے چھوڑ آیا۔
گلبدن بیگم آگے چل کر لکھتی ہیں کہ 1545ء میں، جب عسکری مرزا کو ہمایوں کی واپسی کی خبر ملی، تو اس نے اکبر کو قندھار سے کابل کامران مرزا کے پاس بھیج دیا؛ انیٹ بیورج اپنے مقدمے میں لکھتی ہیں کہ سب تاریخیں قندھار سے اس برفانی سفر کا ذکر کرتی ہیں جو اکبر نے اپنی سوتیلی بہن، ہمایوں کی بیٹی بخشی بانو، کے ساتھ کیا، ایک کی عمر تین برس سے کم اور دوسری کی چار کے قریب تھی۔
ایران، قندھار اور واپسی
شال سے نکل کر ہمایوں 1544ء میں ایران پہنچا۔ انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا کے مطابق ہرات کے صفوی حاکم نے شاہی فرمان کے تحت اس کی خاطر مدارات کی، پھر وہ مشہد، نیشاپور، سبزوار اور قزوین سے ہوتا ہوا سلطانیہ میں شاہ طہماسپ سے ملا۔ شاہ نے اسے دس ہزار سواروں کا دستہ دیا تاکہ وہ قندھار اور کابل اپنے بھائیوں سے واپس لے۔ ایرانیکا ہی لکھتا ہے کہ 25 جمادی الثانی 952ھ / 3 ستمبر 1545ء کو قندھار عسکری مرزا سے واپس لیا گیا اور، معاہدے کے مطابق، ایک نوعمر صفوی شہزادے کے حوالے کیا گیا؛ بیرم خان اس فتح میں اپنی خدمات کے صلے میں 1545ء سے 1554ء تک قندھار کا حاکم رہا۔ نومبر 1545ء میں، جب ہمایوں کابل میں داخل ہوا، تو دو برس کی جدائی کے بعد اکبر دوبارہ اپنے والد سے ملا؛ حمیدہ بانو کو بعد میں قندھار سے بلایا گیا، اور گلبدن بیگم کابل میں اکبر کے ختنے کے جشن کا منظر خاص طور پر بیان کرتی ہیں۔
گزیٹیئر کی جلدیں "سراوان" اور "کوئٹہ پشین"، ارسکن اور ایرانیکا سب ایک اور بات لکھتے ہیں: واپسی کے بعد ہمایوں نے، روایت کے مطابق، شال اور مستونگ کے علاقے ایک بلوچ سردار لاوانگ خان کو دیے؛ گزیٹیئر کے بقول تاریخ یہ نہیں بتاتی کہ یہ شخص کون تھا۔ بعد میں اکبر کے زمانے کی "آئینِ اکبری" میں شال اور پشین قندھار کی سرکار کے حصے کے طور پر درج ہیں جو مغل حکومت کو فوجی خدمت اور محصول فراہم کرتے تھے۔
میر چاکر اور ہمایوں: ایک روایت
بلوچ قبائلی روایت میں ہمایوں کا نام ایک اور طرح بھی آتا ہے۔ ڈیمز (Dames) نے اپنی کتاب "دی بلوچ ریس" (1904ء) میں لکھا ہے کہ روایت کے مطابق میر چاکر رند بعد میں ہمایوں کے دہلی کی طرف مارچ میں شامل ہوئے اور آخرکار پنجاب کے ضلع منٹگمری میں ست گھرہ میں آباد ہوئے، جہاں ان کا مزار آج بھی موجود ہے۔ ہمایوں کی یہ واپسی 1555ء میں ہوئی، جب وہ سوری حکمرانوں کو شکست دے کر دوبارہ دہلی کے تخت پر بیٹھا۔ ڈیمز اس بات کو روایت ہی کے طور پر درج کرتے ہیں، اور 1543ء کے سفر کے جو بیانات اوپر گزرے ان میں میر چاکر کا نام ہمیں نہیں ملتا۔ اس لیے ان دونوں باتوں کو الگ الگ دیکھنا چاہیے: پہلا واقعہ مغل تاریخوں میں درج ہے، دوسرا قبائلی روایت میں محفوظ ہے۔
ہمایوں کا بلوچستان سے گزر چند مہینوں کا واقعہ تھا، مگر اس نے اس خطے کو مغل تاریخ کے ایک نازک موڑ سے جوڑ دیا: وہ بچہ جو شال کے خیمے میں پیچھے رہ گیا، آگے چل کر اکبرِ اعظم بنا۔ اگلی صدی میں بلوچستان کی اپنی ایک ریاست ابھرنے والی تھی۔
اگلے اتوار: خانیتِ قلات کا قیام، جس سے اس سلسلے کا حصہ سوم: خانیتِ قلات شروع ہوتا ہے۔
ماخذ
- Gulbadan Begam, The History of Humāyūn (Humāyūn-nāma), translated with introduction and notes by Annette S. Beveridge, Royal Asiatic Society, Oriental Translation Fund New Series, London, 1902: royal order to write, p. 83; introduction on Akbar's winter journey with Bakhshi-banu ("All the histories tell of his wintry journey from Qandahar"), p. 37; Shah Husain's delays and hostility, pp. 148–152; Hamida's resistance and marriage (Jumada I 948/1541), pp. 149–151; the Siwi (Sibi) approach, pp. 163–164; Tardi Muhammad Khan and Bairam Khan advising "Shal-mastan, the frontier of Qandahar", flight and Akbar left behind, pp. 165–166; the Baluch chief, pp. 167–168; Akbar sent to Kabul (1545), p. 174 and n. 4; circumcision feast, p. 179; Appendix on Bakhshi-banu, p. 214, and on Hamida's father, p. 237. Scan: https://archive.org/details/historyofhumayun00gulbrich (e.g. p. 165: https://archive.org/details/historyofhumayun00gulbrich/page/n198)
- Jauhar Āftābchī, The Tezkereh al Vakiat; or, Private Memoirs of the Moghul Emperor Humayun, translated by Charles Stewart, Oriental Translation Fund, London, 1832: birth of Akbar and the musk, pp. 44–45; chapter XIII, "His Majesty marches from Sinde, and proceeds towards Candahar. A.H. 950. — A.D. 1543", pp. 49–53 (route via Sehwan and Fatehpur Gandava to "Salmustan or Mustung", p. 51; Akbar left and taken to Kandahar, p. 52; the Baluch chief "Mulk Khutty", p. 53). Scan: https://archive.org/details/tezkerehalvakiat00jawhuoft (p. 53: https://archive.org/details/tezkerehalvakiat00jawhuoft/page/n68)
- Abu'l-Fazl, The Akbarnāma, vol. I, translated by H. Beveridge, Asiatic Society of Bengal (Bibliotheca Indica), Calcutta, 1907 (scan of the 2000 reprint): Akbar's birth on 5 Rajab 949 / Sunday 15 October 1542, with Beveridge's note on Gulbadan's 4 Rajab, p. 54; departure from Jun "for Qandahar via Siwi (Sibi) on 7th Rabi'u-l-akhir, 950 (11th July, 1543)", p. 389; Shal and Mastung, Askari's advance and Humayun's flight, pp. 390–392. Scan: https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.55648 (p. 389: https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.55648/page/n400)
- William Erskine, A History of India under the Two First Sovereigns of the House of Taimur, Báber and Humáyun, Longman, Brown, Green and Longmans, London, 1854: vol. I, "Notice" on the late Mr. Erskine; vol. II, march to Shal-Mustung in the cold season, p. 266; entry into Kabul and reunion with Akbar (Nov. 1545), p. 325; Hamida's arrival and the circumcision, p. 326; "Lawang Baluch … was rewarded with the country of Shal and Mustung", p. 327. Scans: vol. II https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.82698 (p. 327: https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.82698/page/n349); vol. I https://archive.org/details/india.history.resource.512
- G. B. Malleson, Rulers of India: Akbar and the Rise of the Mughal Empire, Clarendon Press, Oxford, 1890 (scan of the 1894 printing): Humayun a fugitive in Sind, January 1541, p. 51; July 1543 departure, Askari near Shal, "immediate flight was necessary", child "only a year old", p. 53; Akbar conveyed to Kandahar, Askari its governor, p. 54. Scan: https://archive.org/details/akbarriseofmugha00mallrich
- Mountstuart Elphinstone, The History of India, 2nd ed., vol. II, John Murray, London, 1843, book VII, chapter 2: Husain Arghun, "glad to get rid of him on any terms", agrees to help if Humayun sets out for Candahar, p. 146. Scan: https://archive.org/details/wbsl.15253 (https://archive.org/details/wbsl.15253/page/n181)
- W. M. Thackston, "Homāyun Pādešāh", Encyclopaedia Iranica, vol. XII, fasc. 4, 2004, pp. 437–439 (1544 journey to Iran, reception at Herat, meeting with Tahmasp at Soltaniya, recapture of Kandahar 25 Jumada II 952 / 3 September 1545 and its cession to a Safavid prince; Kabul 17 November 1545; Delhi entered 23 July 1555). https://www.iranicaonline.org/articles/homayun-padesah/
- Encyclopaedia Iranica, "Bayram Khan" (governor of Qandahar 952/1545–961/1554 for his role in its conquest). https://www.iranicaonline.org/articles/bayram-or-bayram-khan-mohammad-kan-e-kanan-an-illustrious-and-powerful-iranian-noble-at-the-court-of-the-mugh/
- Encyclopaedia Iranica, "Baluchistan i. Geography, History and Ethnography" (Homāyūn "reputed to have given Shal (Quetta) and Mastung to a Baluch named Lawang Khan", citing Gazetteer V, p. 34). https://www.iranicaonline.org/articles/baluchistan-index/baluchistan-i/
- Baluchistan District Gazetteer Series, vol. V: Quetta-Pishin District, by R. Hughes-Buller assisted by Jamiat Rai, Scottish Mission Industries, Ajmer, 1907, history section, p. 33 (Kandahar under Kamran 1530–45; Humayun at Quetta in 1543; Lawang Khan, "who Lawang Khan was, history does not relate"; Shal and Pushang in the Kandahar Sarkar of the Ain-i-Akbari). Scan: https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.46886 (https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.46886/page/n55)
- Baluchistan District Gazetteer Series, vols. VI, VI-A and VI-B: Sarawan, Kachhi and Jhalawan, Times Press, Bombay, 1907, Sarawan history, pp. 83–84 (Kandahar under Kamran 1530–45; "in the summer of 1543, that Humayun came to Shal-Mastung via Sibi"; Akbar carried to Kandahar in December 1543; Lawang Khan). Scan: https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.22668 (p. 83: https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.22668/page/n47)
- M. Longworth Dames, The Baloch Race: A Historical and Ethnological Sketch, Royal Asiatic Society Monographs vol. IV, London, 1904, pp. 44–45 (the legend that Chakur "joined Humayun afterwards on his march to Dehli, and at last settled down at Satgarha"; "no historical evidence of the fact"). Scan: https://archive.org/details/balochracehistor00damerich (https://archive.org/details/balochracehistor00damerich/page/n53)
- Imperial Gazetteer of India, Provincial Series: Baluchistan, Superintendent of Government Printing, Calcutta, 1908: "Baluchistan under Akbar", p. 13 (upper highlands in the sarkar of Kandahar in 1590); Quetta-Pishin District, p. 120 ("The Ain-i-Akbari mentions both Shal and Pishin as supplying military service and revenue to Akbar"). Scan: https://archive.org/details/ImperialGazetteerOfIndiaBaluchistan (p. 120: https://archive.org/details/ImperialGazetteerOfIndiaBaluchistan/page/n134)



