میر چاکر رند اور رند–لاشاری جنگیں
پچھلے باب میں ہم نے براہوی زبان کا معمہ دیکھا، جس کی آمد کا کوئی تاریخی ریکارڈ نہیں۔ اس باب کا معاملہ بھی الجھا ہوا ہے۔ پندرہویں اور سولہویں صدی عیسوی کے بلوچستان کا کوئی ہم عصر تاریخ نامہ ہمارے…

پچھلے باب میں ہم نے براہوی زبان کا معمہ دیکھا، جس کی آمد کا کوئی تاریخی ریکارڈ نہیں۔ اس باب کا معاملہ بھی الجھا ہوا ہے۔ پندرہویں اور سولہویں صدی عیسوی کے بلوچستان کا کوئی ہم عصر تاریخ نامہ ہمارے پاس نہیں، مگر ایک پوری شاعری ہے: وہ رزمیہ کلام جس میں رند اور لاشاری قبیلوں کی طویل جنگ، میر چاکر رند اور میر گوہرام لاشاری کے نام اور رندوں کی پنجاب کی طرف ہجرت محفوظ ہے۔ یہاں ہر بات اس کے راوی کے نام سے پیش ہوگی۔
مکران سے کچھی تک
انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا میں برائن سپونر (Brian Spooner) لکھتے ہیں کہ بلوچی رزمیہ شاعری کے ہیرو، میر شیہک رند، اس کے بیٹے میر چاکر رند اور میر گوہرام لاشاری، مکران کے رند اور لاشاری بلوچوں سے تعلق رکھتے تھے۔ اسی انسائیکلوپیڈیا میں ایلفن بائن (Josef Elfenbein) کے بقول روایت میر چاکر کی پیدائش کولوا کے مقام آشل میں بتاتی ہے، غالباً پندرہویں صدی کے وسط میں۔ سپونر کے مطابق نویں صدی ہجریپندرہویں صدی عیسوی میں بلوچ قبائل کی ایک لہر جنوبی پنجاب کی طرف گئی، جبکہ میر چاکر بظاہر سبی اور درۂ بولان کے علاقے میں مقیم رہے۔
گزیٹیئر آف بلوچستان کی کچھی والی جلد (1907ء) کے مطابق میر چاکر رند کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے کچھی میں تقریباً تیس برس امن سے حکومت کی۔ یوں رند اور لاشاری مکران کی طرف سے آ کر سبی، گنداوہ اور کچھی میں آباد ہوئے، اور وہیں ان کی کشمکش شروع ہوئی۔
شاعری ہی تاریخ ہے
ایلفن بائن لکھتے ہیں کہ بلوچی ادب بڑی حد تک زبانی ہے، اور اس کے کلاسیکی رزمیہ سلسلوں میں پہلا اور سب سے اہم "چاکر سلسلہ" ہے جس کا مرکز میر چاکر رند ہے۔ رند اور لاشاری دونوں کی روایتیں ہمیں شاعری ہی سے ملی ہیں؛ گویا دو فریقوں کی یادداشت تو ہے، مگر کوئی غیر جانب دار گواہ نہیں۔
ایلفن بائن کے بقول اس شاعری کے سب سے اہم اور منظم مجموعے برطانوی افسر اور محقق ڈیمز (M. Longworth Dames) نے تیار کیے۔ ان کی کتاب "دی بلوچ ریس" (1904ء) میں اس دور کا تاریخی خاکہ ہے، اور "پاپولر پوئٹری آف دی بلوچز" (1906ء) میں بلوچی متن اور انگریزی ترجمے۔ دوسری کتاب کی فہرست میں "چاکر اور گوہرام" کے عنوان سے پانچ نظمیں، پھر "چاکر اور ہیبت" اور "چاکر اور جاڑو" کے عنوان سے مزید نظمیں درج ہیں۔ ڈیمز کے بقول روایتی رزمیہ کلام کا بڑا حصہ اسی جنگ سے متعلق ہے جو رندوں اور لاشاریوں کے درمیان، اور پھر دونوں اور "ترکوں" کے درمیان لڑی گئی۔
جنگ کیوں شروع ہوئی: گوہر کے اونٹ
جنگ کے سبب کی روایت ایک ہے مگر تفصیل میں فرق ہے۔ ڈیمز کے بقول رند میر چاکر کے اور لاشاری گوہرام کے ماتحت تھے؛ دونوں گوہر نامی ایک خاتون کے طلب گار تھے جس کے پاس اونٹوں کے بڑے گلے تھے۔ کچھ لاشاریوں نے گوہر کے کم عمر اونٹ مار ڈالے، چاکر نے انتقام کی قسم کھائی، اور وہ جنگ شروع ہوئی جو تیس برس چلی۔ کچھی کا گزیٹیئر رقابت کی یہی بات دہراتا ہے اور گوہر کو ایک جٹ خاتون لکھتا ہے جس کے ہاتھ کے لیے چاکر اور گوہرام رقیب تھے۔
ایلفن بائن ایک اور رخ دیتے ہیں۔ ان کے بقول گوہر خود لاشاری تھی اور اس نے رند سردار میر چاکر کو ترجیح دی۔ محمد شفیق اور سہیل اختر (2020ء) کا بیان ہے کہ گھڑ دوڑ میں رندوں کی جیت کے بعد لاشاریوں نے رند قبیلے کی ایک خاتون "گوہر جتنی" کے جانوروں کے بچے مار ڈالے اور لوٹ لیے، اور چاکر کے تاوان مانگنے پر انکار کر دیا۔ یعنی ایک روایت میں گوہر جٹ خاتون ہے، دوسری میں لاشاری اور تیسری میں رند قبیلے کی۔ ایلفن بائن کا خلاصہ عمومی ہے: کئی چھوٹے واقعات، جن میں سے ہر ایک پر الگ نظم موجود ہے، اس دھماکے کی تمہید بنے جس کے بعد ایک طویل اور بے رحم جنگ چھڑی جسے روایت تیس برس کی بتاتی ہے۔
تیس سال کی جنگ
جنگ کی تفصیل بھی شاعری ہی سے ملتی ہے۔ شفیق اور اختر کے مطابق ایک روایت یہ ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان پچیس لڑائیاں ہوئیں، جن میں دس میں لاشاریوں نے چاکر کو شکست دی اور باقی پندرہ رندوں نے جیتیں۔ یہ اعداد روایت کے ہیں، کسی دستاویز کے نہیں۔ ایلفن بائن کے بقول پہلی لڑائیوں میں شکست کے بعد آخرکار رند جیتے، جبکہ گوہرام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ چند ساتھیوں کے ساتھ جنوب میں سندھ کی طرف نکل گیا۔
ارغون اور "ترک"
جنگ کا فیصلہ صرف دو قبیلوں کے ہاتھ میں نہ رہا۔ کچھی کے گزیٹیئر کے مطابق میر ذوالنون بیگ ارغون، جو ہرات کے سلطان حسین مرزا کی طرف سے تقریباً 1470ء میں قندھار اور شمال مشرقی بلوچستان کا حاکم تھا، ان جنگوں میں نمایاں کردار ادا کرتا رہا۔ گزیٹیئر کے بیان میں ایک موقع پر رندوں کو شکست ہوئی اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ارغونوں سے مدد مانگی۔ بعد کے واقعات میں گزیٹیئر لکھتا ہے کہ لاشاری شاہ بیگ ارغون کے ساتھ سندھ کے جام فیروز کے خلاف جنگوں میں شریک ہوئے اور روایت کے مطابق واپس کچھی آ کر بادشاہ سے گنداوہ کی جاگیر پائی۔
بلوچی شاعری میں یہی ارغون "ترک" کہلاتے ہیں۔ ڈیمز کے بقول رزمیہ نظمیں میر چاکر اور رندوں کی پنجاب کی طرف ہجرت کا سبب سبی اور کچھی کا ہاتھ سے نکل جانا بتاتی ہیں۔ گزیٹیئر کا انجام بھی یہی ہے: چاکر بیشتر رندوں کے ساتھ سبی چھوڑ کر پنجاب کی طرف گیا، لاشاری گنداوہ میں رہے اور کچھ رند کچھی کے شوران میں قائم رہے۔
پنجاب کی طرف: ستگھرہ اور ہمایوں
ڈیمز لکھتے ہیں کہ رند ملتان، جھنگ، مظفر گڑھ، منٹگمری اور شاہ پور کے اضلاع میں بڑی تعداد میں آباد ہیں، اور روایت کے مطابق چاکر آخر کار منٹگمری ضلع کے ستگھرہ میں آباد ہوا جہاں اس کا مقبرہ آج بھی موجود ہے۔ ڈیمز یہ بھی لکھتے ہیں کہ عباس خان کی "تاریخِ شیر شاہی" میں چاکر رند شیر شاہ کے زمانے میں ستگھرہ میں قائم ملتا ہے، اور بلوچ پورے ملتان کے علاقے پر قابض تھے جہاں سے شیر شاہ نے انہیں نکالا۔
ایک اور روایت میر چاکر کو ہمایوں کی 1555ء کی واپسی سے جوڑتی ہے۔ ڈیمز کے بقول روایتی کلام میں یہ بھی ہے کہ چاکر بعد میں ہمایوں کے ساتھ دہلی کی طرف اس کی پیش قدمی میں شامل ہوا۔ ڈیمز کے نزدیک شیر شاہ کے ہاتھوں ملتان سے بے دخلی کے بعد بلوچوں کا ہمایوں کا ساتھ دینا قرینِ قیاس تھا۔ سپونر محتاط ہیں: ان کے بقول 1556ء میں، اپنی موت سے کچھ پہلے، میر چاکر کے بارے میں "کہا جاتا ہے" کہ اس نے مغلوں کی بالادستی تسلیم کی۔ پاکستان سٹڈی سینٹر کے جریدے "پاکستان پرسپیکٹیوز" میں محمد عارف (2021ء) نے 1555ء میں بلوچوں کے کردار، خاص طور پر میر شہداد رند کے کردار، کا موقف پیش کیا ہے مگر خود اس بارے میں مختلف آرا درج کرتے ہیں، یہاں تک کہ بعض مصنفین کے نزدیک چاکر 1555ء میں اتنا بوڑھا تھا کہ اس نے خود جانے کے بجائے اپنے بیٹے شہداد کو بھیجا۔ ڈیمز خود صاف لکھتے ہیں کہ ہمایوں کے ساتھ اس شرکت کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں؛ صرف روایت اسے بہت ممکن بناتی ہے۔
تاریخیں: ایک مسئلہ
چونکہ کوئی ہم عصر تاریخ نامہ نہیں، اس دور کی تاریخیں اندازے ہیں جو بلوچی روایت کو ارغونوں کی معلوم تاریخ سے جوڑ کر لگائے گئے۔ شفیق اور اختر اپنے مقالے کے عنوان میں جنگ کو 1490ء تا 1518ء اور خلاصے میں 1486ء تا 1518ء لکھتے ہیں اور میر چاکر کی زندگی 1468ء تا 1565ء بتاتے ہیں؛ سپونر اس کی موت کو 1556ء کے قریب رکھتے ہیں؛ ایلفن بائن پیدائش کو پندرہویں صدی کے وسط میں رکھتے ہیں اور جنگ کے واقعات کو اندرونی شواہد کی بنیاد پر 1475ء اور 1525ء کے درمیان۔ ایک ہی مقالے کے عنوان اور خلاصے کا فرق بتاتا ہے کہ یہ سب تخمینے ہیں۔ محفوظ بات یہی ہے کہ رند–لاشاری جنگیں پندرہویں صدی کے آخر اور سولہویں صدی کے آغاز، یعنی لگ بھگ 1500ء کے آس پاس، کی ہیں۔
یوں میر چاکر رند کی کہانی تاریخ اور شاعری کے سنگم پر کھڑی ہے: ایک خاتون کے اونٹ، تیس برس کی جنگ، ارغون، سبی کا نقصان اور پنجاب کی ہجرت۔ ہر کڑی ہمیں شاعروں نے دی ہے، اور ڈیمز کے الفاظ میں یہی واقعات "بلوچ قوم کی ایلیڈ" ہیں۔
اگلے اتوار: رزمیہ شاعری میں محفوظ تاریخ: چاکر، گوہرام اور شے مرید کی نظمیں کیا بتاتی ہیں۔
ماخذ
- M. Longworth Dames, The Baloch Race: A Historical and Ethnological Sketch, Royal Asiatic Society, London, 1904: pp. 43–45 (the Rind–Lashari war, Gohar's camels, the Arghuns as "the Turks", the loss of Sibi and Kachhi, Humayun, Satgarha, Sher Shah; "These events constitute the Iliad of the Baloch race", p. 44; "although there is no historical evidence of the fact, the legend makes it very probable that they did so", p. 45), p. 48 (Rinds in Multan, Jhang, Muzafargarh, Montgomery and Shahpur). https://archive.org/details/balochracehistor00damerich/page/n53
- M. Longworth Dames, Popular Poetry of the Baloches, vol. 1 (translations), Folk-Lore Society / David Nutt, London, 1906 (title page; the Royal Asiatic Society issue and most citations give 1907): contents p. viii (No. XI "Chakur and Gwaharam" 1a–5, pp. 20–25; No. XII "Chakur and Haibat", p. 26; No. XIII "Chakur and Jaro", pp. 27–29); p. xix ("the five poems exchanged between Chakur and Gwaharam"). https://archive.org/details/popularpoetryofb01dameuoft
- Baluchistan District Gazetteer Series, vols. VI, VI-A and VI-B: Sarawan, Kachhi and Jhalawan, Times Press, Bombay, 1907; Kachhi, History, pp. 14–17, esp. p. 16 (Mir Chakar "said to have ruled in Kachhi peacefully for about 30 years"; Gohar "a Jat woman"; the Rinds' appeal to the Arghuns; the Lasharis with Shah Beg against Jam Feroz and the grant of Gandava; Mir Zunnun Beg, governor of Kandahar and North-eastern Baluchistan under Sultan Husain Mirza of Herat about 1470; Shoran). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.22668/page/n338
- Brian Spooner, "BALUCHISTAN i. Geography, History and Ethnography", Encyclopaedia Iranica, vol. III, fasc. 6, pp. 598–632 (1988; online edition), sections 5–6 (Mir Shayhak, Mir Chakar and Mir Gwahram from Makran; Sibi and the Bolan; "In 1556 shortly before he died he is said to have acknowledged the suzerainty of the Mughals"). https://www.iranicaonline.org/articles/baluchistan-index/baluchistan-i/
- Josef Elfenbein, "BALUCHISTAN iii. Baluchi Language and Literature", Encyclopaedia Iranica, vol. III, fasc. 6, pp. 633–644 (1988; online edition), section II, "Historical ballads" and "Heroic ballads" (birth at Ashal in Kolwa; the Chakur cycle; "the Lāšārī Gōhar"; thirty years' war; dates estimated at 1475–1525; Dames's collections "by far the most important and systematic"). https://www.iranicaonline.org/articles/baluchistan-iii/
- Muhammad Shafique and Sohail Akhtar, "The Struggle for Political Supremacy: Thirty Year Intra-Tribal Rind-Lashar Baloch War (1490-1518)", Journal of the Research Society of Pakistan 57/1 (January–June 2020), pp. 620–627: abstract p. 620 (1486–1518; Chakar 1468–1565; identity); p. 621 (horse race, "Guhar Jatni" of the Rind tribe, 25 battles: 10 to the Lasharis, 15 to the Rinds). https://pu.edu.pk/images/journal/history/PDF-FILES/57_57_1_20.pdf
- Muhammad Arif, "The Role of Baloch in Restoration of Mughal Dynasty", Pakistan Perspectives (Pakistan Study Centre, University of Karachi) 26/2 (July–December 2021), pp. 97–109: abstract p. 97 (1555; Mir Shahdad Rind; "various controversies"); p. 103 (differing views, including that Chakar was too old and sent his son Shahdad). https://journal.psc.edu.pk/index.php/pp/article/view/437



