رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 13° صاف 24° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:17مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
عامر لیاقت کی ویڈیوز وائرل کرنے کا مقدمہ: دانیہ شاہ کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاریپاکستان کی باؤلنگ اور فیلڈنگ شاندار رہی، جلد وکٹیں گنوانے سے نقصان ہوا: ہیری بروکنیتن یاہو نے ایران پر بڑے حملے کی منصوبہ بندی کی ہدایت کی تھی، برطانوی میڈیا کا دعویٰامریکا ناکہ بندی اور دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات کی توقع نہیں کر سکتا: ایرانی صدر پزشکیانپیوٹن اور وٹکوف کی ملاقات: سہ فریقی مذاکرات نومبر کے وسط میں بحال کرنے پر غورزیلنسکی: موجودہ علاقائی صورتحال برقرار رکھنے والا امن معاہدہ قبول کرنے کو تیار ہیںکراچی میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 3540 روپے کا، ملک بھر میں سب سے مہنگاوزیراعظم شہباز شریف کا آج دورۂ پشاور متوقع، امن و امان اجلاس کی صدارت اور 12 اضلاع کے لیے وژن کا اعلان کریں گےپی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات چند دنوں میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: عامر ڈوگرپی ٹی آئی میں اختلافات: سلمان اکرم راجہ کی پوسٹ پر علی امین گنڈاپور اور ارکان اسمبلی کے تحفظاتعلی امین گنڈاپور کا سلمان اکرم راجہ کے نام کھلا خط، بیان واپس لینے اور معافی کا مطالبہپانی ہماری ریڈ لائن ہے، پانی روکنے کی کوشش جنگی اقدام تصور ہو گی: وزیراعظم شہباز شریف
باب 13 حصہ دوم: اسلام کی آمد اور قرونِ وسطیٰ

بلوچ قبائل کی آمد: کرمان سے مکران تک

پچھلے باب میں ہم نے غزنوی اور غوری دور میں بلوچستان کو بڑی سلطنتوں کے کنارے پر دیکھا۔ اسی زمانے میں ایک اور کہانی خاموشی سے چل رہی تھی جس نے اس سرزمین کو آج کا نام دیا: بلوچ قبائل…

بلوچ قبائل کی آمد: کرمان سے مکران تک
علامتی تصویر

پچھلے باب میں ہم نے غزنوی اور غوری دور میں بلوچستان کو بڑی سلطنتوں کے کنارے پر دیکھا۔ اسی زمانے میں ایک اور کہانی خاموشی سے چل رہی تھی جس نے اس سرزمین کو آج کا نام دیا: بلوچ قبائل کی آمد۔ بلوچ کہاں سے اور کب آئے، اس پر مؤرخ، ماہرینِ لسانیات اور خود بلوچ قبائلی روایت مختلف جواب دیتے ہیں۔ ہم ہر جواب اس کے کہنے والے کے نام کے ساتھ پیش کریں گے اور کسی ایک کو حتمی نہیں کہیں گے۔

سب سے پرانے حوالے: "کوچ و بلوچ"

انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا میں برائن سپونر (Brian Spooner) لکھتے ہیں کہ بلوچ کا سب سے قدیم موجود ذکر ایک پہلوی تحریر "شہرستانہائے ایران شہر" میں ہے، جو آٹھویں صدی عیسوی کی ہے مگر غالباً اس سے پہلے کے مواد پر مبنی ہے؛ اس میں "بلوچ" کو پہاڑوں کی سات خود مختار برادریوں، یعنی "کوفیار"، میں گنا گیا ہے۔ سپونر کے مطابق عرب فتح کے وقت بلوچ کرمان کے جنوب مشرق میں رہتے معلوم ہوتے ہیں۔

فارسی رزمیہ "شاہنامہ" میں بھی یہ نام آتا ہے۔ ڈیمز (M. Longworth Dames) نے 1904ء کی کتاب "دی بلوچ ریس" میں وہ اشعار نقل کیے ہیں جن میں کیکاؤس کی فوج میں "کوچ و بلوچ" اور گیلان کے سپاہی شامل ہیں، اور کیخسرو کی فوج میں بلوچ دستے کا سردار اشکش ہے۔ مگر ڈیمز اس سے صرف یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ بلوچ کا نام ان پرانی داستانوں میں موجود تھا جن سے فردوسی نے کام لیا، اور ماہرِ لسانیات جوزف ایلفن بائن (Josef Elfenbein) لکھتے ہیں کہ شاہنامہ میں نوشیرواں کے دشمنوں میں "کوچ و بلوچ" کا ذکر تاریخی نہیں ہو سکتا، کیونکہ طبری ان دشمنوں میں بلوچ کا نام نہیں لیتا اور فردوسی کے تاریخی ماخذ وہی ہیں جو طبری کے تھے۔

دسویں صدی عیسوی کے عرب اور فارسی جغرافیہ دان بلوچ کو کرمان کے پہاڑوں میں رکھتے ہیں، تقریباً ہمیشہ ایک اور قوم "قفص" یا "کوفچ" (فارسی میں "کوچ") کے ساتھ جوڑ کر۔ باسورث (C. E. Bosworth) کے مطابق "قفص" لفظ "کوفیچی" یعنی "پہاڑی" کی عربی شکل ہے، اور یہ لوگ کوہِ بارز اور خلیجِ عمان کے درمیان کے پہاڑوں میں آباد تھے۔ "حدود العالم" (372ھ982ء) "کوہِ کوفج" کو سات پہاڑوں کا سلسلہ بتاتی ہے جو جیرفت سے سمندر تک جاتا ہے اور ہر پہاڑ کا اپنا سردار ہے۔ مقدسی ان لوگوں کی زبان کو ناقابلِ فہم اور سندھ کی زبان جیسی بتاتا ہے، مگر باسورث اس بیان کو مشکوک سمجھتے ہیں۔ باسورث زور دیتے ہیں کہ ساتھ لکھے جانے کے باوجود قفص اور بلوچ دو الگ قومیں تھیں، نسلاً اور غالباً زبان کے اعتبار سے بھی۔

عضد الدولہ کی مہمات

باسورث کے مطابق بویہی امیر عضد الدولہ نے 357ھ968ء میں کرمان پر قبضہ کیا۔ ایرانیکا کے "عضد الدولہ" کے مضمون کے مطابق کوچ و بلوچ کرمان کے مقامی حکمران خاندان آلِ الیاس کے حلیف تھے اور انہوں نے ہر مرکزی حکومت کو کرمان پر پورا قابو پانے سے روکے رکھا تھا۔ باسورث لکھتے ہیں کہ عضد الدولہ نے 360ھ تا 361ھ970ء تا 972ء میں کوفچ اور بلوچ پر دو حملے کیے، بہت سے لوگ مارے گئے، بلوچ پہاڑوں سے نکال دیے گئے اور ان کی جگہ کسان بسائے گئے؛ ان واقعات کا ماخذ ابن اثیر کی "الکامل" ہے۔ سپونر کے الفاظ میں بلوچ شکست تو کھا گئے مگر غزنوی اور سلجوقی دور میں بھی حکومتوں کے لیے مشکل بنے رہے۔

زبان کی گواہی

تاریخ جہاں خاموش ہے وہاں زبان بولتی ہے۔ ایلفن بائن کے مطابق بلوچی اپنی اصل میں ایک "شمال مغربی" ایرانی زبان ہے، جس کا قریبی رشتہ پارتھی، کردی، تاتی اور تالشی سے ہے، گو مستعار الفاظ نے اس کی لسانی حیثیت کو دھندلا دیا ہے۔ اسی بنیاد پر وہ بلوچی کا اصل وطن بحیرۂ کیسپین (بحیرۂ خزر) کے وسطی حصے کے مشرق یا جنوب مشرق میں کہیں رکھتے ہیں، اور لکھتے ہیں کہ بلوچوں کی اپنی روایت، کہ وہ ساتویں آٹھویں صدی عیسوی میں مغرب سے آئے، "تاریخ کی ایک بازگشت" رکھتی ہے۔ سپونر بھی مانتے ہیں کہ جدید بلوچی کا شجرہ واضح ہے اور اس میں "شمال مغربی" ایرانی قسم کی خصوصیات ہیں۔

کرمان سے مکران: ہجرت کا زمانہ

بلوچ کرمان کیسے پہنچے، اس پر سپونر صاف لکھتے ہیں کہ "معلوم نہیں"۔ البتہ کرمان سے مشرق کی طرف نقلِ مکانی کا خاکہ کچھ واضح ہے۔ سپونر کے مطابق بلوچ پانچویں صدی ہجریگیارہویں صدی عیسوی میں سلجوقیوں کی کرمان آمد کے لگ بھگ مشرق کی طرف، مکران سے بھی آگے، بڑھنا شروع ہوئے؛ یہ سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا اور بڑی نقلِ مکانیاں چھٹی صدی ہجریبارہویں صدی عیسوی اور نویں صدی ہجریپندرہویں صدی عیسوی میں ہوئیں۔ ایلفن بائن کی رائے تھوڑی مختلف ہے: ان کے خیال میں یہ ہجرتیں کئی الگ لہروں میں اور کئی صدیوں پر پھیلی ہوئیں، اور بعض سلجوقیوں کی کرمان آمد (تقریباً 1060ء) سے کافی پہلے کی ہیں۔

قبائلی روایت: حلب سے کیچ تک

بلوچ قبائل کی اپنی روایت، جو زیادہ تر رزمیہ شاعری میں محفوظ ہے، یہ کہانی مختلف انداز میں سناتی ہے۔ ایلفن بائن لکھتے ہیں کہ بلوچی کی قدیم ترین نظمیں بلوچوں کی حلب سے پہلی ہجرتوں کی کہانی کہتی ہیں (ان کا روایتی وطن)؛ روایت کے مطابق قبیلے سیستان اور ایرانی بلوچستان سے ہوتے ہوئے کیچ پہنچے، جو ان کے ملنے کی مرکزی جگہ بنی اور جہاں سے وہ آگے بکھرے۔ ان نظموں کے بڑے قبیلے رند اور لاشاری ہیں۔ ڈیمز کے مطابق روایت میں میر جلال خان کے چار بیٹے رند، لاشار، ہوت اور کورائی اور ایک بیٹی جاتو تھی، اور یہی پانچ نام پانچ بڑے قبیلوں کے بانی مانے جاتے ہیں۔ ڈیمز کے بقول روایت یہ قبائلی تقسیم میر جلال خان کی آخری رسموں سے جوڑتی ہے، جب بھائیوں نے یہ رسمیں الگ الگ ادا کیں اور کیچ میں پانچ "آسروخ" (یادگاری سائبان) بنے۔ ایلفن بائن کے مطابق ناموں کی فہرستوں والی یہ "دفتر شاعری" غالباً سولہویں صدی تک پرانی ہے۔

روایت کے مطابق بلوچ عرب ہیں، حلب سے آئے اور مشرق کی طرف نکلے۔ اس پر اہلِ علم کی رائے مختلف ہے۔ سپونر لکھتے ہیں کہ اس دعوے کو "جوں کا توں تسلیم نہیں کیا جا سکتا"۔ ایلفن بائن کے بقول ان نظموں میں حلب سے آغاز کا ذکر "سراسر اساطیری" ہے اور تاریخی اعتبار سے ان کا وہی حصہ کام کا ہے جو ایرانی بلوچستان پہنچنے کے بعد کے مقامات کا ہے۔ سپونر کے نزدیک ایک توجیہ یہ ہے کہ کچھ عرب گروہ واقعی کرمان کے مشرق کی اس ملی جلی قبائلی آبادی میں شامل ہوئے ہوں گے۔ ڈیمز نے عرب، راجپوت اور ترکمان نسب کے نظریوں کا جائزہ لے کر ایرانی نسب کے نظریے کو درست قرار دیا اور کرنل موکلر کے اس نظریے کو، کہ رند دراصل عرب "علافی" قبیلے سے ہیں، ناکافی شواہد پر مبنی سمجھا۔

سندھ اور پنجاب کی طرف

مکران میں یہ سفر رکا نہیں۔ سپونر کے مطابق سندھ کی طرف بلوچوں کی نقلِ مکانی کا پہلا ریکارڈ ساتویں آٹھویں صدی ہجریتیرہویں چودہویں صدی عیسوی کا ہے۔ ان کے مطابق نویں صدی ہجریپندرہویں صدی عیسوی میں ایک اور لہر بلوچوں کو جنوبی پنجاب تک لے گئی؛ یہی میر چاکر رند اور میر گوہرام لاشاری کا زمانہ ہے، جس کی کہانی کچھی کے گزیٹیئر میں بھی درج ہے اور پندرہویں باب میں تفصیل سے آئے گی۔

یہ قصہ اس لیے الجھا ہوا ہے کہ اس کا بڑا حصہ اس وقت ہوا جب کوئی مؤرخ اسے لکھ نہیں رہا تھا۔ ہمارے پاس جغرافیہ دانوں کے چند جملے، ایک رزمیہ شاعری، ایک زبان کی گواہی اور قبائل کی یادداشت ہے؛ انہیں ساتھ رکھ کر پڑھنا ہی اس باب کا مقصد تھا۔

اگلے اتوار: براہوی: ایک زبان، ایک معمہ، جو بلوچستان کے وسط میں ایک الگ ہی سوال کھڑا کرتی ہے۔

ماخذ

  1. Brian Spooner, "BALUCHISTAN i. Geography, History and Ethnography", Encyclopaedia Iranica, vol. III, fasc. 6, pp. 598–632 (1988; online edition updated 2016), sections 1 ("Introduction"), 3 ("The origins of the Baluch") and 5 (eastward migrations). https://www.iranicaonline.org/articles/baluchistan-i/
  2. Josef Elfenbein, "BALUCHISTAN iii. Baluchi Language and Literature", Encyclopaedia Iranica, vol. III, fasc. 6, pp. 633–644 (1988; online edition), sections "The name", "Linguistic position" and "Historical ballads" [Šāh-nāma passage: "cannot be historical, since Ferdowsī's historical sources are known to be the same as those used by Ṭabarī"]. https://www.iranicaonline.org/articles/baluchistan-iii/
  3. Josef Elfenbein, "BALUCHISTAN iiia. Baluchi Poetry", Encyclopaedia Iranica, online edition, 2008 ["Their origins in Aleppo are quite mythical"]. https://www.iranicaonline.org/articles/baluchistan-iiia/
  4. C. Edmund Bosworth, "QOFṢ", Encyclopaedia Iranica, online edition, 2011 (cites Moqaddasi, pp. 470, 488–90, and Bosworth, "The Kūfichīs or Qufṣ in Persian History", Iran 14, 1976, pp. 9–17). https://www.iranicaonline.org/articles/qofs/
  5. C. Edmund Bosworth, "KERMAN v. History from the Islamic Conquest to the Coming of the Mongols", Encyclopaedia Iranica, vol. XVI, fasc. 3, pp. 276–280 (2017; online edition) (cites Ibn al-Athir, al-Kāmil, VIII, pp. 609, 613–14). https://www.iranicaonline.org/articles/kerman-05-islamic-conquest/
  6. J. C. Bürgel and R. Mottahedeh, "ʿAŻOD-AL-DAWLA, ABŪ ŠOJĀʿ FANNĀ ḴOSROW", Encyclopaedia Iranica, vol. III, fasc. 3, pp. 265–269 (1988; online edition). https://www.iranicaonline.org/articles/azod-al-dawla-abu-soja/
  7. M. Longworth Dames, The Baloch Race: A Historical and Ethnological Sketch, Asiatic Society Monographs vol. IV, Royal Asiatic Society, London, 1904: pp. 7–10 (theories of origin; Mockler's ʿAlafi theory, p. 9 n. 1), pp. 26–27 (Shahnama passages), pp. 36–37 (Mir Jalal Khan, the five tribes, "five āsrokhs in Kech"). https://archive.org/details/balochracehistor00damerich (p. 26: https://archive.org/details/balochracehistor00damerich/page/n35; p. 37: https://archive.org/details/balochracehistor00damerich/page/n46)
  8. Abdul Basit Khan and Ayaz Muhammad, "Evolution of the Baloch Nationalism (Origin to 1947): A Historical Discourse", Journal of the Research Society of Pakistan 55/1 (2018), pp. 1–3 (summarising Mir Ahmad Yar Khan, Inside Baluchistan, Royal Book Company, Karachi, 1975, pp. 51–52, and Mir Khuda Bakhsh Marri, Searchlights on Baloches and Balochistan, 2nd ed., Gosha-e-Adab, Quetta, 1977, p. 329). https://pu.edu.pk/images/journal/history/PDF-FILES/1_55_1_18.pdf
  9. Ḥudūd al-ʿĀlam, "The Regions of the World", a Persian Geography 372 A.H./982 A.D., translated and explained by V. Minorsky, Gibb Memorial Series, London, 1937; 2nd ed. by C. E. Bosworth, 1970, p. 65 (the Kūfij mountain, seven mountains each with a chief) and p. 124 (Balūj and Kūfij). https://archive.org/details/hudud-al-alam-minorsky-1970/page/n146
  10. Al-Muqaddasī, The Best Divisions for Knowledge of the Regions (Aḥsan al-taqāsīm fī maʿrifat al-aqālīm), translated by Basil Anthony Collins, Garnet, Reading, 1994 (print; Kirmān passages on the Qofṣ and Balūṣ cited through source 4).
  11. Baluchistan District Gazetteer Series, vol. VI A: Kachhi, Text and Appendices, Times Press, Bombay, 1907, p. 16 ("The rise of the Baloch": Mir Chakar Rind and Gwahram Lashari). https://irrigation.sindh.gov.pk/files/Books//137.pdf

بلوچستان: تاریخ کا سفر: تمام تحریریں ←