رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 18° صاف 24° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:16مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
دہشت گردی کے خلاف ایک بار پھر قومی اتحاد ضروری ہے: سینیٹ میں رانا ثنا اللہ کا خطابخیبرپختونخوا میں گورنر راج کا مقصد معدنیات نہیں، امن کا قیام ہے: عقیل ملک، اختیار ولیسینیٹ نے پاسپورٹ ایکٹ ترمیمی بل 2026 متفقہ طور پر منظور کر لیاپی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی مولانا نسیم شاہ بنوں سے گرفتار، ویڈیو سامنے آگئیعالمی ادارہ خوراک کا غزہ میں غذائی امداد ایک تہائی کم کرنے کا اعلان، 11 لاکھ افراد کو امداد ملے گینیتن یاہو: 7 اکتوبر کو 1200 اسرائیلیوں کی ہلاکت 40 ہزار امریکیوں کے قتل کے برابر تھیراجپال یادیو نے اہلیہ رادھا کو خاندان کا ہیرا قرار دے دیا، سالگرہ پر جذباتی پیغامروس پر پابندیوں میں نرمی کے بعد تیل سستا، برینٹ 107 ڈالر کے قریبسہیل آفریدی مذاکرات کے ڈرافٹ کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے: وفاقی وزیر طارق فضل چوہدریعقیل ملک: امریکا کے ساتھ معدنیات کا کوئی لائسنس نہیں ہوا، مولانا لائسنس سامنے لائیںپی ٹی آئی کے گرفتار تین ارکان قومی اسمبلی پروڈکشن آرڈرز پر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئےروس کے یوکرین پر رات گئے ڈرون حملے، لاجسٹکس مراکز، بندرگاہوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

فونیقی ملاح اور افریقہ کا چکر: فرعون نیکو دوم کی مہم

پرتگالی ملاح بارتولومیو دیاز (Bartolomeu Dias) 1488ء میں افریقہ کے جنوبی سرے کے گرد گھوما تو یورپ میں اسے ایک نئی دریافت سمجھا گیا۔ مگر یونانی مؤرخ ہیروڈوٹس دو ہزار سال پہلے ایک ایسے سفر کا حال لکھ چکا تھا…

فونیقی ملاح اور افریقہ کا چکر: فرعون نیکو دوم کی مہم
علامتی تصویر

پرتگالی ملاح بارتولومیو دیاز (Bartolomeu Dias) 1488ء میں افریقہ کے جنوبی سرے کے گرد گھوما تو یورپ میں اسے ایک نئی دریافت سمجھا گیا۔ مگر یونانی مؤرخ ہیروڈوٹس دو ہزار سال پہلے ایک ایسے سفر کا حال لکھ چکا تھا جس میں ملاح بحیرۂ احمر سے نکل کر پورے افریقہ کا چکر لگا کر بحیرۂ روم کے راستے مصر واپس آئے۔ یہ ملاح فونیقی (Phoenician) تھے اور انہیں مصر کے فرعون نیکو دوم (Necho II) نے بھیجا تھا۔ اس سفر کی سب سے دلچسپ بات وہ ہے جس پر خود ہیروڈوٹس کو یقین نہیں آیا۔

پس منظر: فرعون نیکو اور اس کی نہر

انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق نیکو دوم مصر کے چھبیسویں شاہی خاندان کا بادشاہ تھا جس نے 610 سے 595 ق م تک حکومت کی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب آشوری سلطنت گر رہی تھی اور بابل کی طاقت بڑھ رہی تھی۔ نیکو نے شام میں فوجیں بھیجیں، مگر 605 ق م میں کرکمیش (Carchemish) کی بڑی جنگ میں بابل کے ولی عہد نبوکدنضر نے اس کی فوج کو شکست دی۔

ہیروڈوٹس اپنی کتاب "تواریخ" کی دوسری جلد میں لکھتا ہے کہ نیکو پہلا بادشاہ تھا جس نے دریائے نیل سے بحیرۂ احمر تک نہر کھودنے کی کوشش کی، جسے بعد میں ایرانی بادشاہ دارا نے مکمل کیا۔ مگر ایک غیبی پیش گوئی کی وجہ سے، کہ وہ یہ کام غیروں کے لیے کر رہا ہے، نیکو نے کھدائی بیچ میں چھوڑ دی۔ اس کے بعد اس نے جنگی جہاز بنوائے، کچھ شمالی سمندر یعنی بحیرۂ روم کے لیے اور کچھ خلیجِ عرب یعنی بحیرۂ احمر کے لیے۔ ہیروڈوٹس کے بقول ان جہازوں کے گودام اس کے زمانے میں بھی دیکھے جا سکتے تھے۔

فونیقی لوگ بحیرۂ روم کے مشرقی ساحل کے شہروں، جیسے صور (Tyre) اور صیدا (Sidon)، کے رہنے والے تھے جو آج لبنان میں ہیں۔ تاریخی ویب سائٹ لیویئس (Livius) کے مدیر یونا لینڈرنگ (Jona Lendering) لکھتے ہیں کہ وہ اپنے زمانے کے بہترین ملاح تھے اور مغرب میں کارتھیج جیسی کئی بستیاں بسا چکے تھے۔

سفر: تین برس اور دو فصلیں

ہیروڈوٹس کتاب چہارم میں دنیا کے براعظموں پر بحث کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ لیبیا (یعنی افریقہ) ایشیا سے ملے ہوئے حصے کے سوا ہر طرف سمندر سے گھرا ہے، اور یہ بات سب سے پہلے، جہاں تک ہمیں علم ہے، مصر کے بادشاہ نیکو نے ثابت کی۔ نہر کی کھدائی روکنے کے بعد اس نے فونیقیوں کو جہاز دے کر بھیجا اور حکم دیا کہ وہ افریقہ کے گرد گھوم کر "ہرکولیس کے ستونوں" (آبنائے جبل الطارق) کے راستے شمالی سمندر میں داخل ہوں اور یوں مصر واپس آئیں۔

فونیقی بحیرۂ احمر سے نکلے اور جنوبی سمندر میں سفر کرتے رہے۔ ہیروڈوٹس کے مطابق جب خزاں آتی تو وہ افریقہ کے جس ساحل پر بھی ہوتے، وہاں اتر کر زمین میں بیج بو دیتے اور فصل پکنے کا انتظار کرتے۔ غلہ کاٹ کر وہ پھر روانہ ہو جاتے۔ یوں دو برس گزر گئے، اور تیسرے برس وہ ہرکولیس کے ستونوں سے گزر کر مصر واپس پہنچ گئے۔

سورج دائیں ہاتھ پر

پھر ہیروڈوٹس وہ جملہ لکھتا ہے جو اس کہانی کی جان بن گیا: "انہوں نے ایک ایسی بات بتائی جس پر مجھے یقین نہیں آتا، گو کوئی اور شاید مان لے، کہ لیبیا کے گرد سفر کرتے ہوئے سورج ان کے دائیں ہاتھ پر تھا۔"

بحیرۂ روم کے کسی ملاح کے لیے دوپہر کا سورج ہمیشہ جنوب میں، یعنی مغرب کی طرف جاتے ہوئے بائیں ہاتھ پر ہوتا ہے۔ لینڈرنگ وضاحت کرتے ہیں کہ جو جہاز خطِ استوا سے جنوب میں افریقہ کے جنوبی سرے کے گرد مغرب کی طرف جا رہا ہو، اس کے لیے سورج شمال میں، یعنی دائیں ہاتھ پر ہوگا۔ ہیروڈوٹس کو یہ معلوم نہ تھا کہ زمین گول ہے، اس لیے وہ اس بات کو نہ مان سکا۔ بریٹانیکا بھی یہی دلیل دیتا ہے اور لکھتا ہے کہ ملاحوں نے بظاہر یہ کارنامہ انجام دیا، کیونکہ ان کے بقول سفر کے ایک حصے میں سورج ان کے دائیں ہاتھ پر تھا۔

ایک ناکام کوشش: ساتاسپیس

ہیروڈوٹس اسی جگہ ایک ایرانی امیر ساتاسپیس (Sataspes) کا قصہ بھی سناتا ہے جو دارا کا بھانجا تھا۔ ایک جرم کی سزا میں بادشاہ خشایارشا (Xerxes) نے اسے سولی کا حکم دیا، مگر اس کی ماں کی سفارش پر سزا بدل کر یہ رکھی گئی کہ وہ افریقہ کے گرد جہاز چلا کر خلیجِ عرب تک پہنچے۔ ساتاسپیس الٹی سمت سے، یعنی جبل الطارق سے نکلا اور کئی مہینے جنوب کی طرف سفر کیا۔ واپس آ کر اس نے بتایا کہ سب سے دور کے ساحل پر اس نے چھوٹے قد کے لوگ دیکھے جو کھجور کے پتوں کا لباس پہنتے تھے، اور یہ کہ اس کا جہاز آگے نہ بڑھ سکا اور رک گیا۔ خشایارشا نے اس کی بات نہ مانی اور پرانی سزا پوری کر دی۔ اس قصے سے اندازہ ہوتا ہے کہ قدیم زمانے میں یہ سفر کتنا مشکل سمجھا جاتا تھا۔

کیا یہ سفر واقعی ہوا؟

اس سفر کا واحد قدیم ماخذ ہیروڈوٹس ہے، اور یہ سوال کہ فونیقی واقعی پورے افریقہ کے گرد گھومے یا نہیں، آج بھی محققین کے درمیان زیرِ بحث ہے: بہت سے محققین "دائیں ہاتھ کے سورج" کو اس کا مضبوط ثبوت مانتے ہیں، جبکہ کچھ کے نزدیک ایک ہی ماخذ اتنے بڑے دعوے کے لیے کافی نہیں۔ لینڈرنگ کے مطابق یونانی جغرافیہ دان بطلیموس (Ptolemy) نے بعد میں افریقہ کے گرد سفر کو ناممکن قرار دیا، جس کے بعد یہ کہانی عام طور پر مشکوک سمجھی جانے لگی؛ 1488ء میں دیاز کے سفر نے دکھایا کہ افریقہ کے گرد سمندر واقعی کھلا ہے۔

2008ء میں برطانوی بحریہ کے ایک سابق افسر فلپ بیل (Philip Beale) نے قدیم فونیقی طریقوں اور نمونوں پر بنا ایک لکڑی کا جہاز "فونیشیا" (Phoenicia) شام سے روانہ کیا۔ موٹر بوٹ اینڈ یاٹنگ رسالے کے مطابق یہ جہاز دو مرحلوں میں تقریباً سترہ ہزار میل کا سفر کر کے بحیرۂ احمر، جنوبی افریقہ کے راس امید اور جبل الطارق سے ہوتا ہوا 2010ء میں شام کی بندرگاہ اَرواد واپس پہنچا۔ اس تجربے نے دکھایا کہ ایسا جہاز یہ سفر کر سکتا ہے، اگرچہ یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ نیکو کے ملاحوں نے واقعی کیا تھا۔

اہمیت

اگر ہیروڈوٹس کی روایت درست ہے تو یہ افریقہ کے گرد پہلا معلوم بحری سفر تھا، دیاز اور واسکو ڈے گاما سے تقریباً دو ہزار سال پہلے۔ اور اگر نہیں بھی، تب بھی اس کہانی نے صدیوں تک لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ افریقہ کتنا بڑا ہے اور اس کے گرد سمندر کہاں تک جاتا ہے۔ ہیروڈوٹس کے مطابق اسی جگہ، یعنی بحیرۂ احمر کے شمالی سرے پر، کچھ عرصے بعد ایک اور ملاح دریائے سندھ سے سفر کر کے پہنچا تھا۔ اس کا ذکر اگلی قسط میں۔

اگلی قسط: اسکائلیکس: دارا کا ملاح، دریائے سندھ سے بحیرۂ احمر تک۔

ماخذ

  1. Herodotus, The History of Herodotus, Volume 1 (Books I–IV), translated by G. C. Macaulay, Macmillan, London, 1890; Project Gutenberg eBook #2707. Book II.158–159 (Necho's canal and fleets); Book IV.42–43 (the Phoenician voyage and Sataspes). https://www.gutenberg.org/ebooks/2707
  2. Britannica Editors, "Necho II", Encyclopaedia Britannica (reign 610–595 BC, Carchemish, the circumnavigation and the sun on the right). https://www.britannica.com/biography/Necho-II
  3. Jona Lendering, "Herodotus on the first circumnavigation of Africa", Livius.org, last modified 12 June 2019. https://www.livius.org/sources/content/herodotus/herodotus-on-the-first-circumnavigation-of-africa/
  4. Nick Burnham, "Ancient ship completes two-year African Odyssey", Motor Boat & Yachting, 7 November 2010 (the replica ship Phoenicia). https://www.mby.com/news/ancient-ship-completes-two-year-african-odyssey-24968
  5. Wikimedia Commons, "File:Galley – Layard – Ninive page 324 detail.png" (public domain). https://commons.wikimedia.org/wiki/File:Galley_-_Layard_-_Ninive_page_324_detail.png

مہمات: تمام تحریریں ←