ناصر خسرو کا “سفرنامہ”: مرو سے قاہرہ اور مکہ تک سات برس
مصر کے شہر اسیوط میں ایک فارسی سیاح کو بھیڑ کی اون کی ایک ایسی چادر دکھائی گئی جو اتنی باریک تھی کہ ریشم کا گمان ہوتا تھا۔ اس نے اپنی ڈائری میں لکھا کہ ایسی چادر اس نے نہ…
مصر کے شہر اسیوط میں ایک فارسی سیاح کو بھیڑ کی اون کی ایک ایسی چادر دکھائی گئی جو اتنی باریک تھی کہ ریشم کا گمان ہوتا تھا۔ اس نے اپنی ڈائری میں لکھا کہ ایسی چادر اس نے نہ لاہور میں دیکھی نہ ملتان میں۔ یہ جملہ تقریباً ایک ہزار برس پرانا ہے، اور اس کا لکھنے والا ناصر خسرو (Nasir Khusraw) ہے، جس کا "سفرنامہ" فارسی زبان کے قدیم ترین اور مشہور ترین سفرناموں میں گنا جاتا ہے۔
ایک سرکاری افسر کا فیصلہ
برطانوی مستشرق ای جی براؤن (E. G. Browne) کے مطابق ناصر خسرو 394ھ (1003ء یا 1004ء) میں دریائے آمو کے کنارے قبادیان میں پیدا ہوئے۔ 437ھ (1045ء) میں، بیالیس تینتالیس برس کی عمر میں، وہ نئی سلجوقی حکومت کے دفتر میں ایک قابل منشی اور محاسب کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔
سفرنامہ خود بتاتا ہے کہ 437ھ (1045ء کے آخر) میں ایک سرکاری دورے کے دوران انہوں نے ایک خواب دیکھا جس نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ انہوں نے عہدے سے رخصت لی، قرض ادا کیے، حج کے ارادے کا اعلان کیا اور 23 شعبان 437ھ (مارچ 1046ء) کو مرو سے نیشاپور کی طرف روانہ ہوئے۔ ان کے ساتھ ان کا بھائی اور ایک ہندوستانی خادم تھا۔ مترجم وہیلر تھیکسٹن (Wheeler Thackston) لکھتے ہیں کہ وہ کوئی امیر آدمی نہ تھے جو شوق میں گھومتے پھرتے۔
شمال کا لمبا راستہ
حیرت کی بات یہ ہے کہ ناصر نے حجاز جانے والے کسی کارواں کے ساتھ سیدھا راستہ اختیار نہیں کیا۔ وہ نیشاپور اور رے سے آذربائیجان، پھر آرمینیا اور مشرقی اناطولیہ سے ہوتے ہوئے شام پہنچے۔ راستے میں وہ ہر شہر کا فاصلہ "فرسنگ" میں لکھتے جاتے: مرو سے سرخس تیس فرسنگ، وہاں سے نیشاپور چالیس فرسنگ۔ تھیکسٹن کے بقول ان کی تحریر میں ہر جگہ ایک سرکاری منتظم جھلکتا ہے جو قلعوں، پانی کے انتظام، شہروں کی جغرافیائی اہمیت اور بازار کے نرخوں پر نظر رکھتا ہے۔
وہ حلب سے ہوتے ہوئے بیت المقدس پہنچے اور اس کی عمارتوں، خاص طور پر قبۃ الصخرہ، کی تفصیل لکھی۔ یہیں سے انہوں نے پہلا حج کیا اور پھر بیت المقدس لوٹ آئے۔
قاہرہ: ایک شہر جس نے سیاح کو حیران کر دیا
7 صفر 439ھ (3 اگست 1047ء) کو ناصر دریائے نیل کے راستے قاہرہ پہنچے۔ اس کے بعد وہ مزید تین بار مکہ گئے اور دو بار مصر لوٹے، اور سفرنامے کے سب سے دلچسپ صفحات اسی شہر کے بارے میں ہیں۔ ترجمے پر ایرانی محقق احسان یارشاطر (Ehsan Yarshater) کے دیباچے کے مطابق وہ اس ملک کی خوشحالی اور منظم انتظامیہ سے بہت متاثر ہوئے۔
بازاروں کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ پرانے قاہرہ (مصر) کے تاجر لین دین میں دیانت دار ہیں۔ اگر کوئی دکاندار گاہک کو دھوکا دیتا پکڑا جائے تو اسے اونٹ پر بٹھا کر، ہاتھ میں گھنٹی دے کر شہر میں پھرایا جاتا ہے اور وہ پکار کر اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہے۔ کریانے اور عطار ہر چیز کے ساتھ تھیلا خود دیتے ہیں، اس لیے خریدار کو اپنا تھیلا ساتھ لانے کی ضرورت نہیں۔ گلیوں کے سروں پر زین کسے گدھے کرائے کے لیے کھڑے رہتے ہیں؛ کہا جاتا تھا کہ روزانہ پچاس ہزار جانور کرائے پر دیے جاتے ہیں۔ ان کا اندازہ تھا کہ پرانے قاہرہ میں بغداد اور بصرہ کو ملا کر بھی زیادہ کشتیاں اور جہاز ہیں۔
امن و امان کا ایک منظر وہ یوں بیان کرتے ہیں کہ کپڑے بیچنے والے، صراف اور جوہری اپنی دکانوں پر تالا بھی نہیں لگاتے، صرف سامنے ایک جالی گرا دیتے ہیں، اور کوئی چیز کو ہاتھ نہیں لگاتا۔
دریائے نیل کا سالانہ سیلاب بھی ان کی توجہ کا مرکز رہا۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب سورج برجِ سرطان میں داخل ہوتا ہے تو نیل بڑھنے لگتا ہے، اور شہر میں پانی کی سطح ناپنے کے آلات نصب ہیں جن کی مدد سے روز اعلان ہوتا ہے کہ پانی کتنی "انگلیاں" بڑھا۔
حج، صحرا اور بصرہ کا حمام
ناصر نے حج کے مناسک تفصیل سے لکھے۔ ایک جگہ وہ لکھتے ہیں کہ خانۂ کعبہ کے اندر جب جگہ بھر گئی تو انہوں نے لوگوں کو گنا اور سات سو بیس شمار کیے۔ آخری حج کے بعد انہوں نے گھر کی راہ لی، مگر اس بار جزیرہ نمائے عرب کے صحرا کو عبور کرتے ہوئے۔ اسی سفر میں وہ خلیج کے ساحل کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ عمان کے بالکل مشرق میں سمندر کے پار کیش اور مکران ہیں۔ تھیکسٹن اپنی فرہنگ میں مکران کو کرمان اور سیستان سے متصل ساحلی علاقہ لکھتے ہیں۔
صحرا نے انہیں کنگال کر دیا۔ 20 شعبان 443ھ (27 دسمبر 1051ء) کو وہ اور ان کا بھائی بصرہ پہنچے تو ان کا حال یہ تھا کہ تین مہینے سے بال نہیں کھولے تھے اور جسم پر بس پرانی لنگیاں اور پیٹھ پر موٹے کپڑے کا ایک ٹکڑا تھا۔ سردی سے بچنے کے لیے حمام جانا چاہا، کتابوں کا تھیلا بیچ کر چند سکے حمام والے کو دیے، مگر اس نے انہیں دیوانہ سمجھ کر دروازے سے لوٹا دیا اور بچوں نے پتھر مارتے ہوئے پیچھا کیا۔
پھر ایک ایرانی صاحبِ علم واقف کے ذریعے اہواز کے ایک صاحبِ علم وزیر، ابو الفتح علی بن احمد، کو ان کا حال معلوم ہوا۔ اس نے تیس دینار بھیجے، ان کا اونٹ والے کا قرض ادا کیا اور انہیں عزت سے مہمان رکھا۔ نئے کپڑوں میں ناصر دوبارہ اسی حمام گئے تو سب لوگ احترام میں کھڑے ہو گئے۔ حمام والا اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ یہ وہی جوان ہیں جنہیں ہم نے لوٹا دیا تھا۔ ناصر نے عربی میں جواب دیا کہ تم ٹھیک کہتے ہو، ہم وہی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے یہ قصہ اس لیے لکھا کہ لوگ مصیبت میں مایوس نہ ہوں، کیونکہ یہ دونوں واقعات بیس دن کے اندر پیش آئے۔
واپسی اور سفرنامے کی اہمیت
بصرہ سے سمندر کے راستے فارس، پھر اصفہان اور خراسان ہوتے ہوئے ناصر 26 جمادی الثانی 444ھ (23 اکتوبر 1052ء) کو بلخ پہنچے۔ اپنے حساب کے مطابق انہوں نے بلخ سے مصر، مکہ، بصرہ اور فارس ہو کر بلخ واپسی تک، زیارتوں کے لیے ضمنی سفروں کو چھوڑ کر، دو ہزار دو سو بیس فرسنگ کا فاصلہ طے کیا۔ آخر میں وہ قاری سے معذرت کرتے ہیں کہ جو کچھ دوسروں سے سنا اگر اس میں کوئی بات غلط ہو تو انہیں معاف کیا جائے۔
یارشاطر کے مطابق سفرنامہ مختصر انداز میں لکھا گیا ہے، مگر اس میں جگہ جگہ ناصر کا خشک مزاح ملتا ہے، اور لوگوں، مقامات اور معاشی و سماجی حالات کے بارے میں بہت قیمتی مشاہدات ہیں۔ انگریز مستشرق گائی لی اسٹرینج (Guy Le Strange) نے انیسویں صدی میں اس کا صرف شام اور فلسطین والا حصہ ترجمہ کیا تھا؛ پورا انگریزی ترجمہ تھیکسٹن نے 1986ء میں شائع کیا۔ یارشاطر کے مطابق واپسی کے کچھ عرصہ بعد ناصر نے بدخشان کے گاؤں یمگان میں پناہ لی اور کم از کم پندرہ برس وہیں تصنیف و تالیف میں گزارے۔
ماخذ
- Naser-e Khosraw, Naser-e Khosraw's Book of Travels (Safarnama), translated by W. M. Thackston, Jr., with a preface by Ehsan Yarshater, Bibliotheca Persica / Persian Heritage Series, Persian Heritage Foundation, New York, 1986. https://archive.org/details/thackston-naser-e-khosraw
- Edward G. Browne, "Nasir-i-Khusraw, Poet, Traveller, and Propagandist", Journal of the Royal Asiatic Society, 1905, p. 313 ff. https://archive.org/details/nasirikhusrawpoe00browuoft
- Guy Le Strange (tr.), Diary of a Journey through Syria and Palestine, by Nâsir-i-Khusrau, in 1047 A.D., Palestine Pilgrims' Text Society, vol. IV, London, 1888. https://archive.org/details/39020013533750-diaryofajourney
- "Nasir Khusraw", Wikipedia (pointer only). https://en.wikipedia.org/wiki/Nasir_Khusraw



