مرزا ابو طالب خان: لکھنؤ سے لندن
فروری 1799ء میں کلکتہ سے لکھنؤ کا ایک فارسی دان ڈنمارک جانے والے ایک جہاز پر سوار ہوا۔ اگلے ساڑھے چار برسوں میں اس نے راس امید، آئرلینڈ، لندن، پیرس، اٹلی، استنبول، بغداد اور بمبئی دیکھے، اور واپس آ کر…
فروری 1799ء میں کلکتہ سے لکھنؤ کا ایک فارسی دان ڈنمارک جانے والے ایک جہاز پر سوار ہوا۔ اگلے ساڑھے چار برسوں میں اس نے راس امید، آئرلینڈ، لندن، پیرس، اٹلی، استنبول، بغداد اور بمبئی دیکھے، اور واپس آ کر فارسی میں اپنا سفرنامہ لکھا۔ یہ مرزا ابو طالب خان (Mirza Abu Taleb Khan) تھے، اور ان کی کتاب کا نام "مسیرِ طالبی فی بلادِ افرنجی" ہے۔ اس کے انگریز مترجم کے بقول یہ پہلا موقع تھا کہ یورپ کے اداروں کے بارے میں کسی ایشیائی کی اپنی اصل رائے انگریزی میں سامنے آئی۔
لکھنؤ کا فارسی دان
انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا (Encyclopaedia Iranica) کے مطابق ابو طالب 1753ء (1166ھ) میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد آذربائیجانی ترک نسل سے تھے اور اصفہان سے ہجرت کر کے لکھنؤ آ بسے تھے۔ ابو طالب نے 1775ء–1776ء میں اودھ کی حکومت میں ایک ضلعی عہدہ سنبھالا، پھر 1787ء–1788ء میں کلکتہ منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے حافظ کا دیوان مرتب کیا جو 1791ء میں کلکتہ سے چھپا۔ ایرانیکا کے مطابق 1799ء سے 1803ء تک انہوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی بنگال فوج کے کیپٹن ڈی رچرڈسن (D. Richardson) کے ساتھ یورپ کا سفر کیا۔
راس امید اور طوفان
اس سفرنامے کا انگریزی ترجمہ چارلس اسٹیورٹ (Charles Stewart) نے کیا، جو ہرٹ فورڈ میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے کالج میں مشرقی زبانوں کے پروفیسر تھے۔ ترجمے کے مطابق ابو طالب نے پہلے ایک جہاز "شارلٹ" پر جگہ لی، مگر وہ چند دن بعد جل گیا؛ پھر انہوں نے ڈنمارک جانے والے جہاز "کرسٹیانا" (Christiana) پر سفر کیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ یکم رمضان 1213ھ کو، یعنی فروری 1799ء میں، وہ کلکتہ سے ایک بجرے میں روانہ ہوئے اور تیسرے دن کیجری (Kedgeree) پہنچ کر جہاز پر سوار ہوئے۔
جہاز پانی لینے نکوبار جزائر پر رکا، خطِ استوا پار کیا، اور راس امید کے قریب ایک شدید طوفان میں راستہ کھو بیٹھا۔ آخر وہ فالس بے (False Bay) میں لنگر انداز ہوا۔ ابو طالب 2 جولائی کو کیپ ٹاؤن گئے اور وہاں کی آب و ہوا، پھلوں، جانوروں اور مختلف قوموں کے آباد لوگوں کا حال لکھا۔ پھر وہ جہاز "برٹانیا" پر سینٹ ہیلینا کے راستے انگلستان کی طرف چلے، مگر مخالف ہوا جہاز کو آئرلینڈ کی طرف لے گئی، اور دسمبر 1799ء میں وہ کورک (Cork) کی بندرگاہ میں داخل ہوئے۔
آئرلینڈ کی برف
کورک سے ڈبلن کا سفر انہوں نے 8 دسمبر کو ڈاک گاڑی میں شروع کیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ڈاک گاڑی کو خط لے جانے کا حق تھا اور سڑکیں ابھی پوری طرح محفوظ نہ تھیں، اس لیے اس کے ساتھ تین گھڑسوار سپاہی چلتے تھے جو ہر پڑاؤ پر بدل جاتے تھے۔ ڈبلن میں انہوں نے رات کو روشن گلیوں، چوکوں، کالج، تھیٹر اور شدید برف باری کا ذکر کیا، اور لوگوں کو برف پر پھسلتے (اسکیٹنگ کرتے) دیکھا۔ 16 جنوری 1800ء کو وہ ڈاک کے جہاز پر ہولی ہیڈ (Holyhead) پہنچے اور ویلز اور چیسٹر سے ہوتے ہوئے 21 جنوری 1800ء کو لندن پہنچے؛ ان کے حساب سے یہ کلکتہ چھوڑنے کے ایک قمری سال سے پانچ دن کم تھا۔
"فارسی شہزادہ" لندن میں
ابو طالب تقریباً ڈھائی برس لندن میں رہے۔ اسٹیورٹ دیباچے میں لکھتے ہیں کہ 1800ء اور 1801ء میں لندن انہیں "فارسی شہزادہ" (The Persian Prince) کے نام سے جانتا تھا۔ خود ابو طالب لکھتے ہیں کہ جب وہ دربار جاتے یا کسی بڑے آدمی سے ملتے تو اگلے دن اخبار اس کی خبر دیتے اور انہیں یہی لقب دیتے۔ ایک بار ووکس ہال (Vauxhall) کے باغ میں ایک خیراتی تقریب کے منتظمین نے اخبار میں اعلان کر دیا کہ وہ آئیں گے، اور اس شام اتنا ہجوم جمع ہوا کہ انہیں گزرنے میں دشواری ہوئی۔
اخبارات نے انہیں خاص طور پر متاثر کیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ انگریزوں کے لیے اخبار کے بغیر زندگی بے مزہ ہو جائے؛ شہزادے سے فقیر تک سب انہیں پڑھتے ہیں، امیروں کے گھر ہر صبح پہنچتے ہیں اور جو خرید نہیں سکتے وہ قہوہ خانوں میں پڑھ لیتے ہیں۔ ان میں جنگوں سے لے کر فصلوں، اناج کے بھاؤ اور رات کے ڈرامے تک ہر خبر ہوتی ہے۔
انہوں نے ونڈسر، گرینچ اور برٹش میوزیم دیکھے، اور آکسفورڈ کے بارے میں لکھا کہ یہ قوم کا سب سے مشہور علمی مرکز ہے، سڑکیں چوڑی اور درختوں سے سجی ہیں، اور یہاں چوبیس کالج ہیں جن میں سے ہر ایک کا اپنا بڑا کتب خانہ ہے۔ انہوں نے چھاپے خانے، کارخانوں، پن چکیوں اور ان ڈھلائی خانوں کا حال بھی لکھا جن کے بڑے پہیے "حیرت انگیز طور پر بھاپ سے" چلتے تھے۔ ترجمے کے دو ابواب میں انہوں نے انگریزوں کی خوبیاں اور خامیاں، جیسی انہیں نظر آئیں، الگ الگ گنوائی ہیں۔
پیرس سے بغداد تک
7 مئی 1802ء کو وہ لندن سے ڈوور گئے اور سمندر پار کر کے فرانس پہنچے۔ پیرس تک کا سفر ایک بھاری گاڑی "ڈیلیجنس" (diligence) میں ہوا جو اپنی سست رفتاری کی وجہ سے انہیں ہندوستان کی بیل گاڑی یاد دلاتی تھی۔ وہ لکھتے ہیں کہ راستے بھر کھیت، انگور کے باغ، صاف ندیاں اور پتھر کے پل تھے۔ پیرس کے بعد وہ لیون، آویون اور مارسیلز سے ہوتے ہوئے سمندر کے راستے جینوا اور لیگ ہارن (Leghorn) گئے، پھر مالٹا پہنچے، جہاں انہیں مالٹی اور عربی زبان میں بڑی مشابہت نظر آئی۔
10 اگست کو وہ جہاز "وکٹوریو" (Victorieux) پر سوار ہوئے۔ چوتھے دن طوفان آیا اور جہاز کو مرمت کے لیے ملیٹس (Miletus) پر رکنا پڑا؛ پھر ایتھنز کے پاس سے گزر کر وہ ازمیر (Smyrna) پہنچے، اور وہاں سے آبنائے دردانیال کے راستے استنبول (Constantinople)۔ استنبول سے ایک سرکاری رہبر ان کے ساتھ کیا گیا جو انہیں خشکی کے راستے بغداد لے گیا۔
بمبئی اور کلکتہ
بغداد سے وہ بصرہ گئے اور وہاں سے سمندر کے راستے ہندوستان کا رخ کیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ 10 صفر 1218ھ، یعنی جون 1803ء کے شروع میں، وہ بمبئی کی بندرگاہ میں لنگر انداز ہوئے؛ ان کے حساب سے لندن چھوڑے تقریباً ایک سال ہوا تھا۔ 16 جولائی کو وہ جہاز "بمبئی" پر سوار ہوئے اور گیارہ دن میں گنگا کے دہانے پر بالاسور کی لنگر گاہ تک پہنچے، اور وہاں سے کلکتہ لوٹے۔
ایرانیکا کے مطابق ابو طالب نے اپنا سفرنامہ 1804ء–1805ء میں مکمل کیا اور 1805ء–1806ء میں لکھنؤ میں فوت ہوئے۔ اسٹیورٹ کے دیباچے کے مطابق ابو طالب نے اس کی چند نقلیں تیار کروا کے دوستوں میں بانٹیں، اور انہی میں سے ایک نقل انگلستان پہنچی۔ اسٹیورٹ کا انگریزی ترجمہ 1810ء میں لندن سے "دی ٹریولز آف مرزا ابو طالب خان" (The Travels of Mirza Abu Taleb Khan) کے نام سے شائع ہوا؛ مترجم کے مطابق انہوں نے صرف شاعری، دوستوں کی لمبی فہرستیں، علمِ تشریح پر ایک بحث اور ایک شیشہ گھر کا بیان حذف کیا۔ فارسی متن 1812ء میں کلکتہ سے ان کے بیٹے مرزا حسن علی اور میر قدرت علی نے شائع کیا، اور ایرانیکا کے مطابق انگریزی ترجمے سے اس کے فرانسیسی اور جرمن ترجمے بھی ہوئے۔
اگلی قسط: الیگزینڈر فان ہمبولٹ: جنوبی امریکہ۔
ماخذ
- The Travels of Mirza Abu Taleb Khan in Asia, Africa, and Europe, during the Years 1799, 1800, 1801, 1802, and 1803, Written by Himself in the Persian Language, translated by Charles Stewart, 2 vols, London, Longman, Hurst, Rees and Orme, 1810 (dedication and translator's preface; vol. I chs. I–XIV; vol. II chapters on France, Italy, Malta, Smyrna, Constantinople, Baghdad and the voyage from Bombay). Vol. I: https://archive.org/details/travelsmirzaabu00khgoog ; vol. II: https://archive.org/details/travelsmirzaabu01stewgoog
- Muhammad Baqir, "Abū Ṭāleb Khan Landanī", Encyclopaedia Iranica, vol. I, fasc. 4, pp. 389–390, 1983, updated 2018 (life, works, the Persian edition of 1812 and translations). https://www.iranicaonline.org/articles/abu-taleb-khan-landani-b/



