رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 23° صاف 23° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:17مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
محسن نقوی: پاکستان نے خطے میں امن اور مذاکرات کے لیے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیافیصل واوڈا: عمران خان بانی ایم کیو ایم کی سیاست سے بھی 100 فیصد آگے نکل گئےعامر لیاقت کی ویڈیوز وائرل کرنے کا مقدمہ: دانیہ شاہ کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاریپاکستان کی باؤلنگ اور فیلڈنگ شاندار رہی، جلد وکٹیں گنوانے سے نقصان ہوا: ہیری بروکنیتن یاہو نے ایران پر بڑے حملے کی منصوبہ بندی کی ہدایت کی تھی، برطانوی میڈیا کا دعویٰامریکا ناکہ بندی اور دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات کی توقع نہیں کر سکتا: ایرانی صدر پزشکیانپیوٹن اور وٹکوف کی ملاقات: سہ فریقی مذاکرات نومبر کے وسط میں بحال کرنے پر غورزیلنسکی: موجودہ علاقائی صورتحال برقرار رکھنے والا امن معاہدہ قبول کرنے کو تیار ہیںکراچی میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 3540 روپے کا، ملک بھر میں سب سے مہنگاوزیراعظم شہباز شریف کا آج دورۂ پشاور متوقع، امن و امان اجلاس کی صدارت اور 12 اضلاع کے لیے وژن کا اعلان کریں گےپی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات چند دنوں میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: عامر ڈوگرپی ٹی آئی میں اختلافات: سلمان اکرم راجہ کی پوسٹ پر علی امین گنڈاپور اور ارکان اسمبلی کے تحفظات

میگیلان اور ایلکانو: دنیا کا پہلا چکر

ستمبر 1519ء میں اسپین کی ایک بندرگاہ سے پانچ پرانے جہاز مغرب کی طرف روانہ ہوئے۔ تین برس بعد ان میں سے صرف ایک، "وکٹوریا"، لنگڑاتا ہوا مشرق کی طرف سے واپس آیا، اور اس پر صرف اٹھارہ تھکے ماندے…

ستمبر 1519ء میں اسپین کی ایک بندرگاہ سے پانچ پرانے جہاز مغرب کی طرف روانہ ہوئے۔ تین برس بعد ان میں سے صرف ایک، "وکٹوریا"، لنگڑاتا ہوا مشرق کی طرف سے واپس آیا، اور اس پر صرف اٹھارہ تھکے ماندے یورپی سوار تھے۔ یہ انسانی تاریخ میں زمین کے گرد پہلا مکمل بحری چکر تھا۔ اس مہم کا سالار فرڈینینڈ میگیلان (Ferdinand Magellan) راستے میں مارا گیا، اور اسے مکمل کرنے والا ایک باسک ملاح خوان سباستیان ایلکانو (Juan Sebastián Elcano) تھا۔

ایک پرتگالی، ہسپانوی پرچم تلے

انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق میگیلان 1480ء میں پرتگال میں پیدا ہوا اور 1505ء سے 1513ء تک پرتگال کی طرف سے ہندوستان اور ملاکا کے پانیوں میں رہا۔ پرتگال کے بادشاہ نے اس کی درخواستیں رد کر دیں اور کہا کہ وہ کہیں اور خدمت کر لے، تو وہ 20 اکتوبر 1517ء کو اسپین کے شہر سیویل (Seville) پہنچا۔ اس کا منصوبہ یہ تھا کہ مغرب کی طرف جا کر جنوبی امریکہ کے بیچ سے کوئی آبنائے ڈھونڈے اور اس راستے مسالوں کے جزائر، یعنی مولوکا (Moluccas)، تک پہنچے۔ 22 مارچ 1518ء کو ہسپانوی بادشاہ چارلس اول نے اس منصوبے کی منظوری دے دی۔

بریٹانیکا کے مطابق مہم کو پانچ جہاز ملے: سالار کا جہاز "ترینیداد" (Trinidad)، اور اس کے ساتھ "سان انتونیو" (San Antonio)، "کونسیپسیون" (Concepción)، "وکٹوریا" (Victoria) اور "سانتیاگو" (Santiago)۔ 20 ستمبر 1519ء کو بیڑا سان لوکار دے باررامیدا (Sanlúcar de Barrameda) سے روانہ ہوا۔ اس پر تقریباً 270 آدمی تھے، زیادہ تر اسپین اور پرتگال کے، مگر یورپ کے دوسرے حصوں اور شمالی افریقہ کے لوگ بھی۔

آبنائے کی تلاش

بیڑا جزائر کناری سے ہوتا ہوا بحرِ اوقیانوس پار کر کے 13 دسمبر 1519ء کو ریو دے جنیرو کی خلیج میں پہنچا۔ بریٹانیکا کے مطابق وہاں سے میگیلان نے جنوب کی طرف ساحل کے ساتھ ساتھ آبنائے تلاش کی۔ 31 مارچ 1520ء کو وہ موجودہ ارجنٹینا کی بندرگاہ سان خولیان (Port Saint Julian) پہنچا، جہاں سردی کا موسم گزارا۔ یہیں چند ہسپانوی کپتانوں نے بغاوت کی جسے میگیلان نے سختی سے دبا دیا۔ اسی دوران "سانتیاگو" جہاز سروے کرتے ہوئے تباہ ہو گیا۔

21 اکتوبر 1520ء کو بیڑا تقریباً 52 درجے جنوبی عرض بلد پر اس راستے میں داخل ہوا جو بعد میں "آبنائے میگیلان" کہلایا۔ اس راستے میں "سان انتونیو" ساتھ چھوڑ کر اسپین لوٹ گیا، اور صرف تین جہاز دوسرے سرے تک پہنچے۔ بریٹانیکا کے مطابق روایت ہے کہ جب کھلا سمندر نظر آنے کی خبر ملی تو یہ سخت ارادے والا سالار خوشی سے رو پڑا۔

اس مہم کا ایک اہم چشم دید گواہ اٹلی کے شہر وچینزا (Vicenza) کا انتونیو پیگافیتا (Antonio Pigafetta) تھا، جو پورے سفر میں روزانہ حالات لکھتا رہا۔ ہکلوٹ سوسائٹی نے 1874ء میں لارڈ اسٹینلی (Lord Stanley of Alderley) کا انگریزی ترجمہ شائع کیا۔ پیگافیتا آبنائے کے بارے میں لکھتا ہے کہ دونوں طرف برف پوش پہاڑ تھے، اکتوبر کے مہینے میں رات صرف تین گھنٹے کی ہوتی تھی، ہر آدھی لیگ پر لنگر ڈالنے کی اچھی جگہ، میٹھا پانی، دیودار کی لکڑی اور سارڈین جیسی مچھلی ملتی تھی، اور چشموں کے پاس ایک میٹھی بوٹی اگتی تھی جو کئی دن ان کی خوراک رہی۔ اس کے الفاظ ہیں: "میرا خیال ہے کہ دنیا میں اس سے زیادہ خوبصورت ملک یا اس سے بہتر آبنائے نہیں۔"

تین مہینے بیس دن: بھوک کا سمندر

28 نومبر 1520ء کو تینوں جہاز آبنائے سے نکل کر اس سمندر میں داخل ہوئے جسے بالبوا نے سات برس پہلے پاناما کی چوٹی سے دیکھا تھا۔ پیگافیتا کے مطابق اس کے بعد وہ تین مہینے اور بیس دن تک کہیں سے تازہ خوراک حاصل نہ کر سکے۔ وہ لکھتا ہے کہ وہ پرانے بسکٹ کا چورا کھاتے رہے جس میں کیڑے پڑ چکے تھے اور جس پر چوہوں کی گندگی تھی، اور زرد بدبودار پانی پیتے رہے۔ جب یہ بھی ختم ہوا تو انہوں نے بادبان کے ڈنڈے پر لپٹی بیل کی کھالیں اتاریں، انہیں چار پانچ دن سمندر میں بھگو کر نرم کیا، انگاروں پر ذرا سا بھونا اور کھا لیا۔ لکڑی کا برادہ بھی کھایا گیا، اور ایک چوہا آدھے ڈوکٹ میں بکتا تھا، وہ بھی مشکل سے ملتا تھا۔

سب سے بڑی مصیبت ایک بیماری تھی جس میں مسوڑھے اتنے سوج جاتے کہ آدمی کھا نہ سکتا۔ مترجم کے حاشیے کے مطابق یہ اسکروی (scurvy) تھی۔ پیگافیتا کے مطابق اس سے انیس آدمی مر گئے اور پچیس تیس بیمار پڑے۔ پھر بھی وہ لکھتا ہے کہ اس پورے عرصے میں کوئی طوفان نہیں آیا، "اس لیے اس کا نام بحرالکاہل (Pacific، یعنی پُرسکون) بالکل ٹھیک رکھا گیا"۔ راستے میں صرف دو چھوٹے غیر آباد جزیرے ملے جن پر پرندوں اور درختوں کے سوا کچھ نہ تھا؛ انہوں نے ان کا نام "بدقسمت جزیرے" رکھا۔

بریٹانیکا کے مطابق 6 مارچ 1521ء کو جزائر ماریانا کے جزیرے گوام (Guam) پر پہلی بار خشکی پر اترنا ہوا، اور ننانوے دن بعد تازہ خوراک ملی۔

مکتان اور ایلکانو

مارچ 1521ء کے آخر میں بیڑا ان جزائر میں پہنچا جو بعد میں فلپائن کہلائے۔ بریٹانیکا کے مطابق 27 اپریل 1521ء کو جزیرہ مکتان (Mactan) کے لوگوں سے ایک لڑائی میں میگیلان مارا گیا۔

اس کے بعد بریٹانیکا کے مطابق صرف دو جہاز، "ترینیداد" اور "وکٹوریا"، مسالوں کے جزائر تک پہنچ سکے؛ پیگافیتا کی تاریخوں کے مطابق وہ 8 نومبر 1521ء کو جزیرہ تدورے (Tidore) پہنچے۔ "ترینیداد" اتنا خستہ ہو چکا تھا کہ لمبا سفر نہ کر سکا۔ "وکٹوریا" کی کمان ایلکانو کے پاس تھی۔ بریٹانیکا کے مطابق ایلکانو تقریباً 1476ء میں اسپین کے باسک علاقے کے قصبے گیتاریا (Guetaria) میں پیدا ہوا تھا اور اس مہم میں "کونسیپسیون" جہاز کا ماسٹر تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ بحرالکاہل واپس پار کرنے کے بجائے مغرب کی طرف بحرِ ہند پار کر کے افریقہ کے گرد گھومتے ہوئے اسپین پہنچا جائے۔ 21 دسمبر 1521ء کو "وکٹوریا" تدورے سے روانہ ہوا۔

ایک دن کہاں گیا؟

اسکروی، بھوک اور پرتگالی جہازوں کے خطرے کے باوجود "وکٹوریا" نے مئی 1522ء میں راس امید (Cape of Good Hope) کا چکر کاٹا۔ جولائی میں جزائر کیپ ورڈ پر کچھ آدمی چاول لینے ساحل پر گئے۔ پیگافیتا لکھتا ہے کہ انہیں ہدایت تھی کہ پوچھ کر آئیں آج کون سا دن ہے۔ جواب ملا جمعرات، جبکہ جہاز کے حساب میں بدھ تھا۔ پیگافیتا، جس نے بلا ناغہ ہر دن لکھا تھا، سب سے زیادہ حیران ہوا۔ بعد میں انہیں سمجھ آیا کہ سورج کے ساتھ ساتھ مسلسل مغرب کی طرف سفر کرتے ہوئے دنیا کا پورا چکر لگانے سے ان کا ایک دن کم ہو گیا تھا۔

پیگافیتا کے مطابق ہفتہ 6 ستمبر 1522ء کو "وکٹوریا" سان لوکار کی خلیج میں داخل ہوا۔ مولوکا سے چلتے وقت جہاز پر ساٹھ آدمی تھے؛ اب اٹھارہ رہ گئے تھے اور ان میں سے بھی زیادہ تر بیمار تھے۔ اس کے حساب سے انہوں نے چودہ ہزار چار سو ساٹھ لیگ سے زیادہ فاصلہ طے کیا۔ بریٹانیکا کے مطابق 8 ستمبر 1522ء کو جہاز سیویل پہنچا، اور شہنشاہ چارلس نے ایلکانو کو ایک نشان عطا کیا جس پر کرۂ ارض بنا تھا اور لاطینی میں لکھا تھا: "تم نے سب سے پہلے میرا چکر لگایا۔"

بریٹانیکا کے مطابق ایلکانو مولوکا کی ایک اور مہم کے دوران 4 اگست 1526ء کو سمندر میں فوت ہوا۔ بریٹانیکا کے مطابق اس پہلے چکر نے اس تصور کی تصدیق کر دی کہ زمین گول ہے، اور یہ دکھا دیا کہ بحرالکاہل کتنا وسیع ہے۔

اگلی قسط: حسن الوزان، لیو افریکانوس: افریقہ کا بیان۔

ماخذ

  1. Antonio Pigafetta, in The First Voyage Round the World by Magellan, translated from the accounts of Pigafetta and other contemporary writers, translated and edited by Lord Stanley of Alderley, Hakluyt Society, first series no. LII, London, 1874 (chronology; Pigafetta on the strait, the Pacific crossing, the Cape Verde Islands and the return). https://archive.org/details/firstvoyageround00piga
  2. "Ferdinand Magellan", Encyclopaedia Britannica (sections "Allegiance to Spain", "Discovery of the Strait of Magellan", "Circumnavigation of the globe"). https://www.britannica.com/biography/Ferdinand-Magellan
  3. "Juan Sebastián del Cano", Encyclopaedia Britannica. https://www.britannica.com/biography/Juan-Sebastian-del-Cano

مہمات: تمام تحریریں ←