سرفراز نواز: میلبرن کا جادوئی اسپیل
کرکٹ میں بعض بولر پورے کیریئر کی محنت سے پہچانے جاتے ہیں اور بعض ایک ایسی شام سے جو کبھی نہیں بھولتی۔ سرفراز نواز (Sarfraz Nawaz) کے پاس دونوں تھے۔ پندرہ برس تک وہ پاکستان کی تیز بولنگ کا بوجھ…

کرکٹ میں بعض بولر پورے کیریئر کی محنت سے پہچانے جاتے ہیں اور بعض ایک ایسی شام سے جو کبھی نہیں بھولتی۔ سرفراز نواز (Sarfraz Nawaz) کے پاس دونوں تھے۔ پندرہ برس تک وہ پاکستان کی تیز بولنگ کا بوجھ اٹھاتے رہے اور 55 ٹیسٹ میچوں میں 177 وکٹیں لیں1۔ لیکن مارچ 1979ء میں میلبرن کے میدان پر 86 رنز دے کر نو وکٹوں کی کارکردگی نے انہیں پاکستان کرکٹ کی داستانوں کا مستقل حصہ بنا دیا۔
ابتدائی زندگی اور کرکٹ کا آغاز
سرفراز نواز ملک یکم دسمبر 1948ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے لاہور کے کلب کرکٹ سے کھیلنا شروع کیا اور آگے چل کر پنجاب یونیورسٹی کی ٹیم کے کپتان بنے۔ دراز قد اور مضبوط جسم کے مالک سرفراز دائیں ہاتھ سے فاسٹ میڈیم بولنگ کرتے تھے اور ان کی سب سے بڑی خوبی گیند کو دونوں طرف سیم کرانا تھی2۔
ان کا ٹیسٹ کیریئر 6 مارچ 1969ء کو کراچی میں انگلینڈ کے خلاف شروع ہوا۔ آغاز مایوس کن تھا: انہیں بیٹنگ کی باری نہیں ملی اور 34 اوورز میں 78 رنز دے کر بھی کوئی وکٹ ہاتھ نہ آئی1۔ اس کے بعد انہیں ٹیم میں واپسی کے لیے کچھ عرصہ انتظار کرنا پڑا۔ اسی دوران انہوں نے انگلش کاؤنٹی نارتھیمپٹن شائر (Northamptonshire) کے لیے کھیلنا شروع کیا، جہاں انگلستان کی وکٹوں پر انہوں نے سیم اور سوئنگ کا فن نکھارا2۔
ٹیسٹ کرکٹ میں جگہ پکی
واپسی کے بعد سرفراز نے جلد ہی خود کو منوا لیا۔ جنوری 1973ء میں سڈنی ٹیسٹ میں انہوں نے آسٹریلیا کے خلاف 53 رنز دے کر چار وکٹیں لیں۔ 1974ء کے دورۂ انگلستان میں لیڈز ٹیسٹ میں انہوں نے بیٹ سے بھی جوہر دکھائے اور 74 گیندوں پر 53 رنز بنائے۔ فروری 1975ء میں لاہور میں ویسٹ انڈیز جیسی مضبوط بیٹنگ کے خلاف 89 رنز دے کر چھ وکٹیں ان کی صلاحیت کا واضح ثبوت تھیں1۔
1978ء کا سال ان کے لیے خاص رہا۔ جون میں لیڈز میں انگلینڈ کے خلاف انہوں نے 39 رنز دے کر پانچ وکٹیں لیں۔ اسی سال کے آخر میں بھارت کے خلاف گھریلو سیریز میں انہوں نے لاہور میں 46 رنز کے عوض چار اور کراچی میں 70 رنز کے عوض پانچ وکٹیں حاصل کیں1۔ یہ وہ سیریز تھی جس میں پاکستان نے پہلی بار بھارت کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتی2۔
میلبرن، مارچ 1979ء
10 مارچ 1979ء کو شروع ہونے والا میلبرن ٹیسٹ سرفراز نواز کے کیریئر کا سب سے روشن باب ہے۔ پہلی اننگز میں انہوں نے بیٹ سے 82 گیندوں پر 35 رنز کا حصہ ڈالا۔ پھر آخری اننگز میں، جب آسٹریلیا ہدف کے قریب پہنچ چکا تھا اور میچ بظاہر پاکستان کے ہاتھ سے نکل رہا تھا، سرفراز نے پرانی گیند سے ایسی بولنگ کی کہ آسٹریلوی بیٹنگ چند ہی اوورز میں بکھر گئی۔ انہوں نے 35.4 اوورز میں 86 رنز دے کر نو وکٹیں لیں اور پاکستان نے یہ میچ جیت لیا12۔
یہ ان کے ٹیسٹ کیریئر کی بہترین اننگز بولنگ ہے، اور اسی میچ میں ان کی مجموعی کارکردگی 125 رنز کے عوض 11 وکٹیں رہی، جو ان کے کیریئر کا واحد میچ ہے جس میں انہوں نے دس یا زیادہ وکٹیں لیں1۔ اسی میچ میں ماجد خان نے سنچری بھی بنائی تھی۔ آج بھی جب کسی ٹیسٹ میچ کا پانسہ اچانک پلٹتا ہے تو پاکستانی شائقین کو میلبرن کی وہ شام یاد آ جاتی ہے۔
ون ڈے کرکٹ اور آخری برس
سرفراز ون ڈے کرکٹ میں بھی پاکستان کے ابتدائی کھلاڑیوں میں شامل تھے۔ 11 فروری 1973ء کو کرائسٹ چرچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف اپنے پہلے ون ڈے میں انہوں نے 7.3 اوورز میں 46 رنز دے کر چار وکٹیں لیں۔ 1975ء کے عالمی کپ میں برمنگھم میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 44 رنز کے عوض چار وکٹیں ان کی اہم کارکردگی تھی2۔ ون ڈے میں ان کی بہترین بولنگ جنوری 1984ء میں سڈنی میں آسٹریلیا کے خلاف آئی، جب انہوں نے دس اوورز میں 27 رنز دے کر چار وکٹیں لیں۔ 1984ء میں انہوں نے ایک ون ڈے میچ میں پاکستان کی کپتانی بھی کی1۔
ان کا ٹیسٹ کیریئر بھی یادگار انداز میں ختم ہوا۔ مارچ 1984ء میں انگلینڈ کے خلاف سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں کراچی میں انہوں نے 42 رنز دے کر چار وکٹیں لیں۔ 19 مارچ 1984ء کو شروع ہونے والا لاہور ٹیسٹ ان کا آخری ٹیسٹ ثابت ہوا۔ اس میں انہوں نے پہلے 49 رنز دے کر چار وکٹیں لیں اور پھر بیٹنگ میں 160 گیندوں پر 90 رنز بنائے، جو ان کا سب سے بڑا ٹیسٹ اسکور ہے۔ اسی سیریز میں پاکستان نے پہلی بار انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتی2۔ ان کا آخری ون ڈے 12 نومبر 1984ء کو پشاور میں نیوزی لینڈ کے خلاف تھا1۔
اعداد و شمار
| ٹیسٹ | ون ڈے | |
|---|---|---|
| میچ | 55 | 45 |
| رنز | 1045 | 221 |
| بہترین اسکور | 90 | 34 ناٹ آؤٹ |
| اوسط (بیٹنگ) | 17.71 | 9.6 |
| سنچریاں / نصف سنچریاں | 0 / 4 | 0 / 0 |
| وکٹیں | 177 | 63 |
| بہترین بولنگ | 9/86 | 4/27 |
| اوسط (بولنگ) | 32.75 | 23.22 |
| اننگز میں پانچ وکٹیں | 4 | 0 |
ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو اسٹیٹس گرو1، اعداد بین الاقوامی کیریئر کے ہیں۔
اثر اور یادگار
سرفراز نواز ایسے دور میں کھیلے جب پاکستان کی وکٹیں تیز بولروں کے لیے زیادہ مددگار نہیں ہوتی تھیں۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنی سیم، سوئنگ اور اچانک اٹھنے والی گیندوں سے بیٹسمینوں کو مسلسل پریشان کیا2۔ وہ نچلے نمبر پر ایک کارآمد بیٹسمین بھی تھے، جس کی گواہی لاہور کی 90 رنز کی اننگز دیتی ہے۔
سرفراز نواز کو پرانی گیند سے سوئنگ کرانے والے ابتدائی پاکستانی بولروں میں شمار کیا جاتا ہے، جس فن کو بعد میں ریورس سوئنگ کا نام ملا۔ عمران خان نے یہ ہنر ان سے سیکھا، اور پھر وسیم اکرم اور وقار یونس نے اسّی اور نوے کی دہائی میں اسی کے ذریعے دنیا بھر کے بیٹسمینوں کو حیران کیا2۔ میلبرن کی اس شام اور پندرہ برس کی مسلسل محنت کی بدولت سرفراز نواز کا نام پاکستان کی فاسٹ بولنگ کی روایت کے اولین معماروں میں شامل ہے۔
ماخذ
- ESPNcricinfo Statsguru, Sarfraz Nawaz, Test and ODI batting and bowling career summaries: https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/42630.html?class=1;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/42630.html?class=1;template=results;type=bowling ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/42630.html?class=2;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/42630.html?class=2;template=results;type=bowling
- Wikipedia, "Sarfraz Nawaz", https://en.wikipedia.org/wiki/Sarfraz_Nawaz (for biographical details only)







