عامر سہیل: بائیں ہاتھ کا جارح اوپنر
1990ء کی دہائی کی پاکستانی ٹیم میں ایک اوپنر ایسا تھا جو پہلی گیند سے ہی بولر پر حملہ کرنے کا ارادہ لے کر آتا تھا۔ یہ عامر سہیل (Aamer Sohail) تھے۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق…

1990ء کی دہائی کی پاکستانی ٹیم میں ایک اوپنر ایسا تھا جو پہلی گیند سے ہی بولر پر حملہ کرنے کا ارادہ لے کر آتا تھا۔ یہ عامر سہیل (Aamer Sohail) تھے۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق وہ بائیں ہاتھ کے ایک جنگجو مزاج اوپنر تھے جو زیادہ تر بیک فٹ پر کھیلتے تھے اور جن کی اصل طاقت نئے نئے شاٹس ایجاد کرنا تھی2۔ ون ڈے کرکٹ میں 156 میچوں میں انہوں نے 4780 رنز بنائے، اور ٹیسٹ کرکٹ میں 47 میچوں میں 2823 رنز1۔
ابتدائی زندگی اور کرکٹ کا آغاز
عامر سہیل، جن کا پورا نام محمد عامر سہیل علی ہے، 14 ستمبر 1966ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ وہ بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرتے اور بائیں ہاتھ سے سلو آرتھوڈوکس اسپن بولنگ کرتے تھے۔ ان کا فرسٹ کلاس کیریئر 1983ء-84ء میں شروع ہوا، اور اس دوران انہوں نے لاہور، کراچی، راولپنڈی، سرگودھا، الائیڈ بینک اور حبیب بینک کے علاوہ انگلش کاؤنٹی سمرسیٹ کی نمائندگی بھی کی2۔
ان کا ون ڈے کیریئر 21 دسمبر 1990ء کو شارجہ میں سری لنکا کے خلاف شروع ہوا۔ اکتوبر 1991ء میں شارجہ ہی میں بھارت کے خلاف 91 رنز کی اننگز نے ان کی صلاحیت کا پتہ دیا1۔
1992ء: عالمی کپ اور اولڈ ٹریفورڈ
ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق 1992ء میں پاکستان کی عالمی کپ جیت میں عامر سہیل کا بڑا حصہ تھا2۔ اسی موسم میں 27 فروری 1992ء کو ہوبارٹ میں زمبابوے کے خلاف انہوں نے 136 گیندوں پر 12 چوکوں کی مدد سے 114 رنز بنائے، جو ان کی پہلی ون ڈے سنچری تھی۔ اس کے بعد 4 مارچ کو سڈنی میں بھارت کے خلاف 62 اور 11 مارچ کو پرتھ (واکا) میں آسٹریلیا کے خلاف 76 رنز بنائے1۔
اسی سال گرمیوں میں ان کا ٹیسٹ کیریئر شروع ہوا۔ 4 جون 1992ء کو برمنگھم میں انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے بعد لارڈز میں انہوں نے 73 رنز بنائے۔ پھر 2 جولائی 1992ء کو اولڈ ٹریفورڈ، مانچسٹر میں اپنے تیسرے ہی ٹیسٹ میں انہوں نے 343 منٹ کی اننگز میں 32 چوکوں کی مدد سے 205 رنز بنائے۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق یہ ان کی پہلی ٹیسٹ سنچری تھی، اور ایک بڑی سنچری3۔ یہی ان کا سب سے بڑا ٹیسٹ اسکور رہا1۔
ٹیسٹ کرکٹ کے نمایاں لمحات
عامر سہیل کی بیٹنگ میں جارحیت کے ساتھ ثابت قدمی بھی تھی۔ 1 نومبر 1994ء کو لاہور میں آسٹریلیا کے خلاف ساتویں نمبر پر بیٹنگ کرتے ہوئے انہوں نے 105 رنز بنائے۔ 9 نومبر 1995ء کو برسبین میں وہ صرف ایک رن کی کمی سے سنچری مکمل نہ کر سکے اور 99 پر آؤٹ ہوئے۔ آسٹریلیا کے خلاف 9 ٹیسٹ میچوں میں ان کی اوسط 45.11 رہی1۔
1997ء میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ہوم سیریز ان کے لیے خاص رہی۔ 29 نومبر کو راولپنڈی میں اور اس کے فوراً بعد 6 دسمبر کو کراچی میں انہوں نے مسلسل دو ٹیسٹ میچوں میں 160، 160 رنز بنائے۔ 22 اکتوبر 1998ء کو کراچی میں آسٹریلیا کے خلاف انہوں نے بطور کپتان 133 رنز بنائے۔ 1998ء میں انہوں نے 6 ٹیسٹ اور 1996ء سے 1998ء کے دوران 22 ون ڈے میچوں میں پاکستان کی قیادت کی۔ ان کا آخری ٹیسٹ 5 مارچ 2000ء کو پشاور میں سری لنکا کے خلاف شروع ہوا1۔
ون ڈے کرکٹ کا اوپنر
ون ڈے کرکٹ میں عامر سہیل کا ریکارڈ زیادہ بھرپور ہے۔ انہوں نے 31 نصف سنچریاں اور 5 سنچریاں بنائیں۔ 20 اپریل 1994ء کو شارجہ میں نیوزی لینڈ کے خلاف 146 گیندوں پر 134 رنز ان کا سب سے بڑا ون ڈے اسکور ہے۔ 2 دسمبر 1994ء کو ڈربن میں سری لنکا کے خلاف 100، 29 فروری 1996ء کو کراچی میں جنوبی افریقہ کے خلاف 111 اور 12 اپریل 1996ء کو شارجہ میں بھارت کے خلاف 105 رنز ان کی دیگر سنچریاں ہیں1۔
1996ء کے عالمی کپ کے کوارٹر فائنل میں، 9 مارچ 1996ء کو بنگلور میں بھارت کے خلاف انہوں نے 46 گیندوں پر 9 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 55 رنز بنائے اور بولڈ ہوئے1۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق اس میچ میں انہوں نے بنگلور کے پُرجوش ہجوم کے سامنے بولر وینکٹیش پرساد کو للکارا، مگر آخری بات پرساد کی رہی جنہوں نے انہیں آؤٹ کر دیا3۔
ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق وہ ایک مؤثر بائیں ہاتھ کے اسپنر بھی تھے، اگرچہ ٹیسٹ سے زیادہ ون ڈے کے بولر تھے2۔ ون ڈے کرکٹ میں انہوں نے 85 وکٹیں لیں، اور 12 اکتوبر 1995ء کو شارجہ میں سری لنکا کے خلاف 8 اوورز میں 22 رنز دے کر 4 وکٹیں ان کی بہترین بولنگ ہے؛ اسی میچ میں انہوں نے 85 رنز بھی بنائے۔ ان کا آخری ون ڈے 19 فروری 2000ء کو لاہور میں سری لنکا کے خلاف تھا1۔
اعداد و شمار
| ٹیسٹ | ون ڈے | |
|---|---|---|
| میچ | 47 | 156 |
| رنز | 2823 | 4780 |
| بہترین اسکور | 205 | 134 |
| اوسط (بیٹنگ) | 35.28 | 31.86 |
| سنچریاں / نصف سنچریاں | 5 / 13 | 5 / 31 |
| اسٹرائیک ریٹ | 55.32 | 65.5 |
| وکٹیں | 25 | 85 |
| بہترین بولنگ | 4/54 | 4/22 |
| اوسط (بولنگ) | 41.96 | 43.56 |
| اننگز میں پانچ وکٹیں | 0 | 0 |
| بطور کپتان میچ | 6 | 22 |
ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو اسٹیٹس گرو1، اعداد بین الاقوامی کیریئر کے ہیں۔
اثر اور یادگار
عامر سہیل نے 1990ء کی دہائی میں پاکستان کی ون ڈے بیٹنگ کو تیز آغاز دیا۔ جن ون ڈے میچوں میں پاکستان جیتا، ان میں انہوں نے 41.72 کی اوسط سے 3088 رنز بنائے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں انگلینڈ کے خلاف ان کی اوسط 49 اور ویسٹ انڈیز کے خلاف 58.28 رہی1۔
ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق انہیں حملہ کرنا پسند تھا اور وہ بے خوف کھیلتے تھے2۔ یہی بے خوفی ان کی پہچان بنی: ہوبارٹ کی سنچری سے اولڈ ٹریفورڈ کی ڈبل سنچری تک، عامر سہیل کی بیٹنگ میں ایک لڑنے والے کا عزم نمایاں تھا۔
ماخذ
- ESPNcricinfo Statsguru, Aamer Sohail, Test and ODI batting and bowling career summaries and innings lists: https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/38967.html?class=1;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/38967.html?class=1;template=results;type=batting;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/38967.html?class=1;template=results;type=bowling ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/38967.html?class=2;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/38967.html?class=2;template=results;type=batting;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/38967.html?class=2;template=results;type=bowling ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/38967.html?class=2;template=results;type=bowling;view=innings
- ESPNcricinfo player profile, Aamer Sohail (archived copy; profile essay by Kamran Abbasi): https://web.archive.org/web/2016/http://www.espncricinfo.com/ci/content/player/38967.html
- ESPNcricinfo player profile, Aamer Sohail (archived 2024 copy): https://web.archive.org/web/20241226074706/https://www.espncricinfo.com/cricketers/aamer-sohail-38967



