الطاف حسین حالی: مسدس کا شاعر
1857ء کے بعد کے ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک پوری نسل یہ سوچ رہی تھی کہ ہم کہاں سے کہاں آ گئے۔ سر سید احمد خاں نے اس سوال کا جواب تعلیم اور اصلاح میں ڈھونڈا، اور ان کے ساتھیوں…

1857ء کے بعد کے ہندوستان میں مسلمانوں کی ایک پوری نسل یہ سوچ رہی تھی کہ ہم کہاں سے کہاں آ گئے۔ سر سید احمد خاں نے اس سوال کا جواب تعلیم اور اصلاح میں ڈھونڈا، اور ان کے ساتھیوں میں ایک شاعر تھا جس نے اس سوال کو شاعری کی زبان دی۔ خواجہ الطاف حسین حالی کی "مسدس" 1879ء میں چھپی تو سر سید نے کہا کہ جب خدا پوچھے گا کہ دنیا سے کیا لائے تو میں کہوں گا کہ حالی سے مسدس لکھوا کر لایا ہوں۔ حالی غالب کے شاگرد تھے، اردو تنقید کے بانی تھے، اور اس شاعری کے بانی تھے جسے بعد میں "قومی" یا "مقصدی" شاعری کہا گیا۔
زندگی اور زمانہ
الطاف حسین 1837ء میں پانی پت میں پیدا ہوئے۔ نو برس کی عمر میں والد کا سایہ اٹھ گیا اور بڑے بھائی نے پرورش کی۔ ابتدائی تعلیم قرآن، فارسی اور عربی کی روایتی تعلیم تھی۔ سترہ برس کی عمر میں شادی ہوئی مگر علم کی پیاس ایسی تھی کہ وہ گھر والوں کو بتائے بغیر دلّی چلے گئے اور وہاں ڈیڑھ برس تک عربی اور منطق کی تعلیم حاصل کی، یہاں تک کہ گھر والوں نے ڈھونڈ کر واپس لے گئے۔ یہی وہ دلّی تھا جہاں انہوں نے پہلی بار غالب کو دیکھا۔
1857ء کے بعد انہوں نے جہانگیرآباد میں نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ کے بچوں کی اتالیق کے طور پر کئی برس گزارے۔ شیفتہ خود ایک صاحبِ ذوق شاعر اور غالب کے گہرے دوست تھے، اور حالی نے لکھا ہے کہ ان کی ادبی تربیت میں شیفتہ کی صحبت کا بڑا حصہ ہے۔ اسی دور میں ان کا غالب سے شاگردی کا رشتہ قائم ہوا، گو وہ غالب سے اصلاح کم لیتے تھے اور ان کی باتیں زیادہ سنتے تھے۔
شیفتہ کی وفات کے بعد حالی 1870ء کے لگ بھگ لاہور گئے جہاں گورنمنٹ بک ڈپو میں ترجموں کی زبان درست کرنے کا کام ملا۔ لاہور کے یہ چار برس ان کی شاعری کا رخ بدلنے والے تھے۔ یہاں انجمنِ پنجاب کے مشاعروں میں، جو کرنل ہالرائڈ اور محمد حسین آزاد کی تحریک پر ہوتے تھے، شاعروں کو غزل کے بجائے کسی ایک موضوع پر نظم کہنے کی دعوت دی جاتی تھی۔ حالی نے "برکھا رت"، "نشاطِ امید"، "حبِ وطن" اور "مناظرۂ رحم و انصاف" جیسی نظمیں انہی مشاعروں کے لیے لکھیں۔
1874ء میں وہ دلّی کے اینگلو عربک اسکول میں عربی کے استاد ہو کر لوٹے اور بعد میں پنشن پا کر پانی پت چلے گئے۔ سر سید کے کہنے پر "مسدسِ مدّ و جزرِ اسلام" لکھی جو 1879ء میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد نثر میں ان کی بڑی کتابیں آئیں: "حیاتِ سعدی" (1884ء)، "مقدمۂ شعر و شاعری" (1893ء)، "یادگارِ غالب" (1897ء) اور سر سید کی سوانح "حیاتِ جاوید" (1901ء)۔ 1904ء میں حکومت نے انہیں شمس العلما کا خطاب دیا۔ 31 دسمبر 1914ء کو پانی پت میں وفات پائی۔
اسلوب
حالی کی شاعری دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ پہلا حصہ غالب اور شیفتہ کے زمانے کی غزل ہے، جس میں وہ اپنے زمانے کے اچھے غزل گو ہیں:
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاںاب ٹھہرتی ہے دیکھیے جا کر نظر کہاں
دوسرا اور بڑا حصہ وہ شاعری ہے جس میں شاعر قوم کا معلم اور مصلح بن جاتا ہے۔ "مقدمۂ شعر و شاعری" میں انہوں نے خود کہا کہ شاعری کو سچائی، سادگی اور جوش پر قائم ہونا چاہیے، اور غزل کی گھسی پٹی روایت پر سخت تنقید کی۔ ان کی زبان سادہ، صاف اور نثر کے قریب ہے؛ وہ شعر کو بات پہنچانے کا وسیلہ سمجھتے ہیں:
فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننامگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ
حالی کا لہجہ ماتم کا نہیں، فکر کا ہے۔ وہ قوم کو روتے نہیں، آئینہ دکھاتے ہیں، اور یہ آئینہ دکھانے کا کام ان سے پہلے اردو شاعری میں کسی نے اس پیمانے پر نہیں کیا تھا۔
منتخب کلام
پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھےاسلام کا گر کر نہ ابھرنا دیکھےمانے نہ کبھی کہ مد ہے ہر جزر کے بعددریا کا ہمارے جو اترنا دیکھے
وہ دینِ حجازی کا بے باک بیڑانشاں جس کا اقصائے عالم میں پہنچامژاحم ہوا کوئی خطرہ نہ جس کانہ عماں میں ٹھٹکا نہ قلزم میں جھجکاکیے پے سپر جس نے ساتوں سمندروہ ڈوبا دہانے میں گنگا کے آ کر
یہ پہلا سبق تھا کتابِ ہدیٰ کاکہ ہے ساری مخلوق کنبہ خدا کاوہی دوست ہے خالقِ دو سرا کاخلائق سے ہے جس کو رشتہ ولا کایہی ہے عبادت یہی دین و ایماںکہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں
اے ماؤں بہنو بیٹیو دنیا کی زینت تم سے ہےملکوں کی بستی ہو تمہی قوموں کی عزت تم سے ہے
بلبلِ ہند مر گیا ہیہاتجس کی تھی بات بات میں اک بات
حالی نشاطِ نغمہ و مے ڈھونڈتے ہو ابآئے ہو وقتِ صبح رہے رات کے ہو تم
خشک سیروں تنِ شاعر میں لہو ہوتا ہےتب نظر آتی ہے اک مصرعِ تر کی صورت
اشعار کی تشریح
«پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے…» مسدس کے آغاز کی رباعی۔ سمندر میں ہر اتار کے بعد چڑھاؤ آتا ہے، مگر جو ہماری قوم کا اتار دیکھے وہ یہ ماننے سے انکار کر دے کہ اس کے بعد کوئی چڑھاؤ بھی ہے۔
«وہ دینِ حجازی کا بے باک بیڑا…» وہ جہاز جو عرب سے نکلا اور ساتوں سمندروں کو عبور کر گیا، ہندوستان آ کر گنگا کے دہانے میں ڈوب گیا۔ مسدس کا سب سے مشہور بند، جس میں پوری تاریخ ایک تصویر میں آ گئی ہے۔
«یہ پہلا سبق تھا کتابِ ہدیٰ کا…» ساری مخلوق خدا کا کنبہ ہے، اور عبادت یہ ہے کہ انسان انسان کے کام آئے۔ یہ بند آج بھی تقریروں اور تحریروں میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔
«اے ماؤں بہنو بیٹیو دنیا کی زینت تم سے ہے…» نظم "چپ کی داد" (1905ء) سے، جو عورتوں کی خاموش خدمت کے اعتراف میں لکھی گئی۔ اردو شاعری میں عورت کو محبوب کے بجائے ماں، بہن اور بیٹی کی حیثیت سے مخاطب کرنے کی یہ ابتدائی مثالوں میں سے ہے۔
«بلبلِ ہند مر گیا ہیہات…» غالب کی وفات پر حالی کے مرثیے سے۔ ہند کا بلبل مر گیا، جس کی ہر بات میں ایک نئی بات ہوتی تھی۔ یہ مرثیہ غالب کی زندگی اور کلام کا ایک مختصر خاکہ بھی ہے۔
«حالی نشاطِ نغمہ و مے ڈھونڈتے ہو اب…» حالی، اب تم گانے اور شراب کی خوشی ڈھونڈتے ہو؟ تم صبح کے وقت آئے ہو اور باتیں رات کی کرتے ہو، یعنی محفل ختم ہو چکی اور زمانہ بدل گیا۔ شاعر اپنے آپ کو اور اپنی قوم کو ایک ساتھ مخاطب کرتا ہے۔
«خشک سیروں تنِ شاعر میں لہو ہوتا ہے…» شاعر کے بدن میں سیروں خون خشک ہوتا ہے تب ایک تازہ مصرع بنتا ہے۔ شاعری کی محنت پر حالی کا یہ شعر خود ان کے مزاج کا آئینہ ہے۔
اثر اور یادگار
حالی کا اثر دو طرح سے ہوا۔ شاعری میں "مسدس" نے وہ راستہ کھولا جس پر آگے چل کر اقبال نے "شکوہ" اور "جوابِ شکوہ" لکھیں؛ اقبال نے خود حالی کو اپنا پیش رو مانا۔ قوم، ملت، تاریخ اور اصلاح کو اردو شاعری کا موضوع بنانے والے پہلے بڑے شاعر حالی ہیں۔
نثر میں "مقدمۂ شعر و شاعری" اردو تنقید کی پہلی باقاعدہ کتاب ہے۔ اس میں شاعری کیا ہے، اچھا شعر کیسا ہوتا ہے اور غزل کی روایت میں کیا خرابیاں ہیں، ان سوالوں پر پہلی بار منظم بحث کی گئی۔ اس کتاب پر اختلاف بھی بہت ہوا، مگر اردو تنقید کا ہر طالب علم آج بھی اسی سے شروع کرتا ہے۔ اور "یادگارِ غالب" اور "حیاتِ جاوید" نے اردو میں سوانح نگاری کا معیار قائم کیا۔
مسدس ان کی زندگی میں بار بار چھپی، مدرسوں میں پڑھائی گئی اور جلسوں میں پڑھی گئی۔ آج اس کا لہجہ شاید پرانا لگے، مگر قوم کو آئینہ دکھانے کی جو روایت حالی نے شروع کی وہ اردو شاعری میں آج تک زندہ ہے۔
قارئین سے: حالی کا کون سا بند یا شعر آپ کو یاد رہ گیا ہے؟ ہمیں لکھ بھیجیے۔ منتخب حصے آپ کے نام کے ساتھ شائع ہوں گے۔
اگلے جمعے: اکبر الٰہ آبادی، جنہوں نے نئی تہذیب پر ہنستے ہنستے سب سے کڑی باتیں کہیں۔
ماخذ
- ریختہ، الطاف حسین حالی: کلام اور تعارف۔ https://www.rekhta.org/poets/altaf-hussain-hali?lang=ur
- الطاف حسین حالی، مسدسِ مدّ و جزرِ اسلام، 1879ء؛ انگریزی ترجمہ اور مطالعہ: Christopher Shackle and Javed Majeed, Hali's Musaddas: The Flow and Ebb of Islam, Oxford University Press, Delhi, 1997.
- الطاف حسین حالی، مقدمۂ شعر و شاعری، 1893ء (نیا ایڈیشن: مکتبہ جامعہ، نئی دہلی)۔
- الطاف حسین حالی، یادگارِ غالب، کانپور، 1897ء۔
- صالحہ عابد حسین، یادگارِ حالی، انجمن ترقی اردو (ہند)، نئی دہلی، 1954ء۔
- Muhammad Sadiq, A History of Urdu Literature, 2nd edition, Oxford University Press, Delhi, 1984 (chapter on Hali).







