حسرت موہانی: غزل اور آزادی
اردو کے بہت کم شاعر ایسے ہیں جن کی زندگی ان کی شاعری سے زیادہ دلچسپ ہو۔ حسرت موہانی ان میں سے ایک ہیں۔ وہ غزل کے ایسے شاعر تھے جن کی غزل "چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد…

اردو کے بہت کم شاعر ایسے ہیں جن کی زندگی ان کی شاعری سے زیادہ دلچسپ ہو۔ حسرت موہانی ان میں سے ایک ہیں۔ وہ غزل کے ایسے شاعر تھے جن کی غزل "چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے" برصغیر کے ہر گھر میں سنی گئی۔ وہ صحافی تھے جنہیں انگریزی حکومت نے بار بار جیل میں ڈالا۔ وہ پہلے ہندوستانی سیاست دان تھے جنہوں نے کانگریس کے اجلاس میں مکمل آزادی کا مطالبہ کیا۔ وہ کمیونسٹ پارٹی کے بانیوں میں تھے اور ساتھ ہی پابندِ صوم و صلات مسلمان، جو کئی بار حج پر گئے۔
زندگی اور زمانہ
سید فضل الحسن، تخلص حسرت، ریختہ کے مطابق یکم جنوری 1878ء کو اودھ کے ضلع اناؤ کے قصبے موہان میں پیدا ہوئے، اسی نسبت سے موہانی کہلائے۔ ابتدائی تعلیم گھر اور قصبے میں ہوئی، پھر 1890ء کی دہائی کے آخر میں علی گڑھ کے محمڈن اینگلو اورینٹل کالج میں داخل ہوئے۔ علی گڑھ میں وہ شاعری، سیاست اور مباحثوں میں آگے آگے رہے اور کالج کی انتظامیہ سے ٹکراؤ کی وجہ سے ایک بار نکالے بھی گئے۔ 1903ء میں بی اے کیا۔
اسی برس انہوں نے علی گڑھ سے ادبی رسالہ "اردوئے معلّیٰ" نکالا جو اردو کے اہم ادبی رسالوں میں شمار ہوتا ہے اور جس میں وہ پرانے شاعروں کا منتخب کلام اور تنقیدی مضامین چھاپتے تھے۔ مگر رسالہ صرف ادبی نہ رہا۔ 1908ء میں مصر میں انگریزی تعلیمی پالیسی پر ایک مضمون چھاپنے پر انہیں بغاوت کے الزام میں دو برس قید بامشقت کی سزا ہوئی۔ جیل میں چکی پیسنا پڑی، اور اس تجربے پر ان کا شعر آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ یہ قید ان کی زندگی کی کئی قیدوں میں پہلی تھی۔
سیاست میں حسرت پہلے سودیشی تحریک کے حامی تھے اور خود کپڑے کی دکان چلاتے رہے۔ دسمبر 1921ء میں احمدآباد میں کانگریس کے اجلاس میں انہوں نے مکمل آزادی کی قرارداد پیش کی، جو اس وقت منظور نہ ہوئی مگر تاریخ میں پہلے مطالبے کے طور پر یاد رکھی جاتی ہے۔ 1925ء میں کانپور میں کمیونسٹ کانفرنس کے استقبالیہ کمیٹی کے صدر وہی تھے، اور یوں وہ ہندوستان میں کمیونسٹ پارٹی کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ آزادی کے بعد وہ ہندوستان کی دستور ساز اسمبلی کے رکن رہے مگر دستور پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔ 13 مئی 1951ء کو لکھنؤ میں وفات پائی۔
وہ زندگی میں کئی بار حج پر گئے۔
اسلوب
حسرت نے غزل کی اس روایت کو زندہ کیا جو میر اور مومن سے آتی تھی اور جس پر حالی اور اقبال کے زمانے میں مقصدی شاعری کا غلبہ ہو گیا تھا۔ ان کی غزل میں محبت ایک زمینی اور شریف جذبہ ہے، نہ بہت فلسفیانہ نہ بہت رنگین۔ وہ خود کہتے تھے کہ ان کا رنگ "معاملہ بندی" کا ہے، یعنی عاشق اور محبوب کے بیچ کے چھوٹے چھوٹے معاملات کا بیان، مگر پاکیزگی کے ساتھ:
دیکھنا بھی تو انہیں دور سے دیکھا کرناشیوۂ عشق نہیں حسن کو رسوا کرنا
ان کی زبان صاف اور رواں ہے، لفظ آسان ہیں اور لہجہ شائستہ۔ ان کے ہاں شوخی ہے مگر پھکڑپن نہیں۔ اور ان کے ہاں وہ شعر بھی ہیں جن میں قید، چکی اور جدوجہد شاعری میں آتی ہے، شاید اردو غزل میں پہلی بار اس بے تکلفی سے؛ اس کی مثال آگے منتخب کلام میں ہے۔
منتخب کلام
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہےہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانا یاد ہے
نہیں آتی تو یاد ان کی مہینوں تک نہیں آتیمگر جب یاد آتے ہیں تو اکثر یاد آتے ہیں
خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خردجو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے
حسنِ بے پروا کو خود بین و خود آرا کر دیاکیا کیا میں نے کہ اظہارِ تمنا کر دیا
ہے مشقِ سخن جاری چکی کی مشقت بھیاک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی
اشعار کی تشریح
«چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے…» رات دن چھپ چھپ کر رونا یاد ہے، محبت کا وہ زمانہ اب تک یاد ہے۔ یہ غزل گائی بھی بہت گئی اور برصغیر کی مشہور ترین غزلوں میں شمار ہوتی ہے۔
«نہیں آتی تو یاد ان کی مہینوں تک نہیں آتی…» ان کی یاد مہینوں نہیں آتی، مگر جب آتی ہے تو بار بار آتی ہے۔ روزمرہ کی زبان میں ایک ایسی سچائی جو ہر پڑھنے والے کو اپنی لگتی ہے۔
«خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد…» عقل کو جنون کہا جانے لگا اور جنون کو عقل۔ آپ کا حسن جو چاہے کر دکھائے۔ محبوب کے سامنے عقل اور دیوانگی کی تعریفیں بدل جاتی ہیں۔
«حسنِ بے پروا کو خود بین و خود آرا کر دیا…» میں نے اپنی چاہت کا اظہار کیا اور اس سے بے نیاز حسن کو اپنے حسن پر مغرور بنا دیا۔ یہ غلطی میں نے کیا کی۔
«ہے مشقِ سخن جاری چکی کی مشقت بھی…» جیل میں چکی پیسنے کی مشقت بھی جاری ہے اور شاعری کی مشق بھی۔ حسرت کا مزاج بھی عجیب تماشا ہے۔ یہ شعر ان کی پہلی قید (1908ء) کی یادگار ہے اور اردو کی سیاسی شاعری کی ابتدائی مثالوں میں ہے۔
اثر اور یادگار
حسرت موہانی اردو کی ادبی تاریخ میں دو وجہ سے یاد رکھے جاتے ہیں۔ پہلی، انہوں نے بیسویں صدی میں غزل کو اس وقت زندہ رکھا جب نظم کا دور دورہ تھا، اور بعد کے غزل گو شاعروں نے انہیں اس احیا کا سرخیل مانا۔ "اردوئے معلّیٰ" میں انہوں نے پرانے شاعروں، خاص طور پر مومن اور ان کے ہم عصروں، کے کلام کو نئی نسل تک پہنچایا اور ان پر تنقیدی تبصرے لکھے جو اردو تنقید کی ابتدائی مثالوں میں شمار ہوتے ہیں۔
دوسری وجہ ان کی زندگی ہے۔ غزل کا شاعر جو جیل میں چکی پیستا ہے، آزادی کا مطالبہ کرتا ہے، مزدوروں کی جماعت بناتا ہے اور کئی بار حج بھی کرتا ہے، ایک ایسی مثال ہے جو کسی خانے میں نہیں آتی۔ ہندوستان میں ان کے نام پر ڈاک ٹکٹ جاری ہوا، اور ان کی غزلیں آج بھی گائی اور سنی جاتی ہیں۔
قارئین سے: حسرت کا کون سا شعر آپ کو سب سے زیادہ پسند ہے؟ ہمیں لکھ بھیجیے۔ منتخب اشعار آپ کے نام کے ساتھ شائع ہوں گے۔
اگلے جمعے: داغ دہلوی، جن کی زبان کی مٹھاس آج تک اردو کی پہچان ہے۔
ماخذ
- ریختہ، حسرت موہانی: کلام اور تعارف۔ https://www.rekhta.org/poets/hasrat-mohani?lang=ur ؛ تعارف (تاریخِ پیدائش): https://www.rekhta.org/poets/hasrat-mohani/profile ؛ اشعار کا متن: https://www.rekhta.org/ghazals/chupke-chupke-raat-din-aansuu-bahaanaa-yaad-hai-hasrat-mohani-ghazals ؛ https://www.rekhta.org/ghazals/dekhnaa-bhii-to-unhen-duur-se-dekhaa-karnaa-hasrat-mohani-ghazals ؛ https://www.rekhta.org/ghazals/husn-e-be-parvaa-ko-khud-biin-o-khud-aaraa-kar-diyaa-hasrat-mohani-ghazals ؛ https://www.rekhta.org/poets/hasrat-mohani/couplets (نہیں آتی تو یاد…، خرد کا نام…، ہے مشقِ سخن…)
- Ram Babu Saksena, A History of Urdu Literature, Ram Narain Lal, Allahabad, 1927 (section on Hasrat Mohani).
- Muhammad Sadiq, A History of Urdu Literature, 2nd edition, Oxford University Press, Delhi, 1984 (chapter on Hasrat).
- حسرت موہانی، "یاد آتے ہیں" (غزل کا متن اور تعارف)۔ https://urdushahkar.org/yaad-aate-hain-hasrat-mohani/
- ریختہ، مضمون: حسرت موہانی اور فراق گورکھپوری۔ https://www.rekhta.org/articles/hasrat-mohaani-firaq-gorakhpuri-articles



