علامہ اقبال: خودی کا پیغام
بیسویں صدی کے آغاز میں اردو شاعری کو ایک ایسی آواز ملی جو غزل کی محفل سے نکل کر قوموں اور تاریخ سے بات کرنے لگی۔ یہ آواز سیالکوٹ کے ایک کشمیری گھرانے کے بیٹے محمد اقبال کی تھی، جو…

بیسویں صدی کے آغاز میں اردو شاعری کو ایک ایسی آواز ملی جو غزل کی محفل سے نکل کر قوموں اور تاریخ سے بات کرنے لگی۔ یہ آواز سیالکوٹ کے ایک کشمیری گھرانے کے بیٹے محمد اقبال کی تھی، جو فلسفے کے استاد، وکیل، اور پھر ایک ایسے شاعر بنے جنہیں برصغیر کے مسلمان "شاعرِ مشرق" اور "حکیم الامت" کہتے ہیں۔ مگر اقبال کو نعروں سے نہیں، ان کے کلام سے سمجھنا چاہیے:
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیںابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
زندگی اور زمانہ
محمد اقبال 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ والد شیخ نور محمد ایک دین دار اور درویش مزاج تاجر تھے۔ سیالکوٹ کے اسکاچ مشن اسکول اور کالج میں انہیں مولوی سید میر حسن جیسے استاد ملے جنہوں نے ان میں عربی اور فارسی ادب کا ذوق پیدا کیا۔ 1895ء میں وہ لاہور آئے، گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا، اور یہاں مستشرق پروفیسر ٹامس آرنلڈ کی شاگردی نے انہیں فلسفے کی طرف متوجہ کیا۔ 1899ء میں فلسفے میں ایم اے کیا اور اورینٹل کالج اور گورنمنٹ کالج میں پڑھانے لگے۔
لاہور کے اسی ابتدائی دور میں انجمنِ حمایتِ اسلام کے جلسوں میں ان کی نظمیں پڑھی جانے لگیں اور شہرت پھیلی۔ 1904ء میں لکھا گیا "ترانۂ ہندی" (سارے جہاں سے اچھا) اسی زمانے کی یادگار ہے۔ 1905ء میں وہ یورپ گئے: کیمبرج میں فلسفہ پڑھا، جرمنی کی میونخ یونیورسٹی سے 1907ء میں ایران کے مابعد الطبیعیاتی فکر کے ارتقا پر ڈاکٹریٹ کی، اور 1908ء میں لنکنز اِن سے بیرسٹری کا امتحان پاس کر کے لاہور لوٹے۔
1908ء کے بعد انہوں نے وکالت کو ذریعۂ معاش بنایا اور شاعری کو پیغام۔ "شکوہ" (1909ء) اور "جوابِ شکوہ" (1913ء) نے انہیں پورے ہندوستان کے مسلمانوں کا شاعر بنا دیا۔ 1915ء میں فارسی مثنوی "اسرارِ خودی" آئی جس کا انگریزی ترجمہ نکلسن نے کیا اور یورپ تک ان کا نام پہنچا۔ اردو کا پہلا مجموعہ "بانگِ درا" 1924ء میں چھپا۔ 1922ء میں حکومت نے انہیں "سر" کا خطاب دیا۔ 1926ء سے 1930ء تک وہ پنجاب کی قانون ساز کونسل کے رکن رہے، اور دسمبر 1930ء میں الٰہ آباد میں مسلم لیگ کے اجلاس کی صدارت کی جس کا خطبہ برصغیر کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم موڑ سمجھا جاتا ہے۔
ان کے آخری برس بیماری اور مسلسل لکھنے میں گزرے۔ "بالِ جبریل" (1935ء) اور "ضربِ کلیم" (1936ء) اسی دور کی کتابیں ہیں، اور "ارمغانِ حجاز" ان کی وفات کے بعد چھپی۔ 21 اپریل 1938ء کو لاہور میں وفات پائی اور بادشاہی مسجد کے سائے میں دفن ہوئے۔
اسلوب
اقبال کی شاعری کا مرکزی تصور "خودی" ہے: انسان اپنے اندر چھپی ہوئی طاقت کو پہچانے، اپنی ذات کو مضبوط کرے، اور خدا کا نائب بن کر دنیا میں کام کرے۔ یہ تصور ان کے فارسی اور اردو دونوں کلام میں بار بار آتا ہے:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلےخدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
ان کی زبان میں فارسی تراکیب کی کثرت ہے، مگر ان کے بہترین اشعار سادہ اور رواں ہیں اور اسی لیے زبان زدِ عام ہیں۔ ان کے ہاں علامتوں کا ایک پورا نظام ہے: شاہین، لالہ، ستارے، صحرا، قافلہ، جو ایک شعر سے دوسرے شعر تک معنی لے کر چلتے ہیں۔ شاہین ان کے نزدیک اس نوجوان کی علامت ہے جو بلند پرواز ہے، تنہا رہتا ہے اور کسی کا شکار نہیں کھاتا:
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پرتو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
اقبال غزل کے بھی شاعر ہیں مگر ان کی غزل میں بھی فکر غالب ہے۔ انہوں نے مغربی فلسفے، اسلامی تصوف اور قرآن کے مطالعے کو شاعری میں یوں ملایا کہ ان کا کلام ایک شاعر کا نہیں بلکہ ایک مفکر کا کلام لگتا ہے۔
منتخب کلام
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہےبڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہماراہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میریزندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہےپر نہیں طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگیتو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتحِ عالمجہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نےمن اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا
محبت مجھے ان جوانوں سے ہےستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقللیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھییہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
ایک وضاحت ضروری ہے۔ شعر "تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقابیہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے" بہت عام طور پر اقبال کے نام سے پڑھا جاتا ہے مگر یہ ان کے کسی مجموعے میں موجود نہیں، اور اسے اقبال کا شعر کہنا درست نہیں۔ اقبال کے کلام کا فیصلہ ان کے کلیات سے ہوتا ہے، نہ کہ سوشل میڈیا سے۔
اشعار کی تشریح
«ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے…» نرگس کا پھول آنکھ کی شکل کا ہوتا ہے مگر دیکھ نہیں سکتا۔ وہ ہزاروں سال اپنی بے بصری پر روتا ہے، تب کہیں باغ میں ایک دیکھنے والا پیدا ہوتا ہے۔ یعنی صاحبِ نظر انسان صدیوں میں پیدا ہوتا ہے۔ یہ شعر "بانگِ درا" میں ہے۔
«سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا…» "ترانۂ ہندی" (1904ء) کا پہلا شعر، جو آج بھی سرحد کے دونوں طرف گایا جاتا ہے۔ یہ اقبال کے اس ابتدائی دور کی یادگار ہے جب وطن ان کا بڑا موضوع تھا۔
«لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری…» "بچے کی دعا" سے، جو برصغیر کے لاکھوں اسکولوں میں صبح کی اسمبلی میں پڑھی جاتی ہے۔ میری خواہش دعا بن کر لبوں پر آتی ہے کہ میری زندگی شمع کی طرح ہو، یعنی دوسروں کو روشنی دے۔
«دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے…» جو بات دل سے نکلتی ہے وہ اثر رکھتی ہے۔ اس کے پر نہیں ہوتے مگر وہ اڑنے کی طاقت رکھتی ہے۔ "بانگِ درا" کی غزل سے۔
«اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی…» اپنے اندر اتر کر زندگی کا راز ڈھونڈ۔ اگر تو میرا نہیں بنتا تو نہ بن، مگر کم سے کم اپنا تو بن۔ خودی کا پیغام سادہ ترین لفظوں میں۔ "بالِ جبریل" سے۔
«یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتحِ عالم…» پکا یقین، مسلسل عمل اور دنیا کو فتح کرنے والی محبت، زندگی کی جدوجہد میں یہی تین چیزیں انسان کی تلواریں ہیں۔ "بانگِ درا" کی نظم "طلوعِ اسلام" سے۔
«مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے…» ایمان کے جوش والوں نے ایک رات میں مسجد بنا دی، مگر میرا دل پرانا گناہ گار ہے، برسوں میں نمازی نہ بن سکا۔ یہاں اقبال خود پر اور ظاہری دین داری پر ایک ساتھ طنز کرتے ہیں۔ "بانگِ درا" سے۔
«محبت مجھے ان جوانوں سے ہے…» مجھے ان نوجوانوں سے محبت ہے جو ستاروں پر کمند ڈالتے ہیں، یعنی ناممکن کو ممکن بنانے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ "بالِ جبریل" سے۔
«اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل…» اچھا ہے کہ عقل دل کی نگرانی کرے، مگر کبھی کبھی دل کو تنہا بھی چھوڑ دینا چاہیے۔ عقل اور عشق کے درمیان اقبال کا یہ توازن "بانگِ درا" کی غزل میں ہے۔
«عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی…» انسان کی زندگی اس کے عمل سے جنت بھی بن سکتی ہے اور جہنم بھی۔ یہ مٹی کا انسان اپنی فطرت میں نہ فرشتہ ہے نہ شیطان۔ "بانگِ درا" سے۔
اثر اور یادگار
اقبال کا اثر اردو شاعری سے بڑھ کر برصغیر کی سیاست اور فکر پر ہوا۔ پاکستان میں انہیں قومی شاعر کا درجہ دیا گیا، ان کے نام پر اقبال اکادمی قائم ہوئی جو ان کے کلام کے تحقیقی ایڈیشن اور ان پر تحقیق شائع کرتی ہے، اور ان کا مزار لاہور کی بادشاہی مسجد کے صحن کے سامنے ایک قومی یادگار ہے۔ ایران، ترکی اور وسطی ایشیا میں ان کی فارسی شاعری پڑھی جاتی ہے، اور یورپ کی کئی زبانوں میں ان کا کلام ترجمہ ہوا ہے۔
ادبی طور پر اقبال نے اردو نظم کو فکر کا وہ وزن دیا جو حالی نے شروع کیا تھا، اور غزل کو بھی فلسفے کا ایک ذریعہ بنایا۔ ان کے بعد اردو میں ملی اور فکری شاعری کی پوری روایت ان کے سائے میں پلی۔
قارئین سے: اقبال کا کون سا شعر آپ کی زندگی میں کسی موڑ پر یاد آیا؟ ہمیں لکھ بھیجیے۔ منتخب اشعار آپ کے نام کے ساتھ شائع ہوں گے۔
اگلے جمعے: حسرت موہانی، غزل کے شاعر اور آزادی کے سپاہی۔
ماخذ
- ریختہ، علامہ اقبال: کلام اور تعارف۔ https://www.rekhta.org/poets/allama-iqbal?lang=ur
- اقبال اکادمی پاکستان، لاہور: اقبال کی زندگی کی تاریخ وار فہرست اور کلیاتِ اقبال (اردو)۔ https://www.allamaiqbal.com/
- علامہ اقبال اردو سائبر لائبریری (کلیات کا متن، کتاب اور نظم کے حوالے سے)۔ https://www.iqbalcyberlibrary.net/
- Annemarie Schimmel, Gabriel's Wing: A Study into the Religious Ideas of Sir Muhammad Iqbal, E. J. Brill, Leiden, 1963 (reprinted Iqbal Academy Pakistan, Lahore).
- Iqbal Singh Sevea, The Political Philosophy of Muhammad Iqbal: Islam and Nationalism in Late Colonial India, Cambridge University Press, 2012.
- جاوید اقبال، زندہ رود (اقبال کی سوانح، تین حصے)، شیخ غلام علی اینڈ سنز، لاہور، 1979–1984ء۔
- Muhammad Sadiq, A History of Urdu Literature, 2nd edition, Oxford University Press, Delhi, 1984 (chapter on Iqbal).



