انگریز درۂ بولان میں: پہلی افغان جنگ (1839)
پچھلے باب میں ہم نے دیکھا کہ لسبیلہ، خاران اور مکران کی ریاستیں قلات کے گرد کس طرح اپنی اپنی جگہ قائم تھیں۔ اس باب سے ہماری کہانی کا چوتھا حصہ، "برطانوی دور"، شروع ہوتا ہے۔ 1839ء کے موسمِ بہار…

پچھلے باب میں ہم نے دیکھا کہ لسبیلہ، خاران اور مکران کی ریاستیں قلات کے گرد کس طرح اپنی اپنی جگہ قائم تھیں۔ اس باب سے ہماری کہانی کا چوتھا حصہ، "برطانوی دور"، شروع ہوتا ہے۔ 1839ء کے موسمِ بہار میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی ایک بڑی فوج سندھ سے کچھی کے میدان میں داخل ہوئی، درۂ بولان سے گزری اور کوئٹہ جا پہنچی۔ منزل افغانستان تھی، مگر اس گزرگاہ نے انگریزوں اور خانیتِ قلات کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا۔ انگریز افسروں کے بیانات اور قلات کے نقطۂ نظر کی تحقیق کو ہم الگ الگ رکھیں گے۔
انگریز افغانستان کیوں گئے؟
برطانوی ہند کو روس کے افغانستان کی طرف بڑھنے کا خدشہ تھا؛ اسی رقابت کو بعد میں "گریٹ گیم" کہا گیا۔ لائبریری آف کانگریس کی "کنٹری اسٹڈی" کے مطابق کابل کے امیر دوست محمد خان برطانوی مدد نہ ملنے پر روس کی طرف مائل ہوئے۔ جواب میں گورنر جنرل لارڈ آکلینڈ (Lord Auckland) نے یکم اکتوبر 1838ء کو "شملہ منشور" (Simla Manifesto) جاری کیا، جس کے مطابق مغربی سرحد کی حفاظت کے لیے کابل میں قابلِ اعتماد حلیف ضروری تھا، اس لیے معزول بادشاہ شاہ شجاع الملک کو تخت پر واپس بٹھایا جانا تھا۔ جان کے (John William Kaye) نے اپنی "ہسٹری آف دی وار اِن افغانستان" میں، اور ولیم ڈیلرمپل (William Dalrymple) نے 2013ء کی کتاب "ریٹرن آف اے کنگ" میں، اس منصوبے اور اس کے جواز پر سخت تنقید کی ہے۔
اس سے پہلے جون 1838ء میں لاہور میں ایک "سہ فریقی معاہدہ" (Tripartite Treaty) ہوا تھا جس کے فریق انگریز، سکھ مہاراجا رنجیت سنگھ اور شاہ شجاع تھے۔ پنجابی یونیورسٹی کے "انسائیکلوپیڈیا آف سکھزم" کے مطابق رنجیت سنگھ نے اس پر 26 جون 1838ء کو دستخط کیے؛ شاہ شجاع نے پشاور، کشمیر اور ملتان سمیت ان علاقوں سے دستبرداری قبول کی جو سکھ پہلے ہی لے چکے تھے، اور اپنی خارجہ پالیسی انگریزوں کے مشورے سے چلانے پر آمادہ ہوئے۔
"آرمی آف دی انڈس": شکارپور سے کچھی تک
اس مہم کے لیے جو فوج بنی اسے "آرمی آف دی انڈس" (Army of the Indus) کا نام دیا گیا۔ آرچیبالڈ فوربز (Archibald Forbes) کی 1892ء کی کتاب "دی افغان وارز" کے مطابق اس کا بنگال دستہ سر ولوبی کاٹن (Sir Willoughby Cotton) کی کمان میں 10 دسمبر 1838ء کو فیروزپور سے روانہ ہوا، اور اس میں تقریباً ساڑھے نو ہزار لڑنے والے سپاہی تھے۔ جان کے (Kaye) کی "ہسٹری آف دی وار اِن افغانستان" کے مطابق اس فوج کے ساتھ اڑتیس ہزار کیمپ کے ساتھی اور تقریباً تیس ہزار اونٹ بھی تھے۔ ڈیلرمپل کے اعداد، جیسا کہ "فرائیڈے ٹائمز" نے نقل کیے، مختلف ہیں: ایک ہزار یورپی، کمپنی کے چودہ ہزار سپاہی اور شاہ شجاع کے چھ ہزار بے قاعدہ جنگجو۔ اس سفر کے چشم دید احوال کاٹن کے اے ڈی سی ہنری ہیولاک (Henry Havelock، 1840ء)، ولیم ہف (William Hough، 1841ء) اور جیمز آؤٹرم (James Outram، 1840ء) نے لکھے۔
"فبس" (FIBIS) کے سفری جدول کے مطابق بنگال دستہ 16 سے 20 فروری 1839ء تک شکارپور میں رہا اور 23 فروری کو آگے بڑھا۔ یہاں سے راستہ کچھی کے میدان سے ہو کر درۂ بولان کے دہانے پر واقع دادر تک جاتا تھا۔ 1907ء کے کچھی گزیٹیئر میں بھاگ اور دادر دونوں کچھی کی الگ "نیابتوں" کے طور پر درج ہیں؛ برنز کی رپورٹوں کی فہرستی تفصیل بھی اس راستے کو خان کا علاقہ مانتی ہے۔
دادر اور درۂ بولان: تاریخیں اور مشکلات
تاریخیں ماخذ میں مختلف ہیں۔ انڈیا آفس کے اخباری تراشوں کے ایک البم کے مطابق فوج 6 مارچ کو دادر پہنچی؛ فوربز لکھتے ہیں کہ کاٹن نے 10 مارچ کو دادر چھوڑا؛ جبکہ فبس کا جدول 14 مارچ کو دادر اور 16 مارچ کو درے میں دکھاتا ہے۔ کوئنز رجمنٹ اور بنگال لائٹ کیولری کی رجمنٹی تاریخیں درے میں داخلے کی تاریخ 15 مارچ دیتی ہیں۔ کوئٹہ پہنچنے کی تاریخ فوربز کے ہاں 26 مارچ 1839ء ہے۔
اسی تراشے کے مطابق دادر پہنچنے تک غلہ اتنا کم ہو چکا تھا کہ کیمپ کے ساتھیوں کو آدھا راشن دیا جانے لگا؛ تراشہ درے کو تقریباً ساٹھ میل لمبا، پیچ دار اور ایسا راستہ بتاتا ہے جہاں نہ چارہ تھا نہ پانی۔ اس میں نقل کیے گئے کے کے ایک اقتباس میں باربرداری کے مویشی راستے میں مرتے دکھائے گئے ہیں۔ فوربز کے بقول کاٹن نے دادر سے نکلتے وقت جانوروں پر تقریباً ایک مہینے کا ادھورا راشن لاد رکھا تھا۔ تراشے کے مطابق درے میں قبائلی حملہ آور ڈاک روکتے، پیچھے رہ جانے والوں کو قتل کرتے اور سامان اور مویشی لے جاتے تھے۔
برنز اور میر محراب خان
1907ء کے سراوان گزیٹیئر کے مطابق 1838ء میں لیفٹیننٹ لیچ (Leech) قلات کے حکمران میر محراب خان کی خیر سگالی حاصل کرنے قلات گئے، کیونکہ فوج کو ان کے علاقے سے گزرنا تھا؛ اس دورے سے کچھ حاصل نہ ہوا، اور بعد میں کوئٹہ سے سر الیگزینڈر برنز (Sir Alexander Burnes) قلات بھیجے گئے۔
برٹش لائبریری میں محفوظ برنز کی رپورٹوں (انڈیا آفس ریکارڈز، 2 مارچ تا 20 اپریل 1839ء) کی فہرستی تفصیل کے مطابق برنز چاہتے تھے کہ خان شکارپور سے آنے والی رسد کی حفاظت کریں اور درۂ بولان میں فوج کو محافظ دیں، اور اس کے بدلے ڈیڑھ لاکھ روپے دیے جائیں۔ عبدالباسط خان اور ایاز محمد (2018ء) بھی، میر احمد یار خان کے حوالے سے، ڈیڑھ لاکھ ہی لکھتے ہیں، اور راولپنڈی کے آرمی انسٹی ٹیوٹ آف ملٹری ہسٹری کے ایک مضمون میں دی گئی پندرہ ہزار پاؤنڈ کی رقم اس زمانے کی شرحِ مبادلہ پر تقریباً اتنی ہی بنتی ہے۔ اصل مختلف عدد ایرانیکا کا ہے، جو ایچی سن (جلد 11، ص 209) کے حوالے سے پندرہ ہزار روپے اور رسد کی قیمت لکھتی ہے۔ انہی رپورٹوں کے مطابق خان شاہ شجاع سے وفاداری ظاہر کرتے مگر گومگو میں تھے؛ انہیں اس مہم کی کامیابی پر شک تھا، اور وہ بارکزئی خاندان، مقامی آبادی، ایران اور روس کے ردِعمل سے خائف تھے۔
ایچی سن (C. U. Aitchison) کے "مجموعۂ معاہدات" کے مطابق 12 محرم 1255ھ، یعنی تقریباً 28 مارچ 1839ء کو، قلات میں برنز اور خان نے ایک معاہدے پر دستخط کیے جس کی توثیق گورنر جنرل کو کرنی تھی۔ اس کی تمہید میں شاہ شجاع اور برطانوی حکومت کی دوستی کا ذکر ہے اور یہ کہ خان کے آبا سدوزئی شاہی خاندان کی اطاعت کرتے آئے تھے؛ پہلی شق خان کے اپنے ملک پر حقوق تسلیم کرتی ہے اور دوسری کے مطابق انگریز خان اور ان کی رعایا کے درمیان مداخلت نہیں کریں گے۔
الزام: برطانوی بیان
برٹش لائبریری کی اسی فائل کی تفصیل کے مطابق برنز نے الزام لگایا کہ خان خفیہ طور پر قندھار سے رابطے میں ہیں اور ان کے علاقے میں فوج کی لوٹ مار کے بڑے حصے کے ذمہ دار ہیں؛ اور برنز اور ولیم میکناٹن (William Macnaghten) نے خان کو اس "دوغلے پن" کی سزا دینے اور بالآخر معزول کرنے کے اقدامات پر اتفاق کیا۔ بعد میں 4 دسمبر 1839ء کے گورنر جنرل کے اعلان میں، جو "لندن گزٹ" میں چھپا، کہا گیا کہ بولان کے علاقے میں حملے کرنے والے قبائل میر محراب خان کے اکسانے پر ایسا کر رہے تھے، جبکہ خان دوستی کا دعویٰ کرتے تھے۔
قلات کا بیان: وزیر کا کردار
خود برطانوی دور کا گزیٹیئر اس الزام کو ایک اور رخ دیتا ہے۔ 1908ء کا امپیریل گزیٹیئر مختصراً لکھتا ہے کہ ملا محمد حسن اور سید محمد شریف نے میکناٹن اور برنز کو دھوکا دیا۔ تفصیل 1907ء کے سراوان گزیٹیئر (ص 31 تا 33) میں ہے۔ اس کے مطابق خان نے نچلے طبقے کے داؤد محمد کو موروثی وزیر فتح محمد پر ترجیح دی تھی؛ تقریباً 1833ء میں فتح محمد کے بیٹے ملا محمد حسن نے داؤد محمد کو قتل کیا اور وزیر بنے، مگر اپنے والد کا بدلہ لینا چاہتے تھے۔ (ہنٹر کے گزیٹیئر اور 1840ء کے لندن گزٹ میں یہی وزیر "محمد حسین" کے نام سے آتا ہے؛ دونوں نام ایک ہی شخص کے ہیں۔) گزیٹیئر کے بقول لیچ کے دورے کی ناکامی کے پیچھے بھی یہی وزیر تھے، اور انہوں نے یہ تاثر پھیلایا کہ خان نے فوج کے لیے جمع کیا گیا غلہ ضبط کر کے ضائع کر دیا ہے۔ وہ خود خان کے ایلچی بن کر کچھی میں بھاگ کے مقام پر میکناٹن سے ملے، انگریزوں کے سامنے اپنے آقا کو بدنیت بتایا، اور قلات لوٹ کر خان سے کہا کہ انگریز انہیں برباد کرنے پر تلے ہیں۔ خان کی مہر ان کے پاس تھی، اور گزیٹیئر کے مطابق انہوں نے خان کے علم کے بغیر یہ مہر لٹیرے قبائل کے سرداروں کے نام ایسے خطوں پر لگائی جن میں فوج کی رسد کو تنگ کرنے کا کہا گیا تھا؛ ان میں سے بہت سے خط سندھ کے پولیٹیکل ایجنٹ راس بیل (Ross Bell) کے ہاتھ لگے اور خان کے خلاف قطعی ثبوت مان لیے گئے۔ برنز کے ساتھ معاہدے کے بعد طے ہوا کہ خان کوئٹہ جا کر شاہ شجاع کو سلام کریں گے، مگر خان کو یقین دلایا گیا کہ کوئٹہ میں انہیں قید کر لیا جائے گا، اور راستے میں برنز کو لوٹ کر رقم کے ساتھ خان کا دستخط شدہ مسودہ بھی چھین لیا گیا؛ اس واردات کو خان کا کام ظاہر کیا گیا۔
محمد نعیم اور نسرین افضل قرطبہ یونیورسٹی کے مجلے "دی ڈائیلاگ" میں لکھتے ہیں کہ برطانوی حکومت نے میر محراب خان پر غداری کا جھوٹا الزام لگایا، اور ملا محمد حسن نے شاہی مہروں سے خان کے نام جعلی خطوط لکھوا کر فوج پر بناوٹی حملے کروائے۔ عبدالباسط خان اور ایاز محمد (2018ء) کے مطابق انگریزوں نے قلات پر حملے کے لیے خان کی "غداری" کو بہانہ بنایا۔ قلات کے سابق وزیرِ دربار میر نصیر خان احمدزئی کی تاریخ پر "ڈان" کے تبصرے کے مطابق ان کے ہاں خان ایک اشتعال انگیز برطانوی خط کے باوجود پُرامن رہے۔
کوئٹہ سے فوج قندھار کی طرف بڑھی، اور کوئٹہ پشین گزیٹیئر کے مطابق کیپٹن بین (Bean) شاہ شجاع کی طرف سے کوئٹہ کے پولیٹیکل ایجنٹ مقرر ہوئے۔
اگلے اتوار: قلات کا سقوط اور میر محراب خان (1839)۔
ماخذ
- John William Kaye, History of the War in Afghanistan, 3 vols., third edition, W. H. Allen, London, 1874 (vol. I: the Simla Manifesto and its critique; Burnes's mission to Kalat; Book III, ch. I: the Bengal army left Ferozepore on 10 December, "about 9500 men and 38,000 camp-followers. Some 30,000 camels accompanied the army"; quoted in a contemporary cutting on the baggage cattle dying in the Bolan). Project Gutenberg ebook 48083: https://www.gutenberg.org/files/48083/48083-h/48083-h.htm · 1851 edition scan: https://archive.org/details/historywarinafg01kayegoog
- William Dalrymple, Return of a King: The Battle for Afghanistan, 1839–42, Bloomsbury, London, 2013 (criticism of the restoration plan; strength of the force, as quoted in item 15). Review: https://defencejournal.com/2013/09/10/return-of-a-king-the-battle-for-afghanistan-1839-42 (print)
- C. U. Aitchison (comp.), A Collection of Treaties, Engagements and Sanads relating to India and Neighbouring Countries, vol. XI (Khelat section: agreement with Mehrab Khan, Kalat, 12 Muharram 1255, preamble and Articles 1–2, ratification by the Governor-General; the Tripartite Treaty in the Afghanistan section). QDL scans: https://www.qdl.qa/en/archive/81055/vdc_100023462215.0x0000aa · https://www.qdl.qa/en/archive/81055/vdc_100023462215.0x0000c3 · https://www.qdl.qa/archive/81055/vdc_100023947391.0x000017
- Imperial Gazetteer of India, Provincial Series: Baluchistan, Superintendent of Government Printing, Calcutta, 1908, Kalat history section (short statement that Mulla Muhammad Hasan and Saiyid Muhammad Sharif deceived Macnaghten and Burnes). https://archive.org/details/ImperialGazetteerOfIndiaBaluchistan
- British Library, India Office Records, IOR/L/PS/5/375, ff. 113–142, Burnes's reports on negotiations with the Khan of Kelat, 2 March–20 April 1839 (help for supplies through Shikarpur and a guard through the Bolan for 1.5 lakh rupees; the Khan's doubts and fears of the Barakzais, Persia and Russia; Burnes's allegations of correspondence with Kandahar and of plundering; agreement with Macnaghten on measures to dethrone him). Catalogue: https://searcharchives.bl.uk/catalog/041-003695786 · https://searcharchives.bl.uk/catalog/040-002311305
- The London Gazette, issue 19825, p. 297, notification by the Governor-General of India, Camp Deothanee, 4 December 1839 (tribes near the Bolan acting "at the instigation" of Meer Mehrab Khan). https://thegazette.co.uk/London/issue/19825/page/297/data.pdf
- Scrapbook of newspaper cuttings about Afghanistan, India Office Records, f. 17r and f. 22v (Dadur reached 6 March; camp followers on half rations; length and condition of the pass; raids on couriers, stragglers and baggage; extract from Kaye). Qatar Digital Library: https://www.qdl.qa/en/archive/81055/vdc_100024093679.0x000023 · https://www.qdl.qa/archive/81055/vdc_100024093679.0x00002e
- Archibald Forbes, The Afghan Wars 1839–42 and 1878–80, Seeley, London, 1892, chapter II, "The March to Cabul" (Bengal column from Ferozepore 10 December 1838; "about 9500 fighting men", no camel or follower figures; left Dadur 10 March with a month's partial food; Quetta 26 March). https://www.gutenberg.org/ebooks/8428 · chapter text: https://www.historion.iovan.net/afghan-wars-1839-42-and-1878-80/chapter-ii-march-cabul
- Henry Havelock, Narrative of the War in Affghanistan in 1838–39, 2 vols., Henry Colburn, London, 1840 (author as Cotton's aide-de-camp). https://digitalcommons.unomaha.edu/afghanuno/150/
- William Hough, A Narrative of the March and Operations of the Army of the Indus in the Expedition to Affghanistan in the Years 1838–1839, W. H. Allen, London / Calcutta, 1841 (ch. III, Shikarpoor to Dadur, p. 35; ch. IV, Dadur through the Bolan to Quetta, p. 47; the onward march to Candahar). https://www.history.navy.mil/research/library/online-reading-room/title-list-alphabetically/n/narrative-march-operations-army-indus.html
- James Outram, Rough Notes of the Campaign in Sinde and Affghanistan in 1838–39, American Mission Press, Bombay, 1840; J. M. Richardson, London, 1840 (journal of the campaign). https://digitalcommons.unomaha.edu/afghanuno/164
- Baluchistan District Gazetteer Series, vol. VI-A: Kachhi, Times Press, Bombay, 1907 (Bhag and Dadhar niabats; Leech deputed; the Bengal column at Dadhar in March 1839). https://dspace.gipe.ac.in/xmlui/handle/10973/36860 · https://irrigation.sindh.gov.pk/files/Books//137.pdf
- Baluchistan District Gazetteer Series, vol. V: Quetta-Pishin, R. Hughes-Buller, 1907 (Captain Bean as political agent at Quetta for Shah Shuja, as summarised by FIBIS). https://dspace.gipe.ac.in/xmlui/handle/10973/36971 · summary: https://wiki.fibis.org/w/Quetta-Pishin_District
- "Tripartite Treaty (June 1838)", The Encyclopaedia of Sikhism, Punjabi University, Patiala (Ranjit Singh's signature 26 June 1838; Shah Shuja's renunciations; foreign relations through the British). https://eos.learnpunjabi.org/TRIPARTITE%20TREATY%20(JUNE%201838).html
- "From Humayun's Exile To British Cantonment: A Historical Overview Of Quetta", The Friday Times, 11 July 2025 (Dalrymple's figures for the force). https://www.thefridaytimes.com/11-Jul-2025/from-humayun-s-exile-to-british-cantonment-a-historical-overview-of-quetta
- Library of Congress, Federal Research Division, Afghanistan: A Country Study, "The First Anglo-Afghan War" (Dost Muhammad's turn towards Russia; the Simla Manifesto). https://countrystudies.us/afghanistan/13.htm
- Families in British India Society (FIBIS) wiki, "Invasion of the HEIC Army" (itinerary: Shikarpur 16–20 February, departure 23 February, Dadur 14 March, Bolan 16 March) (pointer). https://wiki.fibis.org/w/Invasion_of_the_HEIC_Army
- Regimental histories: "The Queen's in Afghanistan", Queen's Royal Surrey Regiment Museum (entry into the pass 15 March), https://queensroyalsurreys.org.uk/reg_in_india/india13_1.shtml · "2nd Bengal Light Cavalry: the Bolan Pass", britishempire.co.uk, https://www.britishempire.co.uk/forces/2blcbolanpass.htm
- Army Institute of Military History, "1st Anglo-Afghan War 1839–1842", Rawalpindi, 2025 (safe passage for £15,000; Mehrab Khan unable to protect the army from tribal raiders). https://aimh.gov.pk/wp-content/uploads/2025/10/4-1st-Anglo-Afghan-War-1839-1842.pdf
- Muhammad Naeem and Nasreen Afzal, "The British Occupation of Kalat: A Critical Appraisal of the Establishment of British Rule in Baluchistan", The Dialogue, Qurtuba University (Mehrab Khan "falsely accused"; forged letters under the royal seals). https://journals.qurtuba.edu.pk/ojs/index.php/thedialogue/article/view/86126
- Abdul Basit Khan and Ayaz Muhammad, "Evolution of the Baloch Nationalism (Origin to 1947): A Historical Discourse", Journal of the Research Society of Pakistan 55/1 (January–June 2018) (the Khan's alleged betrayal as pretext; the 1.5 lakh rupees, citing Ahmad Yar Khan 1975). https://pu.edu.pk/images/journal/history/PDF-FILES/1_55_1_18.pdf
- Review of Mir Naseer Khan Ahmedzai Kambarani Baloch, A History of the Baloch and Balochistan, Oxford University Press, Karachi, Dawn (Books and Authors) (the Khan silent and peaceful despite a provocative British letter; author as former Vizier-e-Durbar of Kalat). https://www.dawn.com/news/1820156 · publisher: https://oup.com.pk/a-history-of-the-baloch-and-balochistan.html
- Baluchistan District Gazetteer Series, vol. VI: Sarawan, Times Press, Bombay, 1907, History, pp. 31–33 (Daud Muhammad, Fateh Muhammad and Mulla Muhammad Hasan, "about 1833"; Leech's visit in 1838; the grain; Muhammad Hasan meets Macnaghten at Bhag; the Khan's seal affixed to letters to predatory chiefs, many of which "fell into the hands of Mr. Ross Bell, the Political Agent in Sind"; Burnes deputed from Quetta with Saiad Muhammad Sharif; treaty signed; Burnes waylaid and robbed of money and the signed draft). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.22668
- Brian Spooner, "Baluchistan i. Geography, History and Ethnography", Encyclopaedia Iranica (the Khan to receive "Rs 15,000 in addition to the cost of provisions (Aitchison, XI, p. 209)"). https://www.iranicaonline.org/articles/baluchistan-i/







