رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 12° صاف 24° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:16مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
روزنامہ جنگ کے صفحے سے خبر کا متن دستیاب نہ ہو سکاوزیراعظم شہباز شریف کا آج دورۂ پشاور متوقع، امن و امان اجلاس کی صدارت اور 12 اضلاع کے لیے وژن کا اعلان کریں گےپی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات چند دنوں میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: عامر ڈوگرپی ٹی آئی میں اختلافات: سلمان اکرم راجہ کی پوسٹ پر علی امین گنڈاپور اور ارکان اسمبلی کے تحفظاتعلی امین گنڈاپور کا سلمان اکرم راجہ کے نام کھلا خط، بیان واپس لینے اور معافی کا مطالبہپانی ہماری ریڈ لائن ہے، پانی روکنے کی کوشش جنگی اقدام تصور ہو گی: وزیراعظم شہباز شریفتربت: جامعہ تربت میں وائس چانسلر کی ہدایت پر المنائی نیٹ ورکنگ کا آغازکوئٹہ: ظہور بلیدی کی مینا مجید بلوچ کے بھائی کے اغوا کی شدید مذمتسوراب: ڈپٹی کمشنر صاحبزادہ نجیب اللہ کی صدارت میں ایجوکیشن گروپ کا اجلاس، اساتذہ کی غیر حاضری پر برہمیژوب کلچر سینٹر میں فائن آرٹس اور خطاطی کلاسز کے داخلے جاری، کلاسز 2 نومبر سےچمن: ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی سے قبائلی جرگے کے وفد کی ملاقات، بارڈر بندش اور عوامی مسائل پر تبادلہ خیالچمن: کیسکو کی پولیس کے تعاون سے ریکوری مہم، نادہندگان سے 2 لاکھ 55 ہزار روپے وصول
باب 28 حصہ چہارم: برطانوی دور

قلات کا سقوط اور میر محراب خان (1839)

پچھلے باب میں ہم نے انگریزی "فوجِ سندھ" (Army of the Indus) کو 1839ء کی بہار میں درۂ بولان سے گزر کر قندھار اور پھر کابل کی طرف جاتے دیکھا، اور اسی سفر میں خان آف قلات میر محراب خان…

قلات کا سقوط اور میر محراب خان (1839)
علامتی تصویر

پچھلے باب میں ہم نے انگریزی "فوجِ سندھ" (Army of the Indus) کو 1839ء کی بہار میں درۂ بولان سے گزر کر قندھار اور پھر کابل کی طرف جاتے دیکھا، اور اسی سفر میں خان آف قلات میر محراب خان سے ہونے والے معاہدے کا ذکر کیا۔ یہ باب اسی سال کے آخر کا ہے، جب واپس آتی ہوئی ایک انگریزی فوج نے قلات پر حملہ کیا اور خان اپنے قلعے میں مارے گئے۔ اس واقعے کے دو بیانیے ہیں، انگریز افسروں کا اور بلوچ مورخین و جدید محققین کا؛ ہم دونوں کو اپنے اپنے ماخذ کے ساتھ پیش کریں گے۔

بمبئی کالم قلات کی طرف

کابل پر شاہ شجاع کو بٹھانے کے بعد فوج کا بمبئی والا حصہ کوئٹہ کے راستے ہندوستان لوٹ رہا تھا۔ اس کی کمان میجر جنرل تھامس ولشائر (Thomas Willshire) کے پاس تھی۔ ڈبلیو۔ ڈبلیو۔ ہنٹر (W. W. Hunter) کے "امپیریل گزیٹیئر آف انڈیا" کے دوسرے ایڈیشن کے مطابق ولشائر کو 1050 سپاہیوں کے ساتھ فوج سے الگ کر کے قلات پر حملے کے لیے بھیجا گیا۔ اے ڈبلیو ہیوز (A. W. Hughes) کی 1877ء کی کتاب "دی کنٹری آف بلوچستان" میں یہ تعداد 1,261 آدمی اور چھ توپیں ہے۔ فوج کے عملے کے افسر جیمز آؤٹرم (James Outram) کے 1840ء کے روزنامچے "رف نوٹس" میں قلات کا نقشہ بھی شامل ہے۔

13 نومبر 1839ء: حملہ اور ہلاکتیں

حملہ 13 نومبر 1839ء کو ہوا۔ ہنٹر کے گزیٹیئر کے مطابق میدانی توپوں نے قلعے کا ایک دروازہ توڑ دیا اور شہر اور قلعہ "چند منٹوں میں" فتح ہو گئے۔ 1908ء کا "امپیریل گزیٹیئر" (صوبائی سلسلہ، بلوچستان) مختصراً لکھتا ہے کہ قلات حملے سے لیا گیا اور میر محراب خان مارے گئے۔ جامعہ پنجاب کے مجلے میں عبدالباسط خان اور ایاز محمد (2018ء) کے مضمون کے مطابق خان نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا اور لڑتے ہوئے جان دی۔

ہلاکتوں کے اعداد ماخذ کے لحاظ سے الگ الگ دیے جاتے ہیں:

  • بلوچ جانب: ہنٹر کا گزیٹیئر اور 1875ء کا "انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا" (نواں ایڈیشن) دونوں لکھتے ہیں کہ چار سو سے زیادہ بلوچ مارے گئے، جن میں خود میر محراب خان شامل تھے، اور دو ہزار قیدی بنائے گئے۔ ولیم کنگسٹن (W. H. G. Kingston) کی کتاب "اَور سولجرز" کے مطابق خان کے آٹھ بڑے سردار ان کے ساتھ مارے گئے اور باقی نے ہتھیار ڈال دیے۔ "لندن گزٹ" (13 فروری 1840ء) میں چھپی سرکاری فہرست میں مارے جانے والے سرداروں کے نام ہیں، جن میں میر محراب خان شامل ہیں، اور وزیر ملا محمد حسن (ہنٹر اور لندن گزٹ: محمد حسین) کا نام قیدیوں میں درج ہے۔
  • انگریزی جانب: لندن گزٹ میں چھپے سرکاری گوشوارے کے مطابق 31 ہلاک ہوئے (ایک لیفٹیننٹ، ایک صوبیدار اور 29 سپاہی) اور 107 زخمی، یعنی کل 138؛ کنگسٹن بھی ہلاک اور زخمی ملا کر 138 ہی کا عدد دیتے ہیں۔

حملہ کیوں ہوا؟ دو بیانیے

انگریزی سرکاری بیانیہ (1839ء–1840ء): ولیم ہف (William Hough)، جو فوج کے بنگال کالم میں ڈپٹی جج ایڈووکیٹ جنرل تھے، نے 1841ء میں اپنی کتاب میں محراب خان کو "قلات کا بلوچ سردار" لکھا جس کی "اکساہٹ" پر قبائل نے فوج پر حملے کیے۔ ہنٹر کا گزیٹیئر بتاتا ہے کہ انگریز حکام خان کے رویے کو اتنا غدارانہ اور خطرناک سمجھتے تھے کہ اس کی سزا ضروری جانی گئی۔ 1911ء کا "برٹانیکا" ان الزامات کی تفصیل دیتا ہے: کچھی اور درۂ بولان میں انگریزی رسد کے قافلوں پر حملے کرائے گئے۔ جان کے (John William Kaye) نے اپنی "ہسٹری آف دی وار اِن افغانستان" میں لکھا کہ اس وقت یہ "فیشن" تھا کہ قندھار کے سفر میں فوج کی ہر مصیبت محراب خان کے سر ڈالی جائے، اور ہندوستان اور افغانستان میں عام رائے یہی تھی کہ خان کو ٹھیک سزا ملی، اگرچہ بقول کے "بہت کم لوگ" ٹھیک ٹھیک جانتے تھے کہ اس کے جرم کیا تھے۔

بعد کی انگریزی تحقیق: یہی سرکاری کتابیں آگے چل کر اپنا موقف بدلتی ہیں۔ ہنٹر کا گزیٹیئر اور نواں "برٹانیکا" لکھتے ہیں کہ بعد کی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ انگریزوں سے غداری محراب خان نے نہیں بلکہ ان کے وزیر ملا محمد حسن (ہنٹر اور لندن گزٹ: محمد حسین) نے کی تھی۔ 1908ء کا امپیریل گزیٹیئر بھی لکھتا ہے کہ ملا محمد حسن اور سید محمد شریف کی غداری سے میکناٹن اور برنز دھوکا کھا گئے، اور وہ مؤرخ میلیسن (Malleson) کا یہ فیصلہ نقل کرتا ہے کہ قلات پر حملہ "سنگین غلطی سے بڑھ کر ایک جرم" تھا۔ 1911ء کا "برٹانیکا" مزید کہتا ہے کہ وزیر نے "ہمارے بہت زیادہ بھروسا کرنے والے پولیٹیکل افسروں" کو یقین دلایا کہ قصور خان کا ہے، کیونکہ وہ اپنے آقا کو برباد کر کے، کم عمر وارث کے زمانے میں، خود اقتدار حاصل کرنا چاہتا تھا۔

بلوچ اور جدید بیانیہ: "پاکستان لینگویجز اینڈ ہیومینٹیز ریویو" (2022ء) کے ایک مضمون کے مطابق قلات کے سقوط کے بعد انگریز حکام کو ایسے شواہد ملے جن سے خان کی بے گناہی ثابت ہوئی، اور خان کے رویے کو "جان بوجھ کر غلط" پیش کیا گیا تھا؛ مضمون کے مطابق کچھ خطوط پولیٹیکل افسر "مسٹر بیل" کے ہاتھ لگے۔ یونیورسٹی آف بلوچستان کے مجلے "بلوچستان ریویو" (2015ء) میں پرویز احمد اور ان کے ساتھی لکھتے ہیں کہ سر ولیم میکناٹن (William Macnaghten) اور سر الیگزینڈر برنس (Alexander Burnes) کو دھوکا دے کر یقین دلایا گیا کہ محراب خان انگریزوں کا غدار ہے۔ روزنامہ ڈان میں ایک بلوچ تاریخ کے تبصرے میں اس کتاب کا یہ موقف نقل ہوا ہے کہ انگریزوں کی اشتعال انگیزی کے باوجود محراب خان خاموش اور پُرامن رہے، اور حملہ اچانک اور بلا اشتعال تھا۔ جاوید حیدر سید نے بلوچ مزاحمتی ادب پر اپنے مضمون (2007ء) میں ذکر کیا ہے کہ اس زمانے کی بلوچ شاعری نے محراب خان کی جدوجہد کو یاد رکھا۔

شاہ نواز خان اور علاقوں کی علیحدگی

قلات لینے کے بعد انگریزوں نے نیا خان مقرر کیا۔ 1908ء کے گزیٹیئر کے مطابق شاہ نواز خان کو جانشین بنایا گیا اور لیفٹیننٹ لوڈے (Lieutenant Loveday) کو پولیٹیکل افسر۔ "انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا" میں برائن سپونر (Brian Spooner) لکھتے ہیں کہ شاہ نواز چودہ برس کے تھے، میر محبت خان کے پڑپوتے تھے، اور لوڈے ان کے نائب السلطنت تھے۔

ساتھ ہی خانیت کے کچھ علاقے اس سے الگ کر دیے گئے۔ 1907ء کے سراوان گزیٹیئر کے مطابق سراوان اور کچھ گنداوہ کے اضلاع کابل کی سلطنت، یعنی شاہ شجاع کی حکومت، میں شامل کر کے انگریز افسروں کے انتظام میں دے دیے گئے۔ ایرانیکا میں سپونر اسے یوں بیان کرتے ہیں کہ مستونگ اور کوئٹہ شاہ شجاع کو دیے گئے اور کچھی مغربی سندھ کے پولیٹیکل ایجنٹ کے حوالے ہوا۔ کچھی کا گزیٹیئر بھی لکھتا ہے کہ 1839ء سے 1842ء تک یہ علاقہ انگریزوں کے قبضے اور انتظام میں رہا۔ ایچی سن (Aitchison) کے مجموعے میں درج 12 محرم 1255ھ، یعنی تقریباً 28 مارچ 1839ء، کے معاہدے میں خان پہلے ہی شاہ شجاع کی بالادستی مان چکے تھے۔

1840ء کی بغاوت اور لیفٹیننٹ لوڈے

نیا انتظام ایک سال بھی نہ چل سکا۔ کے لکھتے ہیں کہ براہوی سرداروں نے قلات کا محاصرہ کیا اور چند دن بعد شہر ان کے ہاتھ آ گیا؛ شاہ نواز خان نے ایک نوجوان شہزادے، یعنی محراب خان کے بیٹے، کے حق میں تخت چھوڑ دیا اور لوڈے قید کر لیے گئے۔ سپونر کے بقول محراب خان کے بیٹے نصیر خان دوم نے قبائل کو اکٹھا کیا اور قلات واپس لے لیا۔ 1911ء کے "برٹانیکا" کے مطابق انگریزوں کا مقرر کردہ حاکم اور ایک کمزور دستہ مغلوب ہو گئے۔

اس محاصرے کا ایک عینی شاہد چارلس میسن (Charles Masson) تھا، جو کابل جاتے ہوئے قلات میں پھنس گیا۔ ایرانیکا میں الزبتھ ایرنگٹن (Elizabeth Errington) کے مطابق میسن لوڈے کے ساتھ قید ہوئے، پھر باغیوں کے مطالبات لے کر کوئٹہ میں انگریز پولیٹیکل ایجنٹ کے پاس بھیجے گئے، جہاں انہیں غدار اور جاسوس سمجھ کر فوراً قید کر لیا گیا۔ وہ جنوری 1841ء میں رہا ہوئے اور 1843ء میں "نیریٹو آف اے جرنی ٹو قلات" لکھی، جس میں قلات کی بغاوت کو کابل کی بعد کی تباہی کا "پیش خیمہ" کہا۔

لوڈے زندہ نہ بچے۔ کے کے مطابق جب کچھ مہینے بعد ایک انگریزی دستہ دادر کی مدد کو بڑھا تو لوڈے براہوی لشکر کے چھوڑے ہوئے کیمپ میں مردہ پائے گئے۔ آرچیبالڈ فوربز (Archibald Forbes) نے 1892ء میں لکھا کہ ان سے "سخت بے رحمی" کا سلوک ہوا اور آخرکار انہیں قتل کر دیا گیا؛ ایرانیکا بھی یہی کہتی ہے کہ وہ باغیوں کے ہاتھوں مارے گئے۔

نصیر خان دوم کی بحالی

آخرکار انگریزوں نے اسی خاندان کو تسلیم کیا جسے انہوں نے ایک سال پہلے ہٹایا تھا۔ 1911ء کے "برٹانیکا" اور ہنٹر کے گزیٹیئر کے مطابق 1841ء میں مقتول محراب خان کے کم عمر بیٹے نصیر خان دوم کو انگریزوں نے تسلیم کر لیا اور جلد ہی ملک خالی کر دیا۔ 1907ء کا سراوان گزیٹیئر زیادہ تفصیل دیتا ہے: میجر (بعد میں سر جیمز) آؤٹرم نے اکتوبر 1841ء میں نصیر خان کو قلات کی مسند پر بٹھایا، سراوان اور کچھ گنداوہ انہیں واپس کیے گئے، اور 6 اکتوبر 1841ء کو ان سے معاہدہ ہوا۔ 1908ء کا امپیریل گزیٹیئر البتہ آؤٹرم کے ہاتھوں اس تخت نشینی کا سال 1840ء لکھتا ہے، اور اس کی حکمرانوں کی فہرست میں بھی نصیر خان دوم کا دور 1840ء سے شروع ہوتا ہے۔

اگلے اتوار: معاہدات کا دور: 1841، 1854، 1876، جہاں ہم دیکھیں گے کہ نصیر خان دوم سے شروع ہونے والے معاہدوں نے قلات کی خود مختاری کو قدم بہ قدم کیسے بدلا۔

ماخذ

  1. W. W. Hunter, The Imperial Gazetteer of India, 2nd edition, vol. II, Trübner, London, 1885, article "Baluchistan", p. 41 [Willshire detached with 1050 men; gate knocked in by field-pieces; town and citadel stormed "in a few minutes"; above 400 Baluchis slain including Mehrab Khan; 2000 prisoners; British view of the khan's conduct as treacherous; later inquiries placing the treachery on the wazir Muhammad Hussain]. https://en.wikisource.org/wiki/Page:The_Imperial_Gazetteer_of_India_-_Volume_2_(2nd_edition).pdf/41
  2. Encyclopædia Britannica, 9th edition, vol. 3, Edinburgh, 1875, article "Beloochistan", p. 317 [same casualty and prisoner figures; treachery of the vizier Mahomed Hassein]. https://en.wikisource.org/wiki/Page:Encyclop%C3%A6dia_Britannica,_Ninth_Edition,_v._3.djvu/317
  3. Encyclopædia Britannica, 11th edition, vol. 3, Cambridge, 1911, article "Baluchistan" [attacks on convoys in Kachhi and the Bolan; the vizier misleading "our too credulous political officers" to seize power under a child heir; governor and "feeble garrison" overpowered the following year; Nasir Khan II recognised in 1841 and the country evacuated]. https://en.wikisource.org/wiki/Page:EB1911_-_Volume_03.djvu/313 · https://en.wikisource.org/wiki/1911_Encyclop%C3%A6dia_Britannica/Baluchistan_(India)
  4. Imperial Gazetteer of India, Provincial Series: Baluchistan, compiled by R. Hughes-Buller, Superintendent of Government Printing, Calcutta, 1908 [p. 16: Macnaghten and Burnes "deceived into thinking that Mehrab Khan was a traitor" by Mulla Muhammad Hasan and Saiyid Muhammad Sharif; Malleson's "more than a grave error, a crime"; Kalat taken by assault and Mehrab Khan slain; Shah Nawaz Khan appointed with Lieutenant Loveday as Political Officer; Nasir Khan II "installed by Major (afterwards Sir James) Outram at Kalat in 1840"; ruler list "Mir Shah Nawaz Khan, 1839 … Mir Nasir Khan II, 1840"]. https://archive.org/details/ImperialGazetteerOfIndiaBaluchistan
  5. Baluchistan District Gazetteer Series, vol. VI: Sarawan, Times Press, Bombay, 1907, History, pp. 33–35 ["the districts of Sarawan and Kach Gandava were annexed to Kabul and placed under the administration of British officers"; Nasir Khan II "installed on the masnad at Kalat by Major (afterwards Sir James) Outram in October, 1841"; treaty of 6 October 1841]. https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.22668
  6. Baluchistan District Gazetteer Series, vol. VI-A: Kachhi, 1907 [Kachhi "from 1839 to 1842 was held and administered by the British"]. https://irrigation.sindh.gov.pk/files/Books//137.pdf
  7. C. U. Aitchison, A Collection of Treaties, Engagements and Sanads relating to India and Neighbouring Countries, vol. XI, Calcutta, pp. 357–358 [agreement of 28 March 1839 negotiated by Burnes; the khan acknowledges Shah Shuja] (print; page reference as cited in source 16).
  8. William Hough, A Narrative of the March and Operations of the Army of the Indus, in the Expedition to Affghanistan in the Years 1838–1839, W. H. Allen, London, 1841 ["the late Mehrab Khan, the Belochee chief of Khelat, to whose instigation we owed the attacks"; casualty tables in the appendices]. https://archive.org/details/anarrativemarch01houggoog · https://www.history.navy.mil/research/library/online-reading-room/title-list-alphabetically/n/narrative-march-operations-army-indus.html
  9. James Outram, Rough Notes of the Campaign in Sinde and Affghanistan, in 1838–9: Being Extracts from a Personal Journal Kept while on the Staff of the Army of the Indus, London, 1840 [Outram on the staff of the Army of the Indus; plan of Kalat]. https://digitalcommons.unomaha.edu/afghanuno/164/
  10. John William Kaye, History of the War in Afghanistan, vol. II, London (Project Gutenberg text of the revised edition) [the "fashion" of blaming Mehrab Khan; "few knew distinctly what these offences were"; the Brahui chiefs' siege of Kalat; Shah Nawaz giving up the throne to the young prince; Loveday taken prisoner and found in the abandoned Brahui camp near Dadar]. https://www.gutenberg.org/files/49447/49447-h/49447-h.htm
  11. Archibald Forbes, The Afghan Wars 1839–42 and 1878–80, Seeley, London, 1892 [Loveday treated "with great barbarity, and finally murdered"]. https://www.gutenberg.org/cache/epub/8428/pg8428-images.html
  12. The London Gazette, issue 19825, 13 February 1840, p. 300 [Willshire's Kelat despatch; "Total — 1 lieutenant, 1 subadar, 29 rank and file, killed … Total Killed and Wounded — 138"; list of Baluch sirdars killed, including Mehrab Khan; prisoners, including "Mahomed Hoossein, Vizier"]. https://thegazette.co.uk/London/issue/19825/page/300/data.pdf
  13. Charles Masson, Narrative of a Journey to Kalât, including an Insurrection at that Place in 1840, and a Memoir on Eastern Balochistan, Richard Bentley, London, 1843 [the revolt as "the precursor of the catastrophe" at Kabul]. https://archive.org/details/narrativeofjourn00mass · Catalogue: https://www.loc.gov/item/unk82071142
  14. Elizabeth Errington, "MASSON, Charles", Encyclopaedia Iranica, online edition [imprisoned with Loveday; sent to Quetta with the rebels' demands and imprisoned as a spy; Loveday killed by the rebels; released January 1841]. https://www.iranicaonline.org/articles/masson-charles/
  15. Brian Spooner, "Baluchistan i. Geography, History and Ethnography", Encyclopaedia Iranica, vol. III, fasc. 6, pp. 598–632 [Shahnavaz aged fourteen, great-grandson of Mir Mohabbat Khan; Loveday as regent; "Mastung and Quetta were given to Shah Shujaʿ", Kachhi to the Political Agent, Western Sind; Nasir Khan II rallies the tribes and retakes Kalat the following year]. https://www.iranicaonline.org/articles/baluchistan-index/baluchistan-i/
  16. "A Historical Approach towards Baloch-British Contact: An Analysis of Baloch Wars with the Colonial Forces (1839–41)", Pakistan Languages and Humanities Review 6/4 (October–December 2022) [evidence of the khan's innocence found after the fall of Kalat; conduct "willfully misrepresented"; letters reaching "Mr. Bell, the Political"; Aitchison XI pp. 357–358]. https://ojs.plhr.org.pk/journal/article/view/292 · PDF: https://ojs.plhr.org.pk/journal/article/download/292/211/416
  17. Pervez Ahmed, Shazia Jaffar and Abdul Nasir, "The History of Kalat Affairs 1666 to 1871", Balochistan Review (Balochistan Study Centre, University of Balochistan) XXXIII/2 (2015), pp. 61–72 [Macnaghten and Burnes deceived into thinking Mehrab Khan a traitor]. https://uob.ac.pk/Journals/Balochistan-Review/data/BR%2002%202015/61-72%20The%20History%20of%20Kalat%20Affairs%201666%20to%201871,%20Pervez%20Ahmed.pdf
  18. Abdul Basit Khan and Ayaz Muhammad, "Evolution of the Baloch Nationalism (Origin to 1947)", Journal of the Research Society of Pakistan (University of the Punjab), vol. 55, no. 1 (January–June 2018) [invasion of Kalat on 13 November 1839; Mehrab Khan refused to surrender and was killed on the battlefield]. https://pu.edu.pk/images/journal/history/PDF-FILES/1_55_1_18.pdf
  19. "Non-fiction: The Times of the Baloch", Dawn, Books & Authors, review of A History of the Baloch and Balochistan [the book's account: Mehrab Khan "silent and peaceful" despite provocation; the attack sudden and unprovoked]. https://www.dawn.com/news/1820156
  20. Javed Haider Syed, "The Baloch Resistance Literature Against the British Raj", Pakistan Journal of History and Culture XXVIII/1 (2007) [contemporary Baloch verse on Mir Mihrab Khan's struggle]. https://nihcr.edu.pk/Downloads/The_Baloch.pdf
  21. W. H. G. Kingston, Our Soldiers: Gallant Deeds of the British Army during Victoria's Reign, London (Project Gutenberg text) [138 killed and wounded at Kelat; eight principal sirdars fell with the khan]. https://www.gutenberg.org/cache/epub/23052/pg23052-images.html
  22. Pointers only (not sole sources): "Siege of Kalat (1839)", Wikipedia, https://en.wikipedia.org/wiki/Siege_of_Kalat_(1839) · "Capture of Kalat 1839", FIBIS wiki, https://wiki.fibis.org/w/Capture_of_Kalat_1839 [date of the 1840 recapture].
  23. A. W. Hughes, The Country of Balochistan: Its Geography, Topography, Ethnology and History, George Bell & Sons, London, 1877, pp. 202–206 [Willshire's force of 1,261 men and six guns; figure as given in the 20 Oct 2026 fact-check; the scan link is still to be added].

بلوچستان: تاریخ کا سفر: تمام تحریریں ←