کوئٹہ: ایک چھاؤنی شہر کی پیدائش
پچھلے باب میں ہم نے رابرٹ سنڈیمن کو 1877 میں بلوچستان کے لیے ایجنٹ ٹو دی گورنر جنرل بنتے اور کوئٹہ کو اپنا صدر مقام بناتے دیکھا۔ اس باب میں ہم اسی صدر مقام کی کہانی دیکھیں گے: شال نام…

پچھلے باب میں ہم نے رابرٹ سنڈیمن کو 1877 میں بلوچستان کے لیے ایجنٹ ٹو دی گورنر جنرل بنتے اور کوئٹہ کو اپنا صدر مقام بناتے دیکھا۔ اس باب میں ہم اسی صدر مقام کی کہانی دیکھیں گے: شال نام کی ایک چھوٹی سی بستی، جو ایک مٹی کے ٹیلے کے گرد آباد تھی، چند دہائیوں میں ایک بڑی فوجی چھاؤنی اور صوبے کا دارالحکومت کیسے بنی۔ ہمارا بنیادی ماخذ 1907 کا کوئٹہ پشین ڈسٹرکٹ گزیٹیئر ہے، جو اسی تبدیلی کے دوران لکھا گیا۔
شال: 1876 سے پہلے
1908 کا امپیریل گزیٹیئر شہر کا نام "کوئٹہ (کوٹہ)" لکھتا ہے اور بتاتا ہے کہ مقامی لوگ اسے "شال" یا "شال کوٹ" کہتے تھے۔ کوئٹہ پشین گزیٹیئر کے مطابق اکبر کے دور کی "آئینِ اکبری" میں شال اور پشین قندھار کی سرکار کے مشرقی حصے میں شامل دکھائے گئے ہیں۔ اٹھارھویں صدی میں نادر شاہ نے شال کی آمدنی میر نصیر خان اور ان کی والدہ کے خرچ کے لیے مقرر کی۔ گزیٹیئر لکھتا ہے کہ روایت کے مطابق احمد شاہ درانی نے 1751 کی ایرانی مہم میں نصیر خان اول کی مدد کے بعد یہ علاقہ آخرکار براہویوں کو دے دیا۔
یورپی سیاحوں میں سب سے پہلے چارلس میسن (Charles Masson) 1828 میں یہاں سے گزرے۔ گزیٹیئر کے مطابق انہوں نے لکھا کہ قصبہ "میری" یعنی قلعے کے گرد آباد تھا، جس کے گرد مٹی کی ایک پتلی کنگرے دار دیوار تھی، اور اس میں کوئی تین سو گھر تھے۔ گزیٹیئر کا اندازہ ہے کہ 1876 میں برطانوی قبضے سے پہلے یہاں تقریباً چار ہزار لوگ رہتے تھے۔ پہلی افغان جنگ میں 1839 سے اکتوبر 1842 تک انگریز یہاں رہے، اور شال ایک پولیٹیکل ایجنٹ کا صدر مقام بنا۔ 1872 میں ڈاکٹر بیلیو (Bellew) آئے تو انہوں نے اسے زوال کی حالت میں پایا۔ 1876 میں میری میں خانِ قلات کا ایک چھوٹا دستہ تھا: ایک توپ کا عملہ، پیادوں کی ایک کمپنی اور بیس سوار۔
قبضہ، 1876–77
کوئٹہ پشین گزیٹیئر کے مطابق جیکب آباد کے معاہدے کی توثیق سے پہلے ہی سنڈیمن کے محافظ دستے کا ایک حصہ، چوتھی سکھ پیدل فوج (پنجاب فرنٹیئر فورس) کے تین سو جوان، کیپٹن سکاٹ کی کمان میں خان کی رضامندی سے کوئٹہ میں ٹھہرا دیا گیا۔ تھارنٹن کی سوانح میں بھی یہی بات ملتی ہے۔ 1877 کے شروع میں بلوچستان ایجنسی یہیں قائم ہوئی۔ ایچی سن کے مطابق برطانوی فوج کوئٹہ اور مٹھڑی میں ٹھہرائی گئی۔
اسی برس ایجنسی کی عمارت بن رہی تھی کہ تین پٹھانوں نے لیفٹیننٹ ہیوسن (Hewson) کو قتل اور لیفٹیننٹ کنہارٹ کو زخمی کر دیا۔ تھارنٹن کے مطابق کیپٹن سکاٹ نے تینوں حملہ آوروں کو مار دیا۔ گزیٹیئر کے مطابق اسی واقعے کے بعد جولائی 1877 میں میری پر برطانوی فوج نے قبضہ کیا۔ پرانی بستی کو اس کی موجودہ جگہ منتقل کیا گیا اور میری کو اسلحہ خانہ بنا دیا گیا۔ 1878 میں دوسری افغان جنگ شروع ہوئی تو کوئٹہ فوجی کارروائیوں کا مرکز بنا۔
1883 کا پٹہ
کوئٹہ قانونی طور پر اب بھی خانِ قلات کا علاقہ تھا۔ ایچی سن کے مطابق 1879 میں طے ہوا کہ اس کا انتظام برطانوی افسر چلائیں گے اور بچ جانے والی آمدنی خان کو ملے گی۔ 8 جون 1883 کو نیا معاہدہ ہوا (ایچی سن کا معاہدہ نمبر 14)۔ اس کے متن کے مطابق خان نے یکم اپریل 1883 سے کوئٹہ ضلع اور نیابت کا پورا انتظام، محصول اور دیوانی و فوجداری اختیارات سمیت، برطانوی حکومت کو "مکمل طور پر" سونپ دیا۔ بدلے میں حکومت نے 25,000 روپے سالانہ کرایہ دینے کا وعدہ کیا، جو کسی کٹوتی کے بغیر ہر سال 31 مارچ کو ادا ہونا تھا۔ اسی معاہدے میں خان نے درۂ بولان کی تجارت پر محصول لینے کا حق بھی 30,000 روپے سالانہ کے عوض چھوڑ دیا۔ پٹہ اسی وقت تک تھا جب تک برطانوی حکومت ضلع کا انتظام چلائے۔
چھاؤنی اور سول شہر
کوئٹہ پشین گزیٹیئر کے مطابق حکومت نے 1878 سے 1883 کے درمیان تقریباً 3,754 ایکڑ زمین خریدی۔ اس میں 3,496 ایکڑ چھاؤنی کے لیے تھے اور 258 ایکڑ سول شہر کے لیے، اور زمین اور پانی پر کل 2,54,848 روپے خرچ ہوئے۔ چھاؤنی کی حدود پہلی بار مارچ 1885 میں مقرر ہوئیں۔ امپیریل گزیٹیئر کے مطابق شمال میں چھاؤنی تقریباً پندرہ مربع میل پر پھیلی تھی، اور جنوب میں سول شہر تھا، جسے حبیب نالہ چھاؤنی سے الگ کرتا تھا۔
یہ شہر شروع میں مٹی کا بنا تھا۔ گزیٹیئر سر تھامس ہولڈچ (Thomas Holdich) کو نقل کرتا ہے کہ 1884 میں ریذیڈنسی بھی مٹی کے ایک بہتر قسم کے بنگلے سے زیادہ کچھ نہ تھی، مگر 1884 کا کوئٹہ 1878 کے کوئٹہ سے بالکل مختلف ہو چکا تھا۔ 1891 کی سخت سردی میں مٹی کے بہت سے گنبد گر گئے اور ان کی جگہ لوہے کی چھتیں آئیں۔ 1881 میں ہیو بارنز (Hugh Barnes) نے قندھار سے دو تین سو اونٹ بھر قلمیں منگوا کر سڑکوں کے کنارے لگوائیں، کیونکہ اس سے پہلے کوئٹہ تقریباً بے درخت تھا۔ شہر میں صفائی کا محصول 1878 سے لگنے لگا، اور کوئٹہ میونسپل قانون 1896 میں نافذ ہوا: کوئٹہ پشین گزیٹیئر کے مطابق یکم اکتوبر، امپیریل گزیٹیئر اور نوٹیفکیشن 6992 کے مطابق 15 اکتوبر 1896۔ اس وقت کوئٹہ مغربی فوج کے چوتھے ڈویژن کا صدر مقام تھا۔ ریل کا سندھ پشین سیکشن 1879 میں شروع ہوا، اور امپیریل گزیٹیئر کے مطابق کوئٹہ ریل کے راستے لاہور سے 727 اور کراچی سے 536 میل دور تھا۔
آبادی
کوئٹہ پشین گزیٹیئر کے مطابق 1876 سے 1891 کے درمیان، جب پہلی مردم شماری ہوئی، آبادی تیزی سے بڑھی۔ 1891 میں شہر کی آبادی 18,802 تھی: 7,500 چھاؤنی میں اور 11,302 سول لائنز اور ریلوے کی حدود میں۔ امپیریل گزیٹیئر کے مطابق 1901 میں یہ 24,584 ہو گئی، جن میں 10,399 مسلمان، 8,678 ہندو اور 3,678 مسیحی تھے؛ مسیحیوں میں زیادہ تر یورپی فوجی تھے۔ گزیٹیئر لکھتا ہے کہ جب بھی فوج بڑھتی، شہری آبادی بھی بڑھتی، اور یہ آبادی تقریباً ساری باہر سے آئی تھی، زیادہ تر پنجاب اور سندھ سے۔ اس کے مطابق تجارت اور تعلیم یافتہ پیشے بیشتر پنجابیوں اور سندھیوں کے ہاتھ میں تھے۔
میری: شہر کا پرانا دل
کوئٹہ پشین گزیٹیئر میری کو ایک مصنوعی ٹیلہ لکھتا ہے جس کی بنیاد تقریباً 600 فٹ لمبی اور 400 فٹ چوڑی ہے، اور جو میدان سے 80 فٹ اونچا ہے۔ اسی میں میجر گاروڈ (J. F. Garwood) کا 1887 کا بیان نقل ہے۔ اس کے مطابق اوپر کے حصے کی کھدائی میں ہڈیاں، ٹوٹے برتن اور کوئلے کی تہیں نکلیں، اور سب سے گہری سطح پر ہرکولیس کا کانسی یا تانبے کا ایک مجسمہ ملا۔ کچھ اشیا کو کلکتہ کے انڈین میوزیم نے قبل از تاریخ کا قرار دیا۔ گاروڈ نے یہ بھی لکھا کہ کھدائی 80 میں سے صرف 20 فٹ تک گئی تھی۔ ہولڈچ نے میری کو "کوئٹہ کا تاج" کہا اور لکھا کہ یہ زمانۂ قدیم سے شہر کا قلعہ رہا ہے۔
اسٹاف کالج
1907 کا کوئٹہ پشین گزیٹیئر، جو یہاں 1905 کی صورتِ حال بیان کرتا ہے، لکھتا ہے کہ پرانی چھاؤنی سے تقریباً ایک میل دور ہنہ روڈ پر ایک اسٹاف کالج بن رہا ہے۔ کالج اور اس کے مکان تقریباً 70 ایکڑ پر تھے، تخمینہ تقریباً چھ لاکھ روپے تھا، اور امید تھی کہ کام 1906 کے آخر تک مکمل ہو جائے گا۔ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کی اپنی تاریخ کے مطابق جنوری 1905 میں کوئٹہ میں عمارت کی منظوری 6,33,440 روپے کے ساتھ دی گئی۔ 21 مارچ 1905 کے ایک فوجی حکم کے تحت عمارت مکمل ہونے تک کالج عارضی طور پر بمبئی کے قریب دیولالی میں قائم ہوا، جہاں پہلا کورس 24 افسروں کے ساتھ یکم جولائی 1905 کو شروع ہوا۔ کوئٹہ میں کالج کا باقاعدہ افتتاح یکم جون 1907 کو ہوا۔ یوں جس شہر کی بنیاد ایک محافظ دستے سے پڑی تھی، اس کی پہچان تیس برس میں ایک فوجی تعلیمی ادارہ بھی بن گئی۔
اگلے اتوار: برٹش بلوچستان صوبہ (1887)۔
ماخذ
- R. Hughes-Buller and Rai Bahadur Jamiat Rai (comp.), Baluchistan District Gazetteer Series, vol. V: Quetta-Pishin, Bombay/Ajmer, 1907. Pages used: 33 and 35 (Ain-i-Akbari: Shal and Pishin in the Kandahar sarkar; Nadir Shah's assignment; Ahmad Shah Durrani and the Brahuis, 1751); 42–43 (300 men of the 4th Sikhs under Captain Scott; Agency established early 1877; lease at Rs 25,000 from 1883); 45–47 (the miri: dimensions, Garwood's 1887 excavations, Heracles statue); 271 (miri occupied in July 1877 after the attack on Lt Hewson; Quetta as headquarters of the 4th Division); 331–337 (Quetta town: Barnes's tree planting, 1881; climate; population about 4,000 before 1876, 18,802 in 1891; Masson in 1828; first occupation 1839–42; Bellew in 1872; Holdich on 1878–84; land bought 1878–83; municipality; cantonment boundaries 1885); 341 (Staff College under construction, about 70 acres, about Rs 6 lakhs, completion hoped by end of 1906). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.46886
- Imperial Gazetteer of India, Provincial Series: Baluchistan, Superintendent of Government Printing, Calcutta, 1908. Pages 54 (Sind-Pishin railway begun 1879); 129–130 (Quetta town: "Kwatah", locally Shal or Shalkot; cantonment of about 15 sq. miles and civil town divided by the Habib Nullah; population 18,802 in 1891 and 24,584 in 1901, by religion; distances by rail; Staff College "in course of erection (1906)"); p. 74 (Quetta Municipal Law in force 15 October 1896). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.146799 · https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.120382
- C. U. Aitchison (comp.), A Collection of Treaties, Engagements and Sanads relating to India and Neighbouring Countries, vol. XI ("revised and continued up to 1929"), Government of India, Calcutta; read in the Mittal Publications reprint. Pages used: 330 (troops cantoned at Quetta and Mittri; 1879 arrangement; 1883 lease); 365–366 (Agreement No. XIV, 8 June 1883: Quetta district and niabat made over from 1 April 1883 for Rs 25,000 a year; Bolan tolls given up for Rs 30,000 a year). https://archive.org/details/acollectionoftreatiesengagementsandsanadsaitchisonc.u.vol11_83_O
- T. H. Thornton, Colonel Sir Robert Sandeman: His Life and Work on Our Indian Frontier, John Murray, London, 1895. Pages 89 and 93 (escort left at Quetta with the Khan's consent before the treaty was signed); 116–117 (murder of Lt Hewson, wounding of Lt Kunhardt, Captain Scott; footnote on the occupation of the fort and the quit-rent of Rs 25,000). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.209278
- Command and Staff College, Quetta, "College History" (official website; sanction in January 1905 at Rs 6,33,440; Deolali period 1905–07; first course on 1 July 1905; inauguration at Quetta on 1 June 1907). https://cscquetta.gov.pk/?p=44
- Government of India, British Enactments in Force in Indian States, vol. I, 4th ed., 1930: footnote to the Quetta Municipal Law, "The 15th October, 1896, was so appointed by Notification No. 6992". https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.100329



