رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 19° صاف 24° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:17مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
محسن نقوی: پاکستان نے خطے میں امن اور مذاکرات کے لیے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیافیصل واوڈا: عمران خان بانی ایم کیو ایم کی سیاست سے بھی 100 فیصد آگے نکل گئےعامر لیاقت کی ویڈیوز وائرل کرنے کا مقدمہ: دانیہ شاہ کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاریپاکستان کی باؤلنگ اور فیلڈنگ شاندار رہی، جلد وکٹیں گنوانے سے نقصان ہوا: ہیری بروکنیتن یاہو نے ایران پر بڑے حملے کی منصوبہ بندی کی ہدایت کی تھی، برطانوی میڈیا کا دعویٰامریکا ناکہ بندی اور دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات کی توقع نہیں کر سکتا: ایرانی صدر پزشکیانپیوٹن اور وٹکوف کی ملاقات: سہ فریقی مذاکرات نومبر کے وسط میں بحال کرنے پر غورزیلنسکی: موجودہ علاقائی صورتحال برقرار رکھنے والا امن معاہدہ قبول کرنے کو تیار ہیںکراچی میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 3540 روپے کا، ملک بھر میں سب سے مہنگاوزیراعظم شہباز شریف کا آج دورۂ پشاور متوقع، امن و امان اجلاس کی صدارت اور 12 اضلاع کے لیے وژن کا اعلان کریں گےپی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات چند دنوں میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: عامر ڈوگرپی ٹی آئی میں اختلافات: سلمان اکرم راجہ کی پوسٹ پر علی امین گنڈاپور اور ارکان اسمبلی کے تحفظات
باب 32 حصہ چہارم: برطانوی دور

برٹش بلوچستان صوبہ (1887)

پچھلے باب میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح شال کا چھوٹا سا قصبہ چند برسوں میں ایک بڑی فوجی چھاؤنی بن گیا۔ چھاؤنی کے ساتھ ایک انتظامی سوال بھی کھڑا ہوا: جو علاقے انگریزوں کے ہاتھ آئے تھے، ان…

برٹش بلوچستان صوبہ (1887)
علامتی تصویر

پچھلے باب میں ہم نے دیکھا کہ کس طرح شال کا چھوٹا سا قصبہ چند برسوں میں ایک بڑی فوجی چھاؤنی بن گیا۔ چھاؤنی کے ساتھ ایک انتظامی سوال بھی کھڑا ہوا: جو علاقے انگریزوں کے ہاتھ آئے تھے، ان کی قانونی حیثیت کیا ہو؟ کچھ افغانستان سے لیے گئے تھے، کچھ خانِ قلات سے پٹے پر، اور کچھ قبائل نے خود حوالے کیے تھے۔ اس باب میں ہم دیکھیں گے کہ یکم نومبر 1887 کے ایک سرکاری حکم سے "برٹش بلوچستان" نام کا صوبہ کیسے بنا، اور یہ نام دراصل پورے بلوچستان کے ایک چھوٹے سے حصے کا تھا۔

گندمک کا معاہدہ: پشین اور سبی

دوسری افغان جنگ کے پہلے مرحلے کے اختتام پر 26 مئی 1879 کو امیر یعقوب خان نے گندمک کے معاہدے پر دستخط کیے۔ کوئٹہ پشین گزیٹیئر (1907) کے مطابق اس معاہدے کی چھٹی شق میں سبی، پشین اور کرم کے اضلاع برطانوی حکومت کو دیے گئے۔ امپیریل گزیٹیئر کی بلوچستان جلد (1908) کے مطابق پشین، سبی، ہرنائی اور تھل چوٹیالی اس شرط پر دیے گئے کہ انتظامی اخراجات کے بعد بچنے والی آمدنی امیر کو ملے گی۔

یہ معاہدہ زیادہ دن نہ چلا۔ اسی سال کابل میں برطانوی ریزیڈنٹ اور اس کے محافظ قتل ہوئے اور یعقوب خان معزول ہو گئے۔ جنگ ختم ہونے کے بعد گزیٹیئر کے بقول یہ علاقے رابرٹ سنڈیمن کے "پرزور اصرار" پر اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ ہوا۔ پشین کو مستقل طور پر رکھنے کے آخری احکامات 1882 کے آخر میں جاری ہوئے۔ ایچی سن کے معاہدات کے مجموعے کی گیارھویں جلد کے مطابق نئے امیر عبدالرحمٰن خان کو بتا دیا گیا کہ یہ اضلاع اب افغانستان کا حصہ نہیں رہے۔

کوئٹہ اور بولان کا پٹہ (1883)

کوئٹہ گندمک کے معاہدے میں شامل نہیں تھا؛ یہ خانِ قلات کی نیابت تھی۔ کوئٹہ پشین گزیٹیئر کے مطابق 1879 میں حکومتِ ہند نے پانچ سال کے لیے اس کا انتظام سنبھالا اور اخراجات کے بعد بچنے والی رقم خان کو دی جاتی رہی۔ پھر 8 جون 1883 کو میر خداداد خان اور سنڈیمن کے درمیان ایک نیا معاہدہ ہوا، جو ایچی سن کے مجموعے میں چودھواں معاہدہ ہے۔ اس کے تحت یکم اپریل 1883 سے "کوئٹہ ضلع اور نیابت" کا پورا انتظام، دیوانی و فوجداری اختیارات سمیت، برطانوی حکومت کو 25 ہزار روپے سالانہ کرائے پر مل گیا۔

اسی معاہدے میں خان نے درۂ بولان سے گزرنے والی تجارت پر محصول لینے کا حق بھی 30 ہزار روپے سالانہ کے عوض چھوڑ دیا، اور درے کی حدود میں عدالتی اور انتظامی اختیار انگریزوں کو سونپ دیا۔ معاہدے کی تمہید میں اس کی وجہ ہرنائی کے نئے راستے سے خان کو ہونے والا نقصان بتائی گئی ہے۔

یکم نومبر 1887: صوبے کا اعلان

امپیریل گزیٹیئر کے مطابق 1887 میں تین کام ایک ساتھ ہوئے۔ ایجنٹ ٹو دی گورنر جنرل (اے جی جی) کا درجہ دوسرے درجے کے ریزیڈنٹ سے بڑھا کر پہلے درجے کا کر دیا گیا۔ گندمک کے تحت ملے ہوئے علاقے برطانوی سرزمین قرار پائے۔ اور اے جی جی کو ان علاقوں کا چیف کمشنر بھی مقرر کر دیا گیا۔

بلوچستان ایجنسی کی 1887-88 کی انتظامی رپورٹ اس حکم کا نمبر اور تاریخ دیتی ہے: حکومتِ ہند کی قرارداد نمبر 2219-E، مورخہ یکم نومبر 1887۔ رپورٹ کے مطابق پشین اور تھل چوٹیالی ایجنسیوں کے یہ علاقے "برٹش بلوچستان" کے نام سے ایک چیف کمشنری بنے: پشین، شوراورد، کچ، کواس، ہرنائی، سبی اور تھل چوٹیالی۔ اسی رپورٹ میں درج ہے کہ کوئٹہ اور بولان کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی؛ وہ پٹے کے علاقے ہی رہے۔ 8 دسمبر 1887 کو 1874 کا شیڈولڈ ڈسٹرکٹس ایکٹ نئے صوبے پر لاگو کیا گیا۔

سبی گزیٹیئر (1907) کے مطابق اس اعلان کے بعد ان علاقوں میں پولیٹیکل ایجنٹ کا عہدہ ڈپٹی کمشنر کہلانے لگا۔ سنڈیمن کے سوانح نگار ٹی۔ ایچ۔ تھارنٹن (T. H. Thornton) نے 1895 میں لکھا کہ صوبہ بنتے وقت دو اضلاع تھے: کوئٹہ پشین اور تھل چوٹیالی۔ تھارنٹن نے نئے نام "برٹش بلوچستان" کو "کچھ نامناسب" بھی کہا۔ صوبے کے اپنے قوانین، یعنی دیوانی اور فوجداری انصاف کے ضوابط اور جنگلات کا قانون، 1890 میں بنے۔

ایک صوبہ، تین قسم کی زمین

1887 کے بعد "بلوچستان" کہلانے والا علاقہ قانونی طور پر تین حصوں میں بٹا رہا۔ امپیریل گزیٹیئر کے پہلے ہی صفحے پر یہ تقسیم اس طرح درج ہے:

  • برٹش بلوچستان: 9,476 مربع میل، یعنی وہ علاقے جو 1879 کے معاہدے سے ملے۔ 1908 میں اس میں شاہرگ، سبی، دکی، پشین مع شوراورد کی تحصیلیں اور چمن سب ڈویژن شامل تھیں۔
  • ایجنسی علاقے: 44,345 مربع میل، یعنی پٹے پر لیے گئے یا وقتاً فوقتاً برطانوی افسروں کے ماتحت آئے ہوئے علاقے۔ گزیٹیئر خود اسے "لچکدار اصطلاح" کہتا ہے۔ ان میں براہِ راست انتظام والا حصہ 37,216 مربع میل تھا، جس میں کوئٹہ، بولان، نوشکی اور نصیر آباد کے پٹے، ریلوے کی زمینیں، چاغی، اور ژوب و لورالائی شامل تھے۔
  • ریاستیں: قلات اور لسبیلہ، کل 78,034 مربع میل۔

گزیٹیئر کے مطابق برٹش بلوچستان اور براہِ راست انتظام والے ایجنسی علاقے مل کر 46,692 مربع میل بنتے تھے، جو سندھ کے رقبے کے لگ بھگ تھا۔ ان میں چھ اضلاع تھے: کوئٹہ پشین، سبی، لورالائی، ژوب، چاغی اور بولان۔ 1901 کی مردم شماری کے مطابق ان کی آبادی 3 لاکھ 49 ہزار 187 تھی، اور ضلع وار نقشہ یوں تھا:

  • ژوب: 9,626 مربع میل، آبادی 69,718
  • لورالائی: 7,999 مربع میل، آبادی 67,864
  • کوئٹہ پشین: 5,127 مربع میل، آبادی 1,14,087
  • چاغی (مغربی سنجرانی سمیت): 18,892 مربع میل، آبادی 21,689
  • بولان: 896 مربع میل، آبادی 1,936
  • سبی: 4,152 مربع میل، آبادی 73,893

پورے صوبے میں 1901 کی مردم شماری 8 لاکھ 10 ہزار 746 افراد گن سکی۔ مکران، خاران اور مغربی سنجرانی گنتی سے باہر رہے، اس لیے گزیٹیئر نے کل آبادی کا اندازہ تقریباً سوا نو لاکھ لگایا۔

ریاستوں کے بارے میں ایک وضاحت ضروری ہے۔ 1908 کا گزیٹیئر صرف دو ریاستیں گنتا ہے، قلات اور لسبیلہ، اور خاران کو قلات کے تحت لکھ کر اسے "نیم آزاد" کہتا ہے۔ ایچی سن کی جلد میں 1909 کی ایک دستاویز اسے "ریاستِ خاران" کہتی ہے، اور 1885 سے اس کے سردار کے ساتھ الگ معاہدے بھی درج ہیں۔ یعنی خاران کی الگ حیثیت آہستہ آہستہ بنی۔

1911 کی مردم شماری کے سپرنٹنڈنٹ ڈینس برے (Denys Bray) نے لکھا کہ روزمرہ کام کے لحاظ سے برٹش بلوچستان اور ایجنسی علاقوں کا فرق "بے فرق کا فرق" ہے۔ ان کے بقول یہ فرق بس اس ماضی کی یاد دلاتا ہے کہ ایک حصہ گندمک کے معاہدے سے ملا اور دوسرا پٹے یا قبائل کی درخواست سے۔

ایک افسر، دو عہدے

اس نظام کی چوٹی پر ایک ہی شخص تھا: ایجنٹ ٹو دی گورنر جنرل اور چیف کمشنر۔ ایچی سن کے مطابق 21 فروری 1877 کو میجر سنڈیمن اے جی جی مقرر ہوئے اور صدر مقام کوئٹہ ٹھہرا۔ گزیٹیئر 1908 تک کے مستقل اے جی جی یوں گنتا ہے: سنڈیمن (1877)، جنرل سر جیمز براؤن (1892)، ہیو بارنز (1896) اور کرنل سی۔ ای۔ ییٹ (1900)۔

برٹش بلوچستان میں یہ افسر چیف کمشنر کے طور پر عام صوبائی حاکم تھا۔ باقی علاقوں میں وہ سیاسی ایجنٹ تھا، فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن کے تحت عدالتی اختیار رکھتا تھا، اور پولیس اور لیویز کا انسپکٹر جنرل بھی تھا۔ ضلعی سطح پر یہی دوہرا پن دہرایا گیا: پولیٹیکل ایجنٹ اپنے ضلع کے برطانوی حصے کے لیے ڈپٹی کمشنر بھی تھا۔

پٹوں کا سلسلہ: نوشکی اور نصیر آباد

صوبہ بننے کے بعد بھی قلات سے زمین پٹے پر لینے کا سلسلہ جاری رہا۔ یکم جولائی 1899 کو خان میر محمود خان نے نوشکی کا ضلع اور نیابت "ہمیشہ کے لیے" 9 ہزار روپے سالانہ پر حکومت کے حوالے کیے۔ 17 فروری 1903 کو نصیر آباد کی نیابت، جو سندھ کی نہروں سے سیراب ہوتی تھی، اسی طرح ہمیشہ کے لیے یکم اپریل 1903 سے دے دی گئی۔ اس کا کرایہ ایک لاکھ 15 ہزار روپے سالانہ تھا، اور منجوتی کی زمین کے ڈھائی ہزار ملا کر کل ایک لاکھ ساڑھے 17 ہزار روپے بنتا تھا۔ ایچی سن کے مطابق نوشکی چاغی ایجنسی میں اور نصیر آباد سبی ضلع میں شامل کیا گیا۔ سبی گزیٹیئر کے مطابق اکتوبر 1903 میں اضلاع کی نئی تشکیل ہوئی تو نصیر آباد سبی کی ایک سب ڈویژن بنا۔

اس طرح 1903 تک وہ نقشہ مکمل ہو گیا جو 1947 تک بڑی حد تک قائم رہا: ایک چھوٹا سا "برطانوی" صوبہ، اس کے گرد پٹے اور قبائلی علاقے، اور ان سب کے ساتھ قلات کی ریاست۔

اگلے اتوار: پہاڑوں میں ریل: بولان، ہرنائی اور خوجک سرنگ

ماخذ

  1. Imperial Gazetteer of India, Provincial Series: Baluchistan, comp. R. Hughes-Buller, Superintendent of Government Printing, Calcutta, 1908. Pages used: p. 1 (three divisions and their areas), pp. 20–21 (Gandamak; retention; the 1887 changes; Nushki 1899 and Nasirabad 1903), pp. 22–23 (Census 1901 totals), pp. 58–61 (AGG and Chief Commissioner, list of AGGs, British Baluchistan and Agency Territories, Native States, Kharan), p. 63 (1890 laws), p. 87 (Table I, district areas and population). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.146799
  2. Administration Report of the Baluchistan Agency for 1887-88, Selections from the Records of the Government of India, Foreign Department No. CCLXVIII, Calcutta, 1890. Pages used: p. 10 (Resolution No. 2219-E of 1 November 1887; list of tracts), p. 24 (Quetta and the Bolan unchanged), p. 28 (Scheduled Districts Act extended 8 December 1887). https://archive.org/details/india.history.resource.109821
  3. C. U. Aitchison, A Collection of Treaties, Engagements and Sanads relating to India and Neighbouring Countries, vol. XI (Baluchistan section), Government of India, 1933 edition. Pages used: pp. 323–324 (divisions of the Agency), p. 330 (Sandeman appointed AGG on 21 February 1877; the 1883, 1899 and 1903 agreements), p. 341 (Kharan), p. 347 (British Baluchistan "incorporated with British India in 1887"; Gandamak; Abdur Rahman informed), pp. 365–366 (Agreement No. XIV, 8 June 1883: Quetta and the Bolan), about pp. 377–380 (Nos. XXVI, Nushki, 1 July 1899, and XXVIII, Nasirabad, 17 February 1903), pp. 388–389 (Kharan, 1909). Page numbers taken from poor OCR; see points_to_verify. https://archive.org/details/acollectionoftreatiesengagementsandsanadsaitchisonc.u.vol11_83_O
  4. R. Hughes-Buller and Jamiat Rai, Baluchistan District Gazetteer Series, vol. V: Quetta-Pishin, Ajmer, 1907. Pages used: p. 43 (Treaty of Gandamak, 26 May 1879, Article 6; final orders on retention at the end of 1882), pp. 226–227 (the 1879 arrangement for Quetta; agreement of 8 June 1883 effective 1 April 1883, Rs 25,000). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.46886
  5. A. McConaghey, assisted by Jamiat Rai, Baluchistan District Gazetteer Series, vol. III: Sibi District, Text, Times Press, Bombay, 1907. Pages used: pp. 31–32 (Gandamak; "In November 1887 … declared parts of British India"; Political Agent redesignated Deputy Commissioner), p. 33 (October 1903 reorganisation; Nasirabad a sub-division). https://archive.org/details/sibidistricttext00mccouoft
  6. T. H. Thornton, Colonel Sir Robert Sandeman: His Life and Work on our Indian Frontier, John Murray, London, 1895. Pages used: p. 172 (1887 Resolution; the "somewhat inappropriate designation"), p. 204 ("Resolution of November 1, 1887"; two districts). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.209278
  7. Denys Bray, Census of India, 1911, vol. IV: Baluchistan, Part I, Report, Calcutta, 1913. Para. 38, about p. 17 ("a distinction without a difference"). https://archive.org/details/india.history.resource.92565

بلوچستان: تاریخ کا سفر: تمام تحریریں ←