ضلع پنجگور: رخشان کی وادی اور مکران کی کھجور
پنجگور بلوچستان کے جنوب مغرب میں مکران کا شمالی ضلع ہے، جس کی مغربی سرحد ایران سے ملتی ہے۔ ضلع کا دل دریائے رخشان کی لمبی وادی ہے، جس کے کنارے کھجور کے گھنے باغات صدیوں سے اس علاقے کی…

تعارف اور محلِ وقوع
پنجگور بلوچستان کے جنوب مغرب میں مکران کا شمالی ضلع ہے، جس کی مغربی سرحد ایران سے ملتی ہے۔ ضلع کا دل دریائے رخشان کی لمبی وادی ہے، جس کے کنارے کھجور کے گھنے باغات صدیوں سے اس علاقے کی پہچان ہیں۔
پاکستان ادارۂ شماریات کی 2023ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع پنجگور کا رقبہ 16,891 مربع کلومیٹر اور آبادی 509,781 ہے، جس میں 269,372 مرد، 240,314 خواتین اور 95 خواجہ سرا شامل ہیں۔ آبادی کی کثافت تقریباً 30 افراد فی مربع کلومیٹر ہے، اور تقریباً 31 فیصد آبادی شہری علاقوں میں رہتی ہے۔ 2017ء کی مردم شماری میں ضلع کی آبادی 315,353 تھی؛ مردم شماری کے جدول کے مطابق اس کے بعد آبادی میں سالانہ اوسطاً 8.36 فیصد اضافہ ہوا۔ یہاں ایک گھرانے میں اوسطاً 4.3 افراد رہتے ہیں، جو صوبائی اوسط سے خاصا کم ہے۔
مردم شماری کے جدول میں ضلع کی پانچ انتظامی اکائیاں درج ہیں۔ سب ڈویژن پنجگور سب سے بڑی ہے: رقبہ 2,945 مربع کلومیٹر، آبادی 392,277۔ گچک سب تحصیل رقبے میں سب سے بڑی (8,387 مربع کلومیٹر) مگر آبادی میں صرف 33,578 ہے۔ گوارگو سب ڈویژن کی آبادی 31,718، جاہین پروم تحصیل کی 31,113 اور کاگ (کلگ) سب تحصیل کی 21,095 ہے۔ صوبائی مردم شماری رپورٹ کے مطابق کلگ کی سب تحصیل 2017ء کے بعد تحصیل پنجگور کے کچھ حصے کو الگ کر کے بنائی گئی۔
تاریخ
1906ء میں مرتب ہونے والے "بلوچستان ڈسٹرکٹ گزیٹیئر" کی مکران جلد پنجگور کو قلات کے زیرِ انتظام مکران کے دو بڑے حصوں میں سے ایک بتاتی ہے، جس میں رخشان کی بڑی شمالی وادی کے ساتھ ساتھ راغے، گچک، دشتِ شہبانز، کوہبن اور پروم بھی شامل تھے۔ گزیٹیئر کے مطابق پنجگور شاید وہی جگہ ہے جسے عرب جغرافیہ دانوں نے "قنزبون" لکھا، اور یہ ہمیشہ کیچ کا حصہ رہا۔ بعد کے زمانے میں اس علاقے کا نام اس کے مرکزی شہر "خرم آباد" کے نام پر بتایا جاتا ہے، جس کے کھنڈر "کہنہ قلات" (پرانا قلعہ) کے قریب دکھائے جاتے ہیں۔
پنجگور گچکی خاندان کے عروج کی جگہ بھی ہے، جن کا نام گچک کی وادی سے نکلا ہے۔ گزیٹیئر کے مطابق بلیدئیوں کے زوال کے بعد گچکی ملک کے مالک بن گئے: بڑی شاخ پنجگور پر اور چھوٹی کیچ اور گوادر پر قابض ہوئی۔ اٹھارہویں صدی میں خانِ قلات میر نصیر خان اول نے مکران پر نو مہمات بھیجیں، جن میں پہلی مہم پنجگور کے خلاف تھی۔ گزیٹیئر کے مطابق ان مہمات کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک کی آدھی آمدن ہر سال قلات کو دی جانے لگی جبکہ انتظام گچکیوں کے ہاتھ میں رہا۔ گزیٹیئر لکھتا ہے کہ اس سمجھوتے کی صحیح تاریخ معلوم نہیں، مگر یہ غالباً 1778ء سے پہلے طے پایا۔
گزیٹیئر کے مطابق 1906ء تک عیسیٰ انتظامیہ کا صدر مقام تھا، جبکہ چتکان میں اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ اور مکران لیوی کور کا ہیڈکوارٹر تھا۔
لوگ اور زبانیں
2023ء کی مردم شماری کے مادری زبان کے جدول کے مطابق پنجگور بلوچستان کے سب سے زیادہ یک زبان اضلاع میں سے ہے۔ 509,781 باشندوں میں سے 507,884، یعنی 99.6 فیصد، کی مادری زبان بلوچی ہے؛ کوئی دوسری زبان ایک فیصد تک بھی نہیں پہنچتی۔
1906ء کے گزیٹیئر کے مطابق اُس وقت رخشان اور راغے سمیت پورے علاقے کی آبادی کا اندازہ تقریباً 3,356 خاندان یا 16,780 افراد تھا، اور مستقل دیہات تقریباً سولہ تھے۔ اہم دیہات میں عیسیٰ، تسپ، سوردو (پنجگور کے گچکی سردار کی رہائش)، خدا آبادان، گرمکان اور واشبود شامل تھے۔ گزیٹیئر میں گچکی، نوشیروانی، تولگ گچکی، کینگزئی، ملازئی، رئیس، امیراری، بَر اور کاشانی گروہوں کا ذکر ہے۔ گزیٹیئر کے مطابق شدید سردی کی وجہ سے یہاں کے گھر زیادہ تر مٹی کے بنے ہوتے تھے، اور اس لحاظ سے پنجگور کیچ سے مختلف تھا۔
صوبائی مردم شماری رپورٹ 2023ء کے مطابق پنجگور ان اضلاع میں ہے جہاں خواندگی کی شرح 40 سے 45 فیصد کے درمیان ہے؛ مگر یہاں اسکول سے باہر بچوں کی شرح بھی 60 سے 70 فیصد کے درمیان ہے۔ اسی رپورٹ کے مطابق گھر کے اندر پینے کا پانی دستیاب ہونے کی شرح صوبے میں سب سے زیادہ پنجگور میں ہے: 63.20 فیصد۔
معیشت
پنجگور کی معیشت کی جڑ کھجور ہے۔ 1908ء کا امپیریل گزیٹیئر لکھتا ہے کہ پورے مکران میں کھجور بنیادی غذا ہے، اور عرب پنجگور کی کھجور کو بصرہ کی کھجور سے بہتر قرار دیتے ہیں۔ مکران کا گزیٹیئر کیچ اور پنجگور کو کھجور کے لیے مشہور ترین علاقے بتاتا ہے اور لکھتا ہے کہ مکران میں کھجور کی سو سے زیادہ قسموں کے نام ملتے ہیں۔ اعلیٰ "نسبی" قسموں میں آپِ دندان، بیگم جنگی، ہلینی، مُضاتی اور سبزو شامل ہیں۔ پنجگور میں کھجور کو "ہُرماگ" کہا جاتا ہے، اور ٹھنڈی آب و ہوا کی وجہ سے یہاں کھجور کا موسم کیچ سے دیر سے آتا ہے: گزیٹیئر کے مطابق پھل اگست سے اکتوبر کے آخر یا نومبر کے وسط تک اترتا ہے۔ گزیٹیئر یہ بھی لکھتا ہے کہ پنجگور کے کھجور سے بھرے مٹکے (ہُمب) اپنی عمدگی کے لیے مشہور ہیں۔
کھجور کے علاوہ 1906ء میں گندم، جوار اور چاول بڑی فصلیں تھیں، جبکہ جو، تمباکو اور پھلیاں بھی اگائی جاتی تھیں۔ باغات میں انگور، انار اور مالٹے کے درخت تھے۔ گزیٹیئر کے مطابق پنجگور خاص کی تقریباً ساری آبپاشی دریائے رخشان سے ہوتی تھی، اور 1904ء میں ستائیس کاریزیں اور چھیاسٹھ کَورجو (ندی سے نکالی گئی نہریں) کام کر رہی تھیں۔ امپیریل گزیٹیئر بھی لکھتا ہے کہ رخشان کا پانی ناگِ قلات، پنجگور اور خاران کے دہگوار میں آبپاشی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
کھیتی کے ساتھ گلہ بانی اور اونٹ پالنا بھی روزگار کا ذریعہ تھا؛ 1904ء میں پورے علاقے میں تقریباً ایک ہزار اونٹوں کا اندازہ لگایا گیا۔ پروم کی دلدل (کَپ) سے نمک نکالا جاتا تھا، اور گزیٹیئر کے مطابق نمک پر محصول آمدن کا ایک ذریعہ تھا۔ تجارت کے لیے پنجگور ایک اہم گزرگاہ پر واقع تھا: گزیٹیئر کے مطابق قلات سے پنجگور آنے والا راستہ رخشان یا راغے کی وادی سے ہوتا ہوا ایرانی مکران تک جاتا تھا۔
قابلِ دید مقامات
کہنہ قلات اور ملک آسا کا مقبرہ: گزیٹیئر کے مطابق کہنہ قلات کی تعمیر میں بڑی پکی ہوئی سرخ اینٹیں استعمال ہوئیں، اور ملک آسا اور دوسروں کے مقبرے چمکدار اینٹوں سے بنے ہیں جن پر انسانوں اور جانوروں کی سادہ شکلیں ہیں۔ قدیم بند "بندِ گِلر" بھی اسی فہرست میں درج ہے۔
گچک کی وادی: گزیٹیئر اسے گچکیوں کی پہلی بستی بتاتا ہے۔ گزیٹیئر کے مطابق یہ وادی آس پاس کی وادیوں کے مقابلے میں درختوں سے ڈھکی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
پروم اور دشتِ شہبانز: پروم ایک بند طاس ہے جس کے بیچ کی دلدل میں پانی سوکھنے کے بعد نمک کی موٹی تہہ جم جاتی ہے، اور یہ وادی اپنی چراگاہوں کے لیے مشہور ہے۔ گزیٹیئر کے مطابق دشتِ شہبانز کا نام اس روایت سے پڑا کہ سیہون کے مشہور بزرگ لعل شہباز یہاں کچھ عرصہ ٹھہرے تھے۔
ماخذ
- Pakistan Bureau of Statistics, 7th Population and Housing Census 2023, Table 1: Area, Population by Sex, Sex Ratio, Population Density, Urban Population, Household Size and Annual Growth Rate, Balochistan districts, Islamabad, 2024, PDF p.7 (Panjgur district and its sub-divisions, tehsil and sub-tehsils). https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_1_balochistan_districts.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, 7th Population and Housing Census 2023, Table 11: Population by Mother Tongue, Sex and Rural/Urban, Balochistan districts, PDF p.28 (Panjgur district). https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_11_balochistan_districts.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, Provincial Census Report 2023: Balochistan, Islamabad, 2024: p.47 (Table 2.3: Kallag sub-tehsil formed from Panjgur tehsil), p.92 (literacy brackets), p.96 (out-of-school brackets), p.121 (drinking water inside premises, Panjgur 63.20 percent). https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/2020/07/Provincial-Census-Report-2023-Balochistan-1.pdf
- R. Hughes-Buller (comp.), Baluchistan District Gazetteer Series, Vol. VII: Makran (bound with Vol. VII-A: Kharan), Bombay, 1906-07 (scan, Digital Library of India, catalogued as "Makran and Kharan"): pp.49-50 (Gichkis; Nasir Khan I's expeditions; division of revenues, before 1778), p.89 (disputes over Panjgur property; Sandeman's visit 1883-84; Khudabadan), p.167 (date varieties; Kech and Panjgur), pp.178-179 (the date in Panjgur: hurmag, seasons), pp.304-313 (Panjgur valley: extent, history and archaeology, population of 1903, villages, tribes, crops, irrigation in 1904, camels, routes, Isai and Chitkan, Rakhshan, Raghai, Gichk, Parom, Dasht-e-Shahbanz). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.31890
- Imperial Gazetteer of India, Provincial Series: Baluchistan, Calcutta, 1908 (scan): p.36 (dates of Panjgur said by Arabs to excel those of Basra), p.100 (Rakhshan river used for irrigation in Nag-i-Kalat, Panjgur and Dehgwar). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.120382
- Atemad reference page, content/districts/00-district-list.md (July 2026 restructuring; Makran renamed Makuran, per Dawn, 12 July 2026).







