ضلع ژوب: فورٹ سنڈیمن سے ژوب تک
بلوچستان کے شمال مشرقی کونے میں، جہاں صوبے کی سرحد خیبر پختونخوا اور افغانستان سے ملتی ہے، ضلع ژوب واقع ہے۔ یہ ضلع ژوب ڈویژن کا صدر مقام ہے اور اسی نام کا شہر، جو کبھی فورٹ سنڈیمن کہلاتا تھا،…

تعارف اور محلِ وقوع
بلوچستان کے شمال مشرقی کونے میں، جہاں صوبے کی سرحد خیبر پختونخوا اور افغانستان سے ملتی ہے، ضلع ژوب واقع ہے۔ یہ ضلع ژوب ڈویژن کا صدر مقام ہے اور اسی نام کا شہر، جو کبھی فورٹ سنڈیمن کہلاتا تھا، اس کا انتظامی مرکز ہے۔ ضلع کا نام اس دریا سے لیا گیا ہے جو اس کی وادی کے بیچوں بیچ بہتا ہوا شمال مشرق کی سمت دریائے سندھ کے میدان کی طرف جاتا ہے۔
2023ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع ژوب کی آبادی 355,692 ہے، جن میں سے 46,976 افراد شہری اور 308,716 دیہی علاقوں میں رہتے ہیں۔ ضلع کا رقبہ 15,987 مربع کلومیٹر ہے اور آبادی کی کثافت تقریباً 22 افراد فی مربع کلومیٹر بنتی ہے، یعنی یہ ایک وسیع مگر کم آباد علاقہ ہے۔ حکومتِ بلوچستان کی ویب سائٹ کے مطابق ژوب ڈویژن میں ژوب کے علاوہ قلعہ سیف اللہ اور شیرانی کے اضلاع شامل ہیں، اور ہر ضلع کا اپنا ڈپٹی کمشنر ہے۔
8 جولائی 2026ء کو حکومتِ بلوچستان کے محکمۂ مال نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے صوبے کو 11 ڈویژنوں اور 41 اضلاع میں تقسیم کیا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اس نوٹیفکیشن میں ضلع ژوب میں مرغہ کبزئی کے نام سے نئی سب ڈویژن بنائی گئی، جب کہ ضلع شیرانی میں مانی خوا کو سب ڈویژن کا درجہ دیا گیا۔ اس تبدیلی کے بعد ژوب ڈویژن کی حتمی ترکیب کی تصدیق سرکاری نوٹیفکیشن کے متن سے ہونا باقی ہے۔
تاریخ
وادیٔ ژوب انسانی آبادی کے اعتبار سے بہت پرانی ہے۔ برطانوی دور کے ماہرِ آثارِ قدیمہ سر آرل سٹائن نے 1926ء اور 1927ء کے دوران شمالی بلوچستان کا آثاری سروے کیا اور ژوب شہر کے قریب پیریانو غنڈئی سمیت کئی ٹیلوں کو ریکارڈ کیا، جن کی رپورٹ 1929ء میں شائع ہوئی۔ بعد میں برطانوی ماہر سٹوئرٹ پگٹ نے اپنی کتاب "پری ہسٹورک انڈیا" میں شمالی بلوچستان کی ان قدیم بستیوں کو "ژوب ثقافتیں" کا نام دیا، کیونکہ دریائے ژوب ان سب کے درمیان سے گزرتا ہے۔ آکسفرڈ ریفرنس کے مطابق یہ ثقافت چوتھے اور تیسرے ہزارے قبل مسیح کے تانبے کے دور سے تعلق رکھتی ہے، پیریانو غنڈئی اور مغل غنڈئی اس کے نمائندہ مقامات ہیں، اور یہاں سے ملنے والی مٹی کی خاص قسم کی نسوانی مورتیاں اس کی پہچان ہیں۔
انیسویں صدی کے آخر میں یہ علاقہ برطانوی انتظام میں آیا۔ ژوب کا شہر برطانوی افسر رابرٹ سنڈیمن کے نام پر فورٹ سنڈیمن کہلایا، اور 1908ء کے امپیریل گزیٹیئر میں اسے ضلع ژوب کی ایک سب ڈویژن، تحصیل اور قصبے کے طور پر درج کیا گیا ہے۔ 1907ء میں شائع ہونے والے "بلوچستان ڈسٹرکٹ گزیٹیئر سیریز" کے ژوب والے جلد کے دیباچے کے مطابق، جس پر دسمبر 1906ء کی تاریخ ہے، اس وقت ضلع تین تحصیلوں پر مشتمل تھا، کیونکہ دو تحصیلیں 1903ء میں نئے ضلع لورالائی کو منتقل کر دی گئی تھیں۔
قیامِ پاکستان کے بعد یہ نام کئی دہائیوں تک قائم رہا۔ ثانوی ذرائع کے مطابق 1976ء میں فورٹ سنڈیمن کا نام بدل کر ژوب رکھ دیا گیا۔ اس تبدیلی کی سرکاری تاریخ اور نوٹیفکیشن کی تصدیق ابھی باقی ہے۔ بعد میں شیرانی کا علاقہ، جو ژوب کی سب ڈویژن تھا، الگ ضلع بنا دیا گیا؛ دستیاب ذرائع اس کا سال 2006ء بتاتے ہیں۔ 2021ء میں حکومتِ بلوچستان نے ژوب ڈویژن کو تقسیم کر کے لورالائی ڈویژن بنایا، جس کے بعد ژوب، قلعہ سیف اللہ اور شیرانی ژوب ڈویژن میں رہ گئے۔
لوگ اور زبانیں
ژوب کی آبادی کی بڑی اکثریت پشتو بولتی ہے۔ 2017ء کی مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق، جو سمیڈا کی ضلعی رپورٹ میں درج ہیں، ضلع کے 96.03 فیصد لوگوں کی مادری زبان پشتو اور 1.71 فیصد کی سرائیکی تھی۔ 2023ء کی مردم شماری کے مادری زبان کے جدول کا ضلعی اندراج اس مسودے کی تیاری کے وقت حاصل نہیں ہو سکا، اس لیے یہاں 2017ء کے اعداد دیے گئے ہیں۔
2023ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع کی تقریباً 87 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے، جہاں زندگی کا دارومدار زمین اور مویشیوں پر ہے۔ شہری آبادی بنیادی طور پر ژوب شہر میں مرکوز ہے، جو ڈویژن کا انتظامی، تعلیمی اور تجارتی مرکز ہے۔
معیشت
سمیڈا کی ستمبر 2022ء کی ضلعی رپورٹ کے مطابق ژوب کی آمدنی کا انحصار بنیادی طور پر زراعت اور مویشی پالنے پر ہے، اور باغبانی یہاں کا اہم شعبہ ہے۔ اسی رپورٹ کے مطابق ضلع میں زرعی قرضے دینے والا واحد بینک زرعی ترقیاتی بینک ہے۔
2011ء کے ضلعی ترقیاتی پروفائل میں ژوب کے اہم پھلوں میں بادام، سیب، خوبانی، انگور، آڑو، آلوچہ، ناشپاتی اور انار شامل بتائے گئے ہیں۔ پاکستان پاورٹی ایلی ویئشن فنڈ کے جائزے کے مطابق گندم، سیب، بادام اور خوبانی ضلع کی بڑی فصلیں ہیں اور سیب کے باغات تقریباً 6,499 ہیکٹر پر پھیلے ہوئے ہیں، جو کاشت شدہ رقبے کا سب سے بڑا حصہ ہے۔ یہ اعداد پرانے ہیں اور آج کی صورتِ حال مختلف ہو سکتی ہے۔
معدنیات کے شعبے میں ضلع ژوب میں کوئلے، کرومائٹ اور گرینائٹ کے لیے کان کنی کی اجازتیں دی گئی ہیں، اور تانبے کے آثار بھی موجود ہیں، مگر 2011ء کے پروفائل کے مطابق اس شعبے میں سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر تھی۔ اس طرح ژوب کی معیشت کا بڑا حصہ اب بھی باغات، گندم اور مویشیوں سے وابستہ ہے۔
قابلِ دید مقامات
سنڈیمن قلعہ: ژوب شہر میں برطانوی دور کا یہ قلعہ، جس کے نام پر پورا قصبہ فورٹ سنڈیمن کہلاتا تھا، ضلع کی سب سے نمایاں تاریخی عمارت ہے۔ 1976ء میں شہر کا نام بدلنے کے باوجود قلعہ آج بھی اسی نام سے جانا جاتا ہے۔
پیریانو غنڈئی: ژوب شہر سے تقریباً تین کلومیٹر مغرب میں یہ قدیم ٹیلہ ہے جسے سر آرل سٹائن نے ریکارڈ کیا تھا۔ یہاں سے ملنے والی مٹی کی مورتیاں اور ظروف ژوب ثقافت کی شناخت بنے، اور یہ مقام آج بھی ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی توجہ کا مرکز ہے۔
دریائے ژوب: یہ دریا ضلع کی وادی کو سیراب کرتا ہوا دریائے سندھ کے میدان کی طرف بہتا ہے۔ پگٹ کے الفاظ میں یہ دریا شمالی بلوچستان کی قدیم بستیوں کا محور ہے، اور اس کے کنارے کے باغات ژوب کی زرعی زندگی کی بنیاد ہیں۔
ماخذ
- Pakistan Bureau of Statistics, 7th Population and Housing Census 2023, Balochistan: Table 1, Area, Population by Sex, Sex Ratio, Population Density, Urban Proportion, Household Size and Annual Growth Rate, Islamabad, 2023. https://www.pbs.gov.pk/sites/default/files/population/2023/tables/table_1_balochistan_province.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, Provincial Census Report 2023: Balochistan (7th Population and Housing Census), Islamabad, 2024. https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/2020/07/Provincial-Census-Report-2023-Balochistan-1.pdf
- Small and Medium Enterprises Development Authority (SMEDA), District Profile: Zhob, Government of Pakistan, September 2022 (reproduces PBS 2017 census mother-tongue figures). https://smeda.org/phocadownload/Balochistan/District_Profiles/District%20Profile%20of%20Zhob%20Sep-2022.pdf
- Government of Balochistan, "Zhob Division" (official divisional page listing the deputy commissioners of Zhob, Killa Saifullah and Sherani). https://zhob.balochistan.gov.pk/ · Divisional commissioners: https://balochistan.gov.pk/divisional-commissioners/
- Dawn, "Balochistan undergoes major restructuring", 2026 (Revenue Department notification of 8 July 2026: 11 divisions, 41 districts). https://www.dawn.com/news/2014773/balochistan-undergoes-major-restructuring · ProPakistani, "Balochistan Govt Notifies New Divisions and Districts", 12 July 2026. https://propakistani.pk/2026/07/12/balochistan-govt-notifies-new-divisions-and-districts/
- Dawn, "New division, two districts created in Balochistan", 2021 (Board of Revenue notification splitting Zhob Division into Loralai and Zhob). https://www.dawn.com/news/1632216
- R. Hughes-Buller (comp.), Baluchistan District Gazetteer Series, Vol. I: Zhob District, Text and Appendices, Bombay Education Society's Press, Bombay, 1907 (preface by C. F. Minchin, Quetta, December 1906). Locator: FIBIS wiki, Baluchistan gazetteers, https://wiki.fibis.org/w/Baluchistan (archive.org/Digital Library of India scan to be located by reviewer).
- The Imperial Gazetteer of India, New Edition, Vol. XXII (Samadhiala to Singhana), Clarendon Press, Oxford, 1908, entry "Sandeman, Fort" (Zhob District). Digital South Asia Library index: https://dsal.uchicago.edu/reference/gazetteer/ · Scan: https://www.burmalibrary.org/docs20/Imperial_Gazetteer_of_India-Vol.22-1908-s-t.pdf
- Stuart Piggott, Prehistoric India to 1000 B.C., Penguin Books, Harmondsworth, 1950 (Stein's 1926–27 survey of northern Baluchistan; the "Zhob cultures"). Entry "Zhob Culture", Oxford Reference (Oxford University Press). https://www.oxfordreference.com/display/10.1093/oi/authority.20110803133446747
- Aurel Stein, An Archaeological Tour in Waziristan and Northern Baluchistan, Memoirs of the Archaeological Survey of India No. 37, Calcutta, 1929 (survey of Periano Ghundai and other Zhob valley mounds).
- National Disaster Management Authority library, District Development Profile 2011: Zhob, Planning and Development Department, Government of Balochistan / UNICEF, 2011. https://library.ndma.gov.pk/storage/uploads/doc-files/District_Development_Profile_Zhob.pdf · Pakistan Poverty Alleviation Fund, Situational Analysis Report: District Profile Zhob. https://www.ppaf.org.pk/doc/programmes/Situational%20Analysis%20Report%20of%20PPR%20-%20District%20Profile%20Zhob.pdf



