ضلع کچھی: درۂ بولان کے دہانے پر تپتا ہوا میدان
کچھی بلوچستان کا وہ میدانی ضلع ہے جو درۂ بولان کے دہانے سے جنوب کی طرف پھیلا ہوا ہے۔ انگریز دور کا گزیٹیئر، جغرافیہ دان ہولڈچ کے حوالے سے، کچھی کو "دریائے سندھ کی وادی سے شمال کی طرف پہاڑوں…

تعارف اور محلِ وقوع
کچھی بلوچستان کا وہ میدانی ضلع ہے جو درۂ بولان کے دہانے سے جنوب کی طرف پھیلا ہوا ہے۔ انگریز دور کا گزیٹیئر، جغرافیہ دان ہولڈچ کے حوالے سے، کچھی کو "دریائے سندھ کی وادی سے شمال کی طرف پہاڑوں میں گھسا ہوا ایک ہموار تکونی صحرائی ٹکڑا" کہتا ہے، جس کی پہچان اس کی ہموار سطح، گرمیوں کی شدید گرمی اور پانی کی کمی ہے۔ اسی گزیٹیئر کے مطابق اس میدان کا کوئی حصہ سطحِ سمندر سے 500 فٹ سے زیادہ بلند نہیں، اور آبپاشی کے بغیر یہ "صحرا سے کچھ ہی بہتر" ہے؛ مقامی دستاویزات میں ان ویران حصوں کو "دشتِ اموات" یعنی موت کا صحرا لکھا جاتا تھا۔
پاکستان ادارۂ شماریات کی 2023ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع کچھی کا رقبہ 5,682 مربع کلومیٹر اور آبادی 442,674 ہے، جس میں 233,584 مرد، 209,056 عورتیں اور 34 خواجہ سرا شامل ہیں۔ آبادی کی کثافت تقریباً 78 افراد فی مربع کلومیٹر ہے، اور 18.17 فیصد لوگ شہری علاقوں میں رہتے ہیں۔ ایک گھرانے میں اوسطاً 8.8 افراد ہیں۔ 2017ء میں (موجودہ حدود کے مطابق) آبادی 308,000 تھی، یعنی سالانہ تقریباً 6.25 فیصد اضافہ درج ہوا۔
مردم شماری کے جدول کے مطابق ضلع کے انتظامی حصے یہ ہیں: سنی سب ڈویژن (رقبہ 2,011 مربع کلومیٹر، آبادی 150,821)، بھاگ سب ڈویژن (1,308 مربع کلومیٹر، 83,687)، مچھ سب ڈویژن (708 مربع کلومیٹر، 75,272)، بالاناڑی سب تحصیل (402 مربع کلومیٹر، 60,158)، ڈھاڈر سب ڈویژن (976 مربع کلومیٹر، 49,836) اور خٹن سب تحصیل (277 مربع کلومیٹر، 22,900)۔ صوبائی مردم شماری رپورٹ کے مطابق 2017ء کے بعد بھاگ تحصیل کے کچھ مواضعات ضلع سے الگ کیے گئے۔
جولائی 2026ء کی انتظامی تنظیمِ نو کی رپورٹوں کے مطابق کچھی کو نئی "سیوی" ڈویژن (سابق سبی ڈویژن) میں رکھا گیا ہے، جس میں سیوی (سبی) اور جنوبی ڈیرہ بگٹی بھی شامل ہیں (پرو پاکستانی، 12 جولائی 2026)۔ 2023ء میں کچھی نصیرآباد ڈویژن کا حصہ تھا۔ نوٹیفکیشن کا متن ابھی ہمارے سامنے نہیں، اس لیے یہ صفحہ مردم شماری 2023ء کی حدود کے مطابق ہے۔
تاریخ
کچھی کی تاریخ صدیوں تک سندھ کی تاریخ سے جڑی رہی۔ امپیریل گزیٹیئر (1908ء) کے مطابق ساتویں صدی میں سندھ کے راجہ چچ نے اس کے دارالحکومت قندابیل پر قبضہ کیا، جو غالباً موجودہ گنداوہ ہے۔ عرب اس علاقے کو "ندھا" یا "بدھا" کہتے تھے اور انہوں نے قندابیل کو کئی بار تاراج کیا۔ بعد میں یہ علاقہ سندھ کے سومرہ اور سمہ حکمرانوں کے پاس رہا۔
پندرہویں صدی میں بلوچ یہاں پہنچے۔ پھر ارغون، مغل اور کلہوڑے آئے۔ گزیٹیئر کے مطابق 1740ء میں نادر شاہ نے کلہوڑوں کو مجبور کیا کہ وہ کچھی خانِ قلات میر محبت خان کے حوالے کریں۔ اس کے بعد سے کچھی ریاست قلات کا حصہ رہا، اور گزیٹیئر کے مطابق خوانینِ قلات سردیاں بھاگ اور گنداوہ میں گزارتے تھے۔
پہلی افغان جنگ (1839ء تا 1842ء) میں کچھی انگریزوں کی رسد کے راستے پر تھا اور ان کے زیرِ انتظام رہا۔
لوگ اور زبانیں
2023ء کی مردم شماری کے مادری زبان کے جدول کے مطابق کچھی کئی زبانوں کا ضلع ہے۔ سب سے بڑی زبان بلوچی ہے جو 260,630 افراد، یعنی تقریباً 59 فیصد آبادی کی مادری زبان ہے۔ اس کے بعد سندھی (75,238، تقریباً 17 فیصد)، سرائیکی (54,408، تقریباً 12 فیصد) اور براہوئی (45,355، تقریباً 10 فیصد) ہیں۔ پشتو، پنجابی اور اردو بولنے والوں کی تعداد تقریباً چودہ سو سے ڈھائی ہزار کے درمیان ہے (اردو 1,444، پنجابی 1,631، پشتو 2,492)۔
یہ تنوع پرانا ہے۔ امپیریل گزیٹیئر کے مطابق 1901ء میں اس وقت کی پوری کچھی ڈویژن میں اکثریت جت کاشتکاروں کی تھی، جبکہ بڑے بلوچ قبائل میں رند، مگسی اور لاشاری شامل تھے، اور ڈومکی، کہیری اور عمرانی مشرق میں آباد تھے۔ اسی ماخذ کے مطابق اس وقت عام بولی جانے والی زبان سندھی تھی، اور ساتھ مغربی پنجابی اور بلوچی بھی بولی جاتی تھیں۔ سردیوں میں پہاڑی علاقوں سے بہت سے براہوئی خاندان یہاں آ جاتے تھے۔
مذہب کے جدول کے مطابق ضلع میں 436,547 مسلمان، 3,944 ہندو اور 2,034 مسیحی آباد ہیں۔ مردم شماری کے مطابق دس سال اور اس سے زیادہ عمر کی آبادی میں شرحِ خواندگی صرف 30.20 فیصد ہے (مرد 36.47، خواتین 23.29 فیصد)، اور صوبائی رپورٹ کچھی کو ان آٹھ اضلاع میں شمار کرتی ہے جہاں اسکول سے باہر بچوں کی شرح 70 فیصد سے زیادہ ہے۔
معیشت
کچھی کی زراعت کا انحصار سیلابی پانی پر رہا ہے۔ امپیریل گزیٹیئر لکھتا ہے کہ کچھی کو صحرا کہنا غلط ہے، کیونکہ جہاں پانی پہنچ جائے وہاں اس کی مٹی "انتہائی زرخیز" ہے۔ پہاڑوں سے آنے والے دریاؤں، یعنی ناڑی، بولان، سکلیجی اور مولا، کا سیلابی پانی بڑے مٹی کے بندوں (گنڈھا) کے ذریعے کھیتوں تک لایا جاتا تھا جو کاشتکار مل کر بناتے تھے۔ گزیٹیئر کے مطابق ناڑی پر بنا "گدی" بند سب سے اہم تھا اور بھاگ کے علاقے کی تقریباً ساری کاشت اسی پر منحصر تھی۔
سال میں تین فصلیں ہوتی تھیں، جن میں سب سے اہم خریف کی "ساونڑی" فصل تھی، یعنی جوار، جس کے ساتھ مونگ، موٹھ اور باجرہ بھی بویا جاتا تھا۔ امپیریل گزیٹیئر کے مطابق کچھی کی جوار اپنی عمدگی کے لیے مشہور تھی، اور ناڑی کے بیل پنجاب تک خریدے جاتے تھے۔ ڈھاڈر میں بولان کے پانی سے گندم، جوار، کپاس، تل، خربوزہ اور نیل کاشت ہوتا تھا۔
ادارۂ شماریات کی صوبائی رپورٹ کے مطابق دریائے بولان پر کچھی ڈیم بنایا گیا ہے جو ڈھاڈر شہر کو آبپاشی اور پینے کا پانی فراہم کرتا ہے۔ ضلع کی موجودہ زرعی پیداوار کے سرکاری اعداد اس صفحے کی تیاری کے دوران دستیاب نہیں ہو سکے۔
قابلِ دید مقامات
بھاگ: گزیٹیئر کے مطابق بھاگ تقریباً تین سو سال پرانا شہر ہے جس کا نام بھاگوان نامی ایک چرواہن کے نام پر پڑا جو ڈیرہ غازی خان کے علاقے داجل سے اپنے ریوڑ لے کر یہاں آ بسی تھی۔ شہر کے جنوب مغرب میں "قبۂ شہیداں" کا گنبد ہے، اور شمال مغرب میں میر مصطفیٰ خان کا مقبرہ، جو 1809ء میں تعمیر ہوا۔
ڈھاڈر: درۂ بولان کے مشرقی سرے پر واقع یہ قصبہ گرمی کے لیے مشہور ہے؛ گزیٹیئر کے مطابق یہاں درجۂ حرارت کبھی کبھی 120 درجے فارن ہائیٹ تک پہنچ جاتا تھا۔ ایک مقامی کہاوت، جو گزیٹیئر میں درج ہے، کہتی ہے کہ جب سبی اور ڈھاڈر بنا دیے گئے تو پھر دوزخ بنانے کی کیا ضرورت تھی۔ قصبے کے مغرب میں پیر دوپاسی کا مزار ہے۔
درۂ بولان: امپیریل گزیٹیئر کے مطابق یہ درہ کولپور سے رندلی تک تقریباً 54 میل لمبا ہے اور اس میں بلندی 750 سے 5,900 فٹ تک بدلتی ہے۔ صوبائی مردم شماری رپورٹ وادیٔ بولان کو پیر غائب کے آبشار اور بی بی نانی کے مزار کی جگہ بتاتی ہے۔
قدیم بستیاں: ادارۂ شماریات کی رپورٹ مہر گڑھ کو، جو تقریباً سات ہزار سال قبل مسیح کی بستی ہے، بلوچستان کی قدیم ترین زرعی بستیوں میں شمار کرتی ہے؛ اس کی تفصیل اس اخبار کے سلسلے "بلوچستان: تاریخ کا سفر" کے پہلے باب میں ہے۔
ماخذ
- Pakistan Bureau of Statistics, 7th Population and Housing Census 2023, Table 1: Area, Population by Sex, Sex Ratio, Population Density, Urban Population, Household Size and Annual Growth Rate (Balochistan districts), PDF p. 3 (Kachhi district and sub-divisions). https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_1_balochistan_districts.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, Census 2023, Table 11: Population by Mother Tongue (Balochistan districts), PDF p. 11. https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_11_balochistan_districts.pdf ; Table 12: Literacy Rate, PDF p. 15. https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_12_balochistan_district.pdf ; Table 9: Population by Religion, PDF p. 12. https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_9_balochistan_districts.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, Provincial Census Report 2023: Balochistan, Islamabad, 2025: p. 30 (Kachhi dam on the Bolan), p. 34 (Mehrgarh), p. 42 (Bolan valley, Pir Ghaib, Bibi Nani), p. 47 (Table 2.3, Bhag tehsil mauzas), p. 94 (out-of-school brackets). https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/2020/07/Provincial-Census-Report-2023-Balochistan-1.pdf
- C. F. Minchin (ed.), Baluchistan District Gazetteer Series, Vol. VI: Sarawan, Kachhi and Jhalawan (Kachhi part), Bombay: Times Press, 1907: pp. 1–5 (situation, configuration, rivers, the Gadi dam), p. 11 (climate and the Sibi–Dadhar proverb), p. 65 (principal crops), pp. 187–190 (Bhag, including the 1894 killings that led to Mir Khudadad Khan's abdication; Dadhar and Loveday's grave). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.22668 ; same volume, Sarawan part, pp. 28–29 (Jandrihar and the cession of Kachhi in 1740)
- R. Hughes-Buller (comp.), Imperial Gazetteer of India, Provincial Series: Baluchistan, Calcutta: Superintendent of Government Printing, 1908: p. 136 (Bolan Pass), pp. 164–166 (Kachhi division: history, people, languages, agriculture, cattle). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.120382
- July 2026 restructuring, as recorded in content/districts/00-district-list.md: Dawn, 12 July 2026, https://www.dawn.com/news/2014773/balochistan-undergoes-major-restructuring ; ProPakistani, 12 July 2026, https://propakistani.pk/2026/07/12/balochistan-govt-notifies-new-divisions-and-districts/ (not opened in this session)



