اولیا چلبی: سیاحت نامہ
سترہویں صدی کے استنبول میں ایک نوجوان کو سفر کا ایسا شوق تھا کہ وہ تقریباً چالیس برس تک عثمانی سلطنت اور اس کے پڑوسی ملکوں میں گھومتا رہا، اور جو کچھ دیکھا سنا اسے دس جلدوں میں لکھ ڈالا۔…

سترہویں صدی کے استنبول میں ایک نوجوان کو سفر کا ایسا شوق تھا کہ وہ تقریباً چالیس برس تک عثمانی سلطنت اور اس کے پڑوسی ملکوں میں گھومتا رہا، اور جو کچھ دیکھا سنا اسے دس جلدوں میں لکھ ڈالا۔ یونیسکو اس کتاب کو "اسلامی ادب کا، اور شاید عالمی ادب کا بھی، سب سے طویل اور مفصل سفرنامہ" کہتا ہے۔ یہ اولیا چلبی (Evliya Çelebi) کا "سیاحت نامہ" (Seyahatname) ہے۔
محل کے سنار کا بیٹا
ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق اولیا چلبی 25 مارچ 1611ء کو استنبول کے محلے اُن قپانی میں پیدا ہوئے۔ اپنی کتاب میں وہ خود اپنی پیدائش 1020 ہجری کی 10 محرم لکھتے ہیں۔ ان کے والد درویش محمد ظلّی توپ قاپی محل کے سناروں کے سربراہ تھے، اس لیے خاندان کا دربار سے قریبی تعلق تھا۔
انہوں نے محل کے مدرسے "اندرون" میں خوش نویسی، موسیقی اور زبانیں سیکھیں۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق وہ عربی، فارسی اور یونانی جانتے تھے اور کچھ لاطینی بھی۔ سلطان مراد چہارم (Murad IV) سے ان کی دوستی سلطان کی وفات تک قائم رہی۔
پہلا سفر
اولیا لکھتے ہیں کہ ان کا پہلا سفر 1050 ہجری (1640ء) میں ہوا۔ وہ گھر والوں کو بتائے بغیر بیس دوستوں کے ساتھ مودانیا کی ایک کشتی میں بیٹھے اور بُرصہ (Bursa) کی طرف روانہ ہوئے۔ ان کے ایک دوست نے انہیں دو ہفتے بُرصہ کی تاریخی عمارتیں دیکھنے کی دعوت دی تھی۔
ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق 1640ء–1641ء ہی میں بحیرۂ اسود کے ایک سفر میں وہ ڈوبتے ڈوبتے بچے۔ اس کے بعد ان کی زندگی مسلسل سفر میں گزری۔ ان کے ایک رشتہ دار ملک احمد پاشا (Melek Ahmed Pasha) ان کے سرپرست رہے، اور بعد میں کوپرولو خاندان کے وزرائے اعظم بھی ان کی سرپرستی کرتے رہے۔
چالیس برس، تین براعظم
ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا ان کے سفروں کے بڑے مرحلے یوں بتاتا ہے:
- 1645ء–1648ء: مشرقی اناطولیہ، صفوی ایران، قفقاز اور شام کا علاقہ۔
- 1650ء–1651ء: ملک احمد پاشا کی ملازمت میں سفر۔
- 1663ء–1668ء: ہنگری اور جزیرہ کریٹ، اور ایک سفارتی وفد کے ساتھ آسٹریا، جہاں وہ ویانا گئے۔
- 1671ء–1672ء: حجاز کا سفر، جس کے بعد وہ مصر میں رہنے لگے۔
- تقریباً 1672ء سے 1683ء تک: مصر، سوڈان اور حبشہ کے سفر، اور ساتھ ساتھ اپنی کتاب کی تیاری۔
یونیسکو کے مطابق ان کے سفر 1640ء سے 1680ء تک، یعنی تقریباً چالیس برس پر پھیلے ہوئے ہیں۔
دس جلدیں
"سیاحت نامہ" کی ہر جلد کچھ خاص علاقوں کے بارے میں ہے۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق پہلی جلد صرف استنبول اور اس کے گرد و نواح کے بارے میں ہے۔ دوسری جلد میں بُرصہ، اناطولیہ، ترابزون، ارض روم، قفقاز، کریمیا اور کریٹ ہیں۔ تیسری اور چوتھی جلدوں میں قونیہ، دمشق، صوفیہ، بغداد، بصرہ، دیار بکر، وان اور ایران کے حصے ہیں۔ پانچویں سے آٹھویں جلد تک بلقان، ہنگری، بوسنیا، البانیہ، ولاشیا، مالدووا، ویانا، کریمیا، ایتھنز اور بحیرۂ ایجیئن کے جزیرے آتے ہیں۔ نویں جلد اناطولیہ کے مغربی ساحل، ازمیر، روڈس، حلب اور حجاز کے بارے میں ہے، اور دسویں جلد مصر، قاہرہ، اسکندریہ، سوڈان اور حبشہ کے بارے میں۔
یونیسکو کے مطابق اس کتاب میں جغرافیہ، شہروں کی بناوٹ، انتظامیہ، شہری ادارے، معاشرتی اور معاشی نظام، لوک روایات اور خوابوں کی تعبیر تک سب کچھ ملتا ہے۔ پہلی جلد میں اولیا استنبول کے پیشہ ور گروہوں کا ایک بڑا جلوس بیان کرتے ہیں جس میں ہر پیشے کے لوگ الگ الگ گزرتے ہیں، اور ہر گروہ کی تعداد بھی لکھتے ہیں؛ مثلاً ان کے بقول قہوہ خانوں کے داستان گو (مدّاح) اسّی تھے۔
سچ اور کہانی
اولیا کا انداز بیانیہ ہے اور وہ مبالغے سے نہیں گھبراتے۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق محقق رابرٹ ڈینکوف (Robert Dankoff) لکھتے ہیں کہ اولیا کو عرصے تک خیالی کہانیاں گھڑنے والا اور مبالغہ کرنے والا سمجھا جاتا رہا، مگر حالیہ تحقیق نے ان کی بہت سی باتوں کو معتبر ثابت کیا ہے۔ ڈینکوف کے خیال میں یہ کتاب ایک ایسے ذہن کی عکاس ہے جو حقیقت نگاری اور "عجائب و غرائب" کے شوق کے درمیان آتا جاتا رہتا ہے۔
اسی لیے کتاب کے کچھ حصوں پر محققین متفق نہیں۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق چھٹی جلد میں ہالینڈ، برانڈن برگ اور سویڈن کے سفروں کا ذکر ہے جن کی صداقت پر بحث ہے، اور دسویں جلد کی افریقی مہمات کے بعض بیانات میں خیالی عناصر ملتے ہیں۔
گمشدہ قبر اور دوبارہ دریافت
اولیا چلبی کی وفات کی تاریخ اور جگہ دونوں معلوم نہیں۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا ان کا انتقال تقریباً 1682ء اور 1685ء کے درمیان بتاتا ہے، اور ان کی قبر کا بھی کسی کو علم نہیں۔
ان کی وفات کے بعد کتاب بڑی حد تک بھلا دی گئی۔ انیسویں صدی میں مستشرق یوزف فان ہامر پرگشٹال (Joseph von Hammer-Purgstall) نے اسے پھر سے متعارف کرایا اور اس کی پہلی دو جلدوں کا ترجمہ کیا۔ ان کا انگریزی ترجمہ "Narrative of Travels in Europe, Asia, and Africa" کے نام سے 1834ء میں لندن کے اورینٹل ٹرانسلیشن فنڈ نے شائع کرنا شروع کیا۔
ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق 2011ء میں ان کی پیدائش کے چار سو سال پورے ہونے پر یونیسکو نے یہ سالگرہ منائی۔ 2013ء میں یونیسکو نے توپ قاپی محل کی لائبریری اور سلیمانیہ کتب خانے میں محفوظ "سیاحت نامہ" کے نسخوں کو اپنی "یادِ عالم" (Memory of the World) فہرست میں شامل کیا۔
اگلی قسط: ایبل تسمان: تسمانیہ اور نیوزی لینڈ۔
ماخذ
- Batuhan Aksu, "Evliya Çelebi", World History Encyclopedia, 6 August 2026 (life, education, travel phases, the ten volumes, reliability and Dankoff's assessment, death, rediscovery, 2011 anniversary, 2013 listing). https://www.worldhistory.org/Evliya_Celebi/
- UNESCO Memory of the World, "Evliya Çelebi's 'Book of Travels' in the Topkapı Palace Museum Library and the Süleymaniye Manuscript Library" (inscribed 2013; travels 1640–80; scope of the work). https://www.unesco.org/en/memory-world/evliya-celebis-book-travels-topkapi-palace-museum-library-and-suleymaniye-manuscript-library
- Evliya Efendi, Narrative of Travels in Europe, Asia, and Africa in the Seventeenth Century, translated from the Turkish by Ritter Joseph von Hammer, Oriental Translation Fund, London, 1834–1846 (vol. I: birth in the reign of Ahmed I; the procession of the guilds; vol. II opening: the first journey to Bursa). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.181353
- "Evliya Çelebi", Wikipedia (pointer only, to the UNESCO anniversary and the Vienna visit). https://en.wikipedia.org/wiki/Evliya_%C3%87elebi







