ربان بار صوما: بیجنگ کا راہب جو پیرس اور روم تک پہنچا
ہم مارکو پولو کو یاد رکھتے ہیں جو یورپ سے چین گیا، مگر اسی زمانے میں ایک مسافر الٹی سمت بھی چلا تھا۔ بیجنگ کا ایک بوڑھا راہب، ربان بار صوما (Rabban Bar Sauma)، منگول بادشاہ کا ایلچی بن کر…

ہم مارکو پولو کو یاد رکھتے ہیں جو یورپ سے چین گیا، مگر اسی زمانے میں ایک مسافر الٹی سمت بھی چلا تھا۔ بیجنگ کا ایک بوڑھا راہب، ربان بار صوما (Rabban Bar Sauma)، منگول بادشاہ کا ایلچی بن کر قسطنطنیہ، روم، پیرس اور فرانس کے جنوب میں انگلستان کے بادشاہ کے دربار تک پہنچا۔ اس نے یورپ کو اسی حیرت سے دیکھا جس حیرت سے یورپی سیاح مشرق کو دیکھتے تھے، اور اپنا حال خود لکھ چھوڑا۔
خان بالیق کا لڑکا
برطانوی ماہرِ مشرقیات ای اے والس بج (E. A. Wallis Budge) نے 1928ء میں اس سفرنامے کا انگریزی ترجمہ "دی مونکس آف قبلائی خان" (The Monks of Kublai Khan) کے نام سے شائع کیا۔ ان کے تعارف کے مطابق صوما کے والد شیبان اور والدہ کیامتا ایک خوشحال گھرانے سے تھے اور "خان بالیق" یعنی "خان کا شہر" میں رہتے تھے، جو آج کا بیجنگ ہے۔ وکی پیڈیا کے مطابق صوما تقریباً 1220ء میں پیدا ہوئے۔ "بار صوما" کا مطلب ہے "روزے کا بیٹا"، اور "ربان" سریانی زبان میں "ہمارے استاد" کے معنی میں راہبوں کا ایک اعزازی لقب ہے۔
بج کے مطابق جوانی میں صوما نے دنیا ترک کر دی، اپنا مال غریبوں میں بانٹ دیا اور بیجنگ سے ایک دن کی مسافت پر پہاڑ کے ایک غار میں جا بسے۔ ان کی شہرت پھیلی تو کوشنگ شہر کا ایک نوجوان مرقس (Mark) ان کا شاگرد بن گیا۔ دونوں نے بیت المقدس کی زیارت کا ارادہ کیا اور مغرب کی طرف چل پڑے۔
شاہراہِ ریشم پر مشکلات
بج کے مطابق یہ دونوں پہلے تنگوت کے علاقے سے گزرے، پھر دو مہینے تقریباً بے آب صحراؤں میں چل کر ختن (Khotan) پہنچے۔ وہاں قبلائی خان اور اس کے ایک حریف کے درمیان جنگ چھڑی ہوئی تھی، راستے بند تھے اور اناج کم تھا، اس لیے انہیں چھ مہینے رکنا پڑا۔ اس کے بعد وہ کاشغر (Kashgar) پہنچے، وہی شہر جسے مارکو پولو "کسکار" لکھتا ہے، مگر شہر لٹ چکا تھا اور لوگ بھاگ گئے تھے۔
کاشغر سے آگے قبلائی کے حریف قیدو (Kaidu) کا علاقہ شروع ہوتا تھا، جہاں قافلوں کے راستے غیر محفوظ تھے۔ بج لکھتے ہیں کہ دونوں راہب بڑی مشکل سے خراسان پہنچے، تقریباً سب کچھ راستے میں کھو چکے تھے، اور طوس کے قریب ایک خانقاہ میں پناہ لی۔ وہ کبھی بیت المقدس نہ پہنچ سکے۔ اس کے بجائے، بج کے مطابق، نوجوان مرقس کو پہلے ایک بڑا مذہبی عہدہ ملا اور پھر 1281ء میں وہ اپنے کلیسا کا سربراہ (پیٹریارک) منتخب ہو گیا اور "یہب اللہ سوم" کہلایا۔
ارغون خان کا ایلچی
ایران پر اس وقت منگول ایلخانی حکومت تھی۔ وکی پیڈیا کے مطابق ایلخانی حکمران ارغون خان (Arghun) مصر اور شام کے مملوک سلطانوں کے خلاف یورپی بادشاہوں سے فوجی اتحاد چاہتا تھا، اور اسی سلسلے میں 1287ء میں اس نے بوڑھے صوما کو یورپ بھیجا۔ بج کے مطابق ارغون نے یونان (بازنطینی سلطنت) اور روم کے بادشاہوں کے نام خط اور تحفے تیار کروائے اور صوما کو شاہی اختیار کی نشانی "پائزہ"، دو ہزار مثقال سونا اور تیس اچھے سواری کے گھوڑے دیے۔
صوما خشکی کے راستے بحیرۂ اسود کے کنارے سامسون پہنچے اور وہاں سے جہاز میں قسطنطنیہ آئے۔ بازنطینی شہنشاہ اندرونیکوس دوم (Andronicus II) نے ان کی عزت سے مہمان نوازی کی۔ وکی پیڈیا کے مطابق صوما نے آیا صوفیہ کا بڑے جوش سے ذکر کیا ہے۔
اٹلی: آتش فشاں اور بحری جنگ
قسطنطنیہ سے بحری سفر میں صوما نے ایک آتش فشاں کو آگ اگلتے دیکھا؛ وکی پیڈیا کے مطابق یہ 18 جون 1287ء کو جزیرہ سسلی میں ماؤنٹ ایٹنا کا بڑا دھماکا تھا۔ بج لکھتے ہیں کہ دو مہینے کے تھکا دینے والے سفر کے بعد وہ ناپولی (Naples) اترے، اور وہاں ایک مکان کی چھت سے دو بادشاہوں کے بحری بیڑوں کی لڑائی دیکھی۔
روم پہنچے تو معلوم ہوا کہ پوپ ہونوریس چہارم فوت ہو چکے ہیں۔ کارڈینلز نے عزت سے ٹھہرایا مگر کہا کہ نئے پوپ کے انتخاب تک ارغون کے خط کا جواب نہیں دیا جا سکتا۔ صوما وہاں سے تسکانی اور پھر جینوا (Genoa) گئے۔ بج کے مطابق جینوا میں کوئی بادشاہ نہیں تھا، لوگ ایک جمہوری نظام کے تحت رہتے تھے، جو مشرق سے آنے والے مسافر کے لیے حیرت کی بات تھی۔
پیرس کی درس گاہیں اور انگلستان کا بادشاہ
تقریباً ایک ماہ کے سفر کے بعد صوما پیرس پہنچے۔ فرانس کے بادشاہ فلپ چہارم (Philip IV) نے ان کا شاندار استقبال کیا اور ارغون کا خط پڑھ کر مدد کا وعدہ کیا۔ صوما ایک مہینہ پیرس میں رہے اور اپنے سفرنامے میں لکھا کہ شہر میں تیس ہزار طالب علم تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ بادشاہ نے جواب کے ساتھ اپنا ایک امیر ارغون کے پاس بھیجنے کا وعدہ کیا؛ وکی پیڈیا کے مطابق یہ امیر، گوبیر دی ہیلیویل، 2 فروری 1288ء کو روانہ ہوا۔
پیرس سے صوما فرانس کے جنوب مغربی علاقے گیسکنی (Gascony) پہنچے، جو اس زمانے میں انگلستان کے بادشاہ کے تحت تھا۔ یہاں ان کی ملاقات انگلستان کے بادشاہ ایڈورڈ اول (Edward I) سے ہوئی، جس نے انہیں تحفے اور سفر خرچ دیا۔ وکی پیڈیا کے مطابق ایڈورڈ نے سفارت کا گرم جوشی سے خیرمقدم کیا، مگر اپنے ملک کے اندرونی جھگڑوں کے باعث کسی فوجی اتحاد میں شامل نہ ہو سکا۔
واپسی اور سفرنامے کی دریافت
صوما نے سردیاں جینوا میں گزاریں۔ بج کے مطابق وہاں انہوں نے ایک کارڈینل سے شکایت کی کہ وہ پورا ایک سال نئے پوپ کے انتظار میں ضائع کر چکے ہیں۔ آخر فروری 1288ء میں نکولس چہارم (Nicholas IV) پوپ منتخب ہوئے، صوما کو روم بلایا، عزت سے رخصت کیا اور واپسی کے خرچ کے لیے ڈیڑھ ہزار مثقال سونا دیا۔ وکی پیڈیا کے مطابق صوما 1288ء میں ایلخانی دربار واپس پہنچے۔ اگلے برس، 1289ء میں، ارغون نے فرانس کے بادشاہ کو منگول رسم الخط میں جو خط لکھا اس میں صوما کی سفارت کا حوالہ موجود ہے؛ یہ خط آج بھی فرانس کے قومی آرکائیوز میں محفوظ ہے۔ اتحاد کبھی عمل میں نہ آیا۔
بج لکھتے ہیں کہ ارغون نے خوش ہو کر صوما کو اپنے دربار میں مقام دیا۔ صوما 1294ء میں بغداد میں فوت ہوئے۔
بج کے مطابق یہ سفرنامہ اصل میں فارسی میں لکھا گیا تھا، جس کا مختصر سریانی ترجمہ ہم تک پہنچا۔ صدیوں تک یہ گم رہا، یہاں تک کہ مارچ 1887ء میں کردستان کے ایک گاؤں میں اس کا ایک قلمی نسخہ ملا اور 1888ء میں پیرس سے پہلی بار شائع ہوا۔ وکی پیڈیا کے بقول یہ سفرنامہ صلیبی جنگوں کے آخری دور کے یورپ کی ایک ایسی تصویر ہے جو مشرق سے آنے والے ایک ذہین مبصر کی آنکھ سے دیکھی گئی۔
اگلی قسط: ابن بطوطہ: تین براعظموں کا سیاح اور سندھ کا سفر۔
ماخذ
- E. A. Wallis Budge (translator), The Monks of Kûblâi Khân, Emperor of China, or the History of the Life and Travels of Rabban Ṣâwmâ, Envoy and Plenipotentiary of the Mongol Khâns to the Kings of Europe, and Markôs who as Mâr Yahbh-Allâhâ III became Patriarch of the Nestorian Church in Asia, The Religious Tract Society, London, 1928 (Preface; Introduction pp. 42–72; translation of the embassy chapters). https://archive.org/details/monksofkublaikha0000eawa
- "Rabban Bar Ṣawma", Wikipedia (pointer only, for birth year, the 1287–1288 dates, the Samsun sea route, Etna, Gobert de Helleville, Edward I and death in Baghdad). https://en.wikipedia.org/wiki/Rabban_Bar_Sauma
- Marco Polo, The Book of Ser Marco Polo, tr. Henry Yule, rev. Henri Cordier, John Murray, London, 1903, vol. 1, Book I ch. xxxiii "Of the Kingdom of Cascar" (for Kashgar, cited by Budge). https://www.gutenberg.org/ebooks/10636
- Wikimedia Commons, "File:ArghunLetterToPhilippeLeBelExtract1289.jpg" (Arghun's letter to Philip IV, 1289; public domain). https://commons.wikimedia.org/wiki/File:ArghunLetterToPhilippeLeBelExtract1289.jpg







