بارتھولومیو دیاز: راس امید کا چکر
1488ء کے شروع میں تین پرتگالی جہاز افریقہ کے مغربی ساحل پر جنوب کی طرف بڑھ رہے تھے کہ طوفانوں کی وجہ سے انہیں ساحل چھوڑ کر کھلے سمندر میں جنوب کی طرف جانا پڑا۔ کئی دن بعد جب وہ…
1488ء کے شروع میں تین پرتگالی جہاز افریقہ کے مغربی ساحل پر جنوب کی طرف بڑھ رہے تھے کہ طوفانوں کی وجہ سے انہیں ساحل چھوڑ کر کھلے سمندر میں جنوب کی طرف جانا پڑا۔ کئی دن بعد جب وہ دوبارہ زمین کی طرف مڑے تو ساحل وہاں نہیں تھا جہاں ہونا چاہیے تھا۔ انہیں شمال کی طرف جا کر زمین ملی، اور تب پتا چلا کہ وہ افریقہ کے جنوبی سرے کا چکر لگا چکے ہیں، اسے دیکھے بغیر۔ اس بیڑے کا سالار بارتھولومیو دیاز (Bartolomeu Dias) تھا۔
پس منظر: پتھر کے ستون
انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق دیاز کی ابتدائی زندگی کے بارے میں تقریباً کچھ معلوم نہیں؛ وہ غالباً 1450ء کے لگ بھگ پیدا ہوا، اور شاہی گھرانے کا ایک "اسکوائر" تھا، جو کوئی بڑا عہدہ نہیں تھا۔
1434ء میں کیپ بوجادور کے عبور کے بعد پرتگالی ملاح ساحل کے ساتھ ساتھ برابر جنوب کی طرف بڑھتے رہے۔ بریٹانیکا کے مطابق 1474ء میں بادشاہ آفونسو پنجم نے یہ کام اپنے بیٹے شہزادہ جان کے سپرد کیا، جو 1481ء میں بادشاہ جان دوم بنا اور اس نے حکم دیا کہ افریقہ کی جنوبی حد معلوم کی جائے۔ ملاحوں کو "پادراؤ" (padrão) نامی پتھر کے ستون دیے جاتے تھے جو وہ نئی جگہوں پر نصب کرتے تھے۔ ان میں سے ایک کپتان دیوگو کاؤ (Diogo Cão) دریائے کانگو تک پہنچا اور پھر انگولا کے ساحل کے ساتھ جنوب میں تقریباً 22 درجے عرض بلد تک گیا۔ اس کے بعد بادشاہ نے نئی مہم دیاز کے سپرد کی۔
تین جہاز
بریٹانیکا کے مطابق دیاز کے بیڑے میں تین جہاز تھے: اس کا اپنا جہاز "ساؤ کرستووا" (São Cristóvão)، اس کے ساتھی ژوآؤ انفانتے کا "ساؤ پنتالیاؤ" (São Pantaleão)، اور رسد کا ایک جہاز جس کا کپتان دیاز کا بھائی پیرو تھا (بعض ماخذ میں اس کا نام دیوگو ہے)۔ عملے میں اس زمانے کے بہترین پائلٹ شامل تھے، جن میں پیرو دے الینکر (Pêro de Alenquer) اور ژوآؤ دے سانتیاگو بھی تھے جو پہلے کاؤ کے ساتھ سفر کر چکے تھے۔
روانگی کی تاریخ پر اختلاف ہے۔ سولہویں صدی کا پرتگالی مؤرخ ژوآؤ دے باروش (João de Barros) لکھتا ہے کہ دیاز اگست 1486ء میں روانہ ہوا اور سولہ مہینے سترہ دن باہر رہا۔ مگر بریٹانیکا کے مطابق اس زمانے کے دو دوسرے لوگ، دوارتے پاشیکو پیریرا (Duarte Pacheco Pereira) اور کرسٹوفر کولمبس، اس کی واپسی دسمبر 1488ء میں بتاتے ہیں، اس لیے اب عام طور پر مانا جاتا ہے کہ وہ اگست 1487ء میں روانہ ہوا تھا۔ ہکلوٹ سوسائٹی کے ترجمے میں جارج کمبل (George Kimble) لکھتے ہیں کہ 1488ء کی تاریخ کی تائید کولمبس کے ہاتھ کے لکھے دو حاشیوں سے بھی ہوتی ہے، اور یہ کہ پاشیکو نے تقریباً 1505ء میں لکھا جبکہ باروش تقریباً 1550ء میں۔
راس کو دیکھے بغیر
بریٹانیکا کے مطابق دیاز کاؤ کے آخری ستون سے آگے نکلا، 4 دسمبر کو "سینٹ باربرا کی زمین"، 8 دسمبر کو والوس بے اور 26 دسمبر کو آج کی الزبتھ بے پہنچا۔ 6 جنوری 1488ء کے بعد طوفانوں نے اسے ساحل کے ساتھ آگے نہ بڑھنے دیا اور وہ کئی دن زمین سے اوجھل جنوب کی طرف چلتا رہا۔ جب وہ مشرق کی طرف مڑا تو کوئی زمین نظر نہ آئی، اور صرف شمال کی طرف جانے پر 3 فروری کو ساحل دکھائی دیا۔ یوں وہ راس کو دیکھے بغیر اس کا چکر لگا چکا تھا۔
جس خلیج میں وہ پہنچے اس کا نام "انگرا دے ساؤ براش" (سینٹ بلیز کی خلیج) رکھا گیا، کیونکہ وہ دن اسی کے نام سے منسوب تھا، اور وہاں ملنے والے مویشی چرانے والوں کی وجہ سے اسے "گوالوں کی خلیج" بھی کہا گیا۔ ہکلوٹ سوسائٹی کے لیے واسکو ڈے گاما کے سفر کا روزنامچہ مرتب کرنے والے ای جی ریونسٹائن (E. G. Ravenstein) کے مطابق یہ آج کی موسل بے (Mossel Bay) ہے۔
ملاحوں کا فیصلہ
دیاز مشرق کی طرف بڑھتا ہوا آج کی الگوا بے تک پہنچا۔ بریٹانیکا کے مطابق یہاں عملہ آگے جانے پر راضی نہ تھا۔ دیاز نے اپنے تمام افسروں کی رائے باقاعدہ لکھوائی، اور سب نے متفقہ طور پر واپسی کے حق میں رائے دی۔ آخر وہ صرف چند دن اور آگے جانے پر راضی ہوئے اور ایک دریا تک پہنچے جس کا نام ساؤ پنتالیاؤ کے پائلٹ کے نام پر "ریو دو انفانتے" رکھا گیا؛ یہ آج جنوبی افریقہ کا دریائے گریٹ فش (Great Fish River) ہے۔ تیز دھاروں کے سامنے دیاز کو لوٹنا پڑا۔
نو برس بعد جب واسکو ڈے گاما کے جہاز اسی ساحل سے گزرے تو ان کے روزنامچے میں لکھا گیا کہ "فلیٹ آئی لینڈز سے دیاز کے نصب کیے ہوئے آخری ستون تک پانچ لیگ ہیں، اور اس ستون سے ریو دو انفانتے تک پندرہ لیگ"۔ بریٹانیکا کے مطابق دیاز کا ایک ستون، "ساؤ گریگوریو"، 1938ء میں دریائے گریٹ فش سے تقریباً 48 کلومیٹر پہلے ایک جزیرے سے ملا۔
"اچھی امید" کی راس
واپسی پر، مئی 1488ء میں، دیاز نے آخرکار وہ راس دیکھی جس کا وہ دیکھے بغیر چکر لگا آیا تھا۔ اس کے نام کے بارے میں دو روایتیں ہیں۔ باروش کے مطابق دیاز نے اسے "طوفانوں کی راس" کہا اور بادشاہ جان دوم نے اس کا نام بدل کر "راس امید" (Cape of Good Hope) رکھا۔ مگر دوارتے پاشیکو پیریرا، جو واپسی میں پرنسپے کے جزیرے پر دیاز سے ملا تھا، اپنی کتاب "ایسمیرالدو دے سیتو اوربس" میں لکھتا ہے کہ دیاز نے خود یہ نام رکھا: جب اس نے دیکھا کہ یہاں ساحل شمال اور شمال مشرق کی طرف مڑ رہا ہے، "جس سے ہندوستان کی دریافت کی بڑی امید پیدا ہوئی"، تو اس نے اسے "اچھی امید کی راس" کہا۔ بریٹانیکا کے مطابق پاشیکو کی بات زیادہ قرینِ قیاس ہے۔
پاشیکو اس راس کا عرض بلد ساڑھے چونتیس درجے جنوب لکھتا ہے (کمبل کے مطابق اصل میں 34 درجے 21 منٹ)۔ وہ لکھتا ہے کہ یہ زمین بہت اونچی ہے، اپریل سے ستمبر تک یہاں سخت سردی اور طوفان رہتے ہیں، اور یہاں گائیں، بکریاں، بھیڑیں اور مچھلی بہت ہیں۔
واپسی کے سفر کا زیادہ حال معلوم نہیں۔ بریٹانیکا کے مطابق دیاز پرنسپے، آج کے لائبیریا کے ساحل اور گھانا میں پرتگالیوں کی تجارتی چوکی مینا سے ہوتا ہوا دسمبر 1488ء میں پرتگال پہنچا۔
بعد کی زندگی
دیاز کو بادشاہ کی طرف سے کیا صلہ ملا، یہ معلوم نہیں۔ بریٹانیکا کے مطابق بعد میں اسے واسکو ڈے گاما کی مہم کے دو جہازوں، "ساؤ گیبریل" اور "ساؤ رافائیل"، کی تعمیر کی نگرانی سونپی گئی، اور 1497ء میں وہ ڈے گاما کے ساتھ صرف کیپ ورڈ جزائر تک گیا۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق ڈے گاما کے عملے میں دیاز کا چیف پائلٹ پیرو دے الینکر بھی شامل تھا، جو راس کا تجربہ رکھتا تھا؛ اور جہاں دیاز ساحل کے ساتھ ساتھ مخالف ہواؤں اور دھاروں سے لڑتا گیا تھا، ڈے گاما نے کھلے سمندر میں بڑا چکر لگا کر موافق ہوائیں پکڑیں۔
1500ء میں دیاز پیدرو آلواریس کابرال (Pedro Álvares Cabral) کے بیڑے کے ساتھ ہندوستان کے لیے روانہ ہوا، جو راستے میں برازیل کے ساحل پر پہنچا۔ بریٹانیکا کے مطابق اگلے مہینے، 29 مئی 1500ء کو، دیاز کا جہاز اسی راس امید کے قریب ایک طوفان میں ڈوب گیا جس کا راستہ اس نے بارہ برس پہلے کھولا تھا۔
اگلی قسط: احمد بن ماجد: بحرِ ہند کا استاد ملاح۔
ماخذ
- Harold V. Livermore and the Editors, "Bartolomeu Dias", Encyclopaedia Britannica (early life; Cão's voyages; the fleet and pilots; the dating; the voyage, Angra de São Brás, Algoa Bay, the officers' vote, Rio do Infante; the naming of the Cape; return; São Gregório pillar; later life and death). https://www.britannica.com/biography/Bartolomeu-Dias
- Duarte Pacheco Pereira, Esmeraldo de Situ Orbis, translated and edited by George H. T. Kimble, Hakluyt Society, Second Series no. LXXIX, London, 1937, Book I ch. vii ("Concerning the discovery of Cabo de Boa Esperança") and Kimble's notes on Dias's dates and the latitude. https://archive.org/details/dli.ministry.01961
- E. G. Ravenstein (trans. and ed.), A Journal of the First Voyage of Vasco da Gama, 1497–1499, Hakluyt Society, First Series no. 99, London, 1898 (entry for 15–16 December 1497 and notes 52, 63, 64: Pêro de Alenquer, Dias's last pillar, Mossel Bay = São Brás, Rio do Infante = Great Fish River). Project Gutenberg eBook #46440. https://www.gutenberg.org/ebooks/46440
- Mark Cartwright, "Vasco da Gama", World History Encyclopedia (Dias's coastal route; Dias's chief pilot Pêro de Alenquer in da Gama's crew). https://www.worldhistory.org/Vasco_da_Gama/



