واسکو ڈے گاما: یورپ سے ہندوستان کا بحری راستہ
ہفتہ، 8 جولائی 1497ء کو پرتگال کے دارالحکومت لزبن کے قریب ریستیلو (Restelo) کے ساحل سے چار جہاز روانہ ہوئے۔ ان کا سالار واسکو ڈے گاما (Vasco da Gama) تھا اور منزل ہندوستان۔ اس سے پہلے کوئی یورپی جہاز افریقہ…

ہفتہ، 8 جولائی 1497ء کو پرتگال کے دارالحکومت لزبن کے قریب ریستیلو (Restelo) کے ساحل سے چار جہاز روانہ ہوئے۔ ان کا سالار واسکو ڈے گاما (Vasco da Gama) تھا اور منزل ہندوستان۔ اس سے پہلے کوئی یورپی جہاز افریقہ کے گرد چکر کاٹ کر ہندوستان نہیں پہنچا تھا۔ اس سفر کا حال ایک گمنام ملاح کے روزنامچے میں محفوظ ہے جسے جغرافیہ دان ای جی ریونسٹائن (E. G. Ravenstein) نے 1898ء میں ہکلوٹ سوسائٹی کے لیے انگریزی میں ترجمہ کیا۔
بیڑا اور عملہ
روزنامچے کا پہلا جملہ ہے کہ 1497ء میں بادشاہ دوم مانوئیل (Manuel I) نے "دریافتوں اور مسالوں کی تلاش" کے لیے چار جہاز بھیجے۔ ریونسٹائن کے مطابق سالار کا جہاز "ساؤ گابریئل" (São Gabriel) تھا، دوسرا "ساؤ رافائیل" (São Rafael) جس کا کپتان واسکو کا بھائی پاؤلو ڈے گاما تھا، تیسرا "بیریو" (Berrio) نامی چھوٹا جہاز جس کا کپتان نکولاؤ کوئیلو (Nicolau Coelho) تھا، اور چوتھا رسد کا جہاز۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا میں مارک کارٹ رائٹ (Mark Cartwright) لکھتے ہیں کہ ساتھ پیرو دے الینکر (Pêro de Alenquer) نامی پائلٹ بھی تھا جو اس سے پہلے بارتولومیو دیاس (Bartolomeu Dias) کے ساتھ افریقہ کی جنوبی نوک تک جا چکا تھا۔
ریونسٹائن کے مطابق پرانے ماخذ عملے کی تعداد 118 سے 260 تک بتاتے ہیں، اور وہ خود 170 کو حقیقت کے قریب سمجھتے ہیں۔
سمندر کے بیچ ترانوے دن
جہاز 15 جولائی کو جزائر کناری کے پاس سے گزرے۔ گہری دھند میں بچھڑنے کے بعد سب 22 جولائی کو کیپ ورڈ کے جزیرہ سال (Sal) کے قریب پھر اکٹھے ہو گئے۔ 3 اگست کو وہ جزیرہ سانتیاگو سے نکلے، اور یہیں سے اس سفر کا سب سے دلیرانہ حصہ شروع ہوا۔
ریونسٹائن لکھتے ہیں کہ پہلے کے ملاح افریقہ کے ساحل کے ساتھ ساتھ چلتے تھے، مگر واسکو ڈے گاما نے کیپ ورڈ سے سیدھا بحرِ اوقیانوس کے بیچ میں ایک لمبا چکر کاٹا تاکہ موافق ہوائیں مل سکیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جہاز ترانوے دن تک کھلے سمندر میں رہے اور کوئی ساحل نظر نہ آیا؛ ریونسٹائن کے نزدیک جنوبی بحرِ اوقیانوس کا یہ پہلا عبور بحری مہمات کی تاریخ کے بڑے کارناموں میں سے ہے۔ آخر 4 نومبر کو صبح نو بجے زمین نظر آئی۔ ملاحوں نے اپنے بہترین کپڑے پہنے، توپیں داغ کر سالار کو سلامی دی اور جہازوں کو جھنڈوں سے سجا دیا۔
راس امید کا چکر
7 نومبر کو بیڑا ایک کشادہ خلیج میں لنگر انداز ہوا جس کا نام سینٹ ہیلینا بے (St Helena Bay) رکھا گیا۔ 16 نومبر کو وہاں سے نکلے تو جنوب مغربی ہوا کی وجہ سے کئی دن تک راس امید (Cape of Good Hope) کا چکر نہ کٹ سکا، اور آخر 22 نومبر کو دوپہر کے وقت پیچھے سے ہوا ملی تو جہاز اس راس کے گرد گھوم کر ساحل کے ساتھ آگے بڑھ گئے۔
25 نومبر کو وہ ساؤ براس (São Brás) کی خلیج میں پہنچے، جسے آج موسل بے (Mossel Bay) کہا جاتا ہے، اور تیرہ دن ٹھہرے۔ یہاں رسد کا جہاز توڑ کر اس کا سامان باقی تین جہازوں میں بانٹ دیا گیا۔ روزنامچے میں یہاں کا ایک خوشگوار منظر محفوظ ہے: تقریباً دو سو مقامی لوگ کچھ مویشی لے کر آئے اور چار پانچ بانسریاں بجانے لگے، جن کے اونچے اور نیچے سُر مل کر ایک خوبصورت ہم آہنگی پیدا کرتے تھے، اور ساتھ ناچنے لگے۔ جواب میں سالار نے نرسنگے بجوائے اور پرتگالی بھی کشتیوں میں ناچے۔
کرسمس کے دن، 25 دسمبر تک، وہ دیاس کی آخری حد سے ستر فرسنگ آگے کا ساحل دیکھ چکے تھے؛ اسی ساحل کو پرتگالیوں نے "ناتال" (Natal) کا نام دیا۔
مشرقی افریقہ اور ملندی کا پائلٹ
اگلے مہینوں میں بیڑا موزمبیق کے ساحل سے ہوتا ہوا 7 اپریل 1498ء کو ممباسا (Mombasa) پہنچا اور پھر 15 اپریل کو ملندی (Malindi)۔ کارٹ رائٹ کے مطابق اس وقت تک بہت سے ملاح اسکروی (scurvy) میں مبتلا ہو چکے تھے۔ ملندی میں نو دن قیام رہا اور اس دوران جشن اور موسیقی ہوتی رہی۔
یہیں ملندی کے حاکم نے ہندوستان تک راستہ دکھانے کے لیے ایک پائلٹ دیا۔ اس پائلٹ کی شناخت پر اختلاف ہے: ریونسٹائن پرتگالی مؤرخین بارّوس اور گوئش کے حوالے سے اسے گجرات کا ایک ملاح لکھتے ہیں جسے پرتگالی "مالیمو کانا" کہتے تھے، جبکہ کارٹ رائٹ کے مطابق اسے مشہور عرب جہاز راں احمد ابن ماجد قرار دینے کا پرانا دعویٰ محققین نے رد کر دیا ہے۔
بحیرۂ عرب کا عبور اور کالی کٹ
24 اپریل کو بیڑا ملندی سے نکلا۔ 29 اپریل کو ملاحوں نے بہت عرصے بعد پھر قطبی ستارہ دیکھا۔ تئیس دن تک کوئی زمین نظر نہ آئی، اور 18 مئی کو اونچے پہاڑ دکھائی دیے۔ 20 مئی 1498ء کو پائلٹ نے پہاڑوں کو پہچان کر بتایا کہ یہ کالی کٹ (Calicut) کے اوپر ہیں، اور اسی رات بیڑا شہر سے دو فرسنگ کے فاصلے پر لنگر انداز ہو گیا۔
اگلے دن عملے کا ایک آدمی شہر بھیجا گیا۔ روزنامچے کے مطابق وہاں اس کی ملاقات تیونس کے دو تاجروں سے ہوئی جو ہسپانوی اور جینوا کی زبان بولتے تھے۔ ان کا پہلا سوال تھا کہ تم اتنی دور کیا لینے آئے ہو؟ روزنامچے کا مصنف لکھتا ہے کہ "ہم بہت حیران ہوئے، کیونکہ ہمیں پرتگال سے اتنی دور اپنی زبان سننے کی امید نہ تھی۔"
پرتگالی تقریباً تین ماہ کالی کٹ کے سامنے رہے۔ کارٹ رائٹ کے مطابق واسکو ڈے گاما کی کالی کٹ کے حاکم، زمورن (Zamorin)، سے ملاقاتیں ہوئیں اور جہازوں پر کالی مرچ، ادرک، لونگ اور دارچینی جیسے مسالے لادے گئے، مگر تجارت کی بات چیت باہمی بے اعتمادی کی وجہ سے زیادہ کامیاب نہ رہی۔ اگست کے آخر میں بیڑا کالی کٹ سے روانہ ہوا اور اکتوبر کے شروع میں انجدیو (Anjediva) کے جزیرے سے کھلے سمندر میں نکلا۔
واپسی: اسکروی کا سفر
واپسی کا سفر سب سے کٹھن ثابت ہوا۔ روزنامچے کے مطابق ہوا بار بار رک جاتی یا الٹی چلتی، اور بحیرۂ عرب پار کرنے میں تین مہینوں سے صرف تین دن کم لگے۔ مصنف لکھتا ہے کہ ملاحوں کے مسوڑھے بڑھ کر دانتوں پر آ گئے یہاں تک کہ وہ کھا نہ سکتے تھے، ٹانگیں اور جسم سوج گئے، اور اسی بیماری سے تیس آدمی مر گئے، جبکہ اتنے ہی پہلے مر چکے تھے۔ ہر جہاز پر صرف سات آٹھ آدمی کام کے قابل رہ گئے۔ وہ لکھتا ہے: "اگر یہ حالت دو ہفتے اور رہتی تو جہاز چلانے والا کوئی نہ بچتا۔"
2 جنوری 1499ء کو افریقہ کا ساحل نظر آیا اور وہ موغادیشو کے پاس سے گزرے۔ 7 جنوری کو ملندی پہنچے جہاں کے حاکم نے بیماروں کے لیے سنگترے بھجوائے، مگر کئی بیمار وہیں دم توڑ گئے۔ 13 جنوری کو "ساؤ رافائیل" کو آگ لگا دی گئی کیونکہ تین جہاز چلانے کے لیے آدمی باقی نہ تھے۔ 20 مارچ کو راس امید کا چکر کاٹا گیا۔ روزنامچہ 25 اپریل کو مغربی افریقہ کے ساحل کے قریب اچانک ختم ہو جاتا ہے۔
ریونسٹائن باقی کہانی یوں بیان کرتے ہیں: کوئیلو کا "بیریو" 10 جولائی 1499ء کو لزبن کے قریب کاسکائش (Cascais) پہنچا۔ واسکو ڈے گاما اپنے بیمار بھائی پاؤلو کو لے کر جزائر ازورز کے جزیرے تیرسیرا گئے جہاں پاؤلو فوت ہو گئے۔ خود واسکو ڈے گاما لزبن کب پہنچے، اس کی تاریخ یقینی نہیں: پرتگالی ماخذ 29 اگست، 8 ستمبر اور 18 ستمبر 1499ء تینوں تاریخیں دیتے ہیں۔ کارٹ رائٹ کے مطابق روانہ ہونے والے تقریباً 170 آدمیوں میں سے صرف 55 کے قریب گھر لوٹے۔
اگلی قسط: پیدرو الواریس کابرال: برازیل۔
ماخذ
- A Journal of the First Voyage of Vasco da Gama, 1497–1499, translated and edited with notes, introduction and appendices by E. G. Ravenstein, Hakluyt Society, London, 1898 (the journal text; introduction on Vasco da Gama and the manuscript; editorial note on the return; appendix on the muster-roll; notes 132 and the glossary entry on the Malindi pilot; the Sernigi letter). Project Gutenberg eBook #46440. https://www.gutenberg.org/ebooks/46440
- Mark Cartwright, "Vasco da Gama", World History Encyclopedia, 3 June 2021 (ships, Pêro de Alenquer, scurvy, Malindi pilot, Calicut trade, survivors). https://www.worldhistory.org/Vasco_da_Gama/
- "Ahmad ibn Majid", Wikipedia (pointer only, to locate scholarship on the pilot question). https://en.wikipedia.org/wiki/Ahmad_ibn_Majid







