رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 13° صاف 24° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:16مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
تربت: جامعہ تربت میں وائس چانسلر کی ہدایت پر المنائی نیٹ ورکنگ کا آغازکوئٹہ: ظہور بلیدی کی مینا مجید بلوچ کے بھائی کے اغوا کی شدید مذمتسوراب: ڈپٹی کمشنر صاحبزادہ نجیب اللہ کی صدارت میں ایجوکیشن گروپ کا اجلاس، اساتذہ کی غیر حاضری پر برہمیژوب کلچر سینٹر میں فائن آرٹس اور خطاطی کلاسز کے داخلے جاری، کلاسز 2 نومبر سےچمن: ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی سے قبائلی جرگے کے وفد کی ملاقات، بارڈر بندش اور عوامی مسائل پر تبادلہ خیالچمن: کیسکو کی پولیس کے تعاون سے ریکوری مہم، نادہندگان سے 2 لاکھ 55 ہزار روپے وصولاوتھل: کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء کی صدارت میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کے منصوبوں پر اجلاساُستا محمد: مارکیٹ کمیٹی کا اجلاس، اناج منڈی فعال بنانے اور خرید و فروخت جلد شروع کرنے پر غورکوئٹہ: اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی رولنگ پر ڈی آئی جی خضدار رینج طلب، پولیس کو شفاف تحقیقات کی ہدایتاُستا محمد: اسسٹنٹ کمشنر ماریہ شمعون کا کاشف GO پٹرول پمپ کا دورہ، فیول ریلیف اسکیم پر عملدرآمد کا جائزہرکھنی: اسسٹنٹ کمشنر فہد حسین عمرانی کا ماڈل بازار کی توسیع اور تعمیراتی کام کا معائنہموسیٰ خیل: ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خان خجک کا بی ایس ڈی آئی واٹر سپلائی اسکیم تارہ کسور کی جگہ کا معائنہ

ژانگ چیان: تیرہ برس کا سفر جس نے شاہراہِ ریشم کا دروازہ کھولا

ایک سو سے زیادہ آدمیوں کا قافلہ چین کی مغربی سرحد سے نکلا۔ تیرہ برس بعد جب یہ لوٹا تو صرف دو آدمی زندہ تھے: قافلے کا سردار اور اس کا ایک وفادار تیر انداز ساتھی۔ مگر یہ دونوں اپنے…

ایک سو سے زیادہ آدمیوں کا قافلہ چین کی مغربی سرحد سے نکلا۔ تیرہ برس بعد جب یہ لوٹا تو صرف دو آدمی زندہ تھے: قافلے کا سردار اور اس کا ایک وفادار تیر انداز ساتھی۔ مگر یہ دونوں اپنے ساتھ مغرب کی دنیا کے بارے میں ایسی معلومات لائے جو چین کے لیے بالکل نئی تھیں۔ اس سردار کا نام ژانگ چیان (Zhang Qian) تھا، اور چینی تاریخ اسے مغرب کا راستہ کھولنے والا پہلا سفیر مانتی ہے۔

پس منظر: ایک کھوپڑی اور ایک اتحاد کی تلاش

یہ دوسری صدی قبلِ مسیح کا زمانہ تھا اور چین پر ہان (Han) خاندان کی حکومت تھی۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق ہان سلطنت کو شمال اور مغرب میں خانہ بدوش قبیلے شیونگنو (Xiongnu) مسلسل تنگ کرتے تھے۔

ژانگ چیان کے سفر کی سب سے پرانی اور مفصل روداد چینی مؤرخ سیما چیان (Sima Qian) کی مشہور کتاب "شی جی" (Shiji)، یعنی "مؤرخِ اعظم کی دستاویزات"، کے باب 123 میں ہے۔ سیما چیان اسی شہنشاہ وو (Emperor Wu) کے دربار سے وابستہ تھا جس نے ژانگ چیان کو بھیجا۔

کولمبیا یونیورسٹی کے ماہرِ چینیات فریڈرک ہرتھ (Friedrich Hirth) کے 1917ء کے انگریزی ترجمے کے مطابق شہنشاہ کو شیونگنو قیدیوں سے پتا چلا کہ شیونگنو نے یوئژی (Yuezhi) قوم کے بادشاہ کو قتل کر کے اس کی کھوپڑی کا پیالہ بنا لیا ہے، اور یوئژی بدلہ لینے کی خواہش میں کہیں دور جا بسے ہیں۔ شہنشاہ نے سوچا کہ اگر یوئژی سے رابطہ ہو جائے تو شیونگنو کے خلاف اتحاد بن سکتا ہے۔ ژانگ چیان، جو شاہی محل کا ایک چھوٹا عہدے دار تھا، اس مشکل کام کے لیے آگے بڑھا۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق یہ 138 ق م کی بات ہے۔

سفر: قید، فرار اور یوئژی کا انکار

ژانگ چیان اپنے ساتھ کان فو (Gan Fu) نام کا ایک شیونگنو نژاد غلام لے کر نکلا، جو ماہر تیر انداز تھا اور رسد ختم ہونے پر شکار کر کے سب کا پیٹ پالتا تھا۔ مگر شیونگنو نے انہیں جلد ہی پکڑ لیا اور اپنے بادشاہ کے پاس لے گئے، جس نے کہا کہ یوئژی تو ہمارے شمال میں ہیں، چین وہاں سفیر کیسے بھیج سکتا ہے؟ ژانگ چیان دس برس سے زیادہ شیونگنو کی قید میں رہا، جہاں اس کی شادی ہوئی اور ایک بیٹا بھی ہوا۔ مگر سیما چیان لکھتا ہے کہ اس پورے عرصے میں ژانگ چیان نے شہنشاہ کا دیا ہوا سفارتی نشان سنبھال کر رکھا۔

آخر موقع پا کر وہ اپنے ساتھیوں سمیت مغرب کی طرف بھاگ نکلا اور کئی ہفتوں کے سفر کے بعد دایوان (Dayuan) پہنچا، جسے ہرتھ وادیٔ فرغانہ قرار دیتے ہیں۔ وہاں کے لوگوں نے اسے رہنما دے کر کانگجو (سغدیانہ) بھیجا، جہاں سے وہ یوئژی تک پہنچا۔

لیکن یوئژی اب بدل چکے تھے۔ انہوں نے داشیا (Daxia) یعنی باختر (Bactria) کا زرخیز اور پُرامن ملک فتح کر لیا تھا اور وہاں آرام سے رہنا چاہتے تھے؛ چین بہت دور تھا اور انہیں شیونگنو سے بدلہ لینے میں اب کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ ژانگ چیان تقریباً ایک سال وہاں رہا مگر اپنا مقصد حاصل نہ کر سکا۔

واپسی پر وہ دوسرا راستہ اختیار کرنے کے باوجود پھر شیونگنو کے ہاتھ آ گیا اور ایک سال سے زیادہ قید رہا، یہاں تک کہ ان کے بادشاہ کی موت پر افراتفری پھیلی۔ ژانگ چیان اپنی بیوی اور کان فو کو لے کر نکل بھاگا اور چین پہنچ گیا۔ ہرتھ کے مطابق یہ 126 ق م تھا۔

کیا دیکھا: گھوڑے، انگور اور ہندوستان کی خبر

ژانگ چیان نے خود چار ملک دیکھے تھے: دایوان، یوئژی، باختر اور کانگجو، اور آس پاس کے پانچ چھ دوسرے ملکوں کا حال سن کر شہنشاہ کو بتایا۔ دایوان کے بارے میں اس نے بتایا کہ وہاں کے لوگ شہروں میں رہتے، چاول اور گندم اگاتے اور انگور سے شراب بناتے ہیں، اور ان کے پاس ایسے عمدہ گھوڑے ہیں جو "خون کا پسینہ" بہاتے ہیں۔

باختر کے بارے میں اس نے بتایا کہ وہاں کوئی بڑا بادشاہ نہیں، ہر شہر کا اپنا سردار ہے، لوگ ہوشیار تاجر ہیں اور دارالحکومت کے بازاروں میں ہر طرح کا مال بکتا ہے۔ یہیں اس نے ایک ایسی چیز دیکھی جس نے اسے حیران کر دیا: چین کے جنوب مغربی صوبے شو (آج کا سیچوان) کا کپڑا اور وہاں کے بانس کی چھڑیاں۔ پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ یہ سامان "شین دو" (Shendu) سے خریدا جاتا ہے، جو باختر کے جنوب مشرق میں ہے؛ وہاں کی زمین نشیبی، مرطوب اور گرم ہے، لوگ ہاتھیوں پر سوار ہو کر لڑتے ہیں اور ملک ایک بڑے دریا کے قریب ہے۔ ہرتھ کے مطابق شین دو ہندوستان ہے، اور یہ نام غالباً سنسکرت کے "سندھو" یعنی دریائے سندھ سے نکلا ہے۔

اہمیت: شاہراہِ ریشم کی ابتدا

ژانگ چیان کا فوجی اتحاد کا مشن ناکام رہا، مگر اس کی معلومات نے چین کی پالیسی بدل دی۔ ہرتھ کے ترجمے کے مطابق 123 ق م میں شیونگنو کے خلاف ایک مہم میں چراگاہوں کے بارے میں اس کے علم کی بدولت فوج کو رسد کی کمی نہ ہوئی اور اسے "مارکوئس بو وانگ" کا خطاب ملا۔ کچھ عرصے بعد ایک اور مہم میں مقررہ وقت پر نہ پہنچنے پر اسے موت کی سزا سنائی گئی، جو جرمانہ ادا کرنے پر خطاب چھن جانے اور عام شہری بنا دیے جانے میں بدل گئی۔

بعد میں وہ وو سون (Wusun) قوم کے پاس سفیر بن کر گیا اور وہاں سے اپنے نائب سفیروں کو دایوان، کانگجو، یوئژی، باختر، پارتھیا اور شین دو کی طرف روانہ کیا۔ واپسی پر اسے امورِ خارجہ کا سربراہ بنایا گیا اور ایک سال بعد اس کا انتقال ہو گیا۔ سیما چیان لکھتا ہے کہ اس کے بعد مغرب جانے والے چینی سفیر غیر ملکوں میں تعارف کے لیے اسی کا نام لیتے تھے، جو اعتماد کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔

ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق دایوان کے طاقتور گھوڑوں کی خبر نے چین میں گھوڑوں کی افزائش کا بڑا منصوبہ شروع کرایا، اور مغرب کے ساتھ تجارت کا یہ سلسلہ 130 ق م کے آس پاس باقاعدہ شاہراہِ ریشم (Silk Road) کی صورت اختیار کر گیا۔ ہرتھ کے ترجمے میں سیما چیان بتاتا ہے کہ چینی سفیر دایوان سے انگور اور لوسرن (گھوڑوں کا چارہ) کے بیج لائے اور شہنشاہ نے محلوں کے قریب ان کے وسیع کھیت لگوائے۔

یادگار اور ہمارا خطہ

ژانگ چیان نے جن یوئژی سے ملاقات کی تھی، ان کی کہانی بھی ہمارے خطے سے جڑتی ہے۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق یوئژی باختر میں آباد ہوئے، ان کا ایک قبیلہ کشان (Kushan) طاقتور ہوا، اور کشان سلطنت کنشک کے زمانے میں شمالی ہندوستان تک پھیل گئی اور ہان چین اور روم کے درمیان تجارت کا مرکز بنی۔

یوں ایک ناکام سفارتی مشن تاریخ کی سب سے کامیاب مہموں میں بدل گیا۔ ژانگ چیان وہ اتحاد نہ لا سکا جس کے لیے بھیجا گیا تھا، مگر وہ ایک راستہ لے آیا جس پر صدیوں تک ریشم، گھوڑے، خیالات اور مذاہب سفر کرتے رہے۔

ماخذ

  1. Friedrich Hirth, "The Story of Chang K'ién, China's Pioneer in Western Asia: Text and Translation of Chapter 123 of Ssï-Ma Ts'ién's Shï-Ki", Journal of the American Oriental Society, vol. 37, 1917 (JSTOR Early Journal Content, archive.org copy). https://archive.org/details/jstor-592911
  2. Joshua J. Mark, "Silk Road", World History Encyclopedia, 1 May 2018. https://www.worldhistory.org/Silk_Road/
  3. Joshua J. Mark, "Sima Qian", World History Encyclopedia, 6 July 2020. https://www.worldhistory.org/Sima_Qian/
  4. Ralf Rotheimer, "Ancient Afghanistan", World History Encyclopedia, 8 August 2022 (Yuezhi and the Kushan Empire). https://www.worldhistory.org/Ancient_Afghanistan/
  5. "Zhang Qian", Wikipedia, the free encyclopedia (pointer for dates and for Shendu/Sindhu), accessed October 2026. https://en.wikipedia.org/wiki/Zhang_Qian

مہمات: تمام تحریریں ←