ولیم بیرنٹس: قطبِ شمالی کے برف زار میں سردیاں
4 نومبر 1596ء کو سولہ ولندیزی ملاحوں نے آخری بار سورج کو افق پر دیکھا۔ وہ دنیا کے انتہائی شمال میں ایک برف پوش جزیرے پر لکڑی کے ایک چھوٹے سے گھر میں بند تھے، ان کا جہاز سمندر میں…
4 نومبر 1596ء کو سولہ ولندیزی ملاحوں نے آخری بار سورج کو افق پر دیکھا۔ وہ دنیا کے انتہائی شمال میں ایک برف پوش جزیرے پر لکڑی کے ایک چھوٹے سے گھر میں بند تھے، ان کا جہاز سمندر میں برف میں جکڑا ہوا تھا، اور آگے تقریباً تین مہینے کی مسلسل رات تھی۔ ان کا رہنما ولیم بیرنٹس (Willem Barentsz) تھا، اور اس مہم کی روزانہ ڈائری ان کے ساتھی گیرٹ ڈی ویر (Gerrit de Veer) نے لکھی۔
چین کا شمالی راستہ
سولہویں صدی کے آخر میں ہالینڈ کے تاجر ایک ایسا سمندری راستہ ڈھونڈ رہے تھے جو ناروے اور روس کے شمال سے ہوتا ہوا چین پہنچا دے۔ ڈی ویر کی کتاب کا انگریزی ترجمہ ہکلوٹ سوسائٹی نے 1853ء میں اور پھر 1876ء میں شائع کیا۔ اس کے مطابق بیرنٹس اس سلسلے میں 1594ء اور 1595ء میں دو سفر کر چکے تھے۔
تیسرے سفر کے لیے ایمسٹرڈیم سے دو جہاز تیار ہوئے۔ ایک کے کپتان اور تجارتی نگران یاکوب ہیمسکرک (Jacob van Heemskerck) تھے اور بیرنٹس اس کے مرکزی ملاح رہنما (pilot)؛ دوسرے کے کپتان یان کورنیلس رائپ (Jan Cornelisz Rijp) تھے۔ جہاز 10 مئی 1596ء کو ایمسٹرڈیم سے چلے اور 18 مئی کو کھلے سمندر میں نکلے۔
ریچھوں کا جزیرہ اور ہنسوں کے انڈے
جون میں وہ ایک غیر آباد جزیرے پر پہنچے جہاں انہوں نے ایک سفید ریچھ مارا جس کی کھال بارہ فٹ لمبی تھی۔ ڈی ویر لکھتے ہیں کہ اسی وجہ سے انہوں نے اس کا نام "ریچھوں کا جزیرہ" (Bear Island) رکھا۔ 19 جون کو، 79 درجے 49 منٹ شمالی عرض بلد پر، انہیں پھر زمین نظر آئی؛ 1911ء کا انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا اسے اسپٹسبرگن (Spitsbergen) لکھتا ہے۔
یہاں ایک دلچسپ دریافت ہوئی۔ یورپ میں اس زمانے میں عام خیال تھا کہ ایک خاص قسم کی جنگلی بطخ نما ہنس (barnacle goose) انڈوں سے نہیں بلکہ پانی پر جھکے درختوں کے پھلوں سے پیدا ہوتی ہے۔ ڈی ویر لکھتے ہیں کہ تقریباً 80 درجے پر انہوں نے ان ہنسوں کو اپنے انڈوں پر بیٹھے دیکھا، اور ہکلوٹ سوسائٹی کے مدیر کے مطابق اس مشاہدے نے یہ پرانا خیال غلط ثابت کرنے میں مدد دی۔
اس کے بعد دونوں جہاز الگ ہو گئے، اور بیرنٹس کا جہاز مشرق کی طرف نوویا زیملیا (Novaya Zemlya) کے لمبے جزیرے کی طرف بڑھا۔
برف کی قید
جہاز نے جزیرے کے شمالی سرے کا چکر لگایا۔ ڈی ویر لکھتے ہیں کہ 26 اگست 1596ء کو انہوں نے واپس جانے کا فیصلہ کیا، مگر برف اتنی تیزی سے بہہ کر آئی کہ جہاز ہر طرف سے گھر گیا۔ اسی شام وہ ایک خلیج کے مغربی کنارے پر پہنچے جسے انہوں نے "برف کی بندرگاہ" (Ice Haven) کا نام دیا تھا، اور ڈی ویر کے الفاظ میں وہیں "سخت سردی، تنگی، مصیبت اور غم میں ساری سردیاں" گزارنی پڑیں۔
اگلے دنوں میں برف کے دباؤ سے جہاز آگے سے چار پانچ فٹ اوپر اٹھ گیا اور اس کے تختے ایسے چٹخنے لگے کہ ملاحوں کے بقول ان کے سر کے بال کھڑے ہو گئے۔ آخر کار انہوں نے خشکی پر گھر بنانے کا فیصلہ کیا۔ جزیرے پر کوئی درخت نہیں اگتا تھا، مگر انہیں ساحل پر جڑوں سمیت بہہ کر آئے ہوئے درخت ملے۔ ڈی ویر کے مطابق یہی لکڑی ان کے گھر میں بھی لگی اور سردیوں بھر جلانے کے کام بھی آئی۔
"محفوظ گھر"
ملاح دن میں دو بار برف پر لکڑی سے لدی گاڑیاں (sledges) کھینچ کر لاتے۔ 23 ستمبر کو ان کا بڑھئی فوت ہو گیا۔ گھر کی چھت جہاز کے عرشے کے تختے اکھاڑ کر بنائی گئی، اور 24 اکتوبر تک سارا عملہ اس میں منتقل ہو گیا۔ بعد میں اس گھر کو "ہیت بیہاؤڈن ہوئس" (Het Behouden Huys) یعنی "محفوظ گھر" کہا گیا۔
سردی ناقابلِ بیان تھی۔ ڈی ویر لکھتے ہیں کہ دسمبر میں دیواروں اور سونے کی جگہوں پر دو انگل موٹی برف جم گئی، اور گھڑی جم کر بند ہو گئی، اس لیے وقت کا حساب رکھنے کے لیے بارہ گھنٹے والی ریت گھڑی بار بار الٹنی پڑتی تھی۔ برفانی طوفانوں میں کئی کئی دن دروازے برف سے بند رہتے اور باری باری کھودنے پڑتے۔ نومبر سے روٹی ناپ تول کر بانٹی جانے لگی: ہر آدمی کو آٹھ دن کے لیے چار پاؤنڈ دس اونس۔ جہاز کے سرجن نے شراب کے ایک بڑے پیپے میں بھاپ کا غسل تیار کیا، جسے ڈی ویر صحت کے لیے بہت مفید لکھتے ہیں۔ اس کے باوجود کئی ملاح اسکروی (scurvy) کا شکار ہوئے، اور جنوری میں ایک اور ساتھی فوت ہو گیا۔ گھر کے آس پاس سفید ریچھ آتے رہتے، جبکہ ملاح سفید لومڑیاں پھندوں سے پکڑ کر کھاتے۔
سورج کی جلد واپسی
24 جنوری 1597ء کو ڈی ویر اور دو ساتھیوں نے افق پر سورج کا کنارہ دیکھا۔ ڈی ویر لکھتے ہیں کہ بیرنٹس نے، جو "ایک دانا اور تجربہ کار ملاح" تھے، یقین نہ کیا، کیونکہ ان کے حساب سے یہ تقریباً چودہ دن پہلے تھا۔ اس پر شرطیں لگیں، اور 27 جنوری کو سب نے سورج کو پوری گولائی کے ساتھ دیکھ لیا۔ ہکلوٹ سوسائٹی کے مدیر کے مطابق اس غیر متوقع مشاہدے پر واپسی کے بعد عالموں میں بڑی بحث ہوئی۔
کھلی کشتیوں میں واپسی
جون تک بھی جہاز برف سے آزاد نہ ہوا۔ چنانچہ ملاحوں نے دو کھلی کشتیاں تیار کیں اور انہیں برف پر کھینچ کر پانی تک لائے۔ روانگی سے پہلے بیرنٹس نے، جو کافی عرصے سے بیمار تھے، ایک خط لکھ کر گھر کی چمنی میں لٹکا دیا جس میں سفر کا حال تھا۔ 14 جون 1597ء کی صبح وہ نوویا زیملیا سے روانہ ہوئے۔
20 جون کو ایک ساتھی کلاس آندریس شدید بیمار ہوا۔ ڈی ویر لکھتے ہیں کہ بیرنٹس نے کہا، "میرا خیال ہے میں بھی اس کے بعد زیادہ دن نہیں جیوں گا۔" وہ ڈی ویر کا بنایا ہوا سفر کا نقشہ دیکھ رہے تھے۔ پھر نقشہ رکھ کر بولے، "گیرٹ، مجھے کچھ پینے کو دو"، اور پیتے ہی ان کا انتقال ہو گیا۔ ڈی ویر اور ہکلوٹ سوسائٹی کی فہرست ان کی وفات کی تاریخ 20 جون بتاتے ہیں، جبکہ 1911ء کے انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا میں 30 جون درج ہے۔
باقی ملاح کبھی برف پر کشتیاں گھسیٹتے، کبھی کھلے پانی میں چپو چلاتے، جنوب کی طرف بڑھتے رہے۔ جولائی کے آخر میں انہیں روسی شکاری ملے، جن سے، ڈی ویر کے مطابق، تیرہ مہینے میں پہلی بار کسی انسان سے ملاقات ہوئی۔ ڈی ویر کے حساب سے انہوں نے کھلی کشتیوں میں 381 ولندیزی میل طے کیے۔ آخر کار جزیرہ نما کولا میں ایک خط ملا جس پر "یان کورنیلس رائپ" کے دستخط تھے؛ وہی ساتھی جو ایک سال پہلے ریچھوں کے جزیرے کے پاس الگ ہوا تھا، اب مدد لے کر آ رہا تھا۔ ملاح یکم نومبر 1597ء کو اسی لباس اور سفید لومڑی کی کھال کی ٹوپیوں میں ایمسٹرڈیم پہنچے جو وہ نوویا زیملیا میں پہنتے تھے۔ سترہ میں سے بارہ آدمی زندہ لوٹے۔
پونے تین سو سال بعد
9 ستمبر 1871ء کو ناروے کے ملاح ایلنگ کارلسن (Elling Carlsen) کو نوویا زیملیا کے ساحل پر ایک گرا ہوا گھر ملا۔ ہکلوٹ سوسائٹی کے 1876ء کے ایڈیشن میں شامل ان کے روزنامچے کے مطابق ملبے میں تانبے کی دو دیگچیاں، ایک بندوق کی نالی، ایک گھڑی، ایک بانسری، کچھ اوزار اور کپڑے پڑے تھے۔ مدیر کوولمنس بینن (Koolemans Beynen) کے مطابق یہ اشیا ہالینڈ کی حکومت نے خرید لیں، اور 1911ء کے انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق اس وقت یہ دی ہیگ میں محفوظ تھیں۔
اگلی قسط: اولیا چلبی: سیاحت نامہ۔
ماخذ
- Gerrit de Veer, The Three Voyages of William Barents to the Arctic Regions (1594, 1595, and 1596), first edition edited by Charles T. Beke, 1853; second edition with an introduction by Lieutenant Koolemans Beynen, Hakluyt Society, first series no. 54, London, 1876 (Introduction to the second edition, incl. Carlsen's log of September 1871 and the note on the relics; "The Third Voyage Northwarde", pp. 70–258; list of survivors). https://archive.org/details/threevoyagesofwi54veer
- "Barents, Willem", Encyclopaedia Britannica, 11th edition, 1911, vol. 3 (Wikisource transcription). https://en.wikisource.org/wiki/1911_Encyclop%C3%A6dia_Britannica/Barents,_Willem
- Wikimedia Commons, "File:Barents house inside.jpg" (engraving of Het Behouden Huys; public domain). https://commons.wikimedia.org/wiki/File:Barents_house_inside.jpg
- "Willem Barentsz", Wikipedia (pointer only, to the image file and the EB 1911 article). https://en.wikipedia.org/wiki/Willem_Barentsz



