رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 12° صاف 24° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:16مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
دہشت گردی کے خلاف ایک بار پھر قومی اتحاد ضروری ہے: سینیٹ میں رانا ثنا اللہ کا خطابخیبرپختونخوا میں گورنر راج کا مقصد معدنیات نہیں، امن کا قیام ہے: عقیل ملک، اختیار ولیسینیٹ نے پاسپورٹ ایکٹ ترمیمی بل 2026 متفقہ طور پر منظور کر لیاپی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی مولانا نسیم شاہ بنوں سے گرفتار، ویڈیو سامنے آگئیعالمی ادارہ خوراک کا غزہ میں غذائی امداد ایک تہائی کم کرنے کا اعلان، 11 لاکھ افراد کو امداد ملے گینیتن یاہو: 7 اکتوبر کو 1200 اسرائیلیوں کی ہلاکت 40 ہزار امریکیوں کے قتل کے برابر تھیراجپال یادیو نے اہلیہ رادھا کو خاندان کا ہیرا قرار دے دیا، سالگرہ پر جذباتی پیغامروس پر پابندیوں میں نرمی کے بعد تیل سستا، برینٹ 107 ڈالر کے قریبسہیل آفریدی مذاکرات کے ڈرافٹ کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے: وفاقی وزیر طارق فضل چوہدریعقیل ملک: امریکا کے ساتھ معدنیات کا کوئی لائسنس نہیں ہوا، مولانا لائسنس سامنے لائیںپی ٹی آئی کے گرفتار تین ارکان قومی اسمبلی پروڈکشن آرڈرز پر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئےروس کے یوکرین پر رات گئے ڈرون حملے، لاجسٹکس مراکز، بندرگاہوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

پرتگالی ملاح اور کیپ بوجادور کا عبور

1434ء میں ایک چھوٹا پرتگالی جہاز افریقہ کے مغربی ساحل پر ایک ریتلی راس کے پاس سے گزرا اور پھر صحیح سلامت گھر لوٹ آیا۔ اس زمانے کے ملاحوں کے لیے یہ راس وہ آخری حد تھی جس سے آگے…

پرتگالی ملاح اور کیپ بوجادور کا عبور
علامتی تصویر

1434ء میں ایک چھوٹا پرتگالی جہاز افریقہ کے مغربی ساحل پر ایک ریتلی راس کے پاس سے گزرا اور پھر صحیح سلامت گھر لوٹ آیا۔ اس زمانے کے ملاحوں کے لیے یہ راس وہ آخری حد تھی جس سے آگے ان کے بزرگ کبھی نہیں گئے تھے۔ اس کا نام کیپ بوجادور (Cape Bojador) تھا، اور اسے پار کرنے والے کپتان کا نام ژیل ایانیش (Gil Eanes) تھا۔ اسی سفر سے وہ سلسلہ شروع ہوا جو آگے چل کر راس امید اور ہندوستان کے سمندری راستے تک پہنچا۔

شہزادہ ہنری اور اس کا مؤرخ

اس کہانی کا مرکزی کردار ایک شہزادہ ہے جو خود کبھی ان مہمات پر نہیں گیا۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق ہنری (Henry the Navigator) 4 مارچ 1394ء کو پورتو میں پیدا ہوا اور 13 نومبر 1460ء کو فوت ہوا۔ انگریزوں نے اسے "جہاز راں" کا لقب دیا، مگر بریٹانیکا کے مطابق یہ لقب درست نہیں کیونکہ وہ خود کسی دریافتی سفر پر روانہ نہیں ہوا؛ وہ صرف سفروں کا سرپرست تھا اور ان کا زیادہ تر خرچ "آرڈر آف کرائسٹ" نامی تنظیم کے فنڈ سے آتا تھا، جس کا وہ 1420ء سے منتظم تھا۔

ان سفروں کا سب سے اہم بیان پرتگالی مؤرخ گومیش ایانیش دے زورارا (Gomes Eanes de Zurara) کی کتاب "گنی کی دریافت کی تاریخ" میں ملتا ہے۔ ہکلوٹ سوسائٹی نے 1896ء اور 1899ء میں اس کا انگریزی ترجمہ دو جلدوں میں شائع کیا، جو چارلس ریمنڈ بیزلی (C. R. Beazley) اور ایڈگر پریسٹیج (Edgar Prestage) نے کیا۔ پریسٹیج کے تعارف کے مطابق بادشاہ نے 1452ء میں زورارا کو یہ کتاب لکھنے کا حکم دیا، اور اس نے اسے لزبن کے شاہی کتب خانے میں 18 فروری 1453ء کو مکمل کیا۔

زورارا لکھتا ہے کہ ہنری جاننا چاہتا تھا کہ کینری جزائر اور کیپ بوجادور سے آگے کیا ہے، کیونکہ اس وقت تک نہ کسی تحریر سے اور نہ کسی کی یاد سے اس علاقے کا کچھ یقینی حال معلوم تھا۔ ایک کہانی یہ تھی کہ دو بحری جہاز اس راس کے پار گئے اور کبھی واپس نہ آئے۔

ملاح کیوں ڈرتے تھے؟

زورارا کی کتاب کا آٹھواں باب اسی سوال پر ہے کہ جہاز اس راس سے آگے جانے کی ہمت کیوں نہیں کرتے تھے۔ زورارا کے بقول اس کی وجہ بزدلی نہیں بلکہ وہ پرانی افواہ تھی جو اسپین کے ملاح نسل در نسل سنتے آئے تھے۔ ملاحوں کا کہنا تھا کہ اس راس کے پار نہ کوئی انسان ہے نہ بستی؛ زمین لیبیا کے صحراؤں جیسی ریتلی ہے جہاں نہ پانی ہے، نہ درخت، نہ کوئی سبز گھاس؛ سمندر اتنا اتھلا ہے کہ ساحل سے ایک لیگ دور بھی صرف ایک فیتھم (تقریباً چھ فٹ) گہرا ہے؛ اور دھارے اتنے خوفناک ہیں کہ جو جہاز ایک بار راس سے آگے نکل گیا وہ کبھی واپس نہیں آ سکے گا۔

زورارا کے مطابق بارہ برس تک ہنری ہر سال جہاز بھیجتا رہا اور ہر بار وہ اس راس سے پہلے لوٹ آئے۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا میں مارک کارٹ رائٹ (Mark Cartwright) اصل مشکل یہ بیان کرتے ہیں کہ راس سے آگے جانا تو ممکن تھا، مگر شمال سے چلنے والی مستقل ہواؤں اور مخالف دھاروں کے خلاف یورپ واپس آنا مشکل تھا۔

پہلی کوشش اور شہزادے کی نصیحت

زورارا کے نویں باب کا عنوان ہے: "لاگوس کا باشندہ ژیل ایانیش کس طرح سب سے پہلے کیپ بوجادور سے گزرا"۔ اس کے مطابق آخرکار بارہ برس بعد ہنری نے ایک "بارکا" (barcha) تیار کرائی اور اپنے ایک اسکوائر (squire) یعنی خادمِ خاص ژیل ایانیش کے حوالے کی۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق بارکا اس زمانے کا عام یورپی جہاز تھا جس پر چوکور بادبان ہوتے تھے اور جو صرف پیچھے سے آنے والی ہوا میں اچھی طرح چل سکتا تھا۔

1433ء کے پہلے سفر میں ژیل ایانیش پر بھی وہی خوف طاری ہوا، اور زورارا کے مطابق وہ صرف کینری جزائر تک جا کر لوٹ آیا۔ اگلے سال ہنری نے وہی جہاز دوبارہ تیار کرایا اور اسے الگ بلا کر سمجھایا: "تمہیں کوئی خطرہ اتنا بڑا نہیں ملے گا کہ انعام کی امید اس سے بڑی نہ ہو"۔ اس نے کہا کہ تم لوگ صرف چار ایسے ملاحوں کی رائے دہراتے ہو جو فلینڈرز کی تجارت یا عام راستوں سے آتے ہیں اور "نہ سوئی (قطب نما) جانتے ہیں نہ بحری نقشہ"۔

1434ء: راس کے پار

زورارا لکھتا ہے کہ ژیل ایانیش نے طے کر لیا کہ وہ پکی خبر لائے بغیر شہزادے کے سامنے نہیں آئے گا، اور اس سفر میں وہ خطرے کی پروا کیے بغیر راس سے آگے نکل گیا۔ وہاں اس نے زمین کو اس کے بالکل برعکس پایا جیسا وہ اور دوسرے سمجھتے تھے۔ زورارا کا تبصرہ دلچسپ ہے: یہ کام اپنی ذات میں چھوٹا تھا، مگر اس کی جرأت کی وجہ سے بڑا سمجھا گیا۔

واپسی پر ژیل ایانیش نے بتایا کہ اس نے کشتی اتاری اور ساحل پر گیا، مگر نہ کوئی آدمی ملا نہ آبادی کا نشان۔ نشانی کے طور پر وہ وہاں سے کچھ پودے لایا اور شہزادے کو پیش کیے جنہیں پرتگال میں "سینٹ میری کے گلاب" کہا جاتا تھا۔ زورارا کے مطابق اس کا بہت اچھا استقبال ہوا اور اسے عزت اور جائیداد ملی؛ ہنری نے بعد میں اسے نائٹ بھی بنایا۔

بیزلی ایک حاشیے میں لکھتے ہیں کہ برطانوی بحریہ کے سرویز نے دکھایا ہے کہ بوجادور کی خطرناک چٹانوں اور دھاروں کی پرانی کہانیاں بے بنیاد تھیں۔

آدمیوں اور اونٹوں کے نشان

اگلے سال ہنری نے ایک "بارینل" (barinel) تیار کرایا، جو ترجمے کے حاشیے کے مطابق چپوؤں سے چلنے والا جہاز تھا، اور اس پر اپنے ساقی آفونسو گونسالویس بالدایا (Afonso Gonçalves Baldaia) کو بھیجا۔ ژیل ایانیش اپنی بارکا لے کر ساتھ گیا۔ زورارا کے مطابق وہ راس سے پچاس لیگ آگے گئے؛ زمین وہاں بھی غیر آباد تھی، مگر ریت پر آدمیوں اور اونٹوں کے قدموں کے نشان تھے۔ ترجمے کے حاشیے کے مطابق ملاحوں نے اس جگہ کو وہاں کی بہت سی مچھلیوں کی وجہ سے "انگرا دوس روئیووس" یعنی سرخ مچھلیوں کی خلیج کا نام دیا۔

ان نشانوں سے ہنری نے نتیجہ نکالا کہ آبادی دور نہیں ہو سکتی۔ زورارا لکھتا ہے کہ اس نے بالدایا کو دوبارہ بھیجا، جو پچھلی جگہ سے ستر لیگ اور آگے، یعنی راس سے کل ایک سو بیس لیگ دور، ایک بڑے دریا جیسے دہانے تک پہنچا جس میں اچھے لنگر گاہ تھے۔ یہ جگہ "ریو دو اورو" کہلائی۔ وہاں اس نے دو نوجوانوں کو گھوڑوں پر بٹھا کر خشکی میں بستیوں کی تلاش میں بھیجا۔

تاریخ اور اختلاف

بیزلی ہکلوٹ ترجمے کی دوسری جلد (1899ء) کے تعارف میں لکھتے ہیں کہ یہ "تقریباً یقینی" ہے کہ 1434ء سے پہلے کوئی پرتگالی جہاز بوجادور سے آگے نہیں گیا تھا؛ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ پرتگالی مؤرخ گالوانو (Galvano) اس سفر کا سال 1432ء لکھتا ہے۔ دوسری طرف بریٹانیکا کے مطابق یہ روایت مبالغہ ہے: جس راس کو ژیل ایانیش نے بوجادور سمجھا وہ دراصل کیپ جوبی (Cape Juby) تھی، جہاں سے پہلے کے ملاح گزر چکے تھے۔ محققین اس پر آج بھی ایک رائے نہیں رکھتے۔

جو بات واضح ہے وہ یہ کہ اس سفر کے بعد پرتگالی ملاحوں کا خوف ٹوٹ گیا اور ہر چند برس بعد ان کے جہاز افریقہ کے ساحل پر پہلے سے آگے پہنچنے لگے۔ تقریباً پچپن برس بعد یہ سلسلہ افریقہ کے جنوبی سرے تک پہنچ گیا۔

اگلی قسط: افاناسی نکیتن: روس سے ہندوستان۔

ماخذ

  1. Gomes Eannes de Azurara, The Chronicle of the Discovery and Conquest of Guinea, translated by Charles Raymond Beazley and Edgar Prestage, Hakluyt Society, First Series nos. XCV and C, London, 1896 and 1899; Vol. I, Introduction (Zurara's life; the 1452 commission and completion on 18 February 1453), chapters VII–X and notes 49–54 (including the note on Angra dos Ruivos); Vol. II, Introduction pp. ii–xi and notes 10–11 (Admiralty surveys; Galvano's 1432). Project Gutenberg eBooks #35738 and #35764. https://www.gutenberg.org/ebooks/35738 and https://www.gutenberg.org/ebooks/35764
  2. Charles E. Nowell and the Editors, "Henry the Navigator", Encyclopaedia Britannica (dates, parentage, the misnomer, Order of Christ funding, "Sponsorship of expeditions": the Cape Juby view). https://www.britannica.com/biography/Henry-the-Navigator
  3. Mark Cartwright, "Prince Henry the Navigator", World History Encyclopedia (the square-rigged barca, the return problem, Bojador navigated in 1434). https://www.worldhistory.org/Prince_Henry_the_Navigator/
  4. Mark Cartwright, "Caravel", World History Encyclopedia (twelve years of failures at Cape Bojador). https://www.worldhistory.org/Caravel/

مہمات: تمام تحریریں ←