ژینگ ہی: مسلمان امیر البحر کے سات بحری سفر
کولمبس کے بحرِ اوقیانوس پار کرنے سے تقریباً نوے برس پہلے، 1405ء میں، چین کی بندرگاہوں سے سیکڑوں جہازوں کا ایک ایسا بیڑا نکلا جس پر ستائیس ہزار سے زیادہ آدمی سوار تھے۔ یہ بیڑا اگلے اٹھائیس برسوں میں سات…
کولمبس کے بحرِ اوقیانوس پار کرنے سے تقریباً نوے برس پہلے، 1405ء میں، چین کی بندرگاہوں سے سیکڑوں جہازوں کا ایک ایسا بیڑا نکلا جس پر ستائیس ہزار سے زیادہ آدمی سوار تھے۔ یہ بیڑا اگلے اٹھائیس برسوں میں سات بار جاوا، سری لنکا، ہندوستان، ہرمز، عدن اور مشرقی افریقہ تک گیا۔ اس کا سالار ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے والا شخص تھا جسے دنیا ژینگ ہی (Zheng He) کے نام سے جانتی ہے۔
یونان کا لڑکا "ما ہو"
برطانوی محقق جے وی جی ملز (J. V. G. Mills) نے 1970ء میں ہکلوٹ سوسائٹی کے لیے ما ہوان کی کتاب کا ترجمہ اور ژینگ ہی پر مفصل تعارف شائع کیا۔ ان کے مطابق ژینگ ہی کا اصل نام "ما ہو" تھا اور ان کا خاندان جنوب مغربی چین کے صوبے یونان (Yunnan) میں رہتا تھا۔ ان کے والد کے نام کے ساتھ "حاجی" کا لقب آتا تھا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے حج کیا تھا۔ ملز کے مطابق ما ہو تقریباً 1371ء میں پیدا ہوئے اور مسلمان گھرانے میں پلے بڑھے۔
انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق جب منگ (Ming) فوجوں نے 1381ء–1382ء میں یونان فتح کیا تو یہ لڑکا قید ہو کر خواجہ سرا بنا دیا گیا۔ ملز لکھتے ہیں کہ بیس برس کی عمر میں وہ شہزادہ ژو دی کی خدمت میں آئے، جو 1403ء میں یونگ لے (Yongle) کے لقب سے چین کا شہنشاہ بنا۔ 1404ء میں شہنشاہ نے انہیں "ژینگ" کا خاندانی نام دیا اور خواجہ سراؤں کا سربراہ بنا دیا۔
پہلا سفر: 317 جہاز
ملز کے مطابق پہلی مہم کا شاہی فرمان 11 جولائی 1405ء کو جاری ہوا۔ بیڑے میں 317 جہاز تھے جن میں 62 بڑے "خزانے کے جہاز" (treasure ships) شامل تھے، اور افسروں، سپاہیوں، تاجروں اور منشیوں کی کل تعداد 27 ہزار 870 تھی۔ یہ بیڑا جاوا، سماٹرا اور سری لنکا سے ہوتا ہوا اپنی اصل منزل، ہندوستان کے مغربی ساحل پر کالی کٹ (Calicut) پہنچا، جہاں اس نے غالباً دسمبر 1406ء سے اپریل 1407ء تک قیام کیا۔
ملز کے بقول ڈچ محقق ڈائیوینڈاک (Duyvendak) کی تحقیق کے بعد ساتوں مہمات کی تاریخیں طے ہو چکی ہیں: 1405–1407ء، 1407–1409ء، 1409–1411ء، 1413–1415ء، 1417–1419ء، 1421–1422ء اور 1431–1433ء۔ ملز یہ بھی بتاتے ہیں کہ ژینگ ہی نے تیس سے زیادہ ملکوں کا دورہ کیا، اور سری لنکا کے شہر گال (Galle) میں ان کا ایک کتبہ ملا ہے جو چینی، تمل اور فارسی تینوں زبانوں میں ہے۔
ما ہوان: مسلمان مترجم کی آنکھ سے
اس بیڑے کا سب سے اہم چشم دید گواہ ما ہوان (Ma Huan) تھا، جو خود بھی مسلمان تھا۔ ملز کے مطابق اس نے جوانی میں عربی رسم الخط اور عربی یا فارسی زبان سیکھی تھی، اور اسی لیے سرکاری مترجم کے طور پر ژینگ ہی کے عملے میں شامل ہوا۔ ملز کے مطابق وہ 1413–1415ء، 1421–1422ء اور 1431–1433ء کی تین مہمات میں ساتھ رہا۔ اس نے اپنے مشاہدات "ینگ یائی شینگ لان" (Yingya Shenglan) یعنی "سمندر کے ساحلوں کا جامع جائزہ" نامی کتاب میں لکھے، جس کا دیباچہ 1416ء میں لکھا گیا۔ ملز کے خیال میں آخری مہم میں ما ہوان غالباً ان سات چینی نمائندوں میں شامل تھا جو کالی کٹ سے مکہ بھیجے گئے تھے۔
ما ہوان کالی کٹ کو "مغربی سمندر کا عظیم ملک" لکھتا ہے۔ ملز کے حاشیے کے مطابق یہ شہر اس زمانے میں ہر طرف کے تاجروں کی ایک بڑی منڈی تھا۔
ہرمز، عدن اور افریقہ
ما ہوان لکھتا ہے کہ کالی کٹ سے شمال مغرب کی طرف موافق ہوا میں پچیس دن کا سفر کر کے ہرمز (Hormuz) پہنچتے ہیں۔ یعنی بیڑا بحیرۂ عرب پار کر کے خلیج فارس کے دہانے تک جاتا تھا۔ اس کے بقول ہر جگہ کے غیر ملکی جہاز اور خشکی کے راستے آنے والے تاجر یہاں تجارت کو آتے ہیں، "اس لیے اس ملک کے سب لوگ امیر ہیں"۔ وہ لکھتا ہے کہ بادشاہ اور رعایا سب مسلمان ہیں، دن میں پانچ بار نماز پڑھتے ہیں، اور یہاں کوئی گھرانہ غریب نہیں، کیونکہ اگر کسی پر مصیبت آئے تو سب مل کر اسے کپڑا، کھانا اور سرمایہ دیتے ہیں۔ ملز کے حاشیے کے مطابق ہرمز خلیج کے دہانے پر ایک جزیرے پر واقع شہر تھا جہاں مشرقِ بعید اور ہندوستان کی سمندری تجارت اور خراسان، عراق اور ایران کی خشکی کی تجارت آ ملتی تھی۔
عدن (Aden) کے بارے میں ما ہوان لکھتا ہے کہ کالی کٹ سے سیدھا مغرب کی طرف ایک مہینے کا سفر ہے۔ ملک امیر اور گنجان آباد ہے، لوگ عربی بولتے ہیں اور اس کے پاس سات آٹھ ہزار تربیت یافتہ سوار اور پیادے ہیں، اس لیے ہمسائے اس سے ڈرتے ہیں۔ ملز کے مطابق اس زمانے میں عدن بحیرۂ روم سے ہندوستان اور مشرقِ بعید جانے والے راستے کی سب سے بڑی بندرگاہ تھا۔
ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق پانچویں، چھٹی اور ساتویں مہمات مشرقی افریقہ کے ساحل پر موغادیشو، ملندی اور ممباسا تک پہنچیں۔ ملز لکھتے ہیں کہ ان سفروں سے شیر، تیندوے، زرافے، زیبرے، اونٹ اور شتر مرغ جیسے جانور چین پہنچے جن میں سے بعض وہاں پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے تھے۔ شہنشاہ کو پہلا زرافہ 1414ء میں بنگال سے ملا، دوسرا 1415ء میں ملندی سے، تیسرا 1419ء میں عدن سے اور چوتھا 1433ء میں مکہ سے۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق چین میں زرافے کو "چی لن" سمجھا گیا، جو ایک افسانوی جانور اور خوش قسمتی کی علامت تھا۔
جہاز کتنے بڑے تھے؟
ژینگ ہی کے جہازوں کی جسامت پر محققین آج تک متفق نہیں۔ ملز کے مطابق منگ خاندان کی سرکاری تاریخ ان کی لمبائی تقریباً 452 فٹ اور چوڑائی 183 فٹ بتاتی ہے، مگر بہت سے ماہرین ان اعداد کو رد کرتے ہیں کیونکہ لکڑی کا تقریباً 300 فٹ سے بڑا محفوظ جہاز بنانا ممکن نہ تھا؛ ملز کا اپنا اندازہ بھی تقریباً 300 فٹ لمبائی کا ہے۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا انہیں "شاید 55 میٹر (180 فٹ) تک" لکھتا ہے اور تسلیم کرتا ہے کہ اصل پیمائش متنازع ہے۔
آخری سفر اور خاتمہ
ملز کے مطابق 1424ء میں نئے شہنشاہ نے بحری مہمات روک دیں اور اگلے برس ژینگ ہی کو نانجنگ کا محافظ مقرر کیا۔ 1430ء میں شہنشاہ شوان دے نے انہیں ساتویں اور آخری مہم پر بھیجا، جو 1431ء سے 1433ء تک جاری رہی۔ ان کی وفات کے بارے میں ماخذ مختلف ہیں: ملز کے مطابق وہ 1435ء میں پینسٹھ برس کی عمر میں نانجنگ میں فوت ہوئے، جبکہ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق وہ 1433ء میں آخری سفر کے دوران کالی کٹ میں فوت ہوئے اور ان کی میت چین لائی گئی۔ اس کے بعد چین نے ایسی بڑی بحری مہمات پھر کبھی نہیں بھیجیں۔
اگلی قسط: پرتگالی ملاح اور کیپ بوجادور کا عبور۔
ماخذ
- Ma Huan, Ying-yai Sheng-lan: 'The Overall Survey of the Ocean's Shores' [1433], translated from the Chinese text edited by Feng Ch'eng-chün, with introduction, notes and appendices by J. V. G. Mills, Hakluyt Society Extra Series no. XLII, Cambridge University Press, 1970 (Introduction: "Cheng Ho and his expeditions", "Ma Huan and his book"; chapters on Calicut, Aden and Hormuz).
- Mark Cartwright, "The Seven Voyages of Zheng He", World History Encyclopedia, 2019. https://www.worldhistory.org/article/1334/the-seven-voyages-of-zheng-he/
- "Zheng He", Encyclopaedia Britannica (early life, capture in Yunnan, 1381–82). https://www.britannica.com/biography/Zheng-He
- "Zheng He", Wikipedia (pointer only, for the Mao Kun map and the Wubei Zhi). https://en.wikipedia.org/wiki/Zheng_He
- Wikimedia Commons, "File:Mao Kun map – Ceylon, Africa.png" (section of the Mao Kun map from the Wubei Zhi; public domain). https://commons.wikimedia.org/wiki/File:Mao_Kun_map_-_Ceylon,_Africa.png



