شاہد آفریدی: بوم بوم کا طوفان
کچھ کھلاڑی میچ جیتتے ہیں اور کچھ تماشائیوں کے دل۔ شاہد آفریدی (Shahid Afridi) نے دونوں کام کیے۔ جب وہ بیٹنگ کے لیے میدان میں اترتے تو اسٹیڈیم میں ایک خاص لہر دوڑ جاتی، کیونکہ کسی کو معلوم نہیں ہوتا…

کچھ کھلاڑی میچ جیتتے ہیں اور کچھ تماشائیوں کے دل۔ شاہد آفریدی (Shahid Afridi) نے دونوں کام کیے۔ جب وہ بیٹنگ کے لیے میدان میں اترتے تو اسٹیڈیم میں ایک خاص لہر دوڑ جاتی، کیونکہ کسی کو معلوم نہیں ہوتا تھا کہ اگلی گیند چھکے کے لیے اسٹینڈ میں جائے گی یا وکٹیں بکھیر دے گی۔ ون ڈے کرکٹ میں 117 کا اسٹرائیک ریٹ، 351 چھکے، اور ساتھ ہی لیگ اسپن سے 395 وکٹیں: یہ اعداد اس آل راؤنڈر کی تصویر کھینچتے ہیں جس نے بائیس برس تک پاکستان کرکٹ میں جوش اور ولولے کا رنگ بھرا1۔
ابتدائی زندگی اور کرکٹ کا آغاز
صاحبزادہ محمد شاہد خان آفریدی خیبر ایجنسی کی وادیٔ تیراہ میں پیدا ہوئے۔ سرکاری ریکارڈ میں ان کی تاریخِ پیدائش یکم مارچ 1980ء درج ہے3، اگرچہ 2019ء میں شائع ہونے والی اپنی خود نوشت "گیم چینجر" (Game Changer) میں انہوں نے لکھا کہ وہ اس سے پہلے پیدا ہوئے تھے4۔ انہوں نے کراچی میں کرکٹ کھیلی اور جلد ہی ایک جارح بیٹسمین اور دائیں ہاتھ کے لیگ اسپنر کے طور پر پہچانے جانے لگے2۔
1996ء میں انہیں نیروبی میں ہونے والے ایک چار ملکی ٹورنامنٹ کے لیے زخمی مشتاق احمد (Mushtaq Ahmed) کی جگہ اچانک بلایا گیا2۔ 2 اکتوبر 1996ء کو کینیا کے خلاف پہلے ون ڈے میں انہیں بیٹنگ کا موقع نہ ملا اور دس اوورز میں 32 رنز دے کر کوئی وکٹ بھی نہ ملی1۔ لیکن دو دن بعد جو ہوا، اس نے کرکٹ کی دنیا میں ایک نئے نام کا اعلان کر دیا۔
نیروبی کی وہ اننگز
4 اکتوبر 1996ء کو سری لنکا کے خلاف انہیں تیسرے نمبر پر بھیجا گیا۔ یہ ان کی پہلی بین الاقوامی اننگز تھی۔ انہوں نے صرف 40 گیندوں پر 102 رنز بنائے، جن میں چھ چوکے اور گیارہ چھکے شامل تھے1۔ سری لنکا کے بولر بے بس دکھائی دیے، اور ایک نوجوان جسے چند دن پہلے تک کم ہی لوگ جانتے تھے، راتوں رات پاکستان کا ہیرو بن گیا۔
ٹیسٹ کرکٹ
آفریدی کو زیادہ تر محدود اوورز کا کھلاڑی سمجھا جاتا ہے، مگر ٹیسٹ کرکٹ میں بھی ان کی کارکردگی قابلِ ذکر ہے۔ 22 اکتوبر 1998ء کو کراچی میں آسٹریلیا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں انہوں نے بطور اوپنر 10 رنز بنائے اور پہلی اننگز میں 52 رنز دے کر پانچ وکٹیں لیں، جو ٹیسٹ میں ان کی بہترین بولنگ رہی۔ جنوری 1999ء میں چنئی میں بھارت کے خلاف 191 گیندوں پر 141 رنز ان کی پہلی ٹیسٹ سنچری تھی، اور اسی میچ میں انہوں نے 31 رنز دے کر تین وکٹیں بھی لیں1۔
2005ء اور 2006ء ان کے ٹیسٹ کیریئر کے بہترین سال تھے۔ مئی 2005ء میں برج ٹاؤن میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 95 گیندوں پر 122 رنز بنے۔ جنوری 2006ء میں بھارت کے خلاف لاہور میں 80 گیندوں پر 103 اور فیصل آباد میں 128 گیندوں پر 156 رنز کی اننگز آئیں؛ یہ ان کا سب سے بڑا ٹیسٹ اسکور ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ میں ان کا اسٹرائیک ریٹ 86.97 رہا، جو اس فارمیٹ میں غیر معمولی ہے۔ ان کا آخری ٹیسٹ 13 جولائی 2010ء کو لارڈز میں آسٹریلیا کے خلاف تھا، جس میں وہ کپتان تھے1۔
ون ڈے کرکٹ
ون ڈے کرکٹ آفریدی کا اصل میدان تھا۔ ستمبر 1998ء میں ٹورنٹو میں بھارت کے خلاف 109 رنز اور اپریل 2005ء میں کانپور میں بھارت ہی کے خلاف صرف 46 گیندوں پر 102 رنز ان کی دھواں دار بیٹنگ کی مثالیں ہیں۔ جون 2010ء میں دمبولا میں انہوں نے ایک ہفتے کے اندر دو سنچریاں بنائیں: سری لنکا کے خلاف 76 گیندوں پر 109 اور بنگلہ دیش کے خلاف 60 گیندوں پر 124، جو ان کا سب سے بڑا ون ڈے اسکور ہے1۔
بولنگ میں بھی وہ کسی سے کم نہ تھے۔ تیز رفتار لیگ اسپن کے ساتھ وہ بیٹسمینوں کو سوچنے کا موقع نہیں دیتے تھے۔ جولائی 2013ء میں گیانا کے شہر پروویڈنس میں ویسٹ انڈیز کے خلاف نو اوورز میں صرف 12 رنز دے کر سات وکٹیں ان کی بہترین ون ڈے بولنگ ہے۔ 2009ء سے 2014ء تک انہوں نے 38 ون ڈے میچوں میں پاکستان کی کپتانی کی۔ 2011ء کے عالمی کپ میں بطور کپتان انہوں نے کینیا کے خلاف 16 رنز دے کر پانچ اور کینیڈا کے خلاف 23 رنز دے کر پانچ وکٹیں لیں2۔ ان کا آخری ون ڈے 20 مارچ 2015ء کو ایڈیلیڈ میں آسٹریلیا کے خلاف تھا1۔
ٹی ٹوئنٹی اور 2009ء کا عالمی اعزاز
ٹی ٹوئنٹی کرکٹ جیسے آفریدی کے مزاج کے لیے ہی بنی تھی۔ 2007ء کے پہلے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ڈربن میں اسکاٹ لینڈ کے خلاف 19 رنز کے عوض چار وکٹیں اور جوہانسبرگ میں سری لنکا کے خلاف 18 رنز کے عوض تین وکٹیں لے کر وہ ٹورنامنٹ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے12۔
دو سال بعد انگلستان میں ہونے والے ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں ان کی کارکردگی فیصلہ کن ثابت ہوئی۔ 18 جون 2009ء کو ناٹنگھم میں جنوبی افریقہ کے خلاف سیمی فائنل میں انہوں نے 34 گیندوں پر 51 رنز بنائے اور چار اوورز میں 16 رنز دے کر دو وکٹیں لیں۔ 21 جون 2009ء کو لارڈز کے فائنل میں سری لنکا کے خلاف انہوں نے پہلے چار اوورز میں 20 رنز دے کر ایک وکٹ لی اور پھر 40 گیندوں پر 54 رنز ناٹ آؤٹ بنا کر پاکستان کو عالمی چیمپئن بنا دیا12۔ یہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں ان کا سب سے بڑا اسکور ہے۔
انہوں نے 44 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں ٹیم کی قیادت کی۔ ان کا آخری ٹی ٹوئنٹی میچ 31 مئی 2018ء کو لارڈز میں ویسٹ انڈیز کے خلاف تھا، جو انہوں نے ورلڈ الیون کی طرف سے کھیلا12۔
اعداد و شمار
| ٹیسٹ | ون ڈے | ٹی ٹوئنٹی | |
|---|---|---|---|
| میچ | 27 | 398 | 99 |
| رنز | 1716 | 8064 | 1416 |
| بہترین اسکور | 156 | 124 | 54 ناٹ آؤٹ |
| اوسط (بیٹنگ) | 36.51 | 23.57 | 17.92 |
| سنچریاں / نصف سنچریاں | 5 / 8 | 6 / 39 | 0 / 4 |
| اسٹرائیک ریٹ | 86.97 | 117 | 150 |
| وکٹیں | 48 | 395 | 98 |
| بہترین بولنگ | 5/52 | 7/12 | 4/11 |
| اوسط (بولنگ) | 35.6 | 34.51 | 24.44 |
| اننگز میں پانچ وکٹیں | 1 | 9 | 0 |
ماخذ: ای ایس پی این کرک انفو اسٹیٹس گرو1، اعداد بین الاقوامی کیریئر کے ہیں۔
اثر اور یادگار
شاہد آفریدی کو مداح "بوم بوم" کے نام سے پکارتے تھے، اور یہ لقب ان کی بیٹنگ کی بہترین تعریف ہے2۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ون ڈے کرکٹ میں پہلی گیند سے حملہ کرنا ایک کامیاب حکمتِ عملی ہو سکتا ہے، اور ان کے بعد آنے والے بہت سے جارح بیٹسمینوں نے یہی راستہ اپنایا۔ ان کی لیگ اسپن، جو عام لیگ اسپنرز سے کہیں تیز ہوتی تھی، محدود اوورز کی کرکٹ میں ایک مؤثر ہتھیار بنی۔
پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا کرکٹر ہو جس کے لیے تماشائی اتنے بے تابی سے انتظار کرتے ہوں۔ نیروبی کی 40 گیندوں والی اننگز سے لارڈز کے 2009ء کے فائنل تک، آفریدی کا کیریئر ایسے لمحات سے بھرا ہے جو پاکستانی شائقین کی یادداشت کا حصہ بن چکے ہیں۔
ماخذ
- ESPNcricinfo Statsguru, Shahid Afridi, Test, ODI and T20I batting and bowling career summaries and innings lists: https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/42639.html?class=1;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/42639.html?class=1;template=results;type=bowling ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/42639.html?class=2;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/42639.html?class=2;template=results;type=bowling ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/42639.html?class=3;template=results;type=batting ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/42639.html?class=3;template=results;type=batting;view=innings ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/42639.html?class=3;template=results;type=bowling ، https://stats.espncricinfo.com/ci/engine/player/42639.html?class=3;template=results;type=bowling;view=innings
- Wikipedia, "Shahid Afridi", https://en.wikipedia.org/wiki/Shahid_Afridi (for biographical details only)
- Wisden, player profile "Shahid Afridi" (date of birth 1 March 1980; the same date is listed by Cricket Australia): https://wisden.com/player/11891/Shahid%20Afridi/
- Dawn, "'Afridi was born in 1977'" (4 May 2019), on his autobiography Game Changer: https://www.dawn.com/news/1480141







