15 اکتوبر 1896: کوئٹہ میونسپلٹی کا پہلا دن
جمعرات، 15 اکتوبر 1896۔ کوئٹہ کی چھاؤنی اور سول بازار میں بظاہر ایک عام دن تھا، مگر کاغذ پر شہر کی حیثیت بدل گئی تھی۔ اس صبح سے "کوئٹہ میونسپل لا، 1896" نافذ ہوا، اور شہر کے انتظام، صفائی، پانی…

تاریخ کے اوراق: یہ تحریر روزنامہ اعتماد کے اجرا (اکتوبر 1970) سے پہلے کے ایک دن کی کہانی ہے، جو دستیاب تاریخی ماخذ سے مرتب کی گئی ہے۔
جمعرات، 15 اکتوبر 1896۔ کوئٹہ کی چھاؤنی اور سول بازار میں بظاہر ایک عام دن تھا، مگر کاغذ پر شہر کی حیثیت بدل گئی تھی۔ اس صبح سے "کوئٹہ میونسپل لا، 1896" نافذ ہوا، اور شہر کے انتظام، صفائی، پانی اور چنگی کا کام ایک باقاعدہ میونسپل کمیٹی کے سپرد ہو گیا۔ امپیریل گزیٹیئر کے مطابق کوئٹہ پورے بلوچستان میں واحد شہر تھا جہاں باقاعدہ میونسپلٹی قائم کی گئی۔ باقی قصبوں کے لیے صرف "بازار فنڈ" تھے، جو سرکاری افسر چلاتے تھے۔
میونسپلٹی سے پہلے کا کوئٹہ
انگریزوں کا موجودہ قبضہ 1876 سے شروع ہوا تھا۔ خانِ قلات کے دور میں کوئٹہ آنے والے سامان پر چنگی اور راہداری محصول لیا جاتا تھا۔ کوئٹہ پشین گزیٹیئر کے مطابق انگریزوں نے چنگی جاری رکھی، راہداری جلد ختم کر دی، اور 1878 میں صفائی کا ٹیکس لگا دیا۔ ان رقوم کا حساب پہلے ایجنٹ ٹو گورنر جنرل کے اسسٹنٹ اور پھر کوئٹہ کے ٹریژری آفیسر رکھتے تھے، اور اہم معاملات میں پولیٹیکل ایجنٹ "کوئٹہ پنچایت" سے مشورہ کرتا تھا، جس میں ہندوستانی تاجر برادریوں کے سرکردہ لوگ شامل تھے۔
شہر کی زمین حکومت نے 1878 سے 1883 کے درمیان خریدی اور ان پرانے باشندوں کو دی جو قلعے سے نکالے گئے تھے۔ 1888 میں حکومتِ ہند نے میونسپل حدود کے اندر بنجر سرکاری زمین اس ادارے کو دینے کی اجازت دی، اور 1894 میں ایک تنخواہ دار سیکرٹری مقرر ہوا۔ یوں "میونسپلٹی" کا نام قانون سے پہلے ہی استعمال ہونے لگا تھا، مگر اس کی کوئی قانونی بنیاد نہیں تھی۔
قانون اور اس کا نفاذ
بلوچستان ایجنسی کی 1896-97 کی انتظامی رپورٹ کے مطابق یہ قانون گورنر جنرل اِن کونسل نے بنایا اور محکمۂ خارجہ کے 4 ستمبر 1896 کے نوٹیفکیشن میں شائع ہوا۔ نفاذ کی تاریخ ایجنٹ ٹو گورنر جنرل کو طے کرنی تھی۔ اکتوبر کے شروع میں قائم مقام ایجنٹ ٹو گورنر جنرل نے نوٹیفکیشن نمبر 6992 جاری کیا، جس میں 15 اکتوبر 1896 کو وہ دن قرار دیا گیا جب قانون نافذ ہو گا۔ امپیریل گزیٹیئر (1908) بھی یہی تاریخ دیتا ہے۔
قانون کے مطابق کمیٹی میں پولیٹیکل ایجنٹ کوئٹہ و پشین کے علاوہ کم از کم چھ ارکان ہونے تھے، جنہیں ایجنٹ ٹو گورنر جنرل نامزد کرتا۔ کسی رکن کی مدت تین سال سے زیادہ نہیں ہو سکتی تھی۔ پولیٹیکل ایجنٹ بلحاظِ عہدہ چیئرمین تھا، بجٹ اور سالانہ رپورٹ وہی تیار کرتا، اور بجٹ سے باہر کسی خرچ کے لیے کمشنر کی منظوری ضروری تھی۔ کمیٹی کو مہینے میں کم از کم ایک بار ملنا تھا اور کورم ایک تہائی ارکان کا تھا۔ اس میں انتخاب کا کوئی عنصر نہیں تھا: 1951 میں دستور ساز اسمبلی کو پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق یہ کمیٹی صرف نامزد ارکان پر مشتمل تھی۔
ایک دن، چار تاریخیں
سرکاری ماخذ نفاذ کے دن پر متفق نہیں۔ نوٹیفکیشن اور امپیریل گزیٹیئر 15 اکتوبر لکھتے ہیں؛ 1896-97 کی انتظامی رپورٹ 16 اکتوبر؛ اور کوئٹہ پشین گزیٹیئر (1907) یکم اکتوبر، اس اضافے کے ساتھ کہ پہلی میونسپل کمیٹی 17 اکتوبر کو مقرر ہوئی۔ اس کمیٹی میں چیئرمین کے طور پر پولیٹیکل ایجنٹ، پانچ بلحاظِ عہدہ اور چار نامزد ارکان تھے۔ ہم نے نوٹیفکیشن کی تاریخ اختیار کی ہے کیونکہ وہی قانونی طور پر فیصلہ کن ہے۔ جہاں تک 1897 کا تعلق ہے، وہ بانی سال نہیں بلکہ پہلے مالی سال کا اختتام تھا: یہ سال 31 مارچ 1897 کو پورا ہوا۔
پہلا سال
انتظامی رپورٹ کے مطابق 1896-97 میں کمیٹی کے نو اجلاس ہوئے، دو خصوصی اور سات معمول کے۔ پہلے برس اس نے تین طرح کے قواعد بنائے: چیچک کے ٹیکوں کے ضابطے، اجلاسوں کی کارروائی کے قواعد، اور مذبح خانوں کے قواعد۔ میونسپل فنڈ کی کل آمدن ایک لاکھ بہتر ہزار نو سو ستاسی روپے اور خرچ ایک لاکھ اٹھانوے ہزار دو سو انسٹھ روپے رہا۔ آمدن کا بڑا ذریعہ چنگی تھی۔ کوئٹہ کے واٹر ورکس کے لیے تالاب بنانے میں میونسپل حصہ ادا کیا گیا، اور نکاسی اور واٹر ورکس کے سرکاری قرضوں کی قسط لوٹائی گئی۔
اسی سال نئی کمیٹی کو پہلا بڑا امتحان پیش آیا۔ 30 دسمبر 1896 کو ایجنٹ ٹو گورنر جنرل کو اطلاع ملی کہ کراچی میں طاعون وبا کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ سبی، بوستان، کوئٹہ اور چمن کے اسٹیشنوں پر اترنے والے مسافروں کا طبی معائنہ شروع ہوا، اور بعد میں سبی میں ایک کیمپ بنا جہاں مشتبہ مسافروں کو دس دن تک روکا جا سکتا تھا۔ کوئٹہ میں میونسپل کمیٹی اور پولیٹیکل ایجنٹ کو وبائی امراض کے قانون کے تحت خصوصی اختیارات ملے، اور میونسپل اور چھاؤنی کمیٹیوں کے ارکان اور شہر کے معززین پر مشتمل ایک خصوصی صفائی کمیٹی بنی۔ رپورٹ کے مطابق سال کے آخر تک کوئٹہ میں طاعون کا کوئی کیس نہیں ہوا۔ 7 اپریل 1897 کے ایک نوٹیفکیشن نے میونسپل کمیٹی کو طاعون سے بچاؤ کے اخراجات اٹھانے کا اختیار دیا۔
بلوچستان، 1896
- قیادت: امپیریل گزیٹیئر کے مطابق سر رابرٹ سنڈیمن کے بعد جنرل سر جیمز براؤن ایجنٹ ٹو گورنر جنرل بنے، جو 1896 میں انتقال کر گئے؛ اسی برس ہیو بارنز نے یہ عہدہ سنبھالا۔
- عدالت: 1896 میں دیوانی اور فوجداری انصاف کے قوانین دوبارہ نافذ ہوئے اور جوڈیشل کمشنر کا عہدہ بنا، جو بلوچستان کی ہائی کورٹ تھا۔
- سرحدیں: بلوچ افغان سرحدی کمیشن نے 1894 سے 1896 تک شمالی سرحد کی حد بندی کی، اور 1896 میں اینگلو پرشین کمیشن نے کوہک سے کوہِ ملک سیاہ تک لکیر طے کی۔
- بھنگ: جولائی 1896 سے برطانوی بلوچستان میں بھنگ کی کاشت پر مکمل پابندی لگی۔
- کوئٹہ: 1891 کی مردم شماری میں شہر اور چھاؤنی کی آبادی 18,802 تھی۔
آگے کیا ہوا
- 1897: کوئٹہ پشین گزیٹیئر کے مطابق درۂ بولان سے گزرنے والی مشکاف بولان ریلوے مکمل ہو کر ٹریفک کے لیے کھلی۔
- 1901: امپیریل گزیٹیئر کے مطابق شہر اور چھاؤنی کی آبادی 24,584 ہو گئی۔ 1901 تک کے چار برسوں میں میونسپل آمدن اوسطاً 1.7 لاکھ روپے رہی اور 1903-4 میں 2.2 لاکھ تک پہنچی۔ چنگی کی خالص آمدن کا آدھا حصہ چھاؤنی کمیٹی کو جاتا تھا۔
- 17 اکتوبر 1905: ایجنٹ ٹو گورنر جنرل کے نوٹیفکیشن نمبر 4910 سے میونسپلٹی کی حدود پہلی بار باقاعدہ مقرر ہوئیں۔ اس سال کمیٹی میں پانچ بلحاظِ عہدہ اور دس نامزد ارکان تھے۔
- 31 مئی 1935: زلزلے نے کوئٹہ کی سول لائنز مکمل طور پر تباہ کر دیں (ڈان)۔
- 1946: 1896 کے قانون کی جگہ "کوئٹہ میونسپل لا، 1946" آیا۔ دستور ساز اسمبلی کی 1951 کی رپورٹ کے مطابق اب مشترکہ انتخابی فہرست پر دس وارڈوں سے دس ارکان منتخب اور نو نامزد ہوتے تھے، اور پولیٹیکل ایجنٹ کوئٹہ پشین بدستور چیئرمین تھا۔
کیا آپ کے پاس کوئٹہ میونسپلٹی کے ابتدائی دور کی کوئی دستاویز، نقشہ، رسید یا تصویر محفوظ ہے؟ ہمیں ضرور بھیجیں۔ ہم اسے آپ کے نام کے ساتھ اس صفحے پر شامل کریں گے۔
ماخذ
- Government of India, British Enactments in Force in Native States, Northern India (Calcutta: Superintendent of Government Printing, India; DLI copy catalogued 1899), chapter II, "The Baluchistan Agency Territories": text of the Quetta Municipal Law, 1896 (sections 3–14: committee of the Political Agent and not fewer than six appointed members, term up to three years, Political Agent ex officio chairman and budget-maker, Commissioner's sanction, monthly meetings, one-third quorum), and p. 426, Notification No. 6992 (October 1896) appointing 15 October 1896 as the day of commencement, citing Gazette of India, 1896, Pt II, p. 1061. Opened (full OCR). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.81384
- Government of India, British Enactments in Force in Indian States, vol. I, 4th ed. (1930): footnote to the Quetta Municipal Law, "The 15th October, 1896, was so appointed by Notification No. 6992". Opened (full OCR). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.100329
- R. Hughes-Buller (comp.), Imperial Gazetteer of India, Provincial Series: Baluchistan (Calcutta: Superintendent of Government Printing, 1908), p. 74 (law in force 15 October 1896; Quetta the only formally constituted municipality; octroi before 1876, conservancy cess 1878; income figures; half of net octroi to the cantonment), p. 126 (municipality formally constituted October 1896), pp. 129–130 (Quetta town; population 18,802 in 1891 and 24,584 in 1901; present municipal system dates from 1896), and the 1896 items in "Baluchistan, 1896". Opened (full OCR). https://archive.org/details/ImperialGazetteerOfIndiaBaluchistan
- R. Hughes-Buller, assisted by Diwan Jamiat Rai, Baluchistan District Gazetteer Series, vol. V: Quetta-Pishin District (Ajmer: Scottish Mission Industries, 1907; preface dated Quetta, September 1906), pp. 335–337 (octroi and transit dues under Kalat; conservancy cess 1878; Quetta Panchayat; land bought 1878–1883; 1888 order on waste land; paid secretary 1894; law in force 1 October 1896; first committee appointed 17 October 1896 with five ex officio and four nominated members; 1905 composition; limits notified by Notification No. 4910 of 17 October 1905), and the opening of the Mushkaf-Bolan line in 1897. Opened (full OCR). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.46886
- Government of India, Foreign Department, Report on the Administration of the Baluchistan Agency for 1896-97 (bound with the reports for 1894-95 and 1895-96, Selections from the Records of the Government of India), para 24 and para 57 (law published by notification of 4 September 1896, in force 16 October 1896; nine meetings; rules framed; receipts and expenditure of the Quetta Municipal Fund), chapter XV "Plague" (paras 169–172), and Notification No. 1667 of 7 April 1897. Opened (full OCR). https://archive.org/details/india.history.resource.109824
- Constituent Assembly of Pakistan Debates, vol. X, no. 1 (Karachi: Manager of Publications, 1951), report on Baluchistan: Quetta Municipal Committee came into existence in 1896 with nominated members only; superseded by the Quetta Municipal Law, 1946 (10 elected, 9 nominated; Political Agent ex officio chairman). Opened (full OCR). https://archive.org/details/CAPD_X_1
- Dawn, "The great Quetta tragedy" (Lahori's Notebook), 25 October 2005 (civil lines completely destroyed in the 1935 earthquake). Opened. https://www.dawn.com/news/1068419/dawn-features-october-25-2005
- Martin Axmann, Back to the Future: The Khanate of Kalat and the Genesis of Baloch Nationalism, 1915–1955 (Karachi: Oxford University Press, 2008): committee "came into existence on 17 October 1896". https://archive.org/details/backtofuturekhan0000axma



