ضلع قلعہ عبداللہ: خواجہ عمران کے دامن میں کاریزوں اور انگور کے باغوں کی سرزمین
قلعہ عبداللہ کوئٹہ کے شمال مغرب میں، پشین کی وادی اور افغان سرحد کے درمیان واقع ہے۔ یہ علاقہ صدیوں سے قندھار اور برصغیر کے درمیان راستے پر رہا ہے، اور کاریزوں سے سیراب ہونے والے انگور اور دوسرے پھلوں…

تعارف اور محلِ وقوع
قلعہ عبداللہ کوئٹہ کے شمال مغرب میں، پشین کی وادی اور افغان سرحد کے درمیان واقع ہے۔ یہ علاقہ صدیوں سے قندھار اور برصغیر کے درمیان راستے پر رہا ہے، اور کاریزوں سے سیراب ہونے والے انگور اور دوسرے پھلوں کے باغ اس کی پہچان ہیں۔
2023ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع قلعہ عبداللہ کا رقبہ 3,553 مربع کلومیٹر اور آبادی 361,971 ہے: 189,172 مرد، 172,783 عورتیں اور 16 خواجہ سرا۔ آبادی کی کثافت تقریباً 102 افراد فی مربع کلومیٹر ہے اور صرف 9.78 فیصد لوگ شہری علاقے میں رہتے ہیں۔ ایک گھرانے میں اوسطاً 5.3 افراد ہیں۔ موجودہ حدود میں 2017ء کی آبادی 323,793 تھی، یعنی سالانہ اضافے کی شرح 1.88 فیصد رہی۔
مردم شماری کے جدول کے مطابق ضلع تین انتظامی حصوں پر مشتمل ہے: قلعہ عبداللہ سب ڈویژن (413 مربع کلومیٹر، آبادی 165,738)، گلستان سب ڈویژن (1,536 مربع کلومیٹر، 126,474) اور دوبندی سب تحصیل (1,604 مربع کلومیٹر، 69,759)۔ ضلع کی واحد شہری بستی قلعہ عبداللہ میونسپل کمیٹی ہے جس کی آبادی 35,384 ہے۔
بلوچستان ہائی کورٹ کے ضلعی صفحے کے مطابق قلعہ عبداللہ جون 1993ء میں ضلع پشین سے الگ کر کے ضلع بنایا گیا۔ بعد میں ضلع کا ایک بڑا حصہ الگ ہو گیا: ادارۂ شماریات کی صوبائی رپورٹ کے مطابق 2017ء کی مردم شماری کے بعد چمن تحصیل اور چمن میونسپل کارپوریشن کو قلعہ عبداللہ سے نکال کر ضلع چمن بنایا گیا۔ اس سے ضلع کا رقبہ 4,894 سے گھٹ کر 3,553 مربع کلومیٹر اور 2017ء کی آبادی 758,354 سے گھٹ کر 323,793 رہ گئی۔ جولائی 2026ء کی انتظامی تنظیمِ نو کی اخباری اطلاعات کے مطابق قلعہ عبداللہ کو پشین، چمن اور نئے ضلع برشور کے ساتھ ایک نئی پشین ڈویژن میں رکھا گیا ہے؛ نوٹیفکیشن کا متن ابھی ہمارے سامنے نہیں، اس لیے یہ صفحہ 2023ء کی مردم شماری کی حدود کے مطابق ہے۔
تاریخ
ضلع اور اس کے صدر مقام کا نام ایک اچکزئی سردار کے نام پر ہے۔ 1907ء کے کوئٹہ پشین گزیٹیئر کے مطابق قلعہ عبداللہ گاؤں دو حصوں پر مشتمل تھا: دہسورہ کاریز، جس کے بارے میں روایت ہے کہ وہ آتش پرستوں (گبروں) کے زمانے میں بنی، اور چشمہ انزرگئی۔ پہلا حصہ کاکڑوں اور دوسرا اشیزئی اچکزئیوں کا تھا، مگر انیسویں صدی کے آغاز میں سردار عبداللہ خان اچکزئی نے دونوں خرید لیے، یہاں ایک قلعہ بنایا اور بستی کو اپنا نام دیا۔ 1907ء تک یہ قلعہ کھنڈر بن چکا تھا۔
گزیٹیئر کے مطابق برطانوی سیاح چارلس میسن نے 1826ء سے 1840ء کے درمیان اپنے سفر میں سردار عبداللہ خان کا چوکور قلعہ دیکھا اور لکھا کہ سردار قافلوں سے محصول وصول کرتا تھا۔ پہلی افغان جنگ کے دوران "آرمی آف دی انڈس" 12 اپریل 1839ء کو قلعہ عبداللہ پہنچی اور شاہ شجاع کی پیادہ فوج کی ایک بٹالین یہاں چھوڑی گئی۔
امپیریل گزیٹیئر (1908ء) کے مطابق قلعہ عبداللہ سے شمال کی طرف بتدریج چڑھائی شیلا باغ تک جاتی ہے، جہاں سے درۂ خوجک کی 7,457 فٹ بلند چوٹی ڈھائی میل کے فاصلے پر ہے۔ شیلا باغ کے مقام پر ریل خوجک سرنگ سے گزرتی ہے، جو 1888ء سے 1891ء کے درمیان بنی اور ڈھائی میل سے کچھ کم لمبی ہے۔ گزیٹیئر لکھتا ہے کہ قندھار سے ہندوستان کے راستے پر ہونے کی وجہ سے یہ درہ صدیوں سے فاتحوں، سپاہیوں اور تاجروں کی گزرگاہ رہا۔
انگریز دور میں قلعہ عبداللہ تجارت کا اہم مرکز تھا۔ کوئٹہ پشین گزیٹیئر کے مطابق اس کا ریلوے اسٹیشن گاؤں سے ایک میل مشرق میں تھا، اور امیرِ افغانستان کے حکم کے تحت تازہ پھل لانے والوں کے سوا تمام قافلے چمن کے بجائے قلعہ عبداللہ آنے کے پابند تھے۔
لوگ اور زبانیں
2023ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع کے 361,971 باشندوں میں سے 359,220، یعنی تقریباً 99.2 فیصد، کی مادری زبان پشتو ہے۔ بلوچی بولنے والے 1,246 اور براہوئی بولنے والے 652 ہیں۔ مذہب کے جدول میں 360,673 مسلمان اور 877 مسیحی درج ہیں۔
کوئٹہ پشین گزیٹیئر کے مطابق 1901ء میں ضلع کوئٹہ پشین میں اچکزئیوں کی تعداد 19 ہزار سے زیادہ تھی، جن میں سے 13,039 چمن سب ڈویژن اور 5,952 پشین تحصیل میں تھے۔ گزیٹیئر کے مطابق 1901ء میں گلستان گاؤں کی آبادی 587 تھی، جس میں 140 اچکزئی اور 320 کاکڑ تھے۔
تعلیم میں ضلع پیچھے ہے۔ مردم شماری کے مطابق دس سال اور اس سے زیادہ عمر کی آبادی میں شرحِ خواندگی 36.40 فیصد ہے: مردوں میں 47.28 اور عورتوں میں 24.70 فیصد۔ صوبائی رپورٹ کے مطابق 5 سے 16 سال کے اسکول سے باہر بچوں کی شرح قلعہ عبداللہ میں 76.92 فیصد ہے، جو شیرانی کے بعد صوبے میں سب سے زیادہ ہے۔
معیشت
قلعہ عبداللہ کی معیشت کا مرکز باغبانی ہے، اور اس کی جڑیں پرانی ہیں۔ کوئٹہ پشین گزیٹیئر کے مطابق مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ اس سے ایک صدی پہلے علاقے میں پھل دار درخت بہت کم تھے، اور انیسویں صدی کے آغاز میں سردار عبداللہ خان اچکزئی نے قلعہ عبداللہ میں بہت سے درخت لگا کر باغبانی کو فروغ دیا، جو وہاں سے ضلع کے دوسرے حصوں تک پھیلی۔
گزیٹیئر 1907ء کے باغات کی تفصیل بھی دیتا ہے۔ قلعہ عبداللہ کے دس باغ 29 ایکڑ سے زیادہ رقبے پر تھے جن میں انگور کی ہیٹا، سرہ کشمشی اور صاحبی اقسام، خوبانی، بادام اور بہی پیدا ہوتے تھے؛ قندھاری بیوپاری یہ پھل خرید کر کوئٹہ لے جاتے تھے۔ گلستان کے باغ 99 ایکڑ سے زیادہ رقبے پر تھے، جبکہ قریب کی عنایت اللہ کاریز کے باغ 77 ایکڑ پر پھیلے تھے اور اپنے آڑوؤں کے لیے مشہور تھے۔ توبہ کے سطح مرتفع پر، جو اس وقت چمن سب ڈویژن کا حصہ تھا، تقریباً تین چوتھائی کاشت بارانی تھی اور گندم اور مکئی اہم فصلیں تھیں۔
آج بھی انگور اس ضلع کی بڑی فصل ہے۔ اے پی پی کی ستمبر 2026ء کی ایک رپورٹ کے مطابق محکمۂ زراعت کی "زرعی شماریات بلوچستان 2024-25ء" میں قلعہ عبداللہ میں انگور کی پیداوار 3,317 ٹن درج ہے۔ اسی رپورٹ کے مطابق یہاں کے کاشت کار روایتی کاریزوں اور ٹیوب ویلوں دونوں سے پانی لیتے ہیں، ضلع سیب کی بڑے پیمانے پر کاشت کے لیے بھی جانا جاتا ہے، اور بلوچستان کی زرعی پالیسی 2021-30ء میں اسے "ہائی لینڈز ٹو" زرعی ماحولیاتی زون میں رکھا گیا ہے۔ صوبائی رپورٹ کے مطابق ضلع کے صرف 20 سے 40 فیصد گھرانوں کو روشنی کے لیے بجلی میسر ہے۔
قابلِ دید مقامات
گلستان کاریز اور قلعہ: گزیٹیئر کے مطابق گلستان کا نام اس کاریز سے ہے جسے گلستان نامی ایک حمیدزئی اچکزئی نے بنایا تھا، اور یہ پشین تحصیل کی بڑی کاریزوں میں سے تھی۔ گاؤں سے تقریباً ایک میل مشرق میں ایک پرانا قلعہ ہے جسے لوگ "چھاؤنی" کہتے تھے؛ 1883ء تک اس میں باقاعدہ فوج رہی، اور اس کے جنوب میں ایک یورپی قبرستان ہے۔
صدیق جان صاحبزادہ کی زیارت: گزیٹیئر کے مطابق عنایت اللہ کاریز سے ڈیڑھ میل شمال میں ایک شادیزئی سید کی یہ زیارت واقع تھی۔
توبہ اور گرگئی کا چشمہ: گزیٹیئر کے مطابق توبہ کا سطح مرتفع، جس کا دوبندی والا حصہ آج ضلع قلعہ عبداللہ کی سب تحصیل ہے، اُس وقت کے ضلع کوئٹہ پشین کا سرد ترین علاقہ تھا۔ برجِ اسلم کے قریب گرگئی چشمے کا پانی اتنا مشہور تھا کہ احمد شاہ درانی نے اپنی زندگی کے آخری برسوں میں یہاں تین مہینے قیام کیا۔
ماخذ
- Pakistan Bureau of Statistics, 7th Population and Housing Census 2023, Table 1: Area, Population by Sex, Sex Ratio, Population Density, Urban Population, Household Size and Annual Growth Rate (Balochistan districts), PDF p. 5 (Killa Abdullah district and sub-divisions). https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_1_balochistan_districts.pdf ; Table 2: Urban Localities, PDF p. 2. https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_2_balochistan_districts.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, Census 2023, Table 11: Population by Mother Tongue, PDF p. 18; Table 9: Population by Religion, PDF p. 21; Table 12: Literacy Rate and Out of School Population, PDF p. 26 (Balochistan districts). https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_11_balochistan_districts.pdf ; https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_9_balochistan_districts.pdf ; https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_12_balochistan_districts.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, Provincial Census Report 2023: Balochistan, Islamabad: p. 48 (Table 2.3, Chaman tehsil and municipal corporation taken out of Killa Abdullah), p. 95 (out-of-school ranking), p. 120 (electricity). Printed page numbers from the page footers. https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/2020/07/Provincial-Census-Report-2023-Balochistan-1.pdf
- High Court of Balochistan, District Judiciary Killa Abdullah, "History of District". https://bhc.gov.pk/district-judiciary/killa-abdullah/introduction/history
- R. Hughes-Buller, assisted by Rai Sahib Diwan Jamiat Rai, Baluchistan District Gazetteer Series, Vol. V: Quetta-Pishin District, Ajmer: Scottish Mission Industries, 1907: pp. 69–70 (Achakzais), pp. 108–109 (fruit cultivation), pp. 298–300 (Chaman sub-division: Toba, Gargai spring, agriculture), pp. 310–311 (Gulistan, Inayat Ullah Karez, shrine of Saddiq Jan Sahibzada), pp. 315–316 (Kila Abdulla). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.46886
- R. Hughes-Buller (comp.), Imperial Gazetteer of India, Provincial Series: Baluchistan, Calcutta: Superintendent of Government Printing, 1908: p. 129 (Khojak pass and tunnel). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.277321
- Associated Press of Pakistan, Matiullah Mati, "Haji Abdul Manan's orchard: Where a dozen-plus grape varieties meet hospitality", 21 September 2026 (grape output from Agriculture Statistics Balochistan 2024-25; Highlands-II zone). https://www.app.com.pk/features/haji-abdul-manan-s-orchard-where-a-dozen-plus-grape-varieties-meet-hospitality/
- July 2026 restructuring, as recorded in content/districts/00-district-list.md: Dawn, "Balochistan undergoes major restructuring", 12 July 2026, https://www.dawn.com/news/2014773/balochistan-undergoes-major-restructuring ; ProPakistani, 12 July 2026, https://propakistani.pk/2026/07/12/balochistan-govt-notifies-new-divisions-and-districts/ (not opened in this session)







