ضلع موسیٰ خیل: کوہِ سلیمان کی چراگاہیں اور مارخور کا مسکن
موسیٰ خیل بلوچستان کے شمال مشرقی کونے کا پہاڑی ضلع ہے جس کی سرحدیں خیبر پختونخوا اور پنجاب سے ملتی ہیں۔ بلوچستان ہائی کورٹ کی ضلعی عدلیہ کے صفحے کے مطابق ضلع کا صدر مقام موسیٰ خیل بازار ہے اور…

تعارف اور محلِ وقوع
موسیٰ خیل بلوچستان کے شمال مشرقی کونے کا پہاڑی ضلع ہے جس کی سرحدیں خیبر پختونخوا اور پنجاب سے ملتی ہیں۔ بلوچستان ہائی کورٹ کی ضلعی عدلیہ کے صفحے کے مطابق ضلع کا صدر مقام موسیٰ خیل بازار ہے اور ضلع چار تحصیلوں موسیٰ خیل، دروگ، کنگری اور توئیسر پر مشتمل ہے۔ اسی صفحے کے مطابق موسیٰ خیل یکم جنوری 1992ء کو ضلع بنا، جب ضلع لورالائی کو تین اضلاع لورالائی، موسیٰ خیل اور بارکھان میں تقسیم کیا گیا۔
پاکستان ادارۂ شماریات کی 2023ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع کا رقبہ 5,728 مربع کلومیٹر ہے (ہائی کورٹ کا صفحہ 7,552 مربع کلومیٹر لکھتا ہے)۔ آبادی 182,275 ہے، جس میں 96,706 مرد، 85,566 عورتیں اور 3 خواجہ سرا ہیں۔ کثافت تقریباً 32 افراد فی مربع کلومیٹر ہے، اور صرف 8.67 فیصد لوگ شہری علاقے، یعنی موسیٰ خیل میونسپل کمیٹی (15,805 افراد)، میں رہتے ہیں۔ گھرانے کا اوسط حجم 5.8 افراد ہے۔ 2017ء میں آبادی 167,243 تھی، یعنی سالانہ اضافہ صرف 1.45 فیصد رہا، جو صوبے کی اوسط شرح 3.20 فیصد سے کافی کم ہے۔
مردم شماری کے جدول میں ضلع کے چھ حصے ہیں: کنگری تحصیل (3,683 مربع کلومیٹر، آبادی 33,618)، توئیسر تحصیل (539 مربع کلومیٹر، 56,818)، موسیٰ خیل تحصیل (658 مربع کلومیٹر، 49,809)، دروگ تحصیل (301 مربع کلومیٹر، 21,792)، تیار ایسوٹ سب تحصیل (299 مربع کلومیٹر، 10,568) اور زمری پلاسین سب تحصیل (248 مربع کلومیٹر، 9,670)۔ صوبائی مردم شماری رپورٹ کے مطابق توئیسر تحصیل اور تیار ایسوٹ سب تحصیل 2017ء کے بعد بنائی گئیں۔
1907ء کے لورالائی گزیٹیئر کے مطابق موسیٰ خیل تحصیل کے شمال میں ڈیرہ اسماعیل خان، مشرق میں ڈیرہ غازی خان، جنوب میں بارکھان اور مغرب میں بوری اور فورٹ سنڈیمن (ژوب) کی تحصیلیں تھیں۔ تحصیل کا بڑا حصہ پہاڑی تھا، سوائے مرکزی وادی کے جسے "موسیٰ خیل صحرا" کہا جاتا تھا اور جس کی بلندی تین سے چار ہزار فٹ تھی۔ گزیٹیئر کوہِ سلیمان کی دو بڑی شاخوں بورغر اور تورغر کا ذکر کرتا ہے؛ تورغر میں نشترغر یا مزری روہ کی چوٹی 10,200 فٹ بلند بتائی گئی ہے۔
تاریخ
بلوچستان ہائی کورٹ کے صفحے کے مطابق یہ علاقہ پہلے صوبۂ قندھار کا حصہ تھا اور مغلوں، صفویوں، غلزئیوں، نادر شاہ اور درانیوں کے ادوار سے گزرا۔
گزیٹیئر کے مطابق 1890ء میں ژوب ایجنسی بنی تو موسیٰ خیل اس میں شامل کیا گیا، 1892ء میں یہاں تحصیل قائم ہوئی اور اکتوبر 1903ء میں اسے نئے ضلع لورالائی میں منتقل کر دیا گیا، جہاں یہ بارکھان کے ساتھ ایک سب ڈویژن کا حصہ بنا جس کا صدر مقام بارکھان تھا۔ ہائی کورٹ کے صفحے کے مطابق یہاں کا سیشنز ڈویژن 10 اپریل 2000ء کو بنا، مگر عدالتی عمارت نہ ہونے کی وجہ سے سیشنز عدالت طویل عرصے تک لورالائی سے کام کرتی رہی۔
لوگ اور زبانیں
2023ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع کی 156,450 آبادی، یعنی تقریباً 86 فیصد، کی مادری زبان پشتو ہے۔ بلوچی بولنے والے 21,881 (تقریباً 12 فیصد) ہیں اور سرائیکی بولنے والے 1,228۔ مذہب کے جدول کے مطابق 181,781 باشندے مسلمان اور 479 مسیحی ہیں۔
گزیٹیئر کے مطابق 1901ء میں تحصیل کی آبادی 15,537 تھی، یعنی ایک مربع میل میں صرف سات افراد۔ بڑے قبائل میں پنی (10,144)، جن میں موسیٰ خیل کی دو بڑی شاخیں بیل خیل اور لہڑزئی شامل تھیں، ایسوٹ (1,941) اور جعفر (1,026) تھے۔ گزیٹیئر لکھتا ہے کہ لوگ "اب بھی خانہ بدوشانہ عادات" رکھتے تھے، مستقل دیہات کم تھے، اور لہڑزئی سب سے بڑے گلہ بان تھے۔ اس وقت صدر مقام موسیٰ خیل بازار کی آبادی صرف 140 تھی۔
تعلیمی اعداد کمزور ہیں۔ مردم شماری کے مطابق دس سال اور زیادہ عمر کے لوگوں میں شرحِ خواندگی 36.60 فیصد ہے: مردوں میں 47.50 اور عورتوں میں صرف 24.72 فیصد۔ 5 سے 16 سال کے 35,220 بچے اسکول سے باہر ہیں، اور صوبائی رپورٹ موسیٰ خیل کو ان دس اضلاع میں رکھتی ہے جہاں اسکول سے باہر بچوں کی شرح 50 سے 60 فیصد ہے۔ گھریلو سہولتوں میں بھی ضلع پیچھے ہے: رپورٹ کے مطابق یہاں صرف 26.7 فیصد گھروں میں بیت الخلا ہے، اور بجلی کی سہولت والے گھروں کی شرح 20 سے 40 فیصد کے درمیان ہے۔
معیشت
گزیٹیئر کے زمانے میں یہاں کا بنیادی پیشہ زراعت کے ساتھ گلہ بانی تھا۔ قابلِ کاشت رقبے کا تقریباً 35 فیصد آب پاشی کے قابل تھا اور باقی بارش پر منحصر تھا۔ ربیع میں گندم سب سے بڑی فصل تھی اور خریف میں مکئی اور مونگ۔ 1904-05ء کے ایک اندازے کے مطابق مقامی لوگوں کے پاس تقریباً ایک لاکھ اکیس ہزار بھیڑ بکریاں تھیں۔ امپیریل گزیٹیئر (1908ء) لکھتا ہے کہ کاشت "ابھی ابتدائی مرحلے میں" ہے اور مویشی چرانا بنیادی پیشہ ہے، اور کھجوری کے اطراف کی چراگاہوں کا خاص ذکر کرتا ہے۔
دروگ گاؤں تجارت کا مرکز تھا۔ گزیٹیئر کے مطابق وہاں کے ہندو تاجر سوتی کپڑا، اناج، تیل اور چینی منگواتے اور اون، گھی اور پیش (بونی کھجور) کے پتوں سے بنی رسیاں باہر بھیجتے تھے۔
آج ضلع کی ایک بڑی معاشی سرگرمی کان کنی ہے۔ بلوچستان ہائی کورٹ کے صفحے کے مطابق موسیٰ خیل اپنی کان کنی، خاص طور پر کوئلے کی کان کنی، کے لیے جانا جاتا ہے اور یہاں کوئلے کی کان کنی 1980ء میں شروع ہوئی۔
قابلِ دید مقامات
جنگلی حیات اور نباتات: بلوچستان ہائی کورٹ کے صفحے کے مطابق موسیٰ خیل صوبے کے ماحولیاتی لحاظ سے متنوع ترین اضلاع میں سے ہے۔ یہاں تقریباً 211 پودوں کی اقسام ریکارڈ کی گئیں، جن میں طبی جڑی بوٹیاں بھی شامل ہیں۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے 2005ء کے سروے میں ممالیہ جانوروں کی 14 اور پرندوں کی 32 اقسام درج ہوئیں، جن میں سلیمان مارخور اور اڑیال خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ صفحہ یہ بھی بتاتا ہے کہ غیر قانونی شکار اور جنگل کی کٹائی اس ماحول کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
بکس (Box) کے درخت: گزیٹیئر کے مطابق 1892ء میں محکمۂ جنگلات کے ایک افسر نے وہوا درے کی طرف بہنے والے پانی کو الگ کرنے والے پہاڑی سلسلے کی چوٹی پر بکس کے چند درخت دیکھے، اور اس وقت تک بلوچستان میں یہی واحد جگہ تھی جہاں یہ درخت ملا تھا۔
دروگ: گزیٹیئر کے مطابق تقریباً ساڑھے تین ہزار فٹ بلندی پر واقع یہ گاؤں بگا روہ اور کالا روہ کی پہاڑیوں کے درمیان ہے۔ تونسہ (ڈیرہ غازی خان) کے مشہور بزرگ خواجہ سلیمان جعفر قبیلے سے تھے اور ان کے والد کا مزار دروگ میں ہے۔
ماخذ
- Pakistan Bureau of Statistics, 7th Population and Housing Census 2023, Table 1: Area, Population by Sex, Sex Ratio, Population Density, Urban Population, Household Size and Annual Growth Rate (Balochistan districts), PDF pp. 6-7 (Musakhel district, tehsils and sub-tehsils). https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_1_balochistan_districts.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, Census 2023, Table 2: Urban Localities (Balochistan), PDF p. 2 (Musakhel MC). https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_2_balochistan_districts.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, Census 2023, Table 11: Population by Mother Tongue, PDF pp. 25-26. https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_11_balochistan_districts.pdf ; Table 9: Population by Religion, PDF p. 30. https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_9_balochistan_districts.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, Census 2023, Table 12: Literacy Rate and Out of School Population, PDF pp. 37-38. https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_12_balochistan_districts.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, Provincial Census Report 2023: Balochistan, Islamabad: p. 47 (Table 2.3, Toisar tehsil and Tiyar Essot sub-tehsil), p. 94 (out-of-school brackets), p. 120 (electricity), p. 127 (toilet facility). Printed page numbers read from the PDF page footers. https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/2020/07/Provincial-Census-Report-2023-Balochistan-1.pdf
- Balochistan High Court, District Judiciary Musakhail, "History of District" (tehsils, area, district status 1 January 1992, coal mining since 1980, flora and fauna) and "About Session Court" (Sessions Division created 10 April 2000). https://bhc.gov.pk/district-judiciary/musakhail/introduction/history ; https://bhc.gov.pk/district-judiciary/musakhail/introduction/about
- Rai Sahib Jamiat Rai (comp.), Baluchistan District Gazetteer Series, Vol. II: Loralai District, Bombay: Times Press, 1907: pp. 78-80 (Pannis and Musa Khels; 1879 gathering; 1883 peace), pp. 324-329 (Musa Khel tahsil: boundaries, hills, Box trees, history, population, agriculture, Drug). Printed page numbers from the running heads of the OCR text. https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.279670
- R. Hughes-Buller (comp.), Imperial Gazetteer of India, Provincial Series: Baluchistan, Calcutta: Superintendent of Government Printing, 1908, p. 117 (Musa Khel tahsil). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.277321



