ضلع واشک: کھجور کے باغ، ماشکیل کا ہامون اور صحرا
واشک بلوچستان کے مغرب میں، خاران کے جنوب مغرب اور ایران کی سرحد کے ساتھ واقع ایک وسیع اور کم آباد ضلع ہے۔ اس کے جنوب میں سیاہان کا پہاڑی سلسلہ اور مغرب میں دریائے ماشکیل اور ماشکیل کا ہامون…

تعارف اور محلِ وقوع
واشک بلوچستان کے مغرب میں، خاران کے جنوب مغرب اور ایران کی سرحد کے ساتھ واقع ایک وسیع اور کم آباد ضلع ہے۔ اس کے جنوب میں سیاہان کا پہاڑی سلسلہ اور مغرب میں دریائے ماشکیل اور ماشکیل کا ہامون ہے، جبکہ شمال کی طرف ریت کا صحرا پھیلا ہوا ہے۔ ایک صدی پہلے یہ علاقہ خاران کی ریاست کی ایک "نیابت" تھا اور اپنے کھجور کے باغوں کے لیے مشہور تھا۔
پاکستان ادارۂ شماریات کی 2023ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع واشک کا رقبہ 33,093 مربع کلومیٹر اور آبادی 302,623 ہے، جس میں 162,913 مرد اور 139,685 خواتین ہیں۔ آبادی کی کثافت تقریباً نو افراد فی مربع کلومیٹر ہے۔ صرف 13.58 فیصد آبادی (41,107 افراد) شہری ہے اور یہ ساری کی ساری واشک سب ڈویژن میں رہتی ہے۔ 2017ء میں ضلع کی آبادی 175,712 تھی؛ ادارۂ شماریات کے مطابق 2017ء سے 2023ء تک سالانہ اوسط اضافہ 9.51 فیصد رہا، جو صوبے کے تمام اضلاع میں سب سے زیادہ ہے۔
ضلع پانچ انتظامی اکائیوں پر مشتمل ہے: ماشکیل سب ڈویژن (رقبہ 11,663 مربع کلومیٹر، آبادی 67,142)، واشک سب ڈویژن (7,494 مربع کلومیٹر، 55,585)، بیسیمہ سب ڈویژن (6,014 مربع کلومیٹر، 63,368)، شاہو گڑھی سب تحصیل (59,061) اور ناگ سب تحصیل (57,467)۔ صوبائی مردم شماری رپورٹ کے مطابق 2017ء کے بعد خاران اور واشک کو قلات ڈویژن سے، اور چاغی اور نوشکی کو کوئٹہ ڈویژن سے نکال کر رخشان ڈویژن بنایا گیا۔ جولائی 2026ء کی تنظیمِ نو کی اخباری رپورٹوں میں رخشان بدستور ایک ڈویژن ہے اور واشک کی حدود میں تبدیلی کا ذکر نہیں۔
تاریخ
"بلوچستان ڈسٹرکٹ گزیٹیئر" کی خاران جلد (میجر سی ایف منچن، 1907ء) میں واشک اور پلنتک کی نیابت کا تفصیلی بیان ہے۔ گزیٹیئر کے مطابق نام "واشک" کے بارے میں روایت ہے کہ یہ "خواب شد" یعنی "وہ سو گیا" کی بگڑی ہوئی شکل ہے: اس بستی کے بانی، بامپور سے آنے والے سید ملک دینار، سفر میں سو نہیں پا رہے تھے، اور جب اس ویران جگہ پہنچ کر گہری نیند سوئے تو جاگ کر یہیں بسنے کا فیصلہ کیا۔ اس جگہ کو "خاشک" بھی کہا جاتا تھا۔
گزیٹیئر کے مطابق ملک دینار سے ایک لوک کہانی بھی منسوب ہے کہ انہوں نے پنجگور خاران راستے پر ایک غار میں رہنے والے اژدہے کو پتھر بنا دیا؛ وہ جگہ "اژدہا" کہلاتی ہے۔
گزیٹیئر کے زمانے میں واشک کا قلعہ بغیر دروازے کے تھا؛ اندر جانے کے لیے دیوار کے اوپر سے رسی لٹکائی جاتی تھی اور ایک وقت میں ایک ہی آدمی چڑھ سکتا تھا۔
لوگ اور زبانیں
2023ء کی مردم شماری کے مادری زبان کے جدول کے مطابق ضلع واشک کی تقریباً 68 فیصد آبادی (206,492 افراد) کی مادری زبان بلوچی اور تقریباً 31.5 فیصد (95,144) کی براہوی ہے۔ دیگر زبانیں بولنے والے چند سو ہیں۔
گزیٹیئر کے مطابق واشک کی مستقل آبادی 1904ء میں ملک دینار کی اولاد کے تین گھرانوں، ان کے ساتھیوں کی اولاد واشکیوں اور نقیبوں، اور ہالازئیوں پر مشتمل تھی، اور ان کے ساتھ محمد حسنی قبیلے کی کئی شاخیں نیم مستقل طور پر رہتی تھیں۔ واشکی اور نقیب صرف کاشت کار تھے جبکہ ہالازئی گلہ بانی بھی کرتے تھے۔ زبان مغربی بلوچی تھی۔ کوئی مستقل گاؤں نہیں تھا؛ کھجور کے باغوں میں تقریباً 120 چٹائی کے جھونپڑے بکھرے ہوئے تھے۔
تعلیم کے لحاظ سے واشک صوبے میں سب سے پیچھے ہے۔ ادارۂ شماریات کی صوبائی رپورٹ کے مطابق 2023ء میں واشک کی شرحِ خواندگی 21.58 فیصد تھی، جو بلوچستان کے تمام اضلاع میں سب سے کم ہے۔ رپورٹ اس کی وجوہات میں دور افتادہ اور دشوار علاقہ، محدود وسائل اور بنیادی ڈھانچے کی کمی گنواتی ہے۔
معیشت
گزیٹیئر کے مطابق واشک کی معیشت کی بنیاد کھجور تھی۔ 1904ء میں یہاں کھجور کے 25,000 سے زیادہ درخت تھے اور ان کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی تھی۔ باغ دریائے زہراگان کے کناروں اور نہروں کے ساتھ میلوں تک پھیلے ہوئے تھے اور انہی کے اندر گندم، جو، جوار اور خربوزے اگائے جاتے تھے۔ یہاں کی کھجور پنجگور کے برابر تو نہیں سمجھی جاتی تھی مگر قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی تھی؛ کھجور کی فصل اگست سے اکتوبر تک اترتی تھی اور اس موسم میں خاران کے سردار اور بالائی خاران کے بہت سے لوگ یہاں آتے تھے۔ انار کے تقریباً 300 باغ تھے۔
آبپاشی کے لیے دریائے زہراگان کے بستر سے نکالی گئی بیس "کورجو" نہریں تھیں، اور پانی اتنا وافر تھا کہ گزیٹیئر کے مطابق اس کی باری مقرر کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ باکت کی بارانی زمین کو خرگوشکی بند کے ذریعے سیلابی پانی دیا جاتا تھا۔ 1904ء کے اندازے کے مطابق نیابت میں تقریباً 1,300 اونٹ اور 2,200 بھیڑ بکریاں تھیں، اور ہل بھی زیادہ تر اونٹوں سے چلایا جاتا تھا۔ پہاڑوں سے شہد بڑی مقدار میں جمع کر کے بیچا جاتا تھا اور نقیب کھجور کے پتوں سے چٹائیاں بناتے تھے۔
ماشکیل کا علاقہ نمک کے لیے مشہور تھا۔ گزیٹیئر کے مطابق ہامونِ ماشکیل میں "واد سلطان" کے مقام پر تقریباً ایک مربع میل میں ایک فٹ یا اس سے موٹی نمک کی تہ تھی، جہاں سے ہر سال تقریباً 300 اونٹ نمک پنجگور، نوشکی اور جالک وغیرہ جاتا تھا۔
قابلِ دید مقامات
واشک کے گنبد: گزیٹیئر کے مطابق واشک میں پکی اینٹوں کے پانچ پرانے گنبد ہیں۔ ان میں سے دو، "ملک بہرام شاہی گنبد" اور "بی بی گنبد"، قلعے کے جنوب میں کھجور کے باغ میں ہیں اور مقامی لوگ انہیں مزار کے طور پر احترام دیتے ہیں۔ ملک دینار کا مزار بھی واشک میں ہے۔
ہامونِ ماشکیل: چاغی کے گزیٹیئر کے مطابق یہ تقریباً 3,500 مربع میل پر پھیلا ہوا نشیبی دلدلی علاقہ ہے جو چاغی اور خاران کی سرحد بناتا تھا۔ اس کے نمکین علاقے میں "لنگرِ سلطان" نامی مزار ہے۔
دریائے ماشکیل: گزیٹیئر کے مطابق یہ خاران کا سب سے بڑا دریا ہے جو ایرانی مکران سے نکل کر اس علاقے میں داخل ہوتا ہے۔
بیسیمہ کی وادی: تقریباً بیس میل لمبی اور آٹھ میل چوڑی زرخیز وادی، جہاں گزیٹیئر کے زمانے میں بارانی کاشت بڑے پیمانے پر ہوتی تھی۔
ماخذ
- Pakistan Bureau of Statistics, 7th Population and Housing Census 2023, Table 1: Area, Population by Sex, Sex Ratio, Population Density, Urban Population, Household Size and Annual Growth Rate — Balochistan districts, PDF p. 9 (Washuk District and sub-units). https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_1_balochistan_districts.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, Census 2023, Table 11: Population by Mother Tongue, Sex and Rural/Urban — Balochistan districts, PDF p. 36 (Washuk District). https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_11_balochistan_districts.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, Provincial Census Report 2023: Balochistan, Islamabad, 2024: Table 2.3 administrative changes after 2017, PDF p. 71 (printed p. 49); literacy, PDF p. 115. https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/2020/07/Provincial-Census-Report-2023-Balochistan-1.pdf
- C. F. Minchin, Baluchistan District Gazetteer Series, Vol. VII-A: Kharan, Text and Appendices, Bombay: Times Press, 1907 (bound with Vol. VII, Makran): p. 16 (Mashkel river); p. 177 (salt of Wad-i-Sultan, Langar-i-Sultan); pp. 178–184 (Washuk and Palantak niabat: name, boundaries, history, Malik Dinar, population, date groves, kaurjos, livestock); pp. 186–187 (honey and mats, gateless fort, the five gumbads, Palantak, Beseima valley). archive.org scan: https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.31890
- A. McConaghey (ed.), Baluchistan District Gazetteer Series, Vol. IV-A: Chagai District, Karachi, 1907: p. 24 (Hamun-i-Mashkel). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.279669
- content/districts/00-district-list.md (this repository), section 4, for the July 2026 restructuring as reported in the press.



