رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 12° صاف 22° / 11°فجر 05:19ظہر 12:16عصر 16:16مغرب 17:53عشا 19:13
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
دہشت گردی کے خلاف ایک بار پھر قومی اتحاد ضروری ہے: سینیٹ میں رانا ثنا اللہ کا خطابخیبرپختونخوا میں گورنر راج کا مقصد معدنیات نہیں، امن کا قیام ہے: عقیل ملک، اختیار ولیسینیٹ نے پاسپورٹ ایکٹ ترمیمی بل 2026 متفقہ طور پر منظور کر لیاپی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی مولانا نسیم شاہ بنوں سے گرفتار، ویڈیو سامنے آگئیعالمی ادارہ خوراک کا غزہ میں غذائی امداد ایک تہائی کم کرنے کا اعلان، 11 لاکھ افراد کو امداد ملے گینیتن یاہو: 7 اکتوبر کو 1200 اسرائیلیوں کی ہلاکت 40 ہزار امریکیوں کے قتل کے برابر تھیراجپال یادیو نے اہلیہ رادھا کو خاندان کا ہیرا قرار دے دیا، سالگرہ پر جذباتی پیغامروس پر پابندیوں میں نرمی کے بعد تیل سستا، برینٹ 107 ڈالر کے قریبسہیل آفریدی مذاکرات کے ڈرافٹ کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے: وفاقی وزیر طارق فضل چوہدریعقیل ملک: امریکا کے ساتھ معدنیات کا کوئی لائسنس نہیں ہوا، مولانا لائسنس سامنے لائیںپی ٹی آئی کے گرفتار تین ارکان قومی اسمبلی پروڈکشن آرڈرز پر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئےروس کے یوکرین پر رات گئے ڈرون حملے، لاجسٹکس مراکز، بندرگاہوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

جگ میں کوئی نہ ٹک ہنسا ہوگا

خواجہ میر دردؔ کی غزل۔

جگ میں کوئی نہ ٹک ہنسا ہوگا
علامتی تصویر

خواجہ میر دردؔ کی غزل۔

غزل

جگ میں کوئی نہ ٹک ہنسا ہوگاکہ نہ ہنستے میں رو دیا ہوگا

ان نے قصداً بھی میرے نالے کونہ سنا ہوگا گر سنا ہوگا

دیکھیے اب کے غم سے جی میرانہ بچے گا بچے گا کیا ہوگا

دل زمانے کے ہاتھ سے سالمکوئی ہوگا جو رہ گیا ہوگا

حال مجھ غم زدہ کا جس تس نےجب سنا ہوگا رو دیا ہوگا

دل کے پھر زخم تازہ ہوتے ہیںکہیں غنچہ کوئی کھلا ہوگا

یک بہ یک نام لے اٹھا میراجی میں کیا اس کے آ گیا ہوگا

میرے نالوں پہ کوئی دنیا میںبن کیے آہ کم رہا ہوگا

لیکن اس کو اثر خدا جانےنہ ہوا ہوگا یا ہوا ہوگا

قتل سے میرے وہ جو باز رہاکسی بد خواہ نے کہا ہوگا

دل بھی اے دردؔ قطرۂ خوں تھاآنسوؤں میں کہیں گرا ہوگا

مشکل الفاظ

  • جگ: دنیا
  • ٹک: ذرا، تھوڑا سا
  • قصداً: جان بوجھ کر
  • نالے: فریاد
  • سالم: صحیح سلامت
  • غم زدہ: غمگین
  • جس تس نے: جس کسی نے
  • غنچہ: کلی
  • یک بہ یک: اچانک
  • اثر: تاثیر
  • بد خواہ: برا چاہنے والا
  • قطرۂ خوں: خون کی بوند

پس منظر

گیارہ شعروں کی اس غزل کی ردیف "ہوگا" ہے: ہر شعر ایک اندازہ ہے، یقین نہیں۔ مطلع، "جگ میں کوئی نہ ٹک ہنسا ہوگاکہ نہ ہنستے میں رو دیا ہوگا"، خوشی اور غم کے ساتھ ساتھ چلنے کا بیان ہے، اور مقطع میں دل کو خون کی ایک بوند کہا گیا ہے جو شاید آنسوؤں میں کہیں گر گئی۔ ریختہ کے تعارف میں میرؔ کا یہ قول نقل ہے کہ دردؔ ریختہ کے "زور آور" شاعر اور "خوش بہار گلستان سخن" ہیں2۔

متن کا ماخذ: ریختہ پر شائع متن، لفظ بہ لفظ1۔

ماخذ

  1. ریختہ، خواجہ میر دردؔ: "جگ میں کوئی نہ ٹک ہنسا ہوگا" (غزل کا متن)۔ https://www.rekhta.org/ghazals/jag-men-koii-na-tuk-hansaa-hogaa-khwaja-meer-dard-ghazals?lang=ur
  2. ریختہ، خواجہ میر دردؔ: تعارف۔ https://www.rekhta.org/poets/khwaja-meer-dard/profile?lang=ur
  3. دیوانِ درد، مرتبہ نسیم احمد، archive.org (حوالے کے لیے)۔ https://archive.org/details/DeewanEDard
  4. ریختہ لغت (مشکل الفاظ کے معانی کے لیے)۔ https://www.rekhta.org/urdudictionary?lang=ur

کلام: تمام تحریریں ←