ضلع ہرنائی: زواڑہ کی وادی، ریل کی پٹڑی اور کوئلے کی کانیں
ہرنائی بلوچستان کے شمال مشرق میں ایک تنگ اور زرخیز پہاڑی وادی کا ضلع ہے، جو شمال میں زیارت اور جنوب میں سبی کے درمیان واقع ہے۔ پرانی دستاویزات میں اس وادی کو "زواڑہ" یا "ہرنائی کی وادی" کہا گیا…

تعارف اور محلِ وقوع
ہرنائی بلوچستان کے شمال مشرق میں ایک تنگ اور زرخیز پہاڑی وادی کا ضلع ہے، جو شمال میں زیارت اور جنوب میں سبی کے درمیان واقع ہے۔ پرانی دستاویزات میں اس وادی کو "زواڑہ" یا "ہرنائی کی وادی" کہا گیا ہے۔ انگریزی دور میں اسی وادی سے سندھ پشین ریلوے لائن گزاری گئی، جس نے ہرنائی کو لورالائی اور فورٹ سنڈیمن جانے والے سامان کا بڑا مرکز بنا دیا۔
پاکستان ادارۂ شماریات کی 2023ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع ہرنائی کا رقبہ 2,492 مربع کلومیٹر اور آبادی 127,571 ہے، جس میں 67,362 مرد، 60,205 خواتین اور 4 خواجہ سرا شامل ہیں۔ آبادی کی کثافت تقریباً 51 افراد فی مربع کلومیٹر ہے، اور ایک چوتھائی سے کچھ زیادہ، یعنی 26 فیصد کے قریب، آبادی شہری ہے۔ 2017ء کی مردم شماری میں ضلع کی آبادی 97,052 تھی، یعنی چھ برس میں سالانہ اوسطاً 4.68 فیصد اضافہ ہوا۔ ایک گھرانے میں اوسطاً 7.7 افراد رہتے ہیں۔
مردم شماری کے جدول میں ضلع کے تین انتظامی حصے درج ہیں۔ سب ڈویژن ہرنائی رقبے میں صرف 259 مربع کلومیٹر ہے مگر ضلع کی تقریباً دو تہائی آبادی، یعنی 82,001 افراد، یہیں رہتے ہیں۔ سب ڈویژن کھوسٹ کا رقبہ 1,619 مربع کلومیٹر اور آبادی 16,565 ہے، جبکہ تحصیل شاہرگ کا رقبہ 614 مربع کلومیٹر اور آبادی 29,005 ہے۔
تاریخ
انگریزی دور میں ہرنائی کی وادی ضلع سبی کی تحصیل شاہرگ کا حصہ تھی، جس کا صدر مقام شاہرگ تھا۔ 1908ء کے امپیریل گزیٹیئر کے مطابق مئی 1879ء کے معاہدۂ گندمک کے تحت افغان امیر یعقوب خان نے پشین، سبی، ہرنائی اور تھل چوٹیالی کے علاقے برطانوی حکومت کے حوالے کیے۔ حکومتِ بلوچستان کی سرکاری ویب سائٹ کے تاریخی صفحے اور صوبائی مردم شماری رپورٹ 2023ء میں بھی یہی بات درج ہے۔
1907ء کے "بلوچستان ڈسٹرکٹ گزیٹیئر" کی سبی جلد کے مطابق ہرنائی کے گرد کے دیہات میں زیادہ تر مکھیانی سپین ترین آباد تھے۔
ہرنائی کی جدید تاریخ ریل سے جڑی ہے۔ امپیریل گزیٹیئر کے مطابق سندھ پشین ریلوے لائن جھٹ پٹ کے قریب صوبے میں داخل ہو کر ہرنائی کی وادی سے گزرتی اور چمن پر ختم ہوتی تھی۔ اس کی تعمیر 1879ء میں شروع ہوئی اور یہ 1892ء میں چمن تک مکمل ہوئی۔ سبی گزیٹیئر بتاتا ہے کہ اپریل 1885ء میں، جب لائن زیرِ تعمیر تھی، وادی میں چھ دن تک جاری رہنے والے شدید سیلاب نے کئی پل اور میلوں لمبی عارضی سڑکیں بہا دیں۔ اسی لائن پر چھپر رِفٹ کا مشہور پل ہے، جسے امپیریل گزیٹیئر کے مطابق 150 فٹ لمبے اور 234 فٹ اونچے ایک ہی محراب والے پل سے پار کیا گیا، اور جس تک چٹان میں کھودی گئی سرنگوں سے پہنچا جاتا ہے۔ سبی گزیٹیئر کے مطابق اس پل کا افتتاح ڈچس آف کناٹ نے کیا اور اسی کی نسبت سے اس کا نام "لوئیس مارگریٹ" رکھا گیا۔
1907ء میں تقریباً 3,000 فٹ کی بلندی پر واقع ہرنائی ریلوے اسٹیشن سبی سے 58 میل دور تھا اور لورالائی اور فورٹ سنڈیمن کے لیے سامان یہیں سے آگے جاتا تھا۔ گزیٹیئر کے مطابق 1904ء میں ریل کے ذریعے یہاں 62,900 من سامان آیا، جو زیادہ تر لورالائی اور فورٹ سنڈیمن کی رسد تھی، جبکہ تقریباً 20,470 من اناج، اون اور بھوسہ باہر بھیجا گیا۔
لوگ اور زبانیں
2023ء کی مردم شماری کے مادری زبان کے جدول کے مطابق ہرنائی میں پشتو غالب زبان ہے: 127,571 باشندوں میں سے 113,843، یعنی تقریباً 89 فیصد، کی مادری زبان پشتو ہے۔ دوسرے نمبر پر بلوچی ہے، جسے 10,470 افراد، یعنی 8 فیصد کے قریب، اپنی مادری زبان بتاتے ہیں۔ سندھی، پنجابی، اردو اور سرائیکی بولنے والوں کی تعداد ہر ایک کی ایک فیصد سے کم ہے۔
1901ء کی مردم شماری کے حوالے سے گزیٹیئر بتاتا ہے کہ اُس وقت تحصیل شاہرگ کی آبادی 16,573 تھی۔ بڑے قبائل میں سنزرخیل کاکڑ، سناتیا کاکڑ، ترین (جن میں 1,248 وَنیچی اور 4,525 مکھیانی شامل تھے) اور 1,053 سید تھے۔ گزیٹیئر کے مطابق وَنیچی پشتو کی ایک الگ بولی بولتے تھے جسے "ترینو" یا "چھلگری" کہا جاتا تھا۔
تعلیم کے لحاظ سے صوبائی مردم شماری رپورٹ ہرنائی کو ان اضلاع میں رکھتی ہے جہاں خواندگی کی شرح 35 سے 40 فیصد کے درمیان ہے، اور اسکول سے باہر بچوں کی شرح 60 سے 70 فیصد کے درمیان۔ تعلیم میں صنفی برابری کے اشاریے میں ہرنائی ان سات اضلاع میں شامل ہے جن کا اشاریہ 60 سے 65 فیصد کے درمیان ہے۔
معیشت
ہرنائی کی وادی پانی کے لحاظ سے خوش قسمت ہے۔ گزیٹیئر کے مطابق ماضی میں تحصیل شاہرگ میں آبپاشی کے مستقل ذرائع 13 ندیاں، 14 کاریزیں اور 144 چشمے تھے، اور ہرنائی اور بابیہان کے حلقوں میں پانی ہمیشہ زمین سے زیادہ ہوتا تھا۔ قابلِ کاشت زمین کم تھی، اس لیے کسان ایک ہی کھیت سے سال میں دو فصلیں لیتے تھے۔ ربیع میں گندم اور خریف میں چاول اور مکئی بڑی فصلیں تھیں۔ امپیریل گزیٹیئر کے مطابق اس تحصیل میں بلوچستان کی سب سے زیادہ ریکارڈ شدہ بارش (11.67 انچ سالانہ) ہوتی تھی۔
اسی پانی کا ایک تاریک پہلو بھی تھا۔ گزیٹیئر لکھتا ہے کہ زواڑہ کی وادی کے کئی حصے، خاص طور پر شاہرگ اور ہرنائی کے حلقے، خزاں میں ملیریا کی لپیٹ میں رہتے تھے، جس کی وجہ غالباً چاول کی کاشت اور دلدلوں میں پلنے والے مچھر تھے۔
جنگل کی پیداوار میں مزری یا پیش (بونی کھجور) اہم ہے۔ گزیٹیئر کے مطابق یہ شاہرگ، ہرنائی اور بابیہان کے حلقوں میں بڑی مقدار میں اگتی تھی، اور اس سے ٹوکریاں، رسیاں، چپلیں اور چٹائیاں بنا کر کوئٹہ اور سبی بھیجی جاتی تھیں۔
ضلع کی معیشت میں کوئلے کا ہمیشہ نمایاں حصہ رہا ہے۔ گزیٹیئر میں کھوسٹ کی کان کے مائننگ منیجر کا لکھا ہوا بیان شامل ہے، جس کے مطابق کھوسٹ اسٹیشن کے قریب پہاڑی میں کوئلے کی ایک پتلی تہہ ہے جو تقریباً دو میل تک قابلِ کان کنی سمجھی جاتی تھی، اور اسے نارتھ ویسٹرن ریلوے خود نکالتی تھی۔ بیان کے مطابق یہ کوئلہ حرارت میں ہندوستان کے اچھے کوئلوں میں شمار ہوتا تھا اور اس میں راکھ کم تھی۔ گزیٹیئر کے مطابق کھوسٹ کی اہمیت صرف کانوں کی وجہ سے تھی؛ یہاں کان کے منیجر کا دفتر، ریلوے ہسپتال اور تیس کے قریب دکانوں کا بازار تھا، اور عام طور پر تقریباً 1,200 مزدور کانوں میں کام کرتے تھے۔
قابلِ دید مقامات
زواڑہ (ہرنائی) کی وادی: گزیٹیئر کے مطابق یہ وادی چھپر پہاڑ سے سپین تنگی کی دراڑ تک تقریباً 56 میل لمبی اور اوسطاً چھ میل چوڑی ہے، اور سپین تنگی پر 1,800 فٹ سے بڑھتی ہوئی درگی پر 4,764 فٹ تک بلند ہو جاتی ہے۔ مانگی، شاہرگ، ہرنائی (دادا) اور کُریاک ندیاں اس میں بہتی ہیں اور آخر کار دریائے ناڑی میں جا ملتی ہیں۔
سندھ پشین ریلوے لائن: ہرنائی کی وادی سے گزرنے والی یہ لائن انیسویں صدی کے انجینئرنگ کارناموں میں شمار ہوتی ہے۔ سبی گزیٹیئر میں سپین تنگی، ہرنائی، شاہرگ اور کھوسٹ کے اسٹیشنوں اور ان کے درمیان پلوں اور سرنگوں کی تفصیل ملتی ہے۔
سپین تنگی: گزیٹیئر کے مطابق اس اسٹیشن کا نام اس سفید (سپین) دراڑ سے پڑا جس میں سے ندی گزرتی ہے۔ یہ دکی، کوہلو، بارکھان اور مری علاقے کے لیے سامان کی منڈی تھی۔
ماخذ
- Pakistan Bureau of Statistics, 7th Population and Housing Census 2023, Table 1: Area, Population by Sex, Sex Ratio, Population Density, Urban Population, Household Size and Annual Growth Rate, Balochistan districts, Islamabad, 2024, PDF pp.2-3 (Harnai district, Harnai and Khoast sub-divisions, Shahrig tehsil). https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_1_balochistan_districts.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, 7th Population and Housing Census 2023, Table 11: Population by Mother Tongue, Sex and Rural/Urban, Balochistan districts, PDF p.8 (Harnai district). https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_11_balochistan_districts.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, Provincial Census Report 2023: Balochistan, Islamabad, 2024: p.35 (Treaty of Gandamak, 1879), p.92 (literacy brackets), p.96 (out-of-school brackets), p.99 (gender parity index brackets). https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/2020/07/Provincial-Census-Report-2023-Balochistan-1.pdf
- A. McConaghey (comp.), assisted by Diwan Jamiat Rai, Baluchistan District Gazetteer Series, Vol. III: Sibi District, Bombay: Times Press, 1907 (scan, Digital Library of India): p.21 (floods of April 1885 during railway construction), p.139 (dwarf palm), pp.140-141 (Khost coal seam, account by the Mining Manager), pp.155-156 (Sind-Pishin railway through the valley; Louise Margaret bridge), pp.251-254 (Shahrig tahsil: Zawarah valley, rivers, malaria, 1901 population and tribes, Wanechi dialect, irrigation sources, crops), pp.255 (Harnai station, trade of 1904, Makhiani Spin Tarins, Harnam Das tradition, Mir Mustafa Khan), pp.257-258 (Khost station and colliery; Spintangi). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.279672
- Imperial Gazetteer of India, Provincial Series: Baluchistan, Calcutta, 1908 (scan): p.20 (Treaty of Gandamak, May 1879), p.54 (Sind-Pishin line begun 1879, completed to Chaman 1892; Chappar Rift bridge), p.147 (Shahrig tahsil: highest recorded rainfall, 11.67 inches), p.150 (Harnai railway station). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.120382
- Government of Balochistan, "History" (official website; Treaty of Gandamak 1879). https://balochistan.gov.pk/about/history/







