ضلع بارکھان: زرخیز وادی اور پنجاب کی سرحد پر کوہِ سلیمان کا دامن
بارکھان بلوچستان کے شمال مشرق میں پنجاب کی سرحد پر واقع ضلع ہے۔ بلوچستان ہائی کورٹ کی ضلعی عدلیہ کے صفحے کے مطابق اس کے مشرق میں صوبہ پنجاب، جنوب میں ڈیرہ بگٹی، مغرب میں کوہلو، شمال مغرب میں لورالائی…

تعارف اور محلِ وقوع
بارکھان بلوچستان کے شمال مشرق میں پنجاب کی سرحد پر واقع ضلع ہے۔ بلوچستان ہائی کورٹ کی ضلعی عدلیہ کے صفحے کے مطابق اس کے مشرق میں صوبہ پنجاب، جنوب میں ڈیرہ بگٹی، مغرب میں کوہلو، شمال مغرب میں لورالائی اور شمال میں موسیٰ خیل کے اضلاع ہیں، اور صدر مقام بارکھان شہر ہے۔ اسی صفحے کے مطابق بارکھان کو 31 دسمبر 1991ء کو الگ ضلع کا درجہ دیا گیا؛ اس سے پہلے یہ ضلع لورالائی کی ایک تحصیل تھا۔ (ہائی کورٹ کے لورالائی صفحے پر اس تقسیم کا سال 1992ء لکھا ہے۔) جولائی 2026ء کی انتظامی تنظیمِ نو کی رپورٹوں کے مطابق بارکھان کو کوہلو اور بالائی (شمالی) ڈیرہ بگٹی کے ساتھ ایک نئی کوہِ سلیمان ڈویژن میں رکھا گیا ہے؛ نوٹیفکیشن کا متن ہمارے سامنے نہیں، اس لیے یہ صفحہ 2023ء کی حدود پر ہے۔
پاکستان ادارۂ شماریات کی 2023ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع کا رقبہ 3,514 مربع کلومیٹر اور آبادی 210,249 ہے: 109,624 مرد، 100,617 عورتیں اور 8 خواجہ سرا۔ کثافت تقریباً 60 افراد فی مربع کلومیٹر ہے۔ صرف 6.86 فیصد لوگ شہری علاقے، یعنی بارکھان میونسپل کمیٹی (14,425 افراد)، میں رہتے ہیں۔ ایک گھرانے میں اوسطاً 9.1 افراد ہیں، جو مردم شماری کے جدول میں بلوچستان کے کسی بھی ضلع سے زیادہ ہے۔ 2017ء میں آبادی 171,025 تھی اور سالانہ اضافے کی شرح 3.51 فیصد رہی۔ جدول میں پورا ضلع ایک ہی تحصیل، بارکھان، پر مشتمل ہے۔
1907ء کے لورالائی گزیٹیئر کے مطابق بارکھان تحصیل کا رقبہ 1,317 مربع میل تھا اور صدر مقام سطحِ سمندر سے تقریباً 3,650 فٹ بلند تھا۔ تحصیل ایک مرکزی وادی، بارکھان، اور اس کے متوازی چھوٹی وادیوں بغاؤ، تغاؤ، رکھنی، چاچا اور مٹ پر مشتمل تھی جنہیں نیچی پہاڑیاں الگ کرتی تھیں، اور گزیٹیئر کے مطابق ان وادیوں کی مٹی "انتہائی زرخیز" تھی۔ پہاڑ کوہِ سلیمان کے سلسلے کا حصہ ہیں اور زیادہ تر پانی کاہا ندی لے جاتی ہے جو رکھنی اور ہان کے برساتی نالوں سے مل کر بنتی ہے۔
تاریخ
گزیٹیئر کے مطابق "بارکھان" کا نام وادی کے بالائی حصے کے پرانے نام "بارو خان" سے نکلا، جو پنی قبیلے کے بارو زئی خاندان کے بانی بارو کے نام پر تھا؛ یہ خاندان یا تو سبی کے حاکموں کی طرف سے اس علاقے کا انتظام چلاتا تھا یا خود اس کا مالک تھا۔
اس وادی کے باشندے کھیتران کہلاتے ہیں۔ گزیٹیئر کے مطابق قبیلہ تین بڑے حصوں دھارا، اسپانی اور پھلیاٹ میں تقسیم ہے، اور ڈاکٹر ڈیوک کی روایت کے مطابق نام "کھیتران" کا مطلب کاشت کار ہے۔
برطانوی دور میں بارکھان کا انتظام کئی بار بدلا۔ گزیٹیئر کے مطابق 1884ء میں کھیتران قبیلے کا انتظام پنجاب سے بلوچستان ایجنسی کو منتقل ہوا، اور 1887ء میں یہ علاقہ تھل چوٹیالی ایجنسی میں شامل کر کے الگ تحصیل بنا دیا گیا۔ 1890ء میں تحصیل ژوب ایجنسی میں گئی، اپریل 1892ء میں تھل چوٹیالی کو واپس ہوئی اور اکتوبر 1903ء میں نئے ضلع لورالائی کا حصہ بنی۔
لوگ اور زبانیں
2023ء کی مردم شماری کے مادری زبان کے جدول میں ضلع کے 207,354 افراد، یعنی تقریباً 98.6 فیصد، کی زبان بلوچی درج ہے؛ جدول میں کھیترانی کا کوئی الگ خانہ نہیں۔ سرائیکی (1,274) اور پشتو (1,138) بولنے والے ایک فیصد سے بھی کم ہیں۔ گزیٹیئر کے مطابق مقامی لوگ "بارازئی یا کھیترانی" بولی بولتے تھے۔ مذہب کے جدول کے مطابق 209,755 باشندے مسلمان اور 462 مسیحی ہیں۔
گزیٹیئر کے مطابق 1901ء میں تحصیل کی آبادی 14,922 تھی، جن میں 764 ہندو تھے جو زیادہ تر تجارت کرتے تھے۔ بڑے گروہوں میں پھلیاٹ (5,108)، اسپانی (4,055) اور دھارا (3,705) کھیتران، اور بزدار (431) اور لغاری بلوچ (309) شامل تھے۔
تعلیم میں بارکھان صوبے کے کمزور اضلاع میں ہے۔ مردم شماری کے مطابق دس سال اور زیادہ عمر کی آبادی میں شرحِ خواندگی 33.62 فیصد ہے: مردوں میں 41.63 اور عورتوں میں 24.93 فیصد۔ 5 سے 16 سال کے 46,164 بچے اسکول سے باہر ہیں، جن میں 28,083 لڑکیاں ہیں۔ صوبائی رپورٹ کے مطابق بارکھان ان تین اضلاع میں شامل ہے جہاں 20 فیصد سے کم گھروں میں پینے کا پانی گھر کے اندر دستیاب ہے، اور صرف 28.5 فیصد گھروں میں بیت الخلا ہے۔
معیشت
بارکھان کی معیشت زراعت اور مویشیوں پر ہے۔ گزیٹیئر کے مطابق 1907ء میں کاشت کا 79 فیصد سیلابی پانی، 10 فیصد بارش اور 11 فیصد مستقل ذرائع (چھ ندیاں، 23 چشمے اور پانچ کنویں) پر منحصر تھا۔ ربیع میں گندم اور خریف میں جوار بڑی فصلیں تھیں، اور 1904ء کے اندازے کے مطابق مقامی لوگوں کے پاس تقریباً 55 ہزار بھیڑ بکریاں اور 9,853 گائے بیل تھے۔ حاجی کوٹ اور چوہڑ کوٹ کے باغوں میں بادام، انار، آڑو، خوبانی، سیب، آلوبخارا، انجیر اور انگور ہوتے تھے۔
دستکاری بھی اس وادی کی پہچان رہی ہے۔ گزیٹیئر کے مطابق حاجی کوٹ تھیلے، قالین، کشیدہ کار جوتوں، پیٹیوں اور گھوڑوں کے ساز کے لیے مشہور تھا، اور امپیریل گزیٹیئر (1908ء) لکھتا ہے کہ "بارکھان کے قالین معروف ہیں" مگر ان کا معیار گر گیا ہے۔
ہائی کورٹ کے لورالائی صفحے کے مطابق آج بھی لوگوں کا روزگار زراعت اور مویشی پالنے پر ہے۔ وہاں گندم، ٹماٹر، چارہ، سبزیاں، جوار، پیاز، لہسن اور خربوزہ، اور پھلوں میں سیب، بادام، آلوبخارا، خوبانی، انار اور آڑو کا ذکر ہے۔
قابلِ دید مقامات
حاجی کوٹ: گزیٹیئر کے مطابق یہ گاؤں بارکھان کے صدر مقام سے تقریباً دو میل شمال مشرق میں ہے۔ اسے 1907ء سے تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے سردار الو خان مزارانی نے "کوٹ الو" کے نام سے بسایا اور ان کی وفات کے بعد ان کے بھائی میر حاجی کے نام پر اس کا نام حاجی کوٹ پڑا۔ یہ کھیتران سردار کی رہائش گاہ تھی۔
چوہڑ کوٹ: حاجی کوٹ سے دو میل مشرق میں اونچی جگہ پر واقع یہ گاؤں گزیٹیئر کے مطابق سردار گرازو خان مزارانی نے تقریباً دو سو سال پہلے بسایا اور اپنے بیٹے چوہڑ خان کے نام پر رکھا۔ اس کے پتھر کے برج اسے مضبوط بستی بناتے تھے۔
لغاری کوٹ اور مزارات: گزیٹیئر لغاری کوٹ کو لغاری بارکھان کا سب سے پرانا گاؤں بتاتا ہے، جو ایک ٹیلے پر بنے مٹی کے قلعے پر مشتمل تھا۔ تحصیل کے دو معروف مزار داتھی میں پیر شاہ محمود اور لغاری کوٹ میں پیر لاکھا کے ہیں۔
ماخذ
- Pakistan Bureau of Statistics, 7th Population and Housing Census 2023, Table 1: Area, Population by Sex, Sex Ratio, Population Density, Urban Population, Household Size and Annual Growth Rate (Balochistan districts), PDF p. 1 (Barkhan district and tehsil). https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_1_balochistan_districts.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, Census 2023, Table 2: Urban Localities (Balochistan), PDF p. 1 (Barkhan MC). https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_2_balochistan_districts.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, Census 2023, Table 11: Population by Mother Tongue, PDF p. 2. https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_11_balochistan_districts.pdf ; Table 9: Population by Religion, PDF p. 2. https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_9_balochistan_districts.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, Census 2023, Table 12: Literacy Rate and Out of School Population, PDF pp. 2-3. https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_12_balochistan_districts.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, Provincial Census Report 2023: Balochistan, Islamabad: p. 116 (drinking water inside home), p. 127 (toilet facility). Printed page numbers read from the PDF page footers. https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/2020/07/Provincial-Census-Report-2023-Balochistan-1.pdf
- Balochistan High Court, District Judiciary Barkhan, "History of District" and "About Session Court" (boundaries, district status 31 December 1991). https://bhc.gov.pk/district-judiciary/barkhan/introduction/history ; https://bhc.gov.pk/district-judiciary/barkhan/introduction/about
- Balochistan High Court, District Judiciary Loralai, "History of District" (1992 partition; Barkhan livelihoods, crops and language). https://bhc.gov.pk/district-judiciary/loralai/introduction/history
- Rai Sahib Jamiat Rai (comp.), Baluchistan District Gazetteer Series, Vol. II: Loralai District, Bombay: Times Press, 1907: pp. 97-102 (Khetrans: origin theories after Hughes-Buller, clans, name of Barkhan, 1901 numbers), pp. 329-338 (Barkhan tahsil: description, history, Marri-Khetran affray 1890-92, Leghari Barkhan land case, population, Haji Kot, Chuhar Kot, Leghari Kot, agriculture). Printed page numbers from the running heads of the OCR text. https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.279670
- R. Hughes-Buller (comp.), Imperial Gazetteer of India, Provincial Series: Baluchistan, Calcutta: Superintendent of Government Printing, 1908, p. 117 (Barkhan tahsil, Barkhan rugs). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.277321
- July 2026 restructuring, as recorded in content/districts/00-district-list.md: Dawn, "Balochistan undergoes major restructuring", 12 July 2026, https://www.dawn.com/news/2014773/balochistan-undergoes-major-restructuring ; ProPakistani, 12 July 2026, https://propakistani.pk/2026/07/12/balochistan-govt-notifies-new-divisions-and-districts/ (not opened in this session)



