ضلع آواران: کولواہ، مشکے اور جھاؤ کی وادیاں
آواران بلوچستان کے جنوب وسطی حصے کا ایک وسیع مگر کم آباد ضلع ہے، جو مکران کے ساحلی پہاڑوں اور جھالاوان کے پہاڑی علاقے کے درمیان واقع ہے۔ اس کی پہچان تین بڑی وادیاں ہیں: کولواہ، مشکے اور جھاؤ۔ انگریز…

تعارف اور محلِ وقوع
آواران بلوچستان کے جنوب وسطی حصے کا ایک وسیع مگر کم آباد ضلع ہے، جو مکران کے ساحلی پہاڑوں اور جھالاوان کے پہاڑی علاقے کے درمیان واقع ہے۔ اس کی پہچان تین بڑی وادیاں ہیں: کولواہ، مشکے اور جھاؤ۔ انگریز دور کے گزیٹیئر کولواہ کو کیچ کی وادی کا مشرقی سرا اور مکران کا سب سے بڑا بارانی علاقہ بتاتے ہیں، جو پیراندر سے تانک تک تقریباً سو میل لمبی اور دس سے پندرہ میل چوڑی ایک کمان کی شکل میں پھیلی ہوئی پٹی ہے اور چاروں طرف سے پہاڑوں میں گھری ہے۔
پاکستان ادارۂ شماریات کی 2023ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع آواران کا رقبہ 29,510 مربع کلومیٹر اور آبادی 178,958 ہے، جس میں 91,623 مرد، 87,318 عورتیں اور 17 خواجہ سرا شامل ہیں۔ یوں یہاں فی مربع کلومیٹر صرف چھ افراد رہتے ہیں، اور صوبائی رپورٹ آواران کو چاغی اور واشک کے ساتھ صوبے کے سب سے کم گنجان اضلاع میں شمار کرتی ہے۔ آبادی کا 26.17 فیصد شہری ہے۔ 2017ء میں ضلع کی آبادی 121,821 تھی، یعنی چھ برس میں سالانہ تقریباً 6.64 فیصد اضافہ درج ہوا، جو صوبائی اوسط (3.20 فیصد) سے دو گنا ہے۔
مردم شماری کے مطابق ضلع پانچ انتظامی حصوں پر مشتمل ہے: آواران سب ڈویژن (رقبہ 13,075 مربع کلومیٹر، آبادی 45,774)، مشکے تحصیل (2,418 مربع کلومیٹر، 45,938)، گشکور تحصیل (4,578 مربع کلومیٹر، 31,462)، جھل جھاؤ تحصیل (6,381 مربع کلومیٹر، 28,132) اور کورک جھاؤ تحصیل (3,058 مربع کلومیٹر، 27,652)۔ صوبائی مردم شماری رپورٹ کے مطابق کورک جھاؤ تحصیل 2017ء کے بعد جھل جھاؤ کے کچھ حصے الگ کر کے بنائی گئی۔
جولائی 2026ء کی انتظامی تنظیمِ نو کی رپورٹوں کے مطابق آواران کو قلات ڈویژن سے نکال کر نئی لسبیلہ ڈویژن میں شامل کیا گیا، جس میں لسبیلہ اور حب کے اضلاع بھی ہیں۔ نوٹیفکیشن کا متن ابھی ہمارے سامنے نہیں، اس لیے یہ صفحہ مردم شماری 2023ء کی حدود کے مطابق ہے۔
تاریخ
1906ء کے مکران گزیٹیئر کے مطابق کولواہ "شاید" وہی علاقہ ہے جسے عرب جغرافیہ دان "کلوان" لکھتے تھے۔ اسی گزیٹیئر کے مطابق روایت ہے کہ رند بلوچوں کے مشہور سردار میر چاکر پندرہویں صدی کے لگ بھگ کولواہ میں روڈکان کے قریب آشال قلات میں پیدا ہوئے، اس زمانے میں جب رند کچھی کی طرف ہجرت کر رہے تھے۔
انتظامی لحاظ سے یہ علاقہ ریاستِ قلات کا حصہ تھا۔ مکران گزیٹیئر کے مطابق کولواہ پہلے جھالاوان کا حصہ تھا اور مشکے سے اس کا انتظام چلتا تھا، مگر 1891ء میں اسے مکران کے ساتھ ملا دیا گیا۔ اسی دور میں مشکے میں خان کا نائب بیٹھتا تھا، اور گزیٹیئر کے مطابق مشکے کی آبپاش زمینوں سے پیداوار کا ایک چوتھائی اور نوکجو سے چھٹا حصہ مالیہ کے طور پر لیا جاتا تھا۔
لوگ اور زبانیں
آواران صوبے کے سب سے زیادہ یک زبان اضلاع میں سے ہے۔ 2023ء کی مردم شماری کے مادری زبان کے جدول کے مطابق ضلع کے 178,958 باشندوں میں سے 176,418، یعنی تقریباً 98.6 فیصد، کی مادری زبان بلوچی ہے۔ دوسرے نمبر پر براہوئی ہے جسے 2,095 افراد (تقریباً 1.2 فیصد) بولتے ہیں؛ باقی زبانیں بولنے والے چند سو ہیں۔
1903ء کے اندازے کے مطابق، جو مکران گزیٹیئر میں درج ہے، کولواہ کی آبادی صرف 479 خاندانوں یا تقریباً 2,395 افراد پر مشتمل تھی، اور ان میں سے زیادہ تر خانہ بدوش تھے۔ اس وقت وہاں صرف تیرہ مستقل گاؤں تھے، جن میں ہور، بالائی اور زیریں مالار، پیراندر، گشانگ، چمبر اور آواران شامل تھے۔ گزیٹیئر ہور، بزداد، آواران، پیراندر اور چمبر میں قلعوں کا ذکر کرتا ہے۔
تعلیم کے اعداد کمزور ہیں۔ مردم شماری کے مطابق دس سال اور اس سے زیادہ عمر کی آبادی میں شرحِ خواندگی 36.34 فیصد ہے: مردوں میں 44.28 اور عورتوں میں 27.95 فیصد۔ صوبائی رپورٹ آواران کو ان اضلاع میں رکھتی ہے جہاں اسکول سے باہر بچوں کی شرح 50 سے 60 فیصد کے درمیان ہے، اور ان تین اضلاع میں بھی جہاں بجلی کی سہولت والے گھروں کا تناسب 20 فیصد تک ہے۔
معیشت
آواران کی معیشت صدیوں سے بارانی کاشت اور گلہ بانی پر کھڑی ہے۔ مکران گزیٹیئر کے مطابق کولواہ میں کاشت زیادہ تر بارانی تھی، اور صرف ناگ، ہور، مالار، آواران اور قاسم جو میں تھوڑی سی آبپاش زمین تھی۔ گزیٹیئر لکھتا ہے کہ کولواہ اپنے جَو اور اپنے اونٹوں کے لیے مشہور ہے؛ اس کے اندازے میں صرف کولواہ میں تقریباً 1,500 اونٹ تھے جو "اپنے قد اور طاقت" کے لیے نامور تھے۔ اچھی بارش کے سال کولواہ کو "انتہائی زرخیز" بتایا گیا ہے، اور پرانی کاریزوں کے کھنڈرات سے مرتبین نے یہ نتیجہ نکالا کہ یہ علاقہ کبھی خوب آباد اور سیراب تھا۔
گلہ بانی کے لیے بھی یہ علاقہ اہم رہا۔ گزیٹیئر کولواہ کو مکران کی بہترین چراگاہوں میں گنتا ہے اور اس کی دو بڑی چراگاہوں کا ذکر کرتا ہے: گشانگ اور زِک کے درمیان مرّہ، اور بزداد اور آواران کے درمیان لنگڑی ڈرگ، جو وہلی ندی کے سیلابی پانی سے سیراب ہوتی ہے۔ مشکے کی وادی کے بارے میں جھالاوان گزیٹیئر انار کے باغات اور کھجور کا ذکر کرتا ہے۔
ضلع کی موجودہ زرعی پیداوار اور مویشیوں کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد اس صفحے کی تیاری کے دوران دستیاب نہیں ہو سکے؛ یہ حصہ نظرِ ثانی میں مکمل کیا جائے گا۔
قابلِ دید مقامات
دریائے مشکے: جھالاوان گزیٹیئر کے مطابق دریائے مشکے کوڈا کی وادی کے شمال سے نکلتا ہے اور تقریباً 350 میل کا سفر طے کر کے نال کور سے جا ملتا ہے، جو آگے چل کر دریائے ہنگول کہلاتا ہے۔ گزیٹیئر لکھتا ہے کہ آواران سے نیچے اس کا پانی سارا سال بہتا ہے۔ کولواہ کی دو ندیاں، وہلی اور دوراسکی، آواران کے قریب اسی دریا میں گرتی ہیں۔
گواڑجک کا قلعہ: گزیٹیئر کے مطابق دریائے مشکے کے کنارے ایک الگ تھلگ چٹان پر بنے اس قلعے تک کوئی راستہ نہیں تھا، اور لوگوں کو رسیوں کے ذریعے اوپر کھینچا اور نیچے اتارا جاتا تھا۔
جھاؤ کی وادی: جھالاوان گزیٹیئر جھاؤ کے شمالی حصے کو زرخیز میدان اور نال کور کے کناروں کو جھاؤ، ببول اور بیر کے درختوں کا تقریباً جنگل بتاتا ہے، اور لکھتا ہے کہ جنوب کی طرف دھرون کی ریتلی چٹانیں سیدھی دیواروں کی طرح ایک ہزار فٹ تک اٹھتی ہیں۔
نمایاں شخصیات
میر چاکر رند: 1906ء کے مکران گزیٹیئر کے مطابق روایت ہے کہ رند بلوچوں کے یہ نامور سردار پندرہویں صدی کے لگ بھگ کولواہ میں آشال قلات کے مقام پر پیدا ہوئے۔ ان کی پیدائش کے مقام کے بارے میں دوسری روایتیں بھی موجود ہیں۔
ماخذ
- Pakistan Bureau of Statistics, 7th Population and Housing Census 2023, Table 1: Area, Population by Sex, Sex Ratio, Population Density, Urban Population, Household Size and Annual Growth Rate (Balochistan districts), PDF p. 1 (Awaran district and tehsils). https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_1_balochistan_districts.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, Census 2023, Table 11: Population by Mother Tongue (Balochistan districts), PDF p. 1. https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_11_balochistan_districts.pdf ; Table 12: Literacy Rate, Enrolment and Out of School Population, PDF p. 1. https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_12_balochistan_district.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, Provincial Census Report 2023: Balochistan, Islamabad, 2025: p. 46 (Table 2.3, Korak Jhao tehsil), p. 73 (population density), p. 94 (out-of-school brackets), p. 120 (electricity brackets). https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/2020/07/Provincial-Census-Report-2023-Balochistan-1.pdf
- R. Hughes-Buller (comp.), Baluchistan District Gazetteer Series, Vols. VII and VII-A: Makran and Kharan, Bombay: Times Press, 1907 (preface dated Quetta, December 1905): p. 29 (fauna at Awaran), p. 185 (Kolwa pastures), p. 296 (Wahli and Doraski join the Mashkai near Awaran), p. 297 (Kolwa "highly productive in years of good rainfall"), p. 298 (Kolwa barley and camels), pp. 299–300 (Kolwa: extent, 1891 transfer to Makran, Kalwan, Mir Chakar, population 1903, villages and forts, cultivation). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.31890
- C. F. Minchin (ed.), Baluchistan District Gazetteer Series, Vol. VI: Sarawan, Kachhi and Jhalawan (Jhalawan part), Bombay: Times Press, 1907: pp. 21–22 (Mashkae river and its junction with the Hingol), pp. 93–94 (Mirwaris; 1881 decision), pp. 196–197 (Mashkae revenue, pomegranates and dates), p. 213 (Gwarjak fort), p. 215 (Jau valley). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.22668 ; same volume, Sarawan part, p. 25 (Ahmadzai Khans descended from the Mirwaris).
- July 2026 restructuring, as recorded in content/districts/00-district-list.md: Dawn, 12 July 2026, https://www.dawn.com/news/2014773/balochistan-undergoes-major-restructuring ; ProPakistani, 12 July 2026, https://propakistani.pk/2026/07/12/balochistan-govt-notifies-new-divisions-and-districts/ (not opened in this session)



