فرانسس ڈریک: دنیا کا دوسرا چکر
26 ستمبر 1580ء کو انگلستان کی بندرگاہ پلیمتھ (Plymouth) میں ایک چھوٹا سا جہاز داخل ہوا۔ اس کے ملاحوں کے حساب سے اس دن اتوار تھا، مگر شہر والوں کے لیے پیر۔ یہ ایک دن کا فرق اس بات کا…

26 ستمبر 1580ء کو انگلستان کی بندرگاہ پلیمتھ (Plymouth) میں ایک چھوٹا سا جہاز داخل ہوا۔ اس کے ملاحوں کے حساب سے اس دن اتوار تھا، مگر شہر والوں کے لیے پیر۔ یہ ایک دن کا فرق اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ مغرب کی طرف چلتے چلتے پوری زمین کے گرد گھوم آئے تھے۔ جہاز کا نام "گولڈن ہائنڈ" (Golden Hind) تھا اور اس کا کپتان فرانسس ڈریک (Francis Drake) تھا۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق یہ میگلن کی مہم (1519ء–1522ء) کے بعد دنیا کا دوسرا مکمل بحری چکر تھا۔
پانچ جہاز اور 164 آدمی
ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق ڈریک تقریباً 1540ء میں انگلستان کی کاؤنٹی ڈیون شائر میں پیدا ہوئے۔ اس سفر کا سب سے مفصل بیان "دی ورلڈ اینکمپاسڈ" (The World Encompassed) ہے، جو ڈریک کے بھتیجے نے 1628ء میں جہاز کے پادری فرانسس فلیچر (Francis Fletcher) کے نوٹس سے مرتب کر کے چھاپا۔ ہکلوٹ سوسائٹی نے 1854ء میں اسے فلیچر کے غیر مطبوعہ مسودے اور دوسرے ہم سفروں کے بیانات کے ساتھ دوبارہ شائع کیا۔
اس کے مطابق بیڑے میں پانچ جہاز تھے: سب سے بڑا "پیلیکن" (Pelican) جس پر ڈریک خود تھے، "الزبتھ" (Elizabeth) 80 ٹن، "میری گولڈ" (Marigold) 30 ٹن، رسد کا جہاز "سوان" (Swan) 50 ٹن، اور چھوٹی کشتی "کرسٹوفر" (Christopher) 15 ٹن۔ ان پر کل 164 آدمی سوار تھے۔ بیڑا 15 نومبر 1577ء کو پلیمتھ سے نکلا، مگر ایک سخت طوفان نے دو جہازوں کے مستول توڑ دیے اور سب کو واپس آنا پڑا۔ مرمت کے بعد 13 دسمبر 1577ء کو وہ دوبارہ روانہ ہوئے۔
بیڑا افریقہ کے مغربی ساحل اور جزائر کیپ ورڈ سے ہو کر بحر اوقیانوس پار کر کے جنوبی امریکہ پہنچا اور ساحل کے ساتھ جنوب کی طرف بڑھا۔ راستے میں "سوان" اور "کرسٹوفر" کو خالی کر کے چھوڑ دیا گیا، اس لیے آبنائے میگلن تک صرف تین جہاز پہنچے۔
آبنائے میگلن
"دی ورلڈ اینکمپاسڈ" کے مطابق 20 اگست 1578ء کو بیڑا آبنائے کے دہانے پر ایک بلند راس کے پاس پہنچا جس کی سرمئی ڈھلوان چٹانوں سے ٹکرا کر سمندر کا پانی وہیل مچھلیوں کے فواروں کی طرح اچھلتا تھا۔ یہیں ڈریک نے اپنے جہاز کا نام "پیلیکن" سے بدل کر "گولڈن ہائنڈ" رکھا۔ کتاب کے مطابق یہ نام ان کے سرپرست سر کرسٹوفر ہیٹن (Christopher Hatton) کی یاد میں رکھا گیا۔
آبنائے کہیں چار، کہیں تین اور کہیں دو لیگ چوڑی تھی، اور سب سے تنگ جگہ پر ایک لیگ سے کچھ زیادہ۔ اس کے موڑ بہت تھے اور ہوا تیز۔ آبنائے کے جزیروں پر ملاحوں کو بے شمار پینگوئن ملے، جنہیں فلیچر "اڑ نہ سکنے والے پرندے" لکھتے ہیں جن کے پروں کی جگہ چھوٹے ٹھنٹھ ہیں۔ رات کو انہوں نے ایک جزیرے پر آگ اگلتا پہاڑ دیکھا۔ 6 ستمبر کو تینوں جہاز آبنائے سے نکل کر بحرالکاہل میں داخل ہوئے۔
باون دن کا طوفان
اگلے ہی دن، 7 ستمبر کو، ایک ایسا طوفان شروع ہوا جو کتاب کے مطابق 28 اکتوبر تک، "پورے 52 دن"، جاری رہا۔ جہاز جنوب میں 57 درجے عرض بلد سے بھی آگے دھکیل دیے گئے۔ جان کک (John Cooke) کے بیان کے مطابق ستمبر کے آخر میں "میری گولڈ" بچھڑ گیا۔ 8 اکتوبر کی رات "الزبتھ" بھی بچھڑ گیا؛ اس کے کپتان جان ونٹر (John Winter) آبنائے کے راستے واپس مڑ گئے اور 2 جون 1579ء کو انگلستان پہنچ گئے۔ اب "گولڈن ہائنڈ" اکیلا تھا۔
اس سفر کا ایک جغرافیائی نتیجہ بھی نکلا۔ فلیچر لکھتے ہیں کہ آبنائے کے جنوب کی زمین، جسے نقشوں پر ایک بڑا نامعلوم براعظم دکھایا جاتا تھا، دراصل "ٹوٹے ہوئے جزیرے" ہیں جن کے درمیان کھلے راستے ہیں۔ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ اکتوبر کے آخر میں ان جنوبی علاقوں میں رات صرف دو گھنٹے کی تھی۔
امریکہ کا مغربی ساحل اور "نووا البیون"
طوفان تھمنے کے بعد ڈریک نے چلی اور پیرو کے ساحل کے ساتھ شمال کا رخ کیا۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق اس سفر میں انہوں نے کئی ہسپانوی جہاز پکڑے، جن میں مارچ 1579ء میں پیرو کے ساحل کے قریب "نوئسترا سینیورا دے لا کونسیپسیون" (Nuestra Señora de la Concepción) نامی جہاز بھی تھا۔
پھر جہاز اتنا شمال گیا کہ جون کے مہینے میں بھی پہاڑیاں برف سے ڈھکی تھیں اور ملاح سخت سردی کی شکایت کرتے رہے۔ "دی ورلڈ اینکمپاسڈ" کے مطابق 38 درجے 30 منٹ شمالی عرض بلد پر انہیں ایک موزوں بندرگاہ ملی، جہاں جہاز 17 جون سے 23 جولائی 1579ء تک لنگر انداز رہا اور اس کی مرمت کی گئی۔ ڈریک نے اس علاقے کا نام "نووا البیون" (Nova Albion) رکھا، یعنی "نیا البیون"۔ ہکلوٹ کے بیان کے مطابق اس کی دو وجہیں تھیں: سمندر کے رخ سفید کنارے اور چٹانیں، اور یہ کہ انگلستان کا ایک پرانا نام بھی البیون تھا۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا اس جگہ کو موجودہ سان فرانسسکو کے قریب بتاتا ہے۔
ہکلوٹ کے مطابق وہاں کے لوگوں کے گھر گول کھدے ہوئے گڑھوں پر لکڑیاں جوڑ کر بنائے جاتے تھے جو اوپر جا کر مخروطی چھت کی طرح مل جاتی تھیں، اور آگ گھر کے بیچ میں جلتی تھی۔ کتاب لکھتی ہے کہ رخصت کے دن مقامی لوگ پہاڑیوں کی چوٹیوں پر چڑھ گئے اور آگ جلا کر جہاز کو دیر تک دیکھتے رہے۔
مسالوں کے جزیرے
اس کے بعد گولڈن ہائنڈ نے بحرالکاہل پار کیا۔ کتاب کے مطابق اکتوبر میں وہ فلپائن کے جزیرے منڈاناؤ (Mindanao) کے پاس سے گزرے اور 3 نومبر 1579ء کو مولکاس (Moluccas) یعنی مسالوں کے جزیرے نظر آئے، جن کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ "چار اونچے نوکیلے جزیرے" ہیں جہاں لونگ کی بہتات ہے۔ ترنیٹے (Ternate) کے حاکم کے نائب نے خود کشتی میں آ کر ڈریک کو اپنے جزیرے پر آنے کی دعوت دی۔ یہاں سے جہاز پر کئی ٹن لونگ لادی گئی۔
9 جنوری 1580ء کی رات، جب جہاز پورے بادبان کھولے چل رہا تھا، اچانک ایک زیرِ آب چٹان پر چڑھ کر پھنس گیا۔ اسی دور کے ایک مختصر قلمی بیان کے مطابق جہاز رات آٹھ بجے سے اگلے دن سہ پہر چار بجے تک پھنسا رہا۔ ہکلوٹ کے بیان کے مطابق اسے ہلکا کرنے کے لیے تین ٹن لونگ، آٹھ توپیں اور کچھ آٹا اور پھلیاں سمندر میں پھینکی گئیں۔ پھر ہوا نے اچانک رخ بدلا، بادبان کھولے گئے اور جہاز چٹان سے اتر کر دوبارہ تیرنے لگا۔ اس کے بعد وہ جاوا پہنچے، جہاں اسی قلمی بیان کے مطابق مقامی لوگوں سے چاول، ناریل اور کیلے لیے گئے۔
گھر واپسی
بحر ہند پار کر کے جہاز 18 جون 1580ء کو راس امید (Cape of Good Hope) کے پاس سے گزرا۔ ہکلوٹ کے بیان کے مطابق ملاحوں نے اسے "پوری زمین کے گرد سفر میں سب سے خوبصورت راس" پایا، اور لکھا کہ یہ اتنی خطرناک نہیں جتنی مشہور ہے۔ 22 جولائی کو وہ مغربی افریقہ میں سیرا لیون پہنچے، جہاں انہیں تازہ رسد ملی اور انہوں نے "درختوں پر لگی سیپیاں" دیکھیں۔
آخر کار 26 ستمبر 1580ء کو گولڈن ہائنڈ پلیمتھ پہنچا۔ "دی ورلڈ اینکمپاسڈ" کے مطابق یہ سفر "دو سال، دس مہینے اور چند دن" کا تھا۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق 4 اپریل 1581ء کو ملکہ الزبتھ اول نے لندن کے قریب دریائے ٹیمز پر ڈیپٹفورڈ (Deptford) میں کھڑے اسی جہاز کے عرشے پر ڈریک کو "سر" کا خطاب دیا۔ ڈریک کا انتقال 28 جنوری 1596ء کو پاناما میں پورٹو بیلو کے مقام پر ہوا۔
اگلی قسط: ولیم بیرنٹس: قطبِ شمالی کے برف زار میں سردیاں۔
ماخذ
- Francis Drake (nephew), The World Encompassed by Sir Francis Drake, being his next voyage to that to Nombre de Dios [1628], collated with an unpublished manuscript of Francis Fletcher, edited by W. S. W. Vaux, Hakluyt Society, first series no. 16, London, 1854 (main text pp. 1–162; Appendix III, short abstract of the voyage in a contemporary hand; Appendix IV, John Cooke's narrative; Appendix V, extracts from Hakluyt's Voyages: "The famous voyage of Sir Francis Drake"). https://archive.org/details/worldencompassed16drak
- Mark Cartwright, "Francis Drake", World History Encyclopedia, 25 June 2020. https://www.worldhistory.org/Francis_Drake/
- Wikimedia Commons, "File:Francis Drake's journey 1577-1580, by unknown c1590.jpg" (engraved world map, c. 1590; public domain). https://commons.wikimedia.org/wiki/File:Francis_Drake%27s_journey_1577-1580,_by_unknown_c1590.jpg
- "Francis Drake's circumnavigation", Wikipedia (pointer only, to the map file and the knighthood date). https://en.wikipedia.org/wiki/Francis_Drake%27s_circumnavigation







