رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 16° صاف 24° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:16مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
دہشت گردی کے خلاف ایک بار پھر قومی اتحاد ضروری ہے: سینیٹ میں رانا ثنا اللہ کا خطابخیبرپختونخوا میں گورنر راج کا مقصد معدنیات نہیں، امن کا قیام ہے: عقیل ملک، اختیار ولیسینیٹ نے پاسپورٹ ایکٹ ترمیمی بل 2026 متفقہ طور پر منظور کر لیاپی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی مولانا نسیم شاہ بنوں سے گرفتار، ویڈیو سامنے آگئیعالمی ادارہ خوراک کا غزہ میں غذائی امداد ایک تہائی کم کرنے کا اعلان، 11 لاکھ افراد کو امداد ملے گینیتن یاہو: 7 اکتوبر کو 1200 اسرائیلیوں کی ہلاکت 40 ہزار امریکیوں کے قتل کے برابر تھیراجپال یادیو نے اہلیہ رادھا کو خاندان کا ہیرا قرار دے دیا، سالگرہ پر جذباتی پیغامروس پر پابندیوں میں نرمی کے بعد تیل سستا، برینٹ 107 ڈالر کے قریبسہیل آفریدی مذاکرات کے ڈرافٹ کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے: وفاقی وزیر طارق فضل چوہدریعقیل ملک: امریکا کے ساتھ معدنیات کا کوئی لائسنس نہیں ہوا، مولانا لائسنس سامنے لائیںپی ٹی آئی کے گرفتار تین ارکان قومی اسمبلی پروڈکشن آرڈرز پر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئےروس کے یوکرین پر رات گئے ڈرون حملے، لاجسٹکس مراکز، بندرگاہوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

22 مارچ 2002: گوادر کی گہرے پانی کی بندرگاہ کا سنگِ بنیاد

جمعہ، 22 مارچ 2002۔ مکران کے ساحل پر گوادر میں ایک بڑا شامیانہ لگا ہے۔ گہرے پانی کی بندرگاہ کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز ہو رہا ہے۔ یہ وہی گوادر تھا جو 1958 میں عمان سے پاکستان کو ملا تھا…

22 مارچ 2002: گوادر کی گہرے پانی کی بندرگاہ کا سنگِ بنیاد
علامتی تصویر

تاریخ کے اوراق: یہ تحریر دستیاب سرکاری اور صحافتی ماخذ سے مرتب کی گئی ہے۔ روزنامہ اعتماد کا 23 مارچ 2002 کا شمارہ ہمارے پاس اسکین شدہ صورت میں موجود نہیں۔

جمعہ، 22 مارچ 2002۔ مکران کے ساحل پر گوادر میں ایک بڑا شامیانہ لگا ہے۔ گہرے پانی کی بندرگاہ کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز ہو رہا ہے۔ یہ وہی گوادر تھا جو 1958 میں عمان سے پاکستان کو ملا تھا (اس کی کہانی ہم 8 ستمبر 1958 کے صفحے پر بیان کر چکے ہیں)۔

پچاس برس کا انتظار

ڈان کے 2008 کے ایک تفصیلی مضمون کے مطابق یہاں بندرگاہ کا خیال 1954 میں سامنے آیا، جب امریکہ کی طرف سے بلوچستان کے ساحل کا سروے کرنے والے ماہر ورث کونڈرک نے اس کی سفارش کی۔ 1988 سے 1992 کے بیچ ایک چھوٹی بندرگاہ بنی، جس پر مضمون نگار کے مطابق ایک ارب باسٹھ کروڑ روپے سے زیادہ خرچ ہوئے، مگر کوئی قابلِ ذکر جہاز وہاں نہیں آیا۔

اسی مضمون کے مطابق مئی 1999 میں چین نے مالی اور تکنیکی مدد کی پیشکش کی، اور اکتوبر 2001 میں چینی انجینئروں نے بندرگاہ کا ماسٹر پلان تیار کیا۔ سنگِ بنیاد 2001 کے آخر تک رکھا جانا تھا، مگر یہ مؤخر ہو گیا۔

بیجنگ کا معاہدہ

مارچ 2002 کے پہلے ہفتوں میں بات تیزی سے آگے بڑھی۔ ڈان میں 11 مارچ کو شائع ہونے والی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق چین اور پاکستان نے پہلے مرحلے کے ڈیزائن اور تکنیکی خاکے کی فزیبلٹی مکمل کر لی تھی، اور سیکرٹری مواصلات افتخار رشید کی قیادت میں ایک وفد معاہدے کو حتمی شکل دینے بیجنگ جا رہا تھا۔ اس رپورٹ میں پہلے مرحلے کی لاگت قریب 25 کروڑ ڈالر بتائی گئی، جس میں پاکستان کا حصہ 20 فیصد تھا۔

16 مارچ کے ڈان کے مطابق 15 مارچ کو بیجنگ میں دونوں ملکوں نے پہلے مرحلے کی تکنیکی تفصیلات طے کرنے والے جامع معاہدے پر دستخط کیے۔ رپورٹ میں لاگت 24 کروڑ 80 لاکھ ڈالر لکھی گئی، جس میں سے 19 کروڑ 80 لاکھ ڈالر چینی حکومت کو دینے تھے۔ پہلے مرحلے میں تین برتھیں اور ایک رسائی چینل شامل تھا، اور کام تین برس میں مکمل ہونا تھا۔ تعمیر کا ٹھیکہ چین کی سرکاری کمپنی چائنا ہاربر انجینئرنگ کمپنی کے پاس تھا۔

آگے کیا ہوا

  • 17 اکتوبر 2002: گوادر پورٹ اتھارٹی کی ویب سائٹ کے مطابق اس تاریخ کے آرڈیننس کے تحت اتھارٹی قائم ہوئی۔
  • 2004 سے 2006: ڈان (2008) کے مطابق تکمیل کی تاریخ مارچ 2005 سے ستمبر 2005 اور پھر جون 2006 تک بڑھتی رہی، اور لاگت 24 کروڑ 80 لاکھ سے بڑھ کر 29 کروڑ 80 لاکھ ڈالر ہو گئی۔ ڈان (نومبر 2006) کے مطابق چین نے پہلے مرحلے کے لیے 20 کروڑ ڈالر کے آسان قرضے اور امداد دی، اور پہلے مرحلے میں 602 میٹر طویل تین کثیر المقاصد برتھیں بنیں۔
  • 20 مارچ 2007: بندرگاہ کے پہلے مرحلے کا افتتاح ہوا (اس کی تفصیل اسی سلسلے کے 20 مارچ 2007 کے صفحے پر)۔
  • 15 مارچ 2008: ڈان (2008) کے مطابق بندرگاہ پر سامان کی باقاعدہ ترسیل شروع ہوئی؛ سنگِ بنیاد سے پہلے تجارتی جہاز تک 72 مہینے لگے۔

کیا آپ کے پاس مارچ 2002 کا روزنامہ اعتماد ہے، یا گوادر کی اس تقریب کی کوئی تصویر یا یادداشت؟ ہمیں ضرور بھیجیں۔ ہم اسے آپ کے نام کے ساتھ اس صفحے پر شامل کریں گے۔

ماخذ

  1. Saleem Shahid, "Gwadar project launched", Dawn, 23 March 2002, datelined Gwadar, 22 March (date of the ceremony; completion in three years; industrial zone, Saindak, Mirani dam, Kachhi canal; three phases and the coastal highway). Opened. https://www.dawn.com/news/27285
  2. Dawn (unnamed author, a retired port and shipping consultant), "Gwadar port: 'history-making milestones'", Dawn, 14 April 2008 (date 22 March 2002; Condrick 1954; 1988–92 mini-port, Rs1,623m; Chinese offer May 1999; master plan October 2001; schedule slips; cost $248m to $298m; cargo handling from 15 March 2008; 72 months). Opened. https://dawn.com/news/297994
  3. Sabir Shah, "Gwadar Port finally becomes functional", The News, 14 November 2016 (construction began 22 March 2002; Phase I completed March 2007; inaugurated 20 March 2007). Opened. https://www.thenews.com.pk/print/164742-Gwadar-Port-finally-becomes-functional
  4. APP, "Gwadar port design finalized", Dawn, 11 March 2002 (feasibility of Phase I completed; Iftikhar Rashid's delegation; about $250m, Pakistan 20%; three berths). Opened. https://www.dawn.com/news/25989
  5. APP, "Gwadar port pact signed", Dawn, 16 March 2002 (agreement in Beijing on 15 March; $248m, China $198m; three berths and approach channel; three years; CHEC; ceremony then planned for 23 March). Opened. https://www.dawn.com/news/26515
  6. APP, "Chinese deputy PM due today", Dawn, 21 March 2002 (Wu's four-day visit from Thursday, 21 March). Opened. https://www.dawn.com/news/27019
  7. Parvaiz Ishfaq Rana, "Gwadar port milestone of time-tested friendship", Dawn, 26 November 2006 (Wu laid the foundation stone in March 2002; $298m; $200m Chinese soft loans and grants; three multipurpose berths, 602 m). Opened. https://dawn.com/news/220502
  8. Gwadar Port Authority, "Vision and Mission" (foundation stone laid March 2002 by Wu Bangguo) and "About GPA" (GPA Ordinance LXXVII of 2002, 17 October 2002). Opened. https://gwadarport.gov.pk/visionmission.aspx ; https://gwadarport.gov.pk/about.aspx

تاریخ کے اوراق: تمام تحریریں ←