14 مئی 1854: مستونگ میں قلات اور انگریزوں کا معاہدہ
اتوار، 14 مئی 1854۔ سراوان کی وادی میں مستونگ، جو قلات اور کوئٹہ کے بیچ خانِ قلات کی گرمیوں کی قیام گاہ ہے۔ بالائی سندھ کی سرحد کے انگریز پولیٹیکل سپرنٹنڈنٹ میجر جان جیکب کچھی کی گرمی سے گزر کر…

تاریخ کے اوراق: یہ تحریر روزنامہ اعتماد کے اجرا (اکتوبر 1970) سے پہلے کے ایک دن کی کہانی ہے، جو دستیاب تاریخی ماخذ سے مرتب کی گئی ہے۔
اتوار، 14 مئی 1854۔ سراوان کی وادی میں مستونگ، جو قلات اور کوئٹہ کے بیچ خانِ قلات کی گرمیوں کی قیام گاہ ہے۔ بالائی سندھ کی سرحد کے انگریز پولیٹیکل سپرنٹنڈنٹ میجر جان جیکب کچھی کی گرمی سے گزر کر دو دن پہلے یہاں پہنچے تھے۔ ان کے سوانح نگار ایچ ٹی لیمبرک کے مطابق آج خان میر نصیر خان دوم اور جیکب نے ایک نئے معاہدے پر دستخط کر کے مہریں لگا دیں۔ ایچی سن کے مجموعۂ معاہدات میں یہ معاہدہ نمبر 3 ہے، اور اس کی آخری سطر یہی کہتی ہے کہ یہ مستونگ میں 14 مئی 1854 کو طے ہوا۔
1839 سے 1841 تک
ایچی سن کے مطابق پہلی افغان جنگ کے دوران انگریزوں کو یقین دلایا گیا کہ خانِ قلات میر مہراب خان ان کے دشمن ہیں۔ نومبر 1839 میں کابل سے واپس آتی انگریزی فوج کے ایک دستے نے قلات پر حملہ کیا اور مہراب خان لڑتے ہوئے مارے گئے۔ ان کی جگہ شاہ نواز خان کو خان بنایا گیا، اور سراوان اور کچھی کابل کی سلطنت میں شامل کر دیے گئے۔
جلد ہی مہراب خان کے بیٹے نصیر خان کی قیادت میں بغاوت ہوئی، شاہ نواز خان معزول ہوئے اور انگریز نمائندہ لیفٹیننٹ لوَوڈے مارا گیا۔ ایچی سن کے الفاظ میں انگریزی حکومت نے ملک میں امن اور "بدقسمت مہراب خان کی یاد سے دیر سے انصاف" کے لیے اپنی پالیسی الٹ دی۔ 1907 کے سراوان گزیٹیئر کے مطابق میجر جیمز آؤٹرم نے اکتوبر 1841 میں نصیر خان کو قلات کی مسند پر بٹھایا۔
6 اکتوبر 1841 کو قلات میں ہونے والے معاہدے میں نصیر خان نے خود کو شاہ شجاع اور ان کے جانشینوں کا باجگزار تسلیم کیا، جیسے ان کے بزرگ پہلے تھے۔ کچھی اور مستونگ انہیں واپس ملے، اور انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ ہمیشہ اپنے دربار میں مقیم انگریز افسر کے مشورے پر چلیں گے۔ مگر کابل سے انگریزی فوج کی واپسی کے بعد یہ معاہدہ، ایچی سن اور گزیٹیئر دونوں کے مطابق، "مردہ حرف" بن گیا۔
مستونگ تک کا راستہ
امپیریل گزیٹیئر (1908) کے مطابق 1847 کے آغاز سے 1858 میں اپنی وفات تک بالائی سندھ کی سرحد اور بلوچستان کے معاملات جیکب کے سپرد رہے، اور قلات میں ان کا اثر "بہت زیادہ" تھا۔ لیمبرک کے مطابق جیکب اور سندھ کے کمشنر بارٹل فریئر عرصے سے سفارش کر رہے تھے کہ خان کو پچاس ہزار روپے سالانہ دیے جائیں، اور گورنر جنرل لارڈ ڈلہوزی نے آؤٹرم کی حمایت کے بعد یہ تجویز مان لی۔ اپریل 1854 کے آخر میں ڈلہوزی نے جیکب کو معاہدہ طے کرنے کا حکم دیا۔
ایچی سن اور گزیٹیئر دونوں اس کی وجہ ایک ہی بتاتے ہیں: انگلستان اور روس کی جنگ کا خطرہ، اور مغربی سرحد پر انگریزی اثر مضبوط کرنے کی ضرورت۔
معاہدے میں کیا تھا
ایچی سن کے مجموعے میں چھپے متن کے مطابق معاہدے کی سات شقیں تھیں:
- آؤٹرم کا 6 اکتوبر 1841 کا معاہدہ منسوخ۔
- انگریزی حکومت اور خان، ان کے وارثوں اور جانشینوں کے درمیان "دائمی دوستی"۔
- خان انگریزی حکومت کے دشمنوں کی پوری طاقت سے مخالفت کریں گے، ہر معاملے میں اس سے "ماتحت تعاون" کریں گے، اور اس کی رضامندی کے بغیر کسی ریاست سے مذاکرات نہیں کریں گے؛ ہمسایوں سے معمول کی خط و کتابت جاری رہے گی۔
- اگر قلات کے کسی حصے میں انگریزی فوج رکھنا ضروری سمجھا گیا تو وہ ان جگہوں پر رہے گی جو انگریز حکام مناسب سمجھیں۔
- خان اپنی رعایا کو انگریزی علاقے میں یا اس کے قریب لوٹ مار سے روکیں گے، سندھ یا سونمیانی اور مکران کی بندرگاہوں کے راستے افغانستان آنے جانے والے تاجروں کی حفاظت کریں گے، اور طے شدہ محصول سے زیادہ کچھ نہیں لیں گے۔
- ان ذمہ داریوں کی ہر سال وفاداری سے ادائیگی کی شرط پر انگریزی حکومت خان کو پچاس ہزار کمپنی روپے سالانہ وظیفہ دے گی۔
- جس سال یہ شرائط پوری نہ ہوں، اس سال وظیفہ نہیں ملے گا۔
ساتھ لگے جدول میں محصول طے تھا: شمالی سرحد سے کراچی یا کسی اور بندرگاہ تک ہر اونٹ کے بوجھ پر چھ روپے، اور شکارپور تک پانچ روپے؛ الٹی سمت جانے والے مال پر بھی یہی شرح۔ معاہدے کی توثیق جون 1854 میں کلکتہ کے فورٹ ولیم میں گورنر جنرل اِن کونسل نے کی، اور اس پر ڈلہوزی کے دستخط ہیں۔
دو زاویے
انگریزی دور کا بیان۔ لیمبرک کے مطابق ڈلہوزی نے جیکب کو ذاتی خط میں لکھا کہ "آپ ہماری تمام توقعات سے بہت آگے نکل گئے ہیں"، اور 1854 کا باقی سال قافلوں کی لوٹ مار کے بغیر گزرا۔ کچھی کے گزیٹیئر کے نزدیک اس معاہدے نے خان اور انگریزی حکومت کے تعلقات کو "مضبوط بنیاد" پر رکھ دیا۔ جیکب کے ایک اور سوانح نگار الیگزینڈر شینڈ (1900) لکھتے ہیں کہ جیکب کی نظر میں نوجوان خان کو وظیفہ دینا محض "پچر کا پتلا سرا" داخل کرنا تھا؛ وہ کوئٹہ میں انگریزی فوج چاہتے تھے۔
تنقیدی بیان۔ محمد نعیم اور نسرین افضل (دی ڈائیلاگ، 2025) کے مطابق 1838 سے 1876 تک کے معاہدوں نے خانیتِ قلات کو ایک آزاد ریاست سے انگریزوں کی "باجگزار ریاست" بنا دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انگریزوں نے خان کو مرکزی اختیار مضبوط کرنے میں مدد دی مگر انہیں قبائل سے دور کر کے اپنے اوپر منحصر کر دیا، اور خان سرداروں سے زیادہ انگریزوں کے سامنے جواب دہ ہو گئے۔
سراوان گزیٹیئر کے مطابق 1854 تک ریاست کی کوئی مستقل فوج نہیں تھی؛ اسی سال نصیر خان دوم نے پہلی بار "فتح جنگ" پیدل رجمنٹ، سواروں کا دستہ اور توپ خانہ کھڑا کیا، جسے سرداروں نے اپنے اختیار میں سنگین مداخلت سمجھا۔
اس وقت دنیا میں
- کریمیا کی جنگ: 28 مارچ 1854 کو برطانیہ اور فرانس نے روس کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ لیمبرک کے مطابق جیکب کو امید تھی کہ انہیں اپنے سواروں کے ساتھ ترکی بھیجا جائے گا۔
آگے کیا ہوا
- 1857: نصیر خان دوم کا انتقال ہوا؛ ایچی سن کے مطابق عام خیال تھا کہ انہیں زہر دیا گیا۔ ان کے سوتیلے بھائی میر خداداد خان سرداروں کے انتخاب سے خان بنے؛ سراوان گزیٹیئر کے مطابق ان کی عمر اس وقت سولہ برس تھی۔
- 1863–1864: سرداروں نے خداداد خان کے چچازاد شیردل خان کو خان بنا دیا؛ 1864 میں شیردل خان قتل ہوئے، خداداد خان دوبارہ خان بنے اور 1854 کے معاہدے کا معطل وظیفہ بحال ہوا۔
- 1873: انگریز پولیٹیکل ایجنٹ قلات سے چلا گیا اور 1854 کے معاہدے کے تحت وظیفہ روک دیا گیا؛ خان کو بتایا گیا کہ تجارت کی حفاظت کی ان کی ذمہ داری بدستور قائم ہے۔
- 8 دسمبر 1876: جیکب آباد میں نیا معاہدہ ہوا جس نے 1854 کے معاہدے کی تجدید کی، وظیفہ بڑھا کر ایک لاکھ روپے کیا، اور قلات میں انگریزی فوج اور افسروں کے لیے راستہ کھولا۔ ایچی سن کے مطابق یہی معاہدہ بلوچستان ایجنسی کی بنیاد بنا۔
کیا آپ کے پاس قلات کے پرانے دربار، مستونگ یا جیکب کے دور سے متعلق کوئی تحریر، سند یا تصویر ہے؟ ہمیں ضرور بھیجیں۔ ہم اسے آپ کے نام کے ساتھ اس صفحے پر شامل کریں گے۔
ماخذ
- C. U. Aitchison (comp.), A Collection of Treaties, Engagements and Sanads relating to India and Neighbouring Countries, vol. XI, 5th ed., "revised and continued up to 1929", Calcutta: Government of India, 1933 (archive.org scan and OCR, opened): Kalat narrative (Mehrab Khan, the fall of Kalat in November 1839, Shah Nawaz Khan, the revolt and the reversal of policy, the 1841 treaty as a "dead letter", the 1842 proposal, the threat of war with Russia, Nasir Khan's death in 1857, Khudadad Khan, the 1859 grant, Sherdil Khan, the 1873 withholding of the subsidy, the 1876 treaty as "the foundation of the Baluchistan Agency"); Treaty No. II (Kalat, 6 October 1841) and Treaty No. III (Mastung, 14 May 1854) in full, with the schedule of duties and the ratification note. https://archive.org/details/acollectionoftreatiesengagementsandsanadsaitchisonc.u.vol11_83_O
- H. T. Lambrick, John Jacob of Jacobabad, London: Cassell, 1960, pp. 201, 258–260 (archive.org scan and OCR, opened): Frere and Jacob's subsidy proposal; Outram's advocacy; the Khan's meeting with Frere in February 1854; Dalhousie's order of late April 1854; Napier's view of the 1841 treaty; Jacob's arrival at Mastung on 12 May, formalities the next day, signing "next day"; Dalhousie's letter; the quiet rest of 1854; Jacob's hope of going to Turkey. https://archive.org/details/dli.ernet.53775
- Baluchistan District Gazetteer Series, vols. VI, VI-A and VI-B: Sarawan, Kachhi and Jhalawan, Bombay: Times Press, 1907, Sarawan pp. 34–35 (Outram installs Nasir Khan in October 1841; the 1841 treaty a dead letter; the 1854 treaty and its terms; quarrels with the chiefs over mercenary troops; Nasir Khan's death in 1857; Khudadad Khan aged sixteen), Sarawan Levies section (no standing army before 1854; Fateh Jang regiment), Kachhi pp. 24–25 (the 1854 treaty placed relations "on a sound footing"). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.22668
- Imperial Gazetteer of India, Provincial Series: Baluchistan, Calcutta: Superintendent of Government Printing, 1908, pp. 16, 19 (Nasir Khan II; the 1854 treaty and the "European imbroglio with Russia"; Jacob in charge from 1847 to 1858 and his influence at Kalat). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.120382
- Alexander Innes Shand, General John Jacob, Commandant of the Sind Irregular Horse and Founder of Jacobabad, London: Seeley, 1900, ch. XIII, "Affairs of Khelat", pp. 182–183 (archive.org OCR, opened): subsidising the Khan as "the thin end of a wedge"; Jacob's paper on Quetta and the Bolan. https://archive.org/details/generaljohnjacob00shanrich
- Muhammad Naeem and Nasreen Afzal, "The British Occupation of Kalat: A Critical Appraisal of the Establishment of British Rule in Baluchistan", The Dialogue (Qurtuba University), vol. 20, no. 2, April–June 2025, pp. 87–88 (PDF opened): the treaties of 1838–1876 turned Kalat into a "British vassal state"; the 1854 terms; British support for the Khan's centralisation and his growing dependence on the British (citing Axmann). https://journals.qurtuba.edu.pk/ojs/index.php/thedialogue/article/download/86126/469/7682
- "Crimean War", Encyclopaedia Britannica ("On March 28 Britain and France declared war on Russia"). https://www.britannica.com/event/Crimean-War



