ضلع زیارت: صنوبر کے جنگلوں اور گرمائی صدر مقام کی وادی
زیارت بلوچستان کے شمالی پہاڑی سلسلے میں کوئٹہ کے مشرق میں واقع ایک چھوٹا سا ضلع ہے، جس کی پہچان اس کی ٹھنڈی آب و ہوا اور صنوبر کے پرانے جنگل ہیں۔ اسی ٹھنڈک کی وجہ سے انگریزی دور میں…

تعارف اور محلِ وقوع
زیارت بلوچستان کے شمالی پہاڑی سلسلے میں کوئٹہ کے مشرق میں واقع ایک چھوٹا سا ضلع ہے، جس کی پہچان اس کی ٹھنڈی آب و ہوا اور صنوبر کے پرانے جنگل ہیں۔ اسی ٹھنڈک کی وجہ سے انگریزی دور میں اسے بلوچستان ایجنسی کا گرمائی صدر مقام بنایا گیا، اور آج بھی یہ صوبے کی سب سے معروف سیرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔
پاکستان ادارۂ شماریات کی 2023ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع زیارت کا رقبہ 3,301 مربع کلومیٹر اور آبادی 189,535 ہے، جس میں 96,172 مرد، 93,355 خواتین اور 8 خواجہ سرا شامل ہیں۔ آبادی کی کثافت تقریباً 57 افراد فی مربع کلومیٹر ہے اور لگ بھگ 26 فیصد لوگ شہری علاقوں میں رہتے ہیں۔ 2017ء کی مردم شماری میں ضلع کی آبادی 160,095 تھی؛ یعنی چھ برس میں سالانہ اوسط اضافہ 2.86 فیصد رہا۔ ایک گھرانے میں اوسطاً 8.2 افراد رہتے ہیں۔
انتظامی طور پر ضلع دو سب ڈویژنوں میں بٹا ہوا ہے۔ سب ڈویژن زیارت کا رقبہ 1,489 مربع کلومیٹر اور آبادی 78,912 ہے، جبکہ سب ڈویژن سنجاوی کا رقبہ 1,812 مربع کلومیٹر اور آبادی 110,623 ہے۔ یوں ضلع کی زیادہ آبادی سنجاوی میں رہتی ہے، اور شہری آبادی کا تناسب بھی وہیں زیادہ ہے: سنجاوی میں تقریباً 41 فیصد، جبکہ زیارت سب ڈویژن میں صرف 5 فیصد کے قریب۔ قابلِ ذکر ہے کہ 1908ء کے امپیریل گزیٹیئر میں سنجاوی ضلع لورالائی کی ایک تحصیل کے طور پر درج ہے، جس کی ڈسپنسری گرمیوں میں زیارت منتقل کر دی جاتی تھی۔
جولائی 2026ء میں حکومتِ بلوچستان نے صوبے کی ڈویژنوں اور اضلاع کی نئی تقسیم کا نوٹیفکیشن جاری کیا، جس کی تفصیل اخباری رپورٹوں کے ذریعے ہمارے حوالہ جاتی صفحے پر درج ہے۔ زیارت اب کس ڈویژن کا حصہ ہے، اس کی تصدیق نوٹیفکیشن کے متن سے ہونا باقی ہے۔ یہ صفحہ 2023ء کی مردم شماری کے ضلع کے مطابق ہے۔
تاریخ
انگریزی دور میں زیارت کا علاقہ ضلع سبی کی تحصیل شاہرگ کا حصہ تھا۔ 1907ء میں شائع ہونے والے "بلوچستان ڈسٹرکٹ گزیٹیئر" کی سبی جلد کے مطابق اس جگہ کا مقامی نام "گواشکی" یا "کوشگی" تھا۔ 1886ء میں اس کا نام قریبی مزار، میاں عبدالحکیم کی زیارت، کی نسبت سے "زیارت" رکھ دیا گیا۔ میاں عبدالحکیم خود "خرواری بابا" یا "خرواری نیکہ" کے نام سے بھی مشہور ہیں، اور گزیٹیئر کی فہرستِ مزارات میں ان کا مزار گوشکی کے قریب اسی نام سے درج ہے۔
گزیٹیئر بتاتا ہے کہ 1883ء میں انگریز افسروں نے پہلی بار اس جگہ کا دورہ کیا اور اسے صحت افزا مقام کے طور پر منتخب کیا۔ یہاں ریذیڈنسی 1891-1890ء میں تعمیر ہوئی۔ 1895ء میں تقریباً 81 ایکڑ زمین اور پانی سارنگزئی قبیلے سے 14,000 روپے میں خریدا گیا، اور 1899-1898ء میں 38,000 روپے کی لاگت سے نلکوں کے ذریعے پانی کی فراہمی کا انتظام کیا گیا۔ کوئٹہ میں تعینات یورپی فوجیوں کے لیے یہاں 1885ء میں گرمائی کیمپ لگایا گیا، جو بعد میں بند کر دیا گیا اور 1903ء میں دوبارہ قائم ہوا۔
زیارت کو بلوچستان ایجنسی کا "صوبائی گرمائی صدر مقام" قرار دیا گیا، اور سبی کا پولیٹیکل ایجنٹ مئی سے اکتوبر تک یہیں رہتا تھا۔ گزیٹیئر کے مطابق سردیوں میں شدید سردی اور برف باری کی وجہ سے یہ جگہ تقریباً خالی ہو جاتی تھی۔ 1908ء کا امپیریل گزیٹیئر بھی یہی تفصیل دہراتا ہے اور لکھتا ہے کہ زیارت کی ریذیڈنسی پر تقریباً نصف لاکھ روپے لاگت آئی۔
قیامِ پاکستان کے بعد زیارت کی سب سے بڑی پہچان قائدِ اعظم محمد علی جناح سے اس کا تعلق ہے۔ پاکستان ادارۂ شماریات کی صوبائی مردم شماری رپورٹ 2023ء "قائدِ اعظم ریذیڈنسی، زیارت" کو وہ لکڑی کا مکان بتاتی ہے جہاں بانیٔ پاکستان نے اپنی بیماری کے دن گزارے، اور اسے پاکستان کے اہم ترین سیاحتی مقامات میں شمار کرتی ہے۔
لوگ اور زبانیں
2023ء کی مردم شماری کے مادری زبان کے جدول کے مطابق ضلع زیارت تقریباً مکمل طور پر پشتو بولنے والا ضلع ہے۔ 189,535 باشندوں میں سے 187,360، یعنی لگ بھگ 99 فیصد، کی مادری زبان پشتو ہے۔ بلوچی بولنے والے 851، سرائیکی 558 اور پنجابی 322 ہیں؛ باقی زبانیں اس سے بھی کم ہیں۔
1907ء کے گزیٹیئر کے مطابق اس پہاڑی علاقے میں، جسے مقامی لوگ "خراسان" کہتے تھے، کاکڑ قبیلے کی دُمڑ، پانیزئی اور سارنگزئی شاخیں آباد تھیں۔ گزیٹیئر یہ بھی لکھتا ہے کہ زیارت کی پہاڑیوں میں، جہاں صنوبر کے درخت ملتے ہیں، گھروں کی چھتیں صنوبر کی چھال سے چھائی جاتی تھیں اور یہ مکان انگریزی دیہاتی کاٹیج سے مشابہ لگتے تھے۔ مقامی لوگ صنوبر کے بیر پیس کر ایک طرح کا دلیہ بناتے تھے۔
تعلیم کے میدان میں ضلع کی صورتِ حال ملی جلی ہے۔ صوبائی مردم شماری رپورٹ کے مطابق زیارت ان چھ اضلاع میں شامل ہے جہاں خواندگی کی شرح 40 سے 45 فیصد کے درمیان ہے، جو صوبے کے کئی اضلاع سے بہتر ہے؛ مگر اسی رپورٹ کے مطابق یہاں اسکول سے باہر بچوں کی شرح بھی 60 سے 70 فیصد کے درمیان ہے۔
معیشت
زیارت کی معیشت کا انحصار جنگلات، مویشیوں، کھیتی باڑی اور سیاحت پر ہے۔ سبی گزیٹیئر کے مطابق اُس وقت ضلع سبی میں صنوبر کے محفوظ جنگل تقریباً 68 مربع میل پر پھیلے ہوئے تھے، جن میں سے زرغون کے تورشور کے سوا باقی سب زیارت کے آس پاس تھے۔ ان میں شاہیدان، زرگٹ، گوہر، کچ مانگی، ساڑغند اور بتسرگی کے جنگل شامل تھے، جنہیں 1890ء سے 1904ء کے درمیان مختلف برسوں میں محفوظ قرار دیا گیا۔ گزیٹیئر کے مطابق ان محفوظ جنگلوں کے باہر بھی زیارت کے آس پاس تقریباً 50 مربع میل میں صنوبر پایا جاتا تھا۔
گزیٹیئر صنوبر کے بارے میں لکھتا ہے کہ یہ درخت عموماً ساڑھے چھ ہزار سے ساڑھے آٹھ ہزار فٹ کی بلندی پر چونے کے پتھر والی زمین میں اگتا ہے۔ اس کی لکڑی ہلکی ہے مگر نمی کو حیرت انگیز حد تک برداشت کرتی ہے، اسی لیے پانی کی نالیاں اور گھروں کی چھتیں اسی سے بنائی جاتی تھیں۔ گزیٹیئر نے اسی زمانے میں خبردار کیا تھا کہ نمی کی کمی کی وجہ سے صنوبر کی مصنوعی افزائش بڑے پیمانے پر ممکن نہیں، اور بند علاقوں میں قدرتی افزائش ہی بہتری کی امید ہے۔
جنگل کی معمولی پیداوار بھی مقامی لوگوں کی آمدن کا ذریعہ رہی ہے۔ گزیٹیئر کے مطابق زرغون کی پہاڑیوں اور کچ، مانگی اور سانگان کی وادیوں میں زیرہ اگتا تھا، اور اچھے سال میں ضلع سبی سے تقریباً 500 من زیرہ جمع کیا جاتا تھا۔ امپیریل گزیٹیئر بھی زیارت کی پہاڑیوں کو زیرے اور کئی طرح کی گھاس کے لیے مشہور بتاتا ہے۔
معدنیات میں کوئلہ اہم ہے۔ صوبائی مردم شماری رپورٹ 2023ء کے مطابق ڈیگاری، سنجدی، مچھ، پیر اسماعیل، زیارت، دکی اور چمالنگ کے کوئلے کے ذخائر مجموعی طور پر 217 ملین ٹن ہیں۔ رپورٹ میں صرف زیارت کے ذخائر کا الگ عدد نہیں دیا گیا۔
قابلِ دید مقامات
قائدِ اعظم ریذیڈنسی: صوبائی مردم شماری رپورٹ کے مطابق یہ لکڑی کا وہ مکان ہے جہاں قائدِ اعظم نے اپنی بیماری کے دن گزارے، اور یہ ملک کے نمایاں سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔
صنوبر کے جنگل: صوبائی رپورٹ لکھتی ہے کہ بلوچستان میں قدرتی جنگل بہت کم ہیں اور زیارت، زرغون اور ہربوئی ان چند استثنائی علاقوں میں سے ہیں۔ 1908ء کا امپیریل گزیٹیئر زیارت کے پہاڑی ڈھلوانوں کو صنوبر سے ڈھکا ہوا بتاتا ہے، جن کے بیچ "جنگلی گھاٹیوں میں بہت سی خوبصورت سیرگاہیں" ہیں، اور بڑی بڑی گھاٹیاں اور درّے اس منظر کی خصوصیت ہیں۔
میاں عبدالحکیم کا مزار: یہی وہ مزار ہے جس کے نام پر 1886ء میں اس جگہ کا نام زیارت رکھا گیا۔
کوَاس: گزیٹیئر کے مطابق کچ ریلوے اسٹیشن سے زیارت جانے والی سڑک پر واقع یہ پرانی بستی کبھی ہندوستان اور فارس کے درمیان قافلوں کے راستے کا ایک پڑاؤ تھی۔
ماخذ
- Pakistan Bureau of Statistics, 7th Population and Housing Census 2023, Table 1: Area, Population by Sex, Sex Ratio, Population Density, Urban Population, Household Size and Annual Growth Rate, Balochistan districts, Islamabad, 2024, PDF p.10 (Ziarat district, Sinjawi and Ziarat sub-divisions). https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_1_balochistan_districts.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, 7th Population and Housing Census 2023, Table 11: Population by Mother Tongue, Sex and Rural/Urban, Balochistan districts, PDF p.39 (Ziarat district). https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_11_balochistan_districts.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, Provincial Census Report 2023: Balochistan, Islamabad, 2024: p.32 (forests: Ziarat, Zarghun, Harboi), p.42 (Quaid-e-Azam Residency, Ziarat), p.57 (coal resources), p.92 (literacy brackets), p.96 (out-of-school brackets). https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/2020/07/Provincial-Census-Report-2023-Balochistan-1.pdf
- A. McConaghey (comp.), assisted by Diwan Jamiat Rai, Baluchistan District Gazetteer Series, Vol. III: Sibi District, Bombay: Times Press, 1907 (scan, Digital Library of India): p.81 (juniper-bark roofs in the Ziarat hills), p.79 (juniper-berry porridge), p.82 (Kharwari Nika shrine at Goshki), pp.134-136 (juniper reserves, their dates and areas, properties of juniper), p.139 (cumin seed), p.251 (Kakar clans of the "Khurasan" hills), p.256 (Kowas on the caravan route), pp.258-259 (Ziarat: old name Gwashki, renamed 1886, selected 1883, Residency 1890-91, land bought 1895, water supply 1898-99, troops' camp 1885 and 1903, Political Agent May-October, deserted in winter). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.279672
- Imperial Gazetteer of India, Provincial Series: Baluchistan, Calcutta: Superintendent of Government Printing, 1908 (scan): p.77 (Residency at Ziarat, cost about half a lakh), p.116 (Sanjawi tahsil of Loralai District; dispensary moved to Ziarat in summer), p.139 (cumin in the Ziarat hills), p.151 (Ziarat sanitarium). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.120382
- Atemad reference page, content/districts/00-district-list.md (July 2026 restructuring, with the press reports it cites).







