ضلع شیرانی: کوہِ سلیمان کے دامن میں چلغوزے کے جنگلات کا علاقہ
شیرانی بلوچستان کے شمال مشرقی کونے کا ایک پہاڑی ضلع ہے جو کوہِ سلیمان کے سلسلے سے جڑا ہوا ہے۔ یہ صوبے کے ان چند اضلاع میں سے ہے جہاں مردم شماری کے مطابق ایک بھی شہری بستی نہیں۔

تعارف اور محلِ وقوع
شیرانی بلوچستان کے شمال مشرقی کونے کا ایک پہاڑی ضلع ہے جو کوہِ سلیمان کے سلسلے سے جڑا ہوا ہے۔ یہ صوبے کے ان چند اضلاع میں سے ہے جہاں مردم شماری کے مطابق ایک بھی شہری بستی نہیں۔
پاکستان ادارۂ شماریات کی 2023ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع شیرانی کا رقبہ 4,310 مربع کلومیٹر اور آبادی 191,687 ہے، جس میں 105,345 مرد، 86,336 عورتیں اور 6 خواجہ سرا شامل ہیں۔ پوری آبادی دیہی ہے۔ آبادی کی کثافت تقریباً 44 افراد فی مربع کلومیٹر اور ایک گھرانے میں اوسطاً 5.3 افراد ہیں۔ ضلع میں ہر سو عورتوں کے مقابلے میں تقریباً 122 مرد گنے گئے، جو صوبائی اوسط (109) سے خاصا زیادہ ہے۔ 2017ء میں ضلع کی آبادی 152,952 تھی، یعنی چھ برس میں سالانہ تقریباً 3.84 فیصد اضافہ ہوا۔ مردم شماری کے جدول میں پورا ضلع ایک ہی سب ڈویژن، شیرانی، پر مشتمل ہے۔
انتظامی طور پر شیرانی ژوب ڈویژن کا حصہ رہا ہے۔ ادارۂ شماریات کی صوبائی رپورٹ کے مطابق 2017ء کے بعد لورالائی، دکی، بارکھان اور موسیٰ خیل ژوب ڈویژن سے نکال دیے گئے، جس کے بعد ڈویژن میں ژوب، قلعہ سیف اللہ اور شیرانی رہ گئے اور اس کا رقبہ 27,128 مربع کلومیٹر رہ گیا۔
جولائی 2026ء میں صوبے کو 11 ڈویژنوں اور 41 اضلاع میں تقسیم کرنے کی اخباری اطلاعات کے بعد ژوب ڈویژن کی حتمی ترکیب کی تصدیق نوٹیفکیشن سے ہونا باقی ہے؛ یہ صفحہ 2023ء کی مردم شماری کی حدود کے مطابق ہے۔
تاریخ
ضلع کا نام شیرانی قبیلے سے ہے۔ 1907ء کے ژوب گزیٹیئر کے مطابق جغرافیائی طور پر قبیلہ دو حصوں میں بٹا ہوا تھا: کوہِ سلیمان کے مشرق میں رہنے والے "لڑگہ" اور مغرب میں رہنے والے "برگہ" شیرانی۔
امپیریل گزیٹیئر (1908ء) کے مطابق 1890ء کے بعد قبیلہ انتظامی طور پر تقسیم ہو گیا: برگہ شیرانی ژوب پولیٹیکل ایجنسی میں رہے اور لڑگہ شیرانی شمال مغربی سرحدی صوبے کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے حصے میں آئے۔
انگریز دور میں برگہ شیرانیوں کا علاقہ ضلع ژوب کی فورٹ سنڈیمن تحصیل میں شامل تھا۔ گزیٹیئر کے مطابق تحصیل کا ایک پٹوار حلقہ "شیرانی" کہلاتا تھا جس کا صدر مقام کوریا وسطہ تھا، اور مانی خوا میں فوج کا ایک دستہ تعینات تھا۔ بعد میں یہ علاقہ الگ ضلع بنا؛ اس کی سرکاری تاریخ ہمیں کسی ایسے ماخذ سے نہیں ملی جو اس صفحے کی تیاری میں کھولا جا سکا ہو۔
لوگ اور زبانیں
2023ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع شیرانی کے 191,673 باشندوں (مادری زبان کے جدول کا کل) میں سے 191,431، یعنی تقریباً 99.9 فیصد، کی مادری زبان پشتو ہے۔ مذہب کے جدول میں 191,037 مسلمان اور 604 مسیحی درج ہیں۔ ادارۂ شماریات کی صوبائی رپورٹ میں شیرانی ان پشتون قبائل کی فہرست میں شامل ہے جو بلوچستان میں آباد ہیں۔
گزیٹیئر کے مطابق 1901ء میں ضلع ژوب میں برگہ شیرانیوں کی تعداد 6,974 تھی۔ ان کی شاخوں میں بابڑ، چوہڑ خیل، ہری پال، حسن خیل، کپیپ، مرہیل اور اوبہ خیل شامل تھیں۔ گزیٹیئر لکھتا ہے کہ شیرانی کاشت کار بھی تھے اور ریوڑ بھی رکھتے تھے، مگر مرہیل شاخ کے تقریباً سب لوگ خانہ بدوش تھے۔
تعلیم کے اعتبار سے شیرانی صوبے کے سب سے پیچھے رہ جانے والے اضلاع میں ہے۔ مردم شماری کے مطابق دس سال اور اس سے زیادہ عمر کی آبادی میں شرحِ خواندگی 23.86 فیصد ہے: مردوں میں 31.53 اور عورتوں میں 15.02 فیصد۔ صوبائی رپورٹ واشک (21.58 فیصد) کے بعد شیرانی کو صوبے کے کم ترین خواندگی والے اضلاع میں شمار کرتی ہے، اور 5 سے 16 سال کے اسکول سے باہر بچوں کی شرح (77.94 فیصد) صوبے میں سب سے زیادہ یہیں ہے۔ تعلیم میں صنفی برابری کا اشاریہ 47.64 فیصد ہے، جو ڈیرہ بگٹی کے بعد صوبے میں سب سے کم ہے۔
معیشت
شیرانی کی معیشت کی سب سے نمایاں پہچان چلغوزہ ہے۔ ژوب گزیٹیئر کے مطابق چلغوزے کا درخت 6,000 سے 12,000 فٹ کی بلندی پر ملتا ہے اور تختِ سلیمان کی پہاڑیوں میں عام ہے؛ اس کا پھل ڈیرہ جات اور پنجاب بھیجا جاتا تھا۔ 1897ء کی ایک رپورٹ میں پولیٹیکل ایجنٹ نے تختِ سلیمان اور کیسہ غر کی ڈھلوانوں کے چلغوزہ جنگلات کو منڈیوں سے دور ہونے کی وجہ سے محفوظ قرار دیا تھا، جبکہ مانی خوا کے پیچھے شینسر پہاڑی پر بکھرے ہوئے چلغوزے کا بھی ذکر ہے۔
مئی 2022ء میں انہی جنگلات میں بڑی آگ لگی۔ اے پی پی کی رپورٹوں کے مطابق وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی نے 20 مئی کو بتایا کہ چلغوزے کے درخت جل رہے ہیں اور تین اموات ہو چکی ہیں۔ وزیرِ اعظم کو پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق کمشنر ژوب نے علاقے میں ایمرجنسی نافذ کی، شیر گلی، زرگون زاور، تور غر اور تکئی کے علاقوں میں تقریباً 300 افراد کی ٹیمیں آگ بجھانے میں مصروف تھیں، اور فوج نے دو ہیلی کاپٹر فراہم کیے۔ پاک فضائیہ کے بیان کے مطابق آگ آسمانی بجلی گرنے سے لگی تھی، اور ایران کا ایک بڑا فائر فائٹنگ طیارہ بھی مدد کے لیے آیا۔
کاشت کاری محدود ہے۔ گزیٹیئر کے مطابق فورٹ سنڈیمن تحصیل میں زیادہ تر زمین آبپاشی سے کاشت ہوتی تھی، مگر شیرانی حلقے میں بارانی کاشت کا حصہ 24 فیصد تھا۔ بنیادی سہولتیں اب بھی کم ہیں: صوبائی رپورٹ کے مطابق شیرانی ان تین اضلاع میں ہے جہاں 20 فیصد سے کم گھرانوں کو روشنی کے لیے بجلی میسر ہے۔
قابلِ دید مقامات
تختِ سلیمان اور کیسہ غر: گزیٹیئر کے مطابق کوہِ سلیمان کی سب سے اونچی چوٹی کو مقامی لوگ کیسہ غر کہتے ہیں (11,300 فٹ)، جبکہ اس کے مشرقی کنارے کی چوٹی تختِ سلیمان (11,070 فٹ) کہلاتی ہے۔ دونوں کے درمیان تقریباً 8,000 فٹ بلند ایک سطح مرتفع ہے۔
تختِ سلیمان کی زیارت: گزیٹیئر کے مطابق یہ زیارت چوٹی سے کچھ نیچے ایک چٹانی کنارے پر ہے۔ جون 1891ء میں میجر میک آئیور اور کیپٹن میک موہن مغربی ڈھلوان سے چڑھ کر زیارت تک پہنچے تھے۔
ماخذ
- Pakistan Bureau of Statistics, 7th Population and Housing Census 2023, Table 1: Area, Population by Sex, Sex Ratio, Population Density, Urban Population, Household Size and Annual Growth Rate (Balochistan districts), PDF p. 8 (Sherani district). https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_1_balochistan_districts.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, Census 2023, Table 11: Population by Mother Tongue, Sex and Rural/Urban (Balochistan districts), PDF p. 32; Table 9: Population by Religion, PDF p. 38. https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_11_balochistan_districts.pdf ; https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_9_balochistan_districts.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, Census 2023, Table 12: Literacy Rate and Out of School Population (Balochistan districts), PDF p. 48. https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/census_tables/tables/table_12_balochistan_districts.pdf
- Pakistan Bureau of Statistics, Provincial Census Report 2023: Balochistan, Islamabad: p. 38 (Pashtun tribes), p. 46 (Table 2.3, Zhob Division after 2017), p. 91 (literacy ranking), p. 95 (out-of-school ranking), p. 98 (gender parity index), p. 120 (electricity). Printed page numbers from the page footers. https://www.pbs.gov.pk/wp-content/uploads/2020/07/Provincial-Census-Report-2023-Balochistan-1.pdf
- C. F. Minchin (supt.), Rai Sahib Jamiat Rai (comp.), Baluchistan District Gazetteer Series, Vol. I: Zhob District, Bombay: Bombay Education Society's Press, 1907: pp. 8–9 (Kaisaghar and Takht-i-Sulaiman), pp. 41–43 (1889–90 mission, settlement with the Bargha Shiranis), pp. 73–74 (Shirani tribe, clans, 1901 numbers), pp. 101–103 (Takht-i-Sulaiman shrine), pp. 126 and 131 (chilghoza forests), pp. 293–297 (Fort Sandeman tahsil: Shirani circle, Mani Khwa detachment). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.39423
- R. Hughes-Buller (comp.), Imperial Gazetteer of India, Provincial Series: Baluchistan, Calcutta: Superintendent of Government Printing, 1908: p. 21 (expedition of 1890 and occupation of the Shirani country), pp. 28–29 and 104 (Bargha and Largha Shiranis). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.277321
- Associated Press of Pakistan, "Sherry blows alarms over ravaging fire at Sherani District", 20 May 2022, https://www.app.com.pk/national/sherry-blows-alarms-over-ravaging-fire-at-sherani-district/ ; "Firefighting operation in Sherani area intensified under PM's direction", 22 May 2022, https://www.app.com.pk/national/firefighting-operation-in-sherani-area-intensified-under-pms-direction/ ; "PAF facilitates Iranian firefighting tanker aircraft in Balochistan", 24 May 2022, https://www.app.com.pk/national/paf-facilitates-iranian-firefighting-tanker-aircraft-in-balochistan/
- July 2026 restructuring, as recorded in content/districts/00-district-list.md: Dawn, "Balochistan undergoes major restructuring", 12 July 2026, https://www.dawn.com/news/2014773/balochistan-undergoes-major-restructuring ; ProPakistani, 12 July 2026, https://propakistani.pk/2026/07/12/balochistan-govt-notifies-new-divisions-and-districts/ (not opened in this session)







