سرزمینِ پنٹ: مصر کی بحری مہمات اور ملکہ حتشپسوت کا بیڑا
قدیم مصری ایک ملک کو "خدا کی سرزمین" کہتے تھے۔ وہاں سے مُر (myrrh) اور لوبان جیسی خوشبوئیں آتی تھیں جن کے بغیر ان کے مندروں کی رسمیں ادھوری تھیں، اور آبنوس، ہاتھی دانت، سونا اور بندر بھی۔ اس ملک…

قدیم مصری ایک ملک کو "خدا کی سرزمین" کہتے تھے۔ وہاں سے مُر (myrrh) اور لوبان جیسی خوشبوئیں آتی تھیں جن کے بغیر ان کے مندروں کی رسمیں ادھوری تھیں، اور آبنوس، ہاتھی دانت، سونا اور بندر بھی۔ اس ملک کا نام پنٹ (Punt) تھا۔ صدیوں تک مصری بیڑے بحیرۂ احمر میں جنوب کی طرف اس کی تلاش میں نکلتے رہے، اور ان میں سب سے مشہور مہم ملکہ حتشپسوت (Hatshepsut) کی ہے جس کی پوری کہانی پتھر پر تصویروں کی صورت میں آج بھی محفوظ ہے۔
پس منظر: پنٹ کے پرانے سفر
پچھلی قسط میں ہم نے دیکھا کہ بادشاہ پیپی دوم نے حرخوف کو لکھا کہ وہ بونے کو دیکھنے کی خواہش "سینا اور پنٹ کے تحفوں" سے بھی زیادہ رکھتا ہے۔ پنٹ کا ذکر اس سے بھی پرانا ہے۔ جیمز ہنری بریسٹڈ کے 1906ء کے ترجمے کے مطابق پالرمو پتھر (Palermo Stone) پر لکھا ہے کہ پانچویں شاہی خاندان کے بادشاہ ساحورع (Sahure) کے زمانے میں پنٹ سے مُر کے اسی ہزار پیمانے لائے گئے۔ بادشاہ اسیسی کے دور میں خزانچی بوردِد وہاں سے ایک رقاص بونا لایا۔ پیپی دوم کے زمانے کا ایک افسر بحیرۂ احمر کے ساحل پر پنٹ کے سفر کے لیے جہاز بنا رہا تھا کہ صحرائی قبیلوں نے اسے مار ڈالا۔ گیارہویں خاندان میں ہینو (Henu) نامی خزانچی نیل کے شہر قفط (Koptos) سے صحرا پار کر کے ساحل تک گیا اور وہاں سے پنٹ کے لیے جہاز روانہ کیا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ مصری جہاز اکثر نیل پر نہیں بلکہ بحیرۂ احمر کے کنارے بنتے یا جوڑے جاتے تھے، اور سامان اور لکڑی صحرا کے پار لائی جاتی تھی۔
مرسیٰ گواسیس: پنٹ کی بندرگاہ
اس بات کا سب سے ٹھوس ثبوت اکیسویں صدی میں ملا۔ بوسٹن یونیورسٹی کی ماہرِ آثارِ قدیمہ کیتھرین بارڈ (Kathryn Bard) اور اٹلی کے روڈولفو فاتووچ (Rodolfo Fattovich) 2003ء سے مصر کے بحیرۂ احمر کے ساحل پر مرسیٰ/وادی گواسیس (Mersa/Wadi Gawasis) میں ایک قدیم بندرگاہ کی کھدائی کر رہے تھے۔ کرسمس 2004ء کے دن بارڈ کا ہاتھ ایک سوراخ میں گیا تو اندر خالی جگہ تھی: یہ انسان کا کھودا ہوا ایک غار تھا۔
بوسٹن یونیورسٹی کے رسالے کے مطابق ان غاروں سے تقریباً اڑتیس سو برس پرانا جہاز رانی کا سامان ملا: پتھر کے لنگر، جہازوں کی لکڑی، اور دیودار کے دو خم دار تختے جو بارڈ کے خیال میں تقریباً پینسٹھ فٹ لمبے جہاز کے پتواروں کے پھل تھے۔ ایک غار میں رسوں کے تقریباً چھبیس لچھے ایسے پڑے تھے جیسے ملاح ابھی چھوڑ کر گئے ہوں۔ باہر ایک کتبہ ملا جس میں بادشاہ امنمحات سوم (Amenemhat III) کے زمانے کی دو شاہی مہمات کا ذکر ہے، ایک پنٹ کی اور دوسری "بیا پنٹ" کی۔ چالیس سے زیادہ سامان کے صندوق بھی ملے؛ ان میں سے دو پر امنمحات چہارم کا نام اور یہ الفاظ لکھے تھے: "پنٹ کی عجیب و غریب چیزیں"۔
حتشپسوت کا بیڑا
انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کے مطابق حتشپسوت مصر کی وہ خاتون فرمانروا تھیں جنہوں نے تقریباً 1473 سے 1458 ق م تک فرعون کے پورے القاب کے ساتھ حکومت کی۔ بریٹانیکا لکھتا ہے کہ ان کا دور بنیادی طور پر پرامن تھا اور ان کی خارجہ پالیسی جنگ کے بجائے تجارت پر قائم تھی۔ دریائے نیل کے مغربی کنارے پر دیر البحری (Deir el-Bahri) میں ان کے مندر کی دیواروں پر پنٹ کی مہم کے مناظر کندہ ہیں۔ بریسٹڈ انہیں مصر کے سب سے دلچسپ نقوش اور پنٹ کے بارے میں پہلا اور واحد مکمل ماخذ کہتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ مہم ملکہ کے دورِ حکومت کے نویں سال سے کچھ پہلے کامیابی سے مکمل ہوئی۔
دیوار پر تحریر ہے کہ یہ مہم دیوتا آمون کے حکم سے بھیجی گئی تاکہ "ہر ملک کے عجائبات" لائے جائیں۔ پہلے منظر میں پانچ جہاز ہیں: دو ابھی بندھے ہوئے ہیں اور باقی بادبان کھول چکے ہیں۔ ساحل پر "پنٹ کی مالکہ" دیوی ہاتھور (Hathor) کے نام نذر دی جا رہی ہے تاکہ وہ ہوا چلائے، اور ایک جہاز کے پیچھے ملاح کا حکم لکھا ہے: "بائیں طرف موڑو"۔
پنٹ میں استقبال
اگلے منظر میں بیڑا پنٹ پہنچ چکا ہے۔ ملکہ کا ایلچی سپاہیوں کے ساتھ آگے بڑھتا ہے؛ اس کے سامنے ہار، کلہاڑیاں اور خنجر رکھے ہیں جو بریسٹڈ کے مطابق تجارت کے لیے تھے۔ دوسری طرف سے پنٹ کا سردار پرہو (Parehu) آتا ہے، اس کے پیچھے اس کی بیوی آتی (Ati)، دو بیٹے اور ایک بیٹی، اور ایک گدھا جس کے اوپر لکھا ہے: "وہ گدھا جو اس کی بیوی کو اٹھاتا ہے"۔ پس منظر میں درختوں کے بیچ پنٹ کے لوگوں کے گھر ہیں جو لکڑی کے کھمبوں پر اونچے بنے ہوئے ہیں۔
پنٹ کے لوگ حیرت سے پوچھتے ہیں: "تم اس ملک میں کیسے آئے جسے لوگ نہیں جانتے؟ کیا تم آسمان کے راستوں سے اترے، یا خدا کی سرزمین کے سمندر پر جہاز چلا کر آئے؟" مصری ایلچی نے مُر کے باغوں میں اپنا خیمہ لگایا اور پنٹ کے سرداروں کو روٹی، شراب، گوشت اور پھل پیش کیے۔
واپسی: اکتیس زندہ درخت
پھر جہاز لادے گئے۔ دیوار کی فہرست کے مطابق ان پر مُر کے زندہ درخت، مُر کی گوند کے ڈھیر، آبنوس، خالص ہاتھی دانت، سونا، دار چینی کی لکڑی، بخور، سرمہ، بندر، کتے اور جنوب کے چیتوں کی کھالیں تھیں۔ درخت اٹھانے والے مزدوروں کے اوپر لکھا ہے: "پاؤں سنبھال کے! بوجھ بہت بھاری ہے!" اور تحریر دعویٰ کرتی ہے کہ "ایسی چیزیں ازل سے کسی بادشاہ کے لیے نہیں لائی گئیں"۔
تھیبز (Thebes) واپس پہنچ کر سامان آمون کے حضور پیش ہوا۔ ایک منظر میں درختوں کے پاس لکھا ہے: "مُر کے اکتیس تازہ درخت، جو پنٹ کے عجائبات کے طور پر لائے گئے"۔ بریٹانیکا کے مطابق یہ درخت دیر البحری کے باغوں میں لگائے گئے۔ ایک اور منظر میں ملکہ خود الیکٹرم (سونے اور چاندی کا قدرتی مرکب) ناپتی ہیں اور مُر کی خوشبو ان کے جسم پر ملی ہے۔
بریسٹڈ لکھتے ہیں کہ حتشپسوت کے بعد کے زمانے میں ان کے نام اور تصویریں ان نقوش سے کھرچ دی گئیں، اس لیے بہت سی تحریریں مشکل سے پڑھی جاتی ہیں۔
پنٹ کہاں تھا؟
پنٹ کا صحیح مقام آج بھی محققین کے درمیان بحث کا موضوع ہے۔ بریسٹڈ اسے یقینی طور پر افریقہ میں اور غالباً صومالیہ کے ساحل پر سمجھتے تھے؛ دوسرے محققین سوڈان، اریٹیریا اور ایتھوپیا کے ساحلی علاقوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں، اور کچھ نے عرب کا جنوبی حصہ بھی تجویز کیا ہے۔ کیتھرین بارڈ کا اپنا خیال مشرقی سوڈان کا ہے۔
اس بحث میں حال ہی میں ایک نیا ثبوت آیا۔ سائنسی جریدے "ای لائف" (eLife) میں دسمبر 2020ء میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں نیتھینیل ڈومینی (Nathaniel Dominy) اور ساتھیوں نے مصری مقبروں اور مندروں سے ملنے والے حنوط شدہ بندروں (بابون) کی باقیات میں آکسیجن اور اسٹرونشیم کے آئسوٹوپ جانچے اور انہیں ستتر مقامات کے ایک سو پچپن بابونوں سے ملایا۔ نئی سلطنت کے زمانے کے دو بابون اس علاقے سے آئے تھے جس میں آج کے ایتھوپیا، اریٹیریا اور جبوتی کا بڑا حصہ اور صومالیہ اور یمن کے کچھ حصے شامل ہیں۔ محققین کے مطابق یہ نتیجہ پنٹ کے مقام کے بارے میں علما کی اکثریتی رائے کی تائید کرتا ہے۔
اہمیت
پنٹ کی مہمات انسان کی قدیم ترین منظم بحری تجارت میں سے ہیں۔ ان کے لیے جہاز بنانا، صحرا پار سامان لانا، ہوا کے موسم کا انتظار کرنا اور ایک دور دراز قوم سے لین دین کرنا، یہ سب ہزاروں سال پہلے ممکن تھا۔ حتشپسوت کے مندر کی دیوار اس پوری کہانی کو ایک تصویری سفرنامے کی طرح سناتی ہے، اور اسی لیے یہ ملکہ تاریخ میں ایک تاجر اور معمار فرمانروا کے طور پر یاد کی جاتی ہیں۔
اگلی قسط: فونیقی ملاح اور افریقہ کا چکر: فرعون نیکو دوم کی مہم۔
ماخذ
- James Henry Breasted, Ancient Records of Egypt, vol. II (The Eighteenth Dynasty), University of Chicago Press, Chicago, 1906, §§246–295 ("The Punt Reliefs"). https://archive.org/details/ancientrecordsof02brea_0
- James Henry Breasted, Ancient Records of Egypt, vol. I, University of Chicago Press, Chicago, 1906, §161 (Palermo Stone, Sahure), §351 (Burded), §360 (the ship-builder killed on the coast), §§429–433 (Henu). https://archive.org/details/cu31924082479233
- Britannica Editors, "Hatshepsut", Encyclopaedia Britannica, last updated 8 November 2025. https://www.britannica.com/biography/Hatshepsut
- Jean Hennelly Keith, article on Kathryn Bard's excavations at Mersa/Wadi Gawasis, Arts & Sciences magazine, Boston University, Fall 2010. https://www.bu.edu/cas/magazine/fall10/Egypt/
- Nathaniel J. Dominy, Salima Ikram, Gillian L. Moritz, Patrick V. Wheatley and others, "Mummified baboons reveal the far reach of early Egyptian mariners", eLife 9:e60860, 15 December 2020. https://doi.org/10.7554/eLife.60860
- Wikimedia Commons, "File:Relief of Hatshepsut's expedition to the Land of Punt by Σταύρος.jpg" (CC BY 2.0). https://commons.wikimedia.org/wiki/File:Relief_of_Hatshepsut%27s_expedition_to_the_Land_of_Punt_by_%CE%A3%CF%84%CE%B1%CF%8D%CF%81%CE%BF%CF%82.jpg







