رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 11° صاف 22° / 11°فجر 05:19ظہر 12:16عصر 16:16مغرب 17:53عشا 19:13
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
دہشت گردی کے خلاف ایک بار پھر قومی اتحاد ضروری ہے: سینیٹ میں رانا ثنا اللہ کا خطابخیبرپختونخوا میں گورنر راج کا مقصد معدنیات نہیں، امن کا قیام ہے: عقیل ملک، اختیار ولیسینیٹ نے پاسپورٹ ایکٹ ترمیمی بل 2026 متفقہ طور پر منظور کر لیاپی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی مولانا نسیم شاہ بنوں سے گرفتار، ویڈیو سامنے آگئیعالمی ادارہ خوراک کا غزہ میں غذائی امداد ایک تہائی کم کرنے کا اعلان، 11 لاکھ افراد کو امداد ملے گینیتن یاہو: 7 اکتوبر کو 1200 اسرائیلیوں کی ہلاکت 40 ہزار امریکیوں کے قتل کے برابر تھیراجپال یادیو نے اہلیہ رادھا کو خاندان کا ہیرا قرار دے دیا، سالگرہ پر جذباتی پیغامروس پر پابندیوں میں نرمی کے بعد تیل سستا، برینٹ 107 ڈالر کے قریبسہیل آفریدی مذاکرات کے ڈرافٹ کی منظوری افغانستان سے لے رہے تھے: وفاقی وزیر طارق فضل چوہدریعقیل ملک: امریکا کے ساتھ معدنیات کا کوئی لائسنس نہیں ہوا، مولانا لائسنس سامنے لائیںپی ٹی آئی کے گرفتار تین ارکان قومی اسمبلی پروڈکشن آرڈرز پر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئےروس کے یوکرین پر رات گئے ڈرون حملے، لاجسٹکس مراکز، بندرگاہوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

کشتی: پانی پر انسان کا پہلا قدم

دریا انسان کے لیے ہمیشہ دو چیزیں رہے ہیں: زندگی کا ذریعہ اور راستے کی رکاوٹ۔ پانی کے پار کیا ہے، یہ جاننے کا شوق انسان کو کبھی چین سے بیٹھنے نہیں دیتا تھا۔ پھر کسی نے ایک تیرتا ہوا…

کشتی: پانی پر انسان کا پہلا قدم
علامتی تصویر

دریا انسان کے لیے ہمیشہ دو چیزیں رہے ہیں: زندگی کا ذریعہ اور راستے کی رکاوٹ۔ پانی کے پار کیا ہے، یہ جاننے کا شوق انسان کو کبھی چین سے بیٹھنے نہیں دیتا تھا۔ پھر کسی نے ایک تیرتا ہوا تنا دیکھا، اس پر بیٹھا، اور شاید پہلی بار ہاتھوں سے پانی کو پیچھے دھکیلا۔ یہیں سے کشتی کا سفر شروع ہوا، جو آج دیوہیکل بحری جہازوں تک پہنچ چکا ہے۔

کشتی کتنی پرانی ہے؟

لکڑی، سرکنڈے اور کھال جلد گل سڑ جاتے ہیں، اس لیے سب سے پرانی کشتیاں ہم تک نہیں پہنچیں۔ مگر بالواسطہ ثبوت بتاتے ہیں کہ انسان بہت پہلے سے پانی پار کر رہا تھا۔

شمالی آسٹریلیا کی ایک چٹانی پناہ گاہ مجیدبیبی (Madjedbebe) میں 2017 کی تحقیق کے مطابق انسان تقریباً 65 ہزار برس پہلے آباد ہو چکے تھے۔ اس وقت سمندر کی سطح نیچی تھی اور آسٹریلیا، نیو گنی اور آس پاس کے جزیرے ملے ہوئے تھے، جسے ماہرین ساحول (Sahul) کہتے ہیں۔ پھر بھی ایشیا سے وہاں پہنچنے کے لیے سمندر کے کئی حصے پار کرنے پڑتے تھے۔ 2019 کے ایک مطالعے کے مطابق ان میں سے کم از کم ایک فاصلہ تقریباً 100 کلومیٹر کا تھا۔ محققین کا نتیجہ ہے کہ کم از کم 50 ہزار برس پہلے انسان کئی دن کے منصوبہ بند سمندری سفر کی صلاحیت رکھتے تھے۔ ان سفروں میں کس قسم کی کشتی یا بیڑا استعمال ہوا، یہ معلوم نہیں۔

پیسے کی کشتی: اب تک کی قدیم ترین معلوم کشتی

اگست 1955 میں نیدرلینڈز میں گاؤں پیسے (Pesse) کے قریب موٹروے اے 28 کی تعمیر کے دوران دلدلی مٹی سے لکڑی کا ایک کھوکھلا تنا نکلا۔ یہ ایک ڈونگی تھی، یعنی ایک ہی درخت کے تنے کو کھوکھلا کر کے بنائی گئی کشتی۔ ماہرین کے مطابق یہ چیڑ کی ایک قسم (Scots pine) کے تنے سے بنی ہے اور اس کی لمبائی تین میٹر سے کچھ کم ہے۔

اس کی عمر پر حساب مختلف ہیں۔ ریڈیو کاربن جانچ کے مختلف حسابات اسے تقریباً 8000 سے 6500 قبل مسیح کے درمیان رکھتے ہیں۔ اسی لیے اسے اکثر نو سے دس ہزار برس پرانا کہا جاتا ہے۔ یہ آج نیدرلینڈز کے شہر آسن (Assen) کے ڈرینٹس میوزیم (Drents Museum) میں ہے، جو اسے "دنیا کی سب سے پرانی کشتی" کہتا ہے۔

یہ کشتی بنی کیسے؟ پہلے خیال تھا کہ تنے کو آگ سے کھوکھلا کیا گیا۔ 1997 میں ماہرینِ آثار یاپ بیوکر (Jaap Beuker) اور مارسل نیکس (Marcel Niekus) نے اس رائے پر سوال اٹھایا۔ ان کے مطابق درخت یقیناً کلہاڑی سے کاٹا گیا، اور غالباً اسی سے کھوکھلا بھی کیا گیا؛ آگ کا استعمال کم امکان رکھتا ہے۔

یہ چھوٹی سی کشتی کس کام آتی تھی؟ ڈرینٹس میوزیم کے مطابق اس دور کے لوگوں نے اپنی زندگی کشتیوں کے گرد ترتیب دی۔ وہ ان میں مچھلی پکڑتے، پھندے لگاتے اور سفر کرتے، اور ایسے پانی والے علاقوں میں جا بسے جہاں کشتی کے بغیر گزارہ نہیں تھا۔

افریقہ اور بحیرۂ روم

افریقہ کی سب سے پرانی معلوم کشتی نائیجیریا سے ملی۔ نائیجیریا کے ماہرِ آثار ابوبکر گاربا (Abubakar Garba) کے مطابق مئی 1987 میں گاؤں دوفونا (Dufuna) کے قریب ایک فولانی چرواہا اپنے مویشیوں کے لیے کنواں کھود رہا تھا کہ تقریباً ساڑھے چار میٹر گہرائی میں کسی سخت چیز تک جا پہنچا۔ یہ ایک ڈونگی تھی جس کی عمر تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار برس معلوم ہوئی۔ اس کی لمبائی تقریباً 8.4 میٹر بتائی جاتی ہے۔

بحیرۂ روم میں کشتیوں نے کھیتی باڑی کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکی ماہر میلنڈا زیڈر (Melinda Zeder) کے مطابق تقریباً ساڑھے دس ہزار برس پہلے لوگ کشتیوں میں تقریباً 60 کلومیٹر سمندر پار کر کے قبرص پہنچے۔ وہ اپنے ساتھ بکری، بھیڑ، گائے اور سؤر، اور گندم، جو اور مسور کے بیج بھی لے گئے۔

اٹلی کی جھیل براچانو (Bracciano) کے کنارے نئے پتھر کے دور کی بستی لا مارموٹا (La Marmotta) سے پانچ ڈونگیاں ملی ہیں۔ 2024 کے ایک مطالعے کے مطابق یہ تقریباً 5600 سے 5200 قبل مسیح کے درمیان بنیں۔ ان میں سب سے بڑی بلوط کے ایک تنے سے بنی ہے اور اس کی لمبائی 10.43 میٹر ہے۔ محققین کے مطابق یہ کاشتکار برادریوں کی اب تک کی قدیم ترین معلوم کشتیاں ہیں، اور ممکن ہے کہ انہیں دریا کے راستے 38 کلومیٹر دور سمندر تک لے جایا جاتا ہو۔

وادیٔ سندھ کے ملاح

ہمارے اپنے خطے میں بھی پانی کا راستہ اہم تھا۔ ورلڈ ہسٹری انسائیکلوپیڈیا کے مطابق وادیٔ سندھ کی تہذیب کے لوگوں نے تجارتی سامان ڈھونے کے لیے چپٹے پیندے والی چوڑی کشتیاں بنائی تھیں، اور ممکن ہے کہ وہ بادبان سے بھی واقف ہوں۔ دریائے سندھ کے کنارے آباد شہروں کے لیے دریا ایک قدرتی شاہراہ تھا۔

ایک تنے سے بحری بیڑے تک

ڈونگی سے آگے کا سفر طویل ہے: تختوں کو جوڑ کر بنی کشتیاں، بادبان، پتوار اور آخرکار بڑے بحری جہاز۔ مگر بنیادی خیال وہی رہا: پانی پر تیرتی ایک ایسی سواری جو انسان اور اس کا سامان ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک لے جائے۔

کشتی نے انسان کو نئے جزیروں اور براعظموں تک پہنچایا، مچھلی کو خوراک کا مستقل ذریعہ بنایا، اور دور دراز کی تجارت کو ممکن کیا۔ گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں سے نکلتے جہاز ہوں یا کسی جھیل میں مچھیرے کی چھوٹی سی کشتی، سب کی جڑیں پیسے کی اس چھوٹی سی ڈونگی جیسی کشتیوں میں ہیں۔

ماخذ

  1. C. Clarkson, Z. Jacobs, B. Marwick et al., "Human occupation of northern Australia by 65,000 years ago", Nature 547, 306–310 (2017). https://www.nature.com/articles/nature22968 — Madjedbebe rock shelter; human occupation began around 65,000 years ago.
  2. M. I. Bird, S. A. Condie, S. O'Connor et al., "Early human settlement of Sahul was not an accident", Scientific Reports 9, 8220 (2019). https://www.nature.com/articles/s41598-019-42946-9 — peopling of Sahul required multiple sea crossings, at least one approaching 100 km; planned open-sea voyages of several days by at least 50,000 years ago.
  3. J. R. Beuker and M. J. L. Th. Niekus, "De kano van Pesse – de bijl erin", De Nieuwe Drentse Volksalmanak (1997), online at Archeoforum. http://www.archeoforum.nl/Pesse1.html — found August 1955 during construction of the A28; Scots pine; just under 3 m long; radiocarbon age 8760 ± 145 BP; argues the tree was felled and probably hollowed with an axe, fire less likely.
  4. Drents Museum, Assen, "Archaeology" collection page and "Step into the canoe of Pesse". https://drentsmuseum.nl/en/subcollections/archeologie and https://drentsmuseum.nl/en/activities/step-into-the-canoe-of-pesse — the Pesse canoe as "the oldest boat in the world"; Stone Age people organised life around boats for fishing, trapping and travel.
  5. J. F. Gibaja, M. Mineo, F. J. Santos et al., "The first Neolithic boats in the Mediterranean: The settlement of La Marmotta (Anguillara Sabazia, Lazio, Italy)", PLoS ONE 19(3): e0299765 (2024). https://journals.plos.org/plosone/article?id=10.1371/journal.pone.0299765 — five canoes from La Marmotta, c. 5620–5215 cal BC; Canoe 1 an oak dugout 10.43 m long; oldest known Neolithic boats; 38 km to the sea via the River Arrone; lists Pesse at 7920–6470 BC and Nandy (France) 7180–6705 cal BC.
  6. A. Garba, "The architecture and chemistry of a dug-out: the Dufuna canoe in ethnoarchaeological perspective", Berichte des Sonderforschungsbereichs 268, Band 8, Frankfurt a. M. (1996), 193–200. http://publikationen.ub.uni-frankfurt.de/oai/container/index/docId/1859 — discovery on 4 May 1987 by a Fulani herdsman digging a well at 4.5 m near Dufuna; date of about 8,500 years; oldest canoe in Africa.
  7. M. A. Zeder, "Domestication and early agriculture in the Mediterranean Basin: Origins, diffusion, and impact", PNAS 105 (33), 11597–11604 (2008). https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC2575338/ — colonists crossing about 60 km to Cyprus by boat c. 10,500 BP with sheep, goats, cattle, pigs, einkorn, emmer, barley and lentils.
  8. J. J. Mark, "Indus Valley Civilization", World History Encyclopedia (2020). https://www.worldhistory.org/Indus_Valley_Civilization/ — flat-bottomed boats wide enough to carry trade goods; possible use of the sail.
  9. "Pesse canoe" and "Dufuna canoe", Wikipedia (pointers only). https://en.wikipedia.org/wiki/Pesse_canoe and https://en.wikipedia.org/wiki/Dufuna_canoe — calibrated Pesse date 8040–7510 BC; Dufuna length 8.4 m.

100 بڑی دریافتیں اور ایجادات: تمام تحریریں ←