طالبِ علم
«ضربِ کلیم» (اپریل 1936ء) کے حصے «تعلیم و تربیت» کا یہ دو شعروں کا قطعہ طالب علم کے لیے دعا بھی ہے اور نصیحت بھی [1][2][3]۔ شاعر چاہتا ہے کہ علم صرف کتاب پڑھنے تک نہ رہے بلکہ دل میں…

علامہ محمد اقبال · ضربِ کلیم
پس منظر
«ضربِ کلیم» (اپریل 1936ء) کے حصے «تعلیم و تربیت» کا یہ دو شعروں کا قطعہ طالب علم کے لیے دعا بھی ہے اور نصیحت بھی123۔ شاعر چاہتا ہے کہ علم صرف کتاب پڑھنے تک نہ رہے بلکہ دل میں ہلچل پیدا کرے، یہاں تک کہ پڑھنے والا خود کسی پیغام کا امین بن جائے۔
کلام
خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دےکہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ توکتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں
مشکل الفاظ
- آشنا: واقف
- بحر: سمندر
- اضطراب: بے چینی، ہلچل
- فراغ: فرصت، چھٹکارا
- کتاب خواں: کتاب پڑھنے والا
- صاحبِ کتاب: وہ جس کے پاس اپنا پیغام اور اپنی کتاب ہو
ماخذ
- Rekhta, «طالبِ علم», Allama Iqbal: text, with print source Kulliyat-e-Iqbal (Educational Publishing House, Delhi, 2014), p. 544, and note "(تعلیم و تربیت) (ضربِ کلیم)". https://www.rekhta.org/nazms/taalib-ilm-khudaa-tujhe-kisii-tuufaan-se-aashnaa-kar-de-allama-iqbal-nazms?lang=ur
- International Iqbal Society, Kulliyat-e-Iqbal (Urdu), Zarb-e-Kalim, «تعلیم و تربیت», «طالبِ علم»: text used for comparison. https://iqbal.com.pk/poetical-works/919-poetical-works/kuliyat-e-iqbal-urdu/zarb-e-kaleem/taleem-o-tarbiat/480-talib-e-ilm.html
- International Iqbal Society, "Time Line": "1936: Published Zarb-i-Kalim in April 1936". https://iqbal.com.pk/iqbal/time-line.html


