غالب: عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی
ردیف "ہی سہی" کے ساتھ یہ غزل سمجھوتے اور ضد دونوں کا اظہار ہے: محبت نہیں تو دشمنی ہی سہی، مگر تعلق نہ توڑو [1]۔ "اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو، آگہی گر نہیں غفلت ہی سہی" اس…

مرزا اسد اللہ بیگ خاں غالب (1797–1869)2
پس منظر
ردیف "ہی سہی" کے ساتھ یہ غزل سمجھوتے اور ضد دونوں کا اظہار ہے: محبت نہیں تو دشمنی ہی سہی، مگر تعلق نہ توڑو1۔ "اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہو، آگہی گر نہیں غفلت ہی سہی" اس کا فکری شعر ہے۔ مقطع میں غالب نے اپنا پہلا تخلص "اسد" استعمال کیا ہے3۔
غزل
عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہیمیری وحشت تری شہرت ہی سہی
قطع کیجے نہ تعلق ہم سےکچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی
میرے ہونے میں ہے کیا رسوائیاے وہ مجلس نہیں خلوت ہی سہی
ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنےغیر کو تجھ سے محبت ہی سہی
اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہوآگہی گر نہیں غفلت ہی سہی
عمر ہرچند کہ ہے برق خرامدل کے خوں کرنے کی فرصت ہی سہی
ہم کوئی ترک وفا کرتے ہیںنہ سہی عشق مصیبت ہی سہی
کچھ تو دے اے فلک ناانصافآہ و فریاد کی رخصت ہی سہی
ہم بھی تسلیم کی خو ڈالیں گےبے نیازی تری عادت ہی سہی
یار سے چھیڑ چلی جائے اسدؔگر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی
مشکل الفاظ
- وحشت: دیوانگی
- قطع: کاٹ دینا، توڑنا
- عداوت: دشمنی
- رسوائی: بدنامی
- مجلس: محفل
- خلوت: تنہائی
- ہستی: وجود
- آگہی: شعور، سمجھ
- غفلت: بے خبری
- برق خرام: بجلی کی طرح تیز چلنے والی
- ترک وفا: وفا چھوڑ دینا
- فلک ناانصاف: بے انصاف آسمان، یعنی تقدیر
- رخصت: اجازت
- تسلیم کی خو: سر جھکانے کی عادت
- بے نیازی: بے پروائی
- وصل: ملاپ
- حسرت: ادھوری آرزو
ماخذ
- ریختہ (Rekhta), مرزا غالب، غزل "عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی"، متن جوں کا توں اسی صفحے سے (10 اشعار)، دیکھا گیا 18 اکتوبر 2026. https://www.rekhta.org/ghazals/ishq-mujh-ko-nahiin-vahshat-hii-sahii-mirza-ghalib-ghazals?lang=ur
- ریختہ (Rekhta), "مرزا غالب: پروفائل اور سرگزشت": اصل نام مرزا اسد اللہ بیگ خاں، پیدائش 27 دسمبر 1797 آگرہ، وفات 15 فروری 1869 دہلی. https://www.rekhta.org/poets/mirza-ghalib/profile?lang=ur
- "Ghalib", Wikipedia (English): pen names Asad and Ghalib; titles Najm-ud-Daula and Dabir-ul-Mulk from Bahadur Shah Zafar in 1850 (citing Pavan K. Varma, Ghalib: The Man, The Times, Penguin, 1989). https://en.wikipedia.org/wiki/Ghalib



