پہاڑوں میں ریل: بولان، ہرنائی اور خوجک سرنگ
پچھلے باب میں ہم نے دیکھا کہ 1887ء میں برٹش بلوچستان باقاعدہ صوبہ بنا۔ اسی برس ایک اور کام بھی مکمل ہوا جس نے اس صوبے کا نقشہ بدل دیا: سندھ کے میدان سے کوئٹہ تک پہلی ریل گاڑی پہنچ…

پچھلے باب میں ہم نے دیکھا کہ 1887ء میں برٹش بلوچستان باقاعدہ صوبہ بنا۔ اسی برس ایک اور کام بھی مکمل ہوا جس نے اس صوبے کا نقشہ بدل دیا: سندھ کے میدان سے کوئٹہ تک پہلی ریل گاڑی پہنچ گئی۔ اگلے اٹھارہ برس میں انگریزوں نے بلوچستان کے پہاڑوں میں ریل کی چار بڑی لائنیں بچھائیں: ہرنائی کے راستے سندھ پشین لائن، درۂ بولان کی لائن، خوجک سرنگ سے چمن تک کی لائن، اور نوشکی کی شاخ۔ جہاں ماخذ آپس میں مختلف ہیں، وہاں ہم دونوں بیان دیں گے۔
جنگ سے نکلی ہوئی ریل
1908ء کا "امپیریل گزیٹیئر" صاف لکھتا ہے کہ بلوچستان کی تمام ریلوے لائنیں اور بہترین سڑکیں "فوجی ضرورت" سے پیدا ہوئیں۔ دوسری افغان جنگ (1878ء تا 1880ء) میں سندھ اور کوئٹہ کے درمیان فوجوں کے تھکا دینے والے کوچ میں جو جانی اور مالی نقصان ہوا، اسی نے ریل کی ضرورت ثابت کی۔ گزیٹیئر کے مطابق 1885ء کے "نازک سال" نے ریل کو بولان کے اوپر لے جانے کا فیصلہ کروایا۔
سبی کا گزیٹیئر (1907ء) اس منصوبے کا آغاز اور پیچھے لے جاتا ہے۔ اس کے مطابق 1876ء میں لارڈ لٹن کی پالیسی شروع ہوئی تو میجر جیمز براؤن (James Browne) کی سربراہی میں ایک سروے پارٹی پہاڑوں میں بھیجی گئی، مگر 1877ء میں یہ کام رک گیا۔ ستمبر 1879ء میں حکومتِ ہند نے کچھی کے میدان میں سطحی لائن کی منظوری دی، اور جنوری 1880ء تک یہ لائن سبی پہنچ گئی۔ پھر میوند کی شکست (جولائی 1880ء) کے بعد کام رک گیا اور 1883ء تک بند رہا۔ گزیٹیئروں میں آغاز کے سال پر معمولی فرق ہے: امپیریل گزیٹیئر 1879ء لکھتا ہے اور کوئٹہ پشین گزیٹیئر کے مطابق 1880ء میں رک (Ruk) کے جنکشن سے کام شروع ہوا۔
ہرنائی کا راستہ اور چھپر رفٹ
1883ء سے جولائی 1884ء تک یہ کام "ہرنائی فوجی سڑک" کے نام سے وقفے وقفے سے چلتا رہا، پھر پوری قوت سے شروع ہوا۔ 1885ء میں ہیضے کی وبا کے باوجود جنرل سر جیمز براؤن کی نگرانی میں لائن آگے بڑھتی رہی۔ سبی گزیٹیئر کے مطابق اس لائن کا راستہ ناڑی کی گھاٹی، بابر کچھ، کچالی، سپین تنگی، ہرنائی، شاہرگ اور خوست سے ہو کر کچھ کوتل تک جاتا تھا، اور بلوچستان کے اندر اس کی کل لمبائی 312 میل تھی۔
اس راستے کی سب سے مشکل جگہ "چھپر رفٹ" تھی: ایک پہاڑ کے بیچ قدرتی دراڑ، جس میں سیلاب کے وقت پانی تیس سے چالیس فٹ گہرا ہو جاتا تھا۔ براؤن کی سوانح، جسے جنرل میکلوڈ انیس (McLeod Innes) نے 1905ء میں لکھا اور سبی گزیٹیئر نے نقل کیا، بتاتی ہے کہ دراڑ کے دونوں طرف چٹان میں سرنگیں کھودی گئیں اور ان کے سرے لوہے کے گارڈر والے پل سے ملا دیے گئے۔ چٹان اتنی سخت تھی کہ عام طریقے سے کام برسوں لیتا، اس لیے مزدوروں کو چٹان کی چوٹی سے رسوں کے ذریعے سینکڑوں فٹ نیچے لٹکایا گیا، جہاں انہوں نے سیدھی دیوار میں سلاخیں گاڑ کر پلیٹ فارم بنائے اور بارود سے راستے کھولے۔ اس مہم کی قیادت کیپٹن بکانن سکاٹ (Buchanan Scott) نے کی۔
اس پل کا نام "لوئیس مارگریٹ" رکھا گیا۔ انیس کے مطابق 27 مارچ 1887ء کو، جب پل مکمل ہوا اور پہلا انجن سبی سے کوئٹہ تک پوری لائن پر چلا، ڈچس آف کناٹ نے افتتاح کیا اور پل کو اپنا نام دیا۔ پل کی پیمائش پر بھی ماخذ مختلف ہیں: امپیریل گزیٹیئر اسے 150 فٹ لمبا اور 234 فٹ اونچا لکھتا ہے، جبکہ انیس کا بیان گارڈر کو گھاٹی کی تہہ سے "تقریباً 220 فٹ" اوپر بتاتا ہے۔ سبی گزیٹیئر کے مطابق کوئٹہ اور قلعہ عبداللہ تک لائن 1887ء میں مکمل ہوئی اور 28 اگست 1887ء کو عام ٹریفک کے لیے کھولی گئی۔
چھپر رفٹ کے بعد "مڈ گورج" تھی، جہاں مسئلہ چٹان نہیں بلکہ "سخت کیچڑ" جیسا پہاڑ تھا۔ 1888ء، 1889ء اور 1890ء کے سیلابوں نے لائن کو بہت نقصان پہنچایا، اور 1891ء کے فروری اور مارچ میں مڈ گورج کی ڈھلوانیں کھسک کر لائن کو بہا لے گئیں۔ امپیریل گزیٹیئر کے مطابق 1894ء کے بعد بندوں کے ایک نظام نے یہ کھسکاؤ روکا۔
بولان کی پہلی لائن اور سیلاب
ہرنائی لائن کے ساتھ ساتھ درۂ بولان میں بھی ریل بچھائی گئی۔ بولان کا گزیٹیئر بتاتا ہے کہ 1885ء اور 1886ء میں رندلی سے ایک لائن بنی؛ ہیروک تک کے ساڑھے سینتالیس میل معیاری چوڑائی پر تھے، اور ہیروک سے دشت تک کا حصہ چھوٹی (میٹر) لائن پر، جسے 1888ء اور 1889ء میں معیاری لائن میں بدلا گیا۔ یہ پہلی لائن زیادہ دن نہ چلی: جولائی 1889ء کے سیلاب نے اسے شدید نقصان پہنچایا اور اگست 1890ء کے اس سے بڑے سیلاب نے اسے تقریباً تباہ کر دیا۔
مشکاف بولان لائن
سبی گزیٹیئر کے مطابق مڈ گورج کی تباہی کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ کوئٹہ تک ایک دوسرا راستہ "بالکل ضروری" ہے، اور مشکاف بولان لائن کا حکم دیا گیا۔ بولان گزیٹیئر کے مطابق یہ کام 1891ء کے آخر میں شروع ہوا، 1895ء کے آخر تک عملاً مکمل ہو گیا، اور 1897ء میں کھولا گیا؛ کوئٹہ پشین گزیٹیئر بھی 1897ء ہی لکھتا ہے۔ نئی لائن پرانے راستے کے بجائے ناڑی دریا سے مشکاف اور پھر وادی کے مشرقی کنارے کے ساتھ گئی۔ مشکاف اور پیشی کے درمیان سرنگوں کا کام "انتہائی بھاری" تھا، اور مچھ سے کولپور تک چڑھائی پچیس میں ایک تک تھی۔ ناڑی بینک سے کوئٹہ تک اس کی لاگت ایک کروڑ ستانوے لاکھ روپے سے زیادہ تھی اور اس کے چیف انجینئر جیمز رامزے (James Ramsay) تھے۔ اسی لائن نے کوئٹہ کو ہندوستان سے سب سے مختصر راستے سے جوڑا: کراچی سے 536 میل اور لاہور سے 727 میل۔
خوجک سرنگ اور چمن
سندھ پشین لائن کا آخری حصہ کوئٹہ کے شمال میں بوستان سے پشین کے میدان کو پار کر کے افغان سرحد پر چمن تک جاتا تھا۔ راستے میں خواجہ عمران کا پہاڑی سلسلہ تھا، جسے خوجک کا درہ پار کرتا ہے؛ یہی درہ انگریزی فوجوں نے 1839ء اور 1879ء میں پار کیا تھا۔ ریل کے لیے یہاں شیلاباغ کے مقام پر ایک سرنگ کھودی گئی۔ کوئٹہ پشین گزیٹیئر کے مطابق یہ کام اپریل 1888ء میں شروع ہوا اور ستمبر 1891ء میں سرنگ ٹریفک کے لیے کھولی گئی۔ اس کی لمبائی 12,870 فٹ تھی، یعنی ڈھائی میل سے 330 فٹ کم، اور گزیٹیئر اسے "ہندوستان کی سب سے بڑی" سرنگ لکھتا ہے۔ دونوں سروں سے کھدائی کے علاوہ 318 اور 281 فٹ گہرے دو کنویں (شافٹ) بھی کھودے گئے۔ لاگت 68 لاکھ 24 ہزار روپے سے کچھ زیادہ، یعنی تقریباً 530 روپے فی فٹ رہی۔ گزیٹیئر یہ بھی لکھتا ہے کہ سرنگ اور لائن کی تعمیر کے دوران درے کے پستے کے بہت سے قیمتی درخت کاٹ دیے گئے۔
چمن تک لائن کب کھلی، اس پر دونوں گزیٹیئر ایک سال کا فرق رکھتے ہیں: کوئٹہ پشین گزیٹیئر 1891ء لکھتا ہے، امپیریل گزیٹیئر 1892ء۔
نوشکی کی شاخ (1905)
امپیریل گزیٹیئر کے مطابق نوشکی کا علاقہ 1899ء میں خان آف قلات سے مستقل اجارے پر لیا گیا۔ چند برس بعد اس تک ریل پہنچی۔ بولان اور چاغی کے گزیٹیئر کے مطابق یہ لائن کوئٹہ سے 16 میل جنوب میں سپیزنڈ سے شروع ہو کر نشپا کی آدھ میل لمبی سرنگ، مستونگ روڈ اور شیخ واصل کی تنگ گھاٹی سے گزرتی ہوئی نوشکی تک جاتی تھی۔ اس کی کل لمبائی 82 میل تھی، لاگت ایک لاکھ روپے فی میل سے کم، اور یہ 15 نومبر 1905ء کو کھولی گئی۔
ریل کا اثر
امپیریل گزیٹیئر کے مطابق 1891ء میں بلوچستان میں 277 میل ریلوے کھلی تھی، 1901ء میں 399 میل، اور نوشکی لائن کے بعد 481 میل۔ نوشکی لائن کے سوا کل سرمایہ گیارہ کروڑ روپے، یعنی تقریباً تین لاکھ روپے فی میل، خرچ ہوا۔ گزیٹیئر ریل اور سڑکوں کو قبائل پر "بہت گہرا اثر" ڈالنے والا قرار دیتا ہے اور لکھتا ہے کہ ہر سال ہزاروں سرحد پار افغان انہی کے ذریعے روزگار کے لیے ہندوستان جاتے تھے۔ بولان گزیٹیئر میں پولیٹیکل ایجنٹ میجر ایچ ایل شاورز (H. L. Showers) کا 1901ء کا مشاہدہ درج ہے کہ قبائلی اپنی سالانہ نقل مکانی میں سڑک کے بجائے ریل کو ترجیح دینے لگے تھے، اور کرتہ کا بھوسا، جو سڑک کے راستے کوئٹہ لے جانے کے قابل نہ تھا، اب ریل سے بکنے لگا تھا۔ یہ سب انگریز افسروں کے اپنے جائزے ہیں؛ ان میں اُن لوگوں کی آواز نہیں جن کی زمین سے یہ لائنیں گزریں۔
پہاڑوں میں بچھی یہ پٹڑیاں 1935ء میں ایک اور امتحان سے گزریں، جب کوئٹہ کے زلزلے کے بعد زخمیوں اور بے گھر لوگوں کو انہی لائنوں سے نکالا گیا۔ اس کا ذکر دو ابواب بعد آئے گا۔
اگلے اتوار: شاہی جرگہ اور قبائلی انتظام۔
ماخذ
- Imperial Gazetteer of India, Provincial Series: Baluchistan, compiled by R. Hughes-Buller, Superintendent of Government Printing, Calcutta, 1908: p. 21 (Nushki leased 1899); pp. 53–55 (railways born of strategic needs; 1885 extension up the Bolan; mileage 277/399/481; capital outlay 11 crores; Sind–Pishin line 312 miles, "begun in 1879, but not completed to Chaman till 1892"; Chappar Rift bridge 150 ft long, 234 ft high; Mud Gorge dams since 1894; Bolan re-alignment after the 1889 and 1890 floods; gradient 1 in 25; Quetta–Nushki 82 miles, Nishpa tunnel); p. 124 (Mushkaf–Bolan branch in Quetta-Pishin); p. 129 (Khojak tunnel "just under 2½ miles", less than 70 lakhs, built 1888–1891; passes of 1839 and 1879); p. 133 (Spezand–Nushki opened 1905; Nushki trade). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.146799 · second scan: https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.120382
- Baluchistan District Gazetteer Series, vol. III: Sibi District, compiled by Major A. McConaghey with Rai Sahib Diwan Jamiat Rai, Times Press, Bombay, 1907, pp. 153–157 (Sind–Pishin railway: 312 miles in Baluchistan; 1876 survey under Browne; sanction September 1879; Sibi reached January 1880; halt after Maiwand; "Harnai military road" 1883–84; cholera 1885; opened for traffic 28 August 1887; floods 1888–90 and Mud Gorge slips February–March 1891; order for the Mushkaf–Bolan line; route and gradients; Chappar Rift and Louise Margaret bridge, quoting Innes). https://archive.org/details/sibidistricttext00mccouoft
- Baluchistan District Gazetteer Series, vol. V: Quetta-Pishin, 1907, pp. 206–207 (Sind–Pishin and Kandahar State Railway "begun from Ruk in 1880", Chaman section opened 1891; Bostan–Quetta branch 21 miles; Mushkaf–Bolan opened 1897; distances 536 miles from Karachi and 727 from Lahore); pp. 504–505 (Khojak tunnel: 12,870 ft, Rs. 68,24,164, Rs. 530 per foot, begun April 1888, passed for traffic September 1891, shafts 318 and 281 ft; "the largest in India"; pistachio trees cut). https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.46886
- Baluchistan District Gazetteer Series, vols. IV and IV-A: Bolan and Chagai, Mercantile Steam Press, 1906 (archive.org dates the scan 1908), pp. 66–67 (first Bolan line 1885–86, metre gauge Hirok–Dasht converted 1888–89, floods of July 1889 and August 1890; Mushkaf–Bolan begun end 1891, practically complete end 1895, opened 1897, cost Rs. 1,97,15,000, engineer James Ramsay; Quetta–Nushki railway from Spezand, Nishpa and Sheikh Wasil tunnels, 82 miles, opened 15 November 1905; Showers' remarks of 1901). Page numbers from OCR running heads; see points_to_verify. https://archive.org/details/in.ernet.dli.2015.279669
- J. J. McLeod Innes, The Life and Times of General Sir James Browne, R.E., K.C.B., K.C.S.I. (Buster Browne), John Murray, London, 1905, pp. 256–257 (Chappar Rift works, quoted in the Sibi Gazetteer) and pp. 262–263 (opening ceremony of 27 March 1887; the Duchess of Connaught names the bridge). https://archive.org/details/lifetimesofgener00innerich



